نابالغ شہریوں کے لیے قانون
آج ایسے قانون کا ذکر کرتے ہیں جو ان افراد کے متعلق ہے جن کی عمر 18 سال سے کم ہے۔ پاکستانی قانون میں ایسے افراد کے لیے علیحدہ سے قانون سازی کے بعد ایک ایکٹ بنایا گیا ہے جسے Juvenile Justice System Act 2018 کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے قبل سن 2000 میں Juvenile Justice System Ordinance بنایا گیا تھا جسے بعد میں منسوخ کر کے متذکرہ بالا ایکٹ بنایا گیا۔ اب بات کرتے ہیں کہ وہ کون سی سہولیات یا مستثنیات 18 سال سے کم عمر ملزم یا متاثرہ شخص کو حاصل ہیں جو دیگر افراد/ ملزمان کو حاصل نہیں۔ قانون میں ایسے شخص کو جوینائل یا کمسن کہتے ہیں۔
1۔ کوئی ایسا شخص جس سے کوئی جرم سرزد ہو گیا ہے اور اس کی عمر 18 سال سے کم ہے تو اسے پولیس تھانہ حوالات میں بند نہیں کرے بلکہ علیحدہ سے بنائے گے Observation Home میں رکھے گی۔ پولیس اس کمسن ملزم کے والدین یا گارڈین کو فوری طور پر مطلع کرے گی ان کا بیٹا یا بیٹی کب اور کتنے بجے کس عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اگر جوینائل کوئی لڑکی ہے تو کوئی مرد پولیس افسر نہ تو اسے گرفتار کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کیس کی انوسٹیگیشن کر سکتا ہے۔ اس ملزمہ کو ایسے Observation Home میں رکھا جائے گا جو صرف خواتین کے لیے مختص ہے۔
کمسن ملزمان کے لیے ضمانت کے علیحدہ اصول وضع کیے گے ہیں۔
2۔ اگر کوئی ملزم جوینائل ہے تو ضابطہ فوجداری کے ضابطے کافی حد تک تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اگر ملزم کمسن ہے تو ایسے جرائم جن کی سزا سات سال تک ہے جنہیں قانون نے Major Offences کہا ہے، ان میں ملزم کی ہر صورت میں ضمانت قبل از گرفتاری اور ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی جائے گی۔ بلکہ قانون میں واضح ہے کہ ایسے جرائم جن کی سزا سات تک ہے وہ کمسن ملزم کی حد تک قابلِ ضمانت جرائم تصور ہوں گے۔ یہ بات یاد رہے کہ ضروری نہیں کہ عدالت کمسن ملزمان کو ضمانت پر رہائی کے بعد کھلا چھوڑ دے تاکہ وہ دوبارہ جرائم کی دنیا میں دھنس جائیں بلکہ ان کی اصلاح اور فلاح و بہبود کے لیے انہیں چائلڈ پروٹیکشن بیورو بھیج سکتی ہے۔
3۔ عموماً ضابطہ فوجداری کے تحت تمام ملزمان کا ٹرائل اکٹھا ہوتا ہے لیکن جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ کے تحت اب کمسن ملزم کا اور بالغ ملزم کا ٹرائل اکٹھا نہیں ہو گا۔ اگر کمسن اور بالغ ملزم کا ٹرائل اکٹھا کرنا ضروری ہو تو عدالت کو اس بابت نہایت مدلل وجوہات بیان کرنی ہوں گی۔ کمسن ملزمان کے تمام مقدمات معمول کی عدالتوں میں نہیں بلکہ صرف جوینائل کورٹ میں چلیں گے۔
