بنگلہ دیش میں چند دن۔ قسط : 10
تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید
ترجمہ اور تخلیص :گوہر تاج
ڈھاکہ کو ضیاء بین الاقوامی ہوائی اڈہ قرار دیا گیا لیکن حسینہ شیخ نے کمال ہوشیاری سے اس کا نام تبدیل کر کے شاہ جلال ہوائی اڈہ رکھ دیا۔ شاہ جلال 1271 ء میں پیدا ہونے والے ایک صوفی بزرگ تھے جن کا تعلق یمن سے ہے۔ شاہ صاحب نے اس علاقے میں اسلام کو پھیلایا۔ حسینہ شیخ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی اس نام کو تبدیل کرنے کی جرات نہیں کرے۔ سیاست دان اپنے مخالف کو قابو کرنے کے لیے مذہب کو خوب استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے شاہ جلال بابا کے مزار پر حاضری دی جہاں بہت سے لوگ دعا کے لیے موجود تھے۔
سلہٹ میں ہر قسم کی چیزوں کی بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ ہم نے بالی کے ساتھ سلہٹ کی چائے سے بنے ریستورانوں میں بھی چائے پی۔ یہاں کے پھل اور سبزیاں بہت اچھی ہیں اور ہم وہاں کے ریستوراں میں چاول کے ساتھ کئی قسم کی سبزیاں کھاتے۔
یہ شہر بہت دوستانہ اور نسبتاً سستا بھی ہے، یہاں رہنے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق اس علاقے کے دیہی حصے سے ہے جو اپنے خاندان کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔
نرسنگ اسکول جاتے ہوئے میں دو مڈوائفری کی ذہین طالبات سے ملا، جنہوں نے رواں انگریزی میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے نصاب اور تربیت کے حوالے سے میرے تمام سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے۔
واپسی پر ہم نے گول گپوں کی دکان پہ دو طلبا کو دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وارڈ میں راؤنڈ کے لیے موجود ہیں اور ہمارے لیے گول گپے خریدنا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا ”ٹھیک ہے۔“ اور اب ہمارے پاس دو بہت لذیزگول گپوں کی پلیٹیں تھیں، جو مجھے یقین ہے کہ ای کو لائی (گندے پانی کے مضر رسا جرثومے ) سے بھری ہوئی تھیں۔ یہ بہت اچھا ہوا کہ ہمارے دوست ڈاکٹر دامانی جو انفیکشس ڈیزیز کے ماہر ہیں، ہمارے آس پاس نہیں تھے۔ میڈیکل کے طلبا نے کہا کہ وہ کراچی میں ہمارے ہسپتال جانا چاہتے ہیں، میں نے انہیں بلا تکلف انہیں اپنا فون نمبر دے دیا۔
ڈھاکہ اور سلہٹ یونیورسٹی
بڑے رقبے پہ پھیلی ڈھاکہ یونیورسٹی ایک زبردست جگہ ہے۔ مجھے یونیورسٹی دیکھنا اور وہاں طلباء کے بیت الخلا جانا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ جہاں کی دیواروں پر لکھے نعرے اور نوٹ یونیورسٹی اور ملکی سیاست کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح وہاں کی دیواروں پہ سیاسی اور غیر سیاسی نعرے اور عبارتیں تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر بنگلہ میں اور کچھ نعرے انگریزی میں تھے۔
مختلف شعبہ جات دور دور خاصے رقبوں پہ بنے ہوئے تھے۔
ہم نے یونیورسٹی کا ایک چکر لگایا اور وہاں کے طلباء سے گفتگو کی۔ مختلف زبانوں کے مطالعہ کے لیے ایک عمارت ہے۔ البتہ اردو کا شعبہ فارسی کے ساتھ ایک الگ عمارت میں ہے۔ یہ یونیورسٹی 1921 ء میں برطانوی حکومت نے قائم کی تھی۔ جس کے پہلے وائس چانسلر لندن یونیورسٹی کے سابق رجسٹرار تھے۔ اس یونیورسٹی کی سیاسی تاریخ ہے۔ تحریک پاکستان میں یہاں کے طلباء نے بہت مثبت کردار ادا کیا۔ یونیورسٹی میں عوامی لیگ کا طلبہ ونگ بہت مضبوط تھا۔ جب اردو کو تمام ملک کی زبان قرار دیا اس وقت بنگلہ زبان کی تحریک یہیں سے شروع ہوئی۔
یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں درختوں کے نیچے گھاس پر بیٹھ کر یونیورسٹی کے بالکل قریب مختلف ہاکروں سے کھانا کھا رہے ہیں۔ جب آپ مختلف موضوعات پہ گفتگو اور بحث کرتے ہیں تو یہ آپ کو ذہنی طور پہ جوان رکھتی ہے۔ یہاں کی دیواریں پوسٹروں اور طرح طرح کے نعروں سے بھری ہوئی تھی۔
یہ ایک خوش کن بات ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایک بہت فعال سائنس سوسائٹی موجود ہے جو باقاعدگی سے سائنسی اجلاس منعقد کرتی ہے۔ اس سوسائٹی نے اپنے طلبا کے لیے نامور سائنسدانوں کے خصوصی لیکچرز کا بھی اہتمام کیا اور طلباء کو سائنس کے چیلنجز پر بات کرنے کا موقع دیا۔ میں نے شعبہ بشریات (انتھروپولوجی) میں بہت سے طلباء کو دیکھا، جو کہ بہت دلچسپ موضوع ہے۔ علم انسان کے ہاتھ میں سب سے اہم گولہ بارود ہے۔
سلہٹ میں ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج کی دیوار پر لکھا ہوا دیکھا۔ ”جب آپ سیکھنا چھوڑ دیتے ہیں تو آپ مرنا شروع کر دیتے ہیں۔“ (یہ ایک مشہور نظم کی سطر ہے )
کیا زبردست پیغام ہے۔ یہ تعلیمی اداروں کا فرض ہے کہ وہ تنقیدی سوچ کو فروغ دیں۔ آپ کا تنقیدی سوچ کے بغیر سیکھنا ممکن نہیں ہے۔
میں اردو کے پروفیسر سے ملنا چاہتا تھا۔ جہانگیر مجھے اردو کے شعبہ میں لے گئے جہاں سٹاف نے ہم سے گرم جوشی سے ملاقات کی۔ مجھے بتایا گیا کہ اردو کے پروفیسر آج خاندان میں وفات کی وجہ سے موجود نہیں ہیں۔
لیکن میں اردو کی استاد اسسٹنٹ پروفیسر مس حفصہ سے مل سکتا ہوں۔ وہ مجھے ان کے کمرے میں لے گئے۔ وہ فون پر بات کر رہی تھیں۔ انہوں نے ہمیں بیٹھنے کی درخواست کی۔ چند منٹوں کے بعد میں نے اپنے تعارف سے گفتگو کا آغاز کیا۔
انہوں نے مجھے بتایا کہ اس شعبہ میں چار سو سے زائد طلباء اردو پڑھ رہے ہیں۔ ہمارے شعبہ میں نو فیکلٹی ممبران کے ساتھ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرام ہیں۔ وہ انگریزی الفاظ استعمال کیے بغیر بہت اچھی اردو بول رہی تھیں۔
میں نے انہیں غالب کی شاعری کا نیا شائع شدہ آسان ترجمہ دیا۔ اور کچھ دوسری کتابیں جو کوہی گوٹھ پبلی کیشنز نے شائع کیں۔
میں ان کی اردو کی فصاحت اور بلاغت سے متاثر ہوا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ اردو پڑھنے کی ترغیب انہیں ان کے والد نے دی۔ گو اردو ابتداء میں ان کے لیے بہت مشکل تھی لیکن چند ہفتوں کے بعد ہی ان کو اردو شاعری اور زبان میں بہت دلچسپی پیدا ہو گئی۔ وہ بنگلہ دیش میں اردو عاشق کی ایک مثال ہیں۔
میں نے انہیں ایک سندھی اجرک پیش کی اور اجرک کے ڈیزائن کی پانچ ہزار سالہ پرانی کہانی بھی بیان کی۔ انہوں نے اس کو ایک بہت خوبصورت تحفہ قرار دیا۔
(جاری ہے )


