اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی
بات کچھ بھی نہیں تھی۔ ہم اس محلے میں نئے نئے آئے تو وہ لوگ بھی نئے نئے ہی آئے تھے۔ وہ ایک پتلی سی لمبی سی لڑکی تھی۔ پھولوں جیسی، نازک سی۔
دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھ پر ایک اُچٹتی ہوئی نگاہ ڈالتی اور چلی جاتی۔ بات تو معمولی ہی تھی اور قابل غور بھی نہیں تھی۔ میں عموماً ابا کی ڈانٹ ڈپٹ سے تنگ آ کر محلے کی دکان پر رکھے بینچ پر آ کر بیٹھ جاتا تھا۔
لاہور کے محلوں میں 70 کی دہائی کے آخر تک بھی ٹیلیویژن اتنا زیادہ عام نہیں ہوا تھا۔ لوگ تازہ تازہ سعودی عرب اور دبئی وغیرہ جانے لگے تھے۔ سمارٹ فون اور انٹرنیٹ زندگی کا اٹوٹ حصہ ہوں گے کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا۔ اس زمانے میں محلوں میں رہنے والے لوگ گھروں کے باہر تھڑوں، چارپائیوں یا بینچوں پر بیٹھ جاتے تھے۔ لڑکوں کا اس طرح بیٹھنا تو خیر اس زمانے میں بھی معیوب ہی تصور کیا جاتا تھا لیکن محلے کے تھکے ہوئے بیکار بوڑھے عموماً ٹولیوں کی شکل میں بیٹھ جاتے اور جوانی کے قصے چھیڑ دیتے۔ ہمارے محلے میں پرچون کی دکان والا، جس کا نام ریاض تھا، وہ بھی دکان کے سامنے ایک دو بینچ رکھ دیتا تھا۔ وہاں بابے بھی آ جاتے، اخبار پڑھتے، خبروں پر تبصرے کرتے، ادھر ادھر کی باتیں کرتے اور ہم جیسے ٹین ایجرز بھی کبھی کبھی سلام کر کے ان کے پاس ہی بیٹھ جاتے۔ میں نے نئی نئی ایف ایس سی کی تھی اور سیکنڈ ڈویژن لینے کی وجہ سے ابا کے ’عتاب‘ کا شکار تھا۔ ابا عموماً مجھے کہتے کہ میاں اب تمہارا کیا کروں۔ نمبرز تم نے لیے نہیں۔ انٹر پاس کو تو نوکری بھی نہیں مل سکتی۔
لیکن میرے لیے ایک قیامت برپا ہونے جا رہی تھی۔ آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں اس لڑکی کی خاطر وہاں جا کر بیٹھتا ہوں۔ وہ گزرتے ہوئے ایک نگاہ ڈالتی تو ہر طرف رنگ بکھر جاتے تھے، وہ چلتی تو جلترنگ بج اٹھتے اور وہ رکتی ہے تو میری سانسوں کی رفتار میں تلاطم پیدا ہونے لگتا۔ پھر طبیعت سنبھلنے کی بجائے روز بروز بگڑتی چلی گئی۔ محبت کا لفظ فلموں اور کہانیوں میں تو کئی بار سنا تھا۔ سوچا نہیں تھا کہ یہ لفظ ایک پر اسرار عفریت کی طرح مجھے گلے لگا لے گا۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ آخر ہوا کیا تھا۔
زندگی یکایک ایک نئے اور انجانے جذبے کی طرف کیسے مائل ہو گئی تھی۔ سب کچھ درہم برہم ہو گیا تھا۔ نازک سے دل پر ایسی ایسی وارداتیں ہونے لگیں کہ میں حیران ہو جاتا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کئی کئی دن کی شیو بڑھ جاتی۔ اس طرح کی کیفیات اور اذیتیں گزرتیں کہ دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا تھا۔ جسمانی طور پر تو زمین پر ہی رہتا ہوں مگر میری روح ستاروں سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔ دل و دماغ میں کشمکش عروج پر ہوتی اور میں یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہو جاتا کہ مسئلہ میرے جسم کے ساتھ ہے یا روح کے ساتھ ہے۔ شاید میرا جسم اور روح الگ الگ ہو چکے تھے۔ ایک ہلکی سی ’جھلک‘ میری زندگی کا ’حاصل‘ تھی جو دل کے نازک تاروں کو چھیڑ دیتی۔ میرے اندر کئی ہنگامے برپا کر دیتی۔ یہ جذبات کی دنیا، احساسات کی دنیا اور خیالات کی دنیا تھی جس میں میں بلا ارادہ اِدھر اُدھر بکھر رہا تھا، اُدھڑ رہا تھا، بھٹک رہا تھا، تحلیل ہو رہا تھا۔ یہ کیسی تڑپ تھی جس سے حقیقت کی دنیا منہ چھپا رہی تھی۔ عقل کہیں گُم ہو گئی تھی۔ ایک ہلکی سی جنبش اندر ہی اندر ہزاروں قیامتیں برپا کر دیتی تھی۔ ایسے ایسے ہنگامے برپا کرتی کہ میں اپنے آپ سے لاچار ہوتا گیا اور لاشعوری طور پر انجانے نشوں میں ڈوب کر لڑکھڑا رہا تھا۔ ایک ایسا طوفان تھا جس میں میری سادہ سی زندگی کی کشتی ہچکولے کھانے لگی تھی۔ گلاب مجھ سے باتیں کرتے، ہوائیں سرگوشیاں کرتیں اور رنگ روشنیوں کی طرح دماغ کے ماہین پردوں پر رقص کرتے محسوس ہوتے۔ محبت میں لٹا ہوا، ڈوبا ہوا، کچلا ہوا شخص جذبات کے زیر اثر ایک طرف کہکشاؤں سے گزرتا ہے، آسمانوں کی سیر کرتا ہے، رنگ و نور کی بارشوں سے گزرتا ہے، اور دوسری طرف تنہایوں کی اتھاہ گہرائیوں سے گزرتا ہوا ایسے سفر پر جا نکلتا ہے جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں اچھے برے کی پہچان بھی کھو جاتی ہے۔ ماہ و سال بے معنی ہو جاتے ہیں۔ محبوب چلتا ہے تو وقت چلنا شروع ہو جاتا ہے وہ رکتا ہے تو وقت رک جاتا ہے۔ جسم جان سے خالی ہو جاتا ہے۔ شاعری اچھی لگنے لگتی ہے اور شعروں میں شدت جذبات کی جو عکاسی کی جاتی ہے وہ سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہے۔
ریاض مجھے باؤ جی کہتا تھا اسے مطالعے کا شوق تھا۔ ایک دن میں بینچ پر بیٹھا ایک جھلک کا اسیر اسی کا منتظر تھا کہ وہ میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ اور مصطفیٰ خان شیفتہؔ کا شعر سنایا۔
شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ
اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی
یعنی اس ظالم نے میری دکھتی رگ پکڑ لی تھی۔ ایک کرب کے، جنون کے، وحشت کے اور اذیت کے جس دور سے میں گزر رہا تھا وہ سب جانتا تھا۔ ویسے بھی محلے بھر کی خفیہ اور علانیہ سرگرمیاں اس کی نظر میں ہوتی تھیں۔
اس زمانے میں کئی بار آدھی رات کو حالت اضطراب میں میں چپکے سے گھر سے نکلتا اور ’اس کے‘ گھر کی طرف چل پڑتا۔ ہمارے محلے کا ایک اور لڑکا منظور نام کا تھا وہ ہمیشہ مجھے عین اسی وقت سامنے سے آتا ہوا دکھائی دیتا اور مسکرا کر مجھ سے سلام و دعا کرتا۔ ایک دن ریاض دکاندار کہنے لگا کہ باؤ جی جو بات تمہارے دل میں ہے وہ مجھ سے شیئر کر دو اس سے تم بہتری محسوس کرو گے۔ میں نے کہا کہ میرے دل میں تو کوئی بھی بات نہیں۔ کہنے لگا وہ بات جو باؤ جی آپ کے دل میں نہیں وہ بات سارے محلے کو معلوم ہے۔ پھر کہنے لگا منظور کی حالت بھی اچھی نہیں۔ میں نے پوچھا اسے کیا ہوا؟ کہنے لگا وہ ’اس سے‘ چھوٹی سے عشق کر بیٹھا ہے۔
ایک رات میں حالت اضطراب میں باہر نکلا تو حسب معمول منظور آتا ہوا دکھائی دیا۔ میری طرف دیکھ کر وہ مسکرایا اور پھر ہماری دوستی ہو گئی۔
ایک دن کہنے لگا کہ ابا کے پاؤں دبا رہا تھا۔ وہ بڑے پیار سے پوچھنے لگے ”میرے پُتر نے کہاں شادی کرنی ہے“ ۔ کہتا ہے میں نے کہا ابا جی جہاں جی چاہے کر دینا۔ لیکن ابا کا اصرار بڑھتا گیا تو میں نے بتا دیا کہ محلے کی فلاں لڑکی مجھے اچھی لگتی ہے۔ اس سے کر دینا۔ کہتا ہے کہ ابا نے ایسی کھینچ کے ٹانگ ماری کہ میں لڑھک کر چارپائی سے نیچے جا گرا۔ پھر رو رو کر معافی مانگنا پڑی۔
اس قصے میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں تھیں۔
وقت بڑی ظالم چیز ہے۔ غم روزگار غم جاناں سے بھی زیادہ کٹھور ہیں۔ میرے سارے جذبات وقت کی بپھری ہوئی موجوں کی نذر ہو گئے۔ زندگی مکمل طور پر پریکٹیکل ہو گئی۔ سالہا سال زندگی کے ساتھ لڑتے جھگڑتے گزر گئے۔ پتہ ہی نہ چلا کہ بڑھاپا جو دور بہت دور افق کے اس پار نظر آتا تھا وہ نہ صرف پاس آ گیا بلکہ مجھ سے بغل گیر بھی ہو گیا۔
کچھ عرصہ قبل مجھے دیار غیر میں نوکری کے سلسلے میں جانا ہوا۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھا تنہائی کا غم دور کرنے کے لئے فیس بک دیکھ رہا تھا کہ ایک جاننے والے کی پروفائل میں ’اس کی‘ تصویر نظر آ گئی۔ مجھے جھٹکا سا لگا۔ وہ لڑکی جو کبھی خوبصورت استعاروں اور تشبیہات سے مزین ولی دکنی کی غزل کی طرح تھی اس کی جگہ ایک بھاری بھرکم 60 سال کی خاتون منہ پھلائے اپنے بوڑھے شوہر اور جوان بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ مجھ پر تو جیسے ہنسی کا دورہ ہی پڑ گیا اور اپنی جوانی کی ’بیوقوفی‘ پر پاگلوں کی طرح قہقہے لگانا شروع کر دیے۔ پتہ نہیں کتنی دیر گزر گئی اور پھر جب اوسان بحال ہوئے تو میری آنکھیں آنسؤوں سے بھری ہوئی تھیں۔


