جہاں خاموشی اشکال بنتی ہے


کائلاش۔ وہ مقام جہاں وقت گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہے، اور خیال، خاموشی کی گود میں پلتے ہیں۔ یہاں نہ پتھر بے جان ہیں، نہ ہوا محض چلتی ہے۔ ہر شے سننے اور سنانے کی طاقت رکھتی ہے۔ اور ان دنوں، وہاں چشمہ جاودان کی طرف جانے والے زینے پر چراغوں کی روشنی پھیل رہی تھی۔ وہی چراغ جو صرف سچ کی تلاش میں جلتے ہیں۔

وہاں جہاں پانی روشنی سے زیادہ شفاف ہے، اور ہر قطرہ گرتے ہوئے ایک نیا خیال جنم دیتا ہے۔ یہ چشمہ وقت کی سرحدوں سے باہر ہے، گویا کوئی کائناتی راز ہو، جو جدلیات کی آگہی سے کھلتا ہو۔

استھان کے پتھریلے دائرے میں، پانچوں شاگرد بیٹھے تھے۔ سب کی نگاہیں چشمے کی سطح پر تھیں، جہاں بروک کا عکس تھرتھرا رہا تھا۔

لیلٰی نے آنکھیں موند کر کہا:

”چشمے کی ہر بوند، ایک زوال کا سفر ہے۔ اینٹروپی ہر شے کو تحلیل کرتی ہے۔ بروک، چاہے کتنا ہی بلند ہو، انجام میں اُسے بکھرنا ہی تھا۔“

اگاتھا نے پانی میں ایک کنکر پھینکا، اور اس کے ارتعاش کو دیکھتے ہوئے بولی:

”مگر بکھرنے میں بھی پیغام ہے۔ جو بکھرتا ہے، وہ نئے دائرے بناتا ہے۔ چشمہ جاودان نے کبھی رُکنا نہیں سیکھا۔“

الیاس نے چٹان پر لکیریں کھینچتے ہوئے کہا:

”بروک کی گونج، اُس کے خاموش ہونے کے بعد گونجی۔ خوبصورتی، اُس لمحے میں تھی جب اُس نے سب کچھ چھوڑ دیا۔ اور پھر بھی باقی رہا۔“

ٹام کی آنکھوں میں تڑپ تھی، اُس نے زور سے کہا:

”کچھ بھی کہو، مگر بقا  ہی زندگی کا جوہر ہے۔ اگر بروک نے خود کو سنبھالا نہ، تو چشمے کی روشنی بھی ماند پڑ جائے گی۔ ہمیں دوبارہ تعمیر کرنا ہو گی۔“

پھر میرا خاموشی سے اٹھی۔ اُس کی ہتھیلی پر روشنی کی ایک کرن پڑی، جس میں چشمے کی رنگین دھاریاں جھلکنے لگیں۔ وہ بولی:

”اگر کائنات تبدیلی میں ہے، تو بکھرنا بھی ایک تخلیق  ہے۔ گویا بروک، اس چشمے میں مسکرا کر ہمیں دیکھ رہا ہو۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کھیل ختم نہ ہوا ہو، بلکہ نیا راؤنڈ شروع ہونے کو ہو۔“

یہ سنتے ہی چشمہ جاودان کی سطح پر ایک ہلکا طوفان سا اٹھا، یوں لگا کہ پانی نے مکالمے کو جذب کر لیا ہو۔

پھر، صاحبِ وقت آئے۔
سفید لبادہ، پیشانی پر وقت کی جھریاں، اور لبوں پر وہ مسکراہٹ جو رازوں کی چابی ہوتی  ہے۔
انہوں نے چشمے کی طرف دیکھا اور کہا:
”تم نے بروک کو صرف اس کے زوال میں پہچانا، مگر چشمہ اُس کا آئینہ ہے۔
لیلٰی، تم نے اس کی سائنس کو سمجھا۔
اگاتھا، تم نے اس کی روح کو محسوس کیا۔
الیاس، تم نے اس کی شکست سے شاعری کشید کی۔
ٹام، تم نے اس کی بنیادوں کو تھاما۔
میرا، تم نے اس کی ہنسی کو جاوداں کیا۔
مگر بروک تم میں بستا ہے۔ چشمہ جاودان، تمہاری آنکھوں سے بہتا ہے۔
بروک بکھرنے والا نہیں۔ وہ مکالمہ ہے، وہ اشکال ہے، وہ وہی ہے جو تم سب کے بیچ اب بھی زندہ ہے۔
اور یہی جدلیات۔ یہی ہے زندگی کا راز۔ ”
پانی کی سطح پر ایک لہر اٹھی، اور چراغ کی لو تھوڑی سی جھلملائی۔
افسانہ ختم نہیں ہوا بلکہ آنکھوں میں ایک اور اشکال چھوڑ گیا،
گویا سوال، جواب سے زیادہ جاوداں ہو۔

Facebook Comments HS