وزیرِاعظم کی مُودی کو للکار اور کاشف مسیح کا نِیلو نِیل بدن


گزشتہ چند روز سے چند خبروں کا خاصا تال میل نظر آیا ہے۔ ملاحظہ ہو کہ 12 مئی کو ضلع سیالکوٹ میں مسیحی نوجوان کاشف مسیح کو ایک سابق پولیس انسپیکٹر انتہائی اذیت ناک تشدد کر کے قتل کر دیتا ہے۔ 13 مئی کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی اقلیتوں کے حقوق و تحفظ کے لئے قومی کمیشن کے قیام کی منظوری دیتی ہے۔ 14 مئی کو وزیرِ اعظم شہباز شریف پاک بھارت کشیدگی کے بعد فوجی جوانوں کے حوصلے بلند کرنے سیالکوٹ تشریف لے جاتے اور نریندر مُودی کو للکار للکار کر چتاونی دیتے ہیں  کہ اگر بھارت نے دوبارہ حملہ کیا تو بچا کھچا بھارت بھی ختم ہو جائے گا۔

پہلی خبر کے مطابق 12 مئی کو ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے نواحی قصبہ جامکے چیمہ میں ایک معطل شُدہ سابق پولیس انسپیکٹر ملک عرفان اور اُس کے ساتھیوں نے مسیحیوں کو لکارتے ہوئے 35 سالہ مزدور پیشہ کاشف مسیح پر ڈنڈوں اور آہنی راڈوں سے بہیمانہ تشدد کرتے ہوئے اُسے موت کی گھاٹ اُتار دیا۔ کاشف کے خاندانی ذرائع کے مطابق ملک عرفان  اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مسیحی نوجوان پر گھنٹوں تشدد کرتا رہا۔ اُس نے کاشف مسیح کے نازک اعضا سمیت جسم کے مختلف حصوں میں کیل ٹھونکے، نیز لوہا گرم کر کے راڈ سے اُس پر تشدد کیا۔ مسیحی نوجوان کئی گھنٹے جان کنی کی حالت میں رہا۔ اُس کی جسمانی حالت نازک ہونے پر ملزمان اُسے گاؤں کے قریب ادھ مُوا چھوڑ کر چلے گئے جہاں کاشف مسیح نے اپنے ورثا کو ملزمان کے نام بتائے اور طبی امداد سے قبل ہی شدید ضربوں کے نتیجہ میں اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر دی۔ ورثا نے کاشف کو سپردِ خاک کرنے سے قبل اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اُس کی نعش سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا  اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ اور انصاف کی دُہائی دی۔

اس واقعہ کے اگلے ہی روز 13 مئی کو قومی اسمبلی نے اقلیتی حقوق بل 2025 کی منظوری دی جس کا مقصد ایک ایسے کمیشن کا قیام ہے جو پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق و تحفظ کو یقینی بنائے گا تا کہ مذہبی اقلیتیں زندگی کے تمام شعبوں میں انسانی حقوق سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو روکنا اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی اسی کمیشن کی ذمہ داری میں شامل ہو گا۔

تیسری خبر یہ ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 14 مئی کو پسرور چھاؤنی سیالکوٹ کا دورہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے آپریشن بنیان المرصُوص میں فوج کی بہادری کو سراہا۔ انہوں نے آرمی چیف کو تھپکی دی اور ائرچیف کو ہاتھ پکڑ کر مبارکباد دی۔

وزیر اعظم شہباز شریف بھارتی وزیرِاعظم کو نام لے کر پکارتے اور للکارتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا خطے میں تھانیداری کا بت پاش پاش ہو گیا۔ اگر بھارت نے دوبارہ حملہ کیا تو بچا کھچا بھارت بھی ختم  ہو جائے گا۔ اگرچہ اُن کے الفاظ اور لب و لہجہ سخت تھا مگر وزیرِ اعظم نے خطے میں امن کی خواہش کا اظہار بھی کیا کہ امن ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہم خطے میں پائیدار ترقی کے خواہاں ہیں۔

ان تینوں خبروں پر تبصرہ یہ ہے کہ مسیحی پاکستان کی انتہائی وفادار، مخلص اور محب الوطن قوم ہیں، مگر آئے روز پاکستانیوں ہی کے ہاتھوں اذیتیں سہتے رہتے ہیں۔ نہ تو ان کی کہیں آواز سُنی جاتی ہے اور نہ ہی انصاف کی فراہمی ممکن ہوتی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ وزیرِ اعظم صاحب کاشف مسیح کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بعد اگلے ہی روز سیالکوٹ تو گئے ہی ہوئے تھے اور کاشف مسیح کے جسم میں ٹھونکے جانے والے کیل اور قتل کیے جانے کی خبریں بھی عام تھیں تو ایسے میں کیا ہی خوب ہوتا جو وہ اپنی گرجدار آواز اور چند الفاظ میں ملک عرفان کو بھی للکار آتے کہ جو حرکