اگلی گھنٹی کا انتظار
برصغیر میں وقت رک سا گیا تھا، پاکستان اور بھارت دو ایٹمی طاقتیں، جن کے درمیان عشروں پر محیط سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تناؤ، ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر آ کھڑی ہوئیں۔ لیکن اس بار معاملہ لفظوں اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ تک محدود نہ رہا۔ اس بار میزائل داغے گئے۔
اور پھر 88 گھنٹے کے اس ہولناک سکوت کے بعد اچانک سیز فائر کا اعلان ہوا۔ یہ 88 گھنٹے صرف جنگی خبریں نہیں تھے، یہ 88 گھنٹے خاموشی سے بجنے والے سانحے کا الارم تھے۔
بھارت کا پہلا میزائل داغا گیا۔ بقول دہلی سرکار کے۔ جواباً پاکستان نے بھی عسکری سطح پر ”جوابی سگنل“ دیا۔ میزائلوں کا تبادلہ ہوا، دونوں ممالک کی فضائیہ ہائی الرٹ پر، سرحدی تنصیبات متحرک، سویلین علاقوں میں خوف و ہراس۔
لیکن اصل سوال یہ ہے :کیا ایسا حادثہ واقعی حادثاتی تھا؟ یا یہ طاقت کے توازن کو پرکھنے کی ایک ناپی تولی ہوئی چال؟
سیز فائر کے پسِ منظر میں جو سفارتی سرگرمیاں ہوئیں، وہ درحقیقت برصغیر کے ’غیر علانیہ سرپرستوں‘ کی حرکت پذیری کا مظہر تھیں۔
بیجنگ میں چین نے، واشنگٹن نے خفیہ سفارتی چینلز سے اور سعودی عرب نے خاموش ثالثی کے ذریعے وہ کام کیا جو ہماری اپنی قیادتیں نہ کر سکیں لیکن کیا یہ جنگی آگ میں وقتی بجھاؤ کافی ہے؟
دونوں طرف کا میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلز گویا جنگ کی کمنٹری کر رہے تھے۔
”ہماری میزائل طاقت زیادہ ہے!“
”ہمارے جوابی وار سے وہ ہل گئے!“
”بدلہ لینا ضروری ہے!“
ایسا لگتا تھا جیسے خبر نہیں، جنگی نعرے فروخت ہو رہے ہوں۔
جب تک میڈیا جنگ کو تفریحی ڈرامے کے انداز میں بیچے گا، امن کے جھنڈے لہرانے والا ہمیشہ کمزور دکھے گا۔
بھارت میں انتخابات قریب ہیں، پاکستان میں سیاسی بے یقینی جاری ہے۔ جب قیادتیں داخلی بحرانوں میں گھری ہوں، تو اکثر خارجہ محاذ گرم کر دیا جاتا ہے، تاکہ عوامی توجہ ہٹائی جا سکے۔
لیکن سوال یہ ہے کیا ہم میزائل اس لیے بناتے ہیں کہ ان کا استعمال کر کے ہم سیاسی نعرے لگا سکیں؟
آئندہ کیا ہو گا؟ سیز فائر کے بعد بھی سوالات باقی ہیں۔
کیا دونوں ممالک ”حادثاتی میزائل لانچنگ“ جیسے واقعات سے بچنے کے لیے متفقہ حفاظتی نظام بنائیں گے؟
کیا کشمیر پر کوئی بامعنی بات چیت ممکن ہو سکے گی؟
کیا خطے میں امن کو پائیدار بنانے کے لیے کوئی پالیسی مستقل مزاجی دکھائی دے گی؟ یا پھر ہم صرف اگلے 88 گھنٹوں کے منتظر رہیں گے؟
برصغیر کے رہنماؤں کے پاس اب بھی وقت ہے امن صرف میزائل روکنے سے نہیں آتا، بات چیت، برداشت اور ویژن سے آتا ہے۔ سیز فائر ایک وقفہ ہے، اختتام نہیں اور اگر یہ وقفہ ضائع کیا گیا تو اگلی گھنٹی شاید آخری ہو۔