4۔ جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ کے تحت ایک جوینائل جسٹس کمیٹی بنائی جائے گی جو کہ ایک درجہ 30 کے مجسٹریٹ صاحب کی سربراہی میں کام کرے گی۔ یہ بات اہم ہے کہ جوینائل یا کمسن ملزم یا متاثرہ شخص کو گرفتاری کے 24 گھنٹوں کے اندر ریاست کی طرف سے بغیر کسی معاوضے کے ایک وکیل فراہم کیا جائے گا جو اس شخص کا مقدمہ لڑے گا۔ اس وکیل کو صوبائی حکومت یا متعلقہ سیشنز جج صاحب تعینات کریں گے اور اس وکیل کے لیے ضروری ہے کہ اس کی وکالت کم از کم 7 سال ہو۔
5۔ ٹرائل کے لیے معمول کے مطابق عدالت نہیں بلکہ علیحدہ سے جوینائل جسٹس کورٹ کا انتخاب کیا جائے گا جو عام کچہری سے فاصلے پر ہو گی اور دوران ٹرائل غیر متعلقہ اشخاص کو عدالت سے نکالا جا سکتا ہے۔ اگر عدالت ضروری سمجھے تو کمسن ملزم یا کمسن متاثرہ شخص کو عدالت میں پیش ہونے سے رخصت بھی دے سکتی ہے اور اسے کہہ سکتی ہے کہ وہ بذریعہ ویڈیو لنک عدالتی کارروائی میں حصہ لے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایسے تمام کیسز جن میں ملزم یا متاثرہ شخص کمسن ہو یعنی اس کی عمر 18 سال سے کم ہو تو اس میں پولیس کا تفتیشی افسر کم از کم Sub Inspector کے عہدے کا ہونا لازمی ہے اور اس انوسٹیگیشن کی نگرانی (Superintendent of Police) یعنی SP کرے گا اور اس تفتیش میں پروبیشن افسر کی معاونت شامل ہو گی۔ ملزم کا چالان ( 173 کی رپورٹ ) پیش کرنے سے پہلے پروبیشن افسر جو کہ کم از کم 17 گریڈ کا ہو گا، کو کمسن ملزم کے خاندانی، معاشرتی اور معاشی پس منظر کی رپورٹ متعلقہ جج صاحب کو پیش کرنی ہو گی جس سے جج صاحب کو ملزم کے بیک گراؤنڈ کا اچھے سے اندازہ ہو سکے گا۔
6۔ ایسے کیسز میں ریاست پاکستان کا مقصد یہی ہے کہ ایسے ملزمان جو کہ کمسن ہیں انہیں سزا کی بجائے اصلاح کا موقع دیا جائے تاکہ معاشرے کے کارآمد افراد میں شامل ہو کر باعزت شہری بن سکیں۔ اس لیے مقننہ نے Diversion کا تصور متعارف کروایا ہے جس کے تحت اگر کوئی ملزم کمسن ہے تو اسے سزا کے بجائے بروبیشن یعنی اصلاحی پروگرام پر بھیجا جائے جیسے وہ کسی این جی او یا کسی دیگر سرکاری ادارے میں کام کرے مثلاً ایسے شخص کو Parks and Horticulture کے شعبے میں مالی یا دیگر کام دیا جائے جس سے اس میں اصلاحی وصف نمایاں ہو سکے۔ یا اس ملزم اور متاثرہ شخص کے درمیان صلح یا راضی نامہ کرا دیا جائے، یا جرمانہ وغیرہ عائد کر کے ملزم کو رہا کر دیا جائے۔ اگر ایسا قانون یا کسی قانون کی ذیلی شق زیر بحث آتی ہے جس کے دو معنی اخذ کیے جا سکتے ہیں تو وہ تشریح مراد لی جائے گی جو کمسن ملزم کے حق میں ہو۔
7۔ اگر کوئی شخص کسی کمسن ملزم یا کمسن متاثرہ شخص کی شناخت ظاہر کرتا ہے تو اسے تین سال قید تک مع جرمانہ سزا ہو سکتی ہے۔ اور اگر کوئی شخص بغیر عدالت کی اجازت کے ایسی عدالتی کارروائی کو منظر عام پر لاتا ہے تو اسے دو سال قید تک مع جرمانہ سزا ہو سکتی ہے۔
جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 کا مقصد یہی ہے کہ کمسن ملزم جو کہ جرائم کی دنیا میں پھنس جاتے ہیں انہیں ہر ممکن کوشش کر کے واپس قومی دھارے میں شامل کر کے باعزت شہری بنایا جائے۔


