تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (5)


اس گھر میں پچھلے چند دنوں سے عجیب سا شور تھا۔ گھر کا معمر ترین فرد دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے اٹھارہ گھنٹے ہر چھوٹے بڑے کو یہ سمجھانے میں صرف کر رہا تھا کہ اس نامعقول لڑکی کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ لاڈ و پیار نے اس کا ستیاناس کر ڈالا ہے۔ وہ جوان ہے اور یوں ایک جوان لڑکی کا ہزار میل دور پڑھنے کے لئے جانے کی ضد کرنا قطعی احمقانہ بات ہے۔

اور یہ کہ اب اتنا بھی پڑھانے کی ضرورت کیا ہے؟ اٹھارہ انیس سال کی لڑکی کو تو ایک آدھ بچے کی ماں بن جانا چاہیے اور یہ ابھی تک یونہی ہڑدنگے مارتی پھرتی ہے۔ جوان جہاں لڑکی دھرتی کا بوجھ ہوتی ہے۔ اسے فوراً ٹھکانے لگا دینا چاہیے۔

ویسے انہیں اس بات کا بھی قلق تھا کہ ان کی باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دیا جاتا۔ پر وہ اپنی طور پر انہیں پھر بھی سمجھائے چلی جار ہی تھیں۔

اس ہڑدنگے مارتی لڑکی نے جس کا نام سمیعہ علی اور پیا ر کا نام سومی تھا، بی اے کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کر لیا تھا۔ وہ خوش قسمتی سے اس گھر کی اکیلی لڑکی تھی۔ چچاؤں، پھوپھیوں، بھائی اور کامنی سی بھاوج سبھوں نے اپنے اپنے طور پر اس کی خوشی میں شرکت کی تھی۔ چند دنوں بعد صبح ناشتے کی میز پر جب اس کے بھائی نے یونیورسٹی سے ایم اے کے لئے داخلہ فارم لانے کو کہا تو اس نے آنکھیں اٹھائے بغیر جواب دیا کہ ”وہ ایم اے کے لئے ڈھاکہ یونیورسٹی جانا چاہتی تھی۔“

”کیوں؟“ ۔ غزالی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
”بس یونہی۔“ اس نے بھی اطمینان سے کہا۔
”وہاں کے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں۔ ایسے میں تم کہاں جاؤ گی؟“
وہ بہت نرم اور محبت بھری آواز میں اس سے مخاطب تھا۔

” میرا جی چاہتا ہے۔“ اس نے قصداً وہ بات کہی جس کے متعلق اسے اچھی طرح علم تھا کہ اس کا رد کرنا اس کے بھائی کے لئے کتنا کٹھن ہے۔

اور یہ ٹھیک وہ وقت تھا جب ماں جی نے اپنے لیکچر کا آغاز کیا۔ وہ دھواں دھار بول رہی تھیں۔ غزالی پریشان تھا۔

” وہاں سیاسی سرگرمیوں کی نوعیت کسی طرح بھی صحت مند نہیں۔ یہ اگر وہاں چلی جائے گی تو میرا دھیان سارا وقت اسی میں اٹکا رہے گا اور ہاں! اسے اپنی آنکھوں سے دور کرنا میرے لئے ممکن نہیں۔ اس کے بغیر تو گھر میں مجھے گھپ اندھیرا محسوس ہوتا ہے۔“

اس نے گہرے غم اور تفکر سے یہ سب سوچا اور چائے ادھوری ہی چھوڑ کر چلا گیا۔

بھابھی نے شوہر کے ایما پر اس سے ایک دو بار بات بھی کی۔ پر اس کے عزم صمیم نے اسے کچھ زیادہ بولنے ہی نہ دیا۔ اس کے اتنے قوی ارادے کو محسوس کرتے ہوئے وہ شوہر سے بولی۔

”میں مناسب نہیں سمجھتی کہ ہم اس کے شوق کی راہ میں حائل ہوں۔ وہ جانے کا پختہ ارادہ کیے بیٹھی ہے۔ اسے روکنا فضول ہو گا۔ یوں پریشانی کی کیا بات ہے۔ نذرل چچا کے بڑے بھائی کا خاندان وہیں ڈھاکہ میں ہی تو ہے۔ خاندانی لوگ ہیں۔“

پر ماں جی کا یہ ہر وقت کا لیکچر سبھی کو ناگوار گزر رہا تھا۔ انہوں نے زینب اور فاطمہ اپنی دونوں چھوٹی بہوؤں کو جو احسن و محسن کی بیویاں تھیں۔ خط لکھوائے۔ باقاعدہ شام میں غزالی کو بھی آدھے گھنٹے کی خوراک پلانا ضروری خیال کرتیں۔ بہو سے وہ اکثر ناخوش ہی رہتیں۔ انہیں گلہ تھا کہ وہ نند کی بہت طرفداری کرتی ہے اور اس بگڑی ہوئی لڑکی کو مزید بگاڑ رہی ہے۔

اس دن غزالی نے باری باری دونوں چچاؤں کو فون پر گھرکی صورت حال کی خبر دی۔

”ارے بھئی تو پریشان کیوں ہو؟ وہ اگر جانا چاہتی ہے تو جانے دو۔ وہاں نذرل کے بڑے بھائی ہیں۔ قطعی فکر کی بات نہیں۔“

کرنل محسن نے اتنے لمبے چوڑے مسئلے کو جو غزالی کے گھر میں اتنا شور مچائے ہوئے تھا یوں دو باتوں میں ختم کر دیا۔

اس نے دبے لفظوں میں وہاں کے حالات کے بارے میں کہا۔

” سنو غزالی!“ ان کی آواز گمبھیر تھی۔ ”قوموں کو اپنی زندگی میں ایسے واقعات اور حالات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے، گھبراؤ نہیں۔“

اور یوں وہ قدرے مطمئن سا ہو گیا۔ کہنے کو وہ ایک ذمہ دار ڈاکٹر تھا۔ پر گھریلو زندگی میں اس کی حیثیت اپاہجوں جیسی تھی۔ اس پر اپنے چچاؤں کا بہت اثر تھا۔ اور ایسا ہونا بھی قدرتی تھا کیونکہ پہلے باپ اور بعد میں ماں مرنے سے ان دونوں بہن بھائی کی زندگی میں جو خلا پیدا ہو گیا تھا اسے محسن و احسن نے جس طرح پورا کیا اس نے ان پر کبھی یہ ظاہر نہ ہونے دیا کہ وہ ماں باپ کی شفقت سے محروم ہیں۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS