ناکامی، کامیابی کا پہلا قدم: جب بدترین نتائج بہترین راستہ دکھاتے ہیں


 

زندگی میں ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ بہترین مقام حاصل کرے۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کلاس میں اول آئیں، ادارے چاہتے ہیں کہ ان کے ورکرز سب سے زیادہ نتائج دیں اور نوجوان چاہتے ہیں کہ وہ کیریئر میں سب سے آگے ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کامیابی ہمیشہ سب کو نہیں ملتی اور نہ ہی ہر نتیجہ بہترین ہوتا ہے۔ زندگی کی راہیں اکثر بہترین اور بدترین کے درمیان کسی درمیانی مقام پر ٹھہرتی ہیں۔ لیکن اکثر یہی درمیانی یا کمزور نتائج انسان کو سب سے بڑے سبق دیتے ہیں۔

جب کسی طالب علم کے نمبر کم آتے ہیں یا کسی ورکر کی پرفارمنس توقع سے کم رہتی ہے، تو عموماً موازنہ کیا جاتا ہے اُن سے جو سب سے آگے ہوتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ ”پوزیشن ہولڈرز“ یا ٹاپ پر فارمرز کی مثالیں دے کر باقی بچوں یا ملازمین پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی رفتار، صلاحیت، استعداد اور سفر الگ ہوتا ہے۔ ہر ایک کو یکساں پیمانے پر تولنا مناسب نہیں۔ بعض اوقات بہترین کی مثال سے زیادہ طاقتور سبق بدترین مثال سے حاصل ہوتا ہے۔

دنیا کے مشہور باسکٹ بال کھلاڑی مائیکل جارڈن کو ہائی اسکول میں ان کی ٹیم سے صرف اس لیے نکال دیا گیا کہ وہ کوچ کے معیار پر پورے نہیں اترتے تھے۔ یہ لمحہ ان کے لیے بہت مایوس کن تھا، لیکن یہی ان کے عزم کی بنیاد بنا۔ انہوں نے خود کو سنوارا، پریکٹس کی، غلطیوں سے سیکھا اور وقت کے ساتھ ایک بہترین کھلاڑی بن گئے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ انہوں نے ہزاروں بار شارٹس مس کیے، سینکڑوں میچ ہارے، بارہا آخری موقع پر ناکامی دیکھی، اور یہی ان کی کامیابی کی اصل وجہ بنی۔

ایسی ہی ایک عظیم مثال اسلامی تاریخ میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی ہے۔ جب وہ مدینہ کی طرف اللہ کے لئے ہجرت کر کے آئے تو ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ نہ سرمایہ، نہ مکان، نہ کاروبار۔ ایک انصاری صحابی نے آدھا مال پیش کیا حتیٰ کہ کہا کہ میری دو بیویاں ہیں اُن میں سے ایک کو میں طلاق دے دیتا ہوں لیکن انہوں نے صرف اتنا کہا کہ تمہارا مال اور اسباب تمہیں مبارک ”مجھے صرف بازار کا راستہ دکھا دو“ ۔ یہ جملہ اس انسان کی خودداری، اعتماد اور بصیرت کا عکاس تھا۔ انہوں نے کام شروع کیا، محنت کی اور جلد ہی مدینہ کے سب سے کامیاب تاجروں میں شمار ہونے لگے۔ جب بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا موقع آیا تو وہ ہزاروں دینار پیش کرنے والوں میں سب سے آگے ہوتے۔

یہ دونوں کہانیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ انسان کو صرف بہترین کی مثال دے کر حوصلہ نہیں ملتا بلکہ جب اسے دکھایا جائے کہ کسی نے بدترین حالات سے اٹھ کر بلندی حاصل کی، تو وہ زیادہ مخلصی سے خود کو بہتر بنانے پر آمادہ ہوتا ہے۔ یہی اصول سکول، کالج، اداروں، دفاتر اور گھر سب میں کارآمد ہے۔

جب والدین صرف سب سے ہونہار بچے کی بات کرتے ہیں تو باقی بچوں میں احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ انہیں بتائیں کہ فلاں بچہ کبھی فیل ہوتا تھا لیکن اب کامیاب ہے، تو بچے اُمید سے جُڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح دفاتر میں بھی صرف ٹاپ پرفارمرز کی تعریف کرنے کے بجائے اگر ورکرز کو یہ دکھایا جائے کہ ایک شخص پہلے ناکام رہا لیکن سیکھ کر آگے بڑھا، تو ٹیم میں نئی جان آتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بہترین کی مثال سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اگرچہ جو با صلاحیت ہوتے ہیں وہ ہمیشہ بہترین کو مدِ نظر رکھتے ہیں لیکن جو کمزور طبیعت کے افراد ہوتے ہیں ان کے لئے بہترین کی مثال دینا اُن کی ہمتوں کو توڑنے کے مترادف ہیں۔

اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کامیابی کو صرف ظاہری نمبر، رینک یا گراف سے نہ ناپیں۔ کامیابی کا اصل آغاز اُس لمحے سے ہوتا ہے جب کوئی انسان اپنی ناکامی کو تسلیم کرتا ہے، خود کو بہتر بنانے کی نیت کرتا ہے، اور محنت شروع کرتا ہے۔ یہی لمحہ سب سے قیمتی ہوتا ہے۔ اس لیے جب آپ کسی کمزور طالب علم، سست ورکر یا ہار مانتے ہوئے انسان کو دیکھیں، تو مایوس نہ ہوں۔ اسے ایک کہانی سنائیں، ایک امید دیں، اور یہ یاد دلائیں کہ بدترین لمحہ، دراصل بہترین آغاز بن سکتا ہے۔

ماہر نفسیات کارول ڈویک کہتی ہیں کہ انسان کی کامیابی کا انحصار اس کی فطری صلاحیتوں پر نہیں، بلکہ اس یقین پر ہے کہ وہ سیکھ کر خود کو بہتر بنا سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں۔

”وہ افراد جو یہ سمجھتے ہیں کہ ذہانت، صلاحیت اور قابلیت ایک مقررہ حد تک محدود نہیں بلکہ مسلسل محنت، تجربے اور سیکھنے سے بہتر بنائی جا سکتی ہیں، وہی زندگی میں اصل کامیابی حاصل کرتے ہیں۔“

یہی وہ سوچ ہے جسے وہ ”Growth Mindset“ کا نام دیتی ہیں۔ یعنی انسان کی ذہنی اور عملی نشوونما ایک جاری عمل ہے، جو ناکامیوں اور غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ جو کچھ ہیں، وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے (Fixed Mindset) ، وہ ناکامی سے گھبرا جاتے ہیں اور اکثر خود کو محدود کر لیتے ہیں۔

Facebook Comments HS