سچ کی تلاش اور غداری کا الزام؟
پاکستان میں کسی بھی اجتماعی بیانیے۔ خواہ وہ خاندان، قبیلے، برادری یا قوم کا ہو۔ پر سوال اٹھانا عموماً ”غداری“ کا الزام لگوانے کا سبب بن سکتا ہے۔ مسیحی اقلیت بھی اس صورت حال سے مستثنیٰ نہیں ہے حالانکہ انہیں اکثر مسیحی مذہب، لباس اور انگریزی ناموں کی وجہ سے برطانوی راج کی باقیات تصور کیا جاتا ہے۔ یہ تحریر نہ صرف مسیحی برادری بلکہ پورے ملک کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کو قدر کی نگاہ سے دیکھے، کیونکہ یہی آزادی تخلیقی صلاحیتوں، جدت اور ذہنی، سماجی اور معاشی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔
اِن دنوں ایک مسیحی صحافی اور تحقیقاتی رپورٹر عمر چیمہ شدید تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا واقعی اسکواڈرن لیڈر کامران بشیر۔ جو خود ایک مسیحی افسر ہیں۔ مئی 2025 کی مختصر پاک۔ بھارت جنگ کے دوران بھارتی فوجی اڈوں پر کامیاب حملہ کرنے والے پائلٹوں میں شامل تھے۔ اس مضمون کا مقصد بشیر کی کہانی کی حقیقت پر فیصلہ دینا نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ اس معاملے میں مسیحی برادری نے۔ جو عموماً تعلیم، انسانی حقوق اور خواتین کی تعلیم جیسے روشن خیال نظریات پر فخر کرتی ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کے دفاع سے کیوں گریز کیا۔
سماجی علوم کے ماہرین ایک عرصے سے یہ واضح کر چکے ہیں کہ تخلیقی صلاحیتوں اور سائنسی ترقی کے لئے فرد کی خودمختاری، سیکولر اندازِ تحقیق اور جمہوری اقدار کی موجودگی لازم ہے۔ مثلاً یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے دو ماہرینِ معیشت، یوری گورو ڈنیچینکو اور جیرارڈ رولینڈ نے یہ ثابت کیا ہے کہ جن معاشروں میں انفرادی آزادی، علمی آزادی اور وسیع سیاسی اشتراک کو ترویج حاصل ہو، وہاں سائنسی ترقی اور تخلیقی صلاحیت گھٹن زدہ معاشروں سے زیادہ ہوا کرتی ہیں۔
سن 1967 میں پروفیسر نوم چومسکی۔ جن کا تعلق یہودی پس منظر سے تھا۔ امریکہ کی ویتنام جنگ کی شدید مخالفت کرنے کے باوجود بھی اپنی MIT یونیورسٹی کی ملازمت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ اگرچہ آج کل مغربی معاشروں میں بھی پاپولزم (عوامیت پسندی) میں اضافہ ہو رہا ہے، پھر بھی وہاں ذاتی آزادی اتنی مضبوط ہے کہ شہری باقاعدگی سے اپنی حکومتوں کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اسرائیل کے 2023۔ 25 غزہ حملے کے دوران واشنگٹن، لندن، پیرس اور میڈرڈ میں لاکھوں افراد نے اسرائیلی اقدامات اور مغربی ممالک کی حمایت کے خلاف احتجاج کیا، حالانکہ ان کی حکومتوں کی مالی امداد ہی اسرائیلی جنگی مشین کی پشت پناہ تھی۔ اتنے بڑے پیمانے کا اختلافِ رائے پاکستان یا بھارت میں ناقابلِ تصور ہے۔
اس کے برعکس جنوبی ایشیا میں اب بھی اجتماعیت پسندی (کمیونیٹیرینزم) غالب ہے، جہاں خاندان کی عزت، مذہبی یکجہتی اور قومی وقار فرد کی حق اور سچ کی تلاش پر بھاری ہیں۔ پاکستان کی تاریخ تین فوجی حکومتوں اور مذہبی دباؤ کے تسلسل سے بھری ہے۔ ابھی حال ہی میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو آئین کی شق 20 کی مذہبی آزادی پر تشریح کرتے ہوئے مذہبی حلقوں کے دباؤ پر وضاحت دینا پڑی، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہاں لبرل آزادیوں کے ضامن ادارے کتنے کمزور ہیں۔
بھارت بھی اسی راہ پر گامزن ہے بلکہ یوں کہیے کہ زیادہ جوش و خروش اور شدت کے ساتھ۔ سن 2014 سے حکومت میں آنے والی نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اختلافِ رائے کو غداری قرار دے رکھا ہے، اور ”گودی میڈیا“ (بھارتی صحافیوں کی طرف سے استعمال کی جانے والی اصطلاح) اسی اکثریتی بیانیے کا ترجمان بنا ہوا ہے۔
مئی کی پاک۔ بھارت جنگ کے دوران بھارت نے لیفٹیننٹ کرنل صوفیہ قریشی نامی مسلمان خاتون فوجی افسر کو بھارتی کثیر الثقافتی شناخت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا، مگر جنگ بندی کے ٹھیک اگلے دن ریاست بہار میں ایک مسلمان شہری، ذاکر قریشی، کو گائے کے تحفظ کے نام پر مشتعل ہجوم نے قتل کر دیا جس سے ظاہر ہے کہ دوسری ثقافتوں کے لئے بھارت میں کوئی جگہ نہیں۔ اِس تحریر کے پریس میں جانے سے چند گھنٹے پہلے ہی بھارتی ریاست ہریانہ کی یوٹیوبر جیوتی ملہوترا سمیت چھ دیگر افراد کو محض پاکستان کا مثبت تاثر پیش کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، جس سے یہ واضح ہے کہ بھارت میں آن لائن اختلاف رائے پر بھی ریاستی گرفت مضبوط ہے۔ لہٰذا پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت بھی غیرموافق بیانیوں کو رد کرنے اور اقلیتوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے میں پیش پیش ہے۔
کامران بشیر کی کہانی پر مسیحی برادری کا جشن قابلِ فہم ہے۔ ایک ایسی کمیونٹی جسے تاریخی طور پر ”چُوہڑا“ (صفائی کرنے والا) کی توہین آمیز گالی سے پکارا جاتا رہا ہے، اس کے لئے ائر فورس کے ہیرو کی کہانی ایک علامتی فتح اور زخمی اجتماعی وقار کی بحالی کا باعث بنی ہے۔ تاہم جب صحافی اجمل اور عمر چیمہ نے صرف اتنا سوال کیا کہ فوج کے سرکاری ذرائع سے بشیر کی بہادری کا حوالہ یا کوئی مستند ثبوت کیوں جاری نہیں کیا گیا، تو انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ برادری کے کئی افراد نے کہا کہ اگر یہ کہانی من گھڑت بھی ہے تو اس سے اجتماعی وقار بلند ہو رہا ہے، لہٰذا ذاتی فائدے کے لئے اسے خراب مت کرو۔ ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کی بجائے افراد پر حملہ کر کے اُن کی وفاداری پر شک کرنا اسی اکثریتی منطق کی نقل ہے جس کی مسیحی برادری خود پاکستانی اکثریت سے شکایت کرتی ہے۔
انتخاب واضح ہے : پاکستانی مسیحی۔ اور مجموعی طور پر پاکستان بھی۔ اجتماعی انا کی خاطر تنقیدی آوازوں کو خاموش کرا کر سطحی فخر اور جذباتی جیت میں الجھے رہیں گے اور مسلسل غربت، جہالت اور پسماندگی میں دھنستے چلے جائے گے۔ یا وہ عقل پسندی، آزادیِ اظہار اور علمی جرات کی راہ کو اپنائیں گے، جس کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں، ترقی، جدت اور خوشحالی کی حقیقی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہی انتخاب فیصلہ کرے گا کہ آیا سچ اہم ہے یا محض فرضی کہانیوں کا دامن پکڑے رکھنا ہی مستقبل کی تقدیر ہے۔


یاد رکھیں سچ کی دوائی کا اثر دیر سے ہوتا ہے مگر دیرپا ہوتا ہے اور جھوٹ کی شہرت فوری مگرمدت بلبلے جیسی یعنی چند لمحے کا جیسے وائرل پوسٹ کا ہوتا ہے۔
ہم سب پر ہی ایک بہت شان دار مضمون کئی دن پہلے شائع ہوا ۔ اگر اس کی ہیڈنگ بہتر ہوتی تو لوگ اسے پڑھ لیتے مگر ضائع گیا۔
پھر پڑھنے کی چیز ہے۔
–
کامران بشیر کی واپسی اور دہلی کی فتحhttps://www.humsub.com.pk/589971/muqarrab-qayyum-6/
–
حقیقت یہ ہے کہ کامران بشیر ایک لوڈ ماسٹر ہے یعنی وہ عملہ جو کارگو جہازوں میں سامان رکھوانے کا ذمہ دار ہے۔ یہ کارگو جہازوں جیسے سی ون تھرٹی یا آئی ایل 78 ری فیولر کے ساتھ لوڈ ماسٹر کی حیثیت سے سفر کرتا جیسے سی ون تھرٹی نے زلزلہ متاثرین کے لئے سامان لے کر ترکی جانا ہو یا لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ۔
اس کی حیثیت کمرشل جہاز میں کیبن کریو یعنی اسٹیورڈ یا ایئرہوسٹس جیسی ہے جو جہاز میں سفر تو کرتے ہیں مگر کاک پٹ کریو یعنی پائلٹ نہیں ہوتے
ایسے متعدد لوگوں اور ان کے رشتہ داروں کا دعوی ہوتا ہے کہ کامران پائلٹ ہے اور اسی نے ابھینندن کو بھی گرایا تھا اسی نے فلاں حملہ ناکام بنایا تھا اور فلاں رفال جہاز گرائے تھے۔
–
سچ تو یہ ہے کہ کامران بشیر کا کورٹ مارشل بھی ہوسکتا ہے کیونکہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس نے اپنے موبائل سے جہاز میں ویڈیو بنائی جو دنیا میں شیئر بھی ہوئی۔ یہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور حالت جنگ میں عمرقید سے سزائے موت تک کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
اس کو مسیحی یا مسلمان کے تناظر میں دیکھنا نفرت انگیز معاملہ ہے۔ متعدد مسلمان افسر اور ایئرمین اس کام کی وجہ سے سزائے قید سے لے کراپنی نوکری گنوانے تک بہت کچھ کھوچکے ہیں تو ایک مسیحی لوڈ ماسٹر کو سزا نہ ملنا ایک نئی مصیبت کو جنم لے سکتا ہے
–
2019 میں بھی یہی ہوا تھا۔ جہاز کسی اور نے گرایا تھا اور شہرت حسن صدیقی کو مل گئی۔
ظاہر ہے جنگ کے اختتام تک ان معاملات کو سامنے نہیں آنا چاہئے اور ہمیں دل چسپی فرد واحد کی بجائے اس ادارے اور ملک میں ہونی چاہئے جس سے ہم وابستہ ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جہاز میں کون تھا یا کمپیوٹر پر بٹن کس نے دبایا تھا۔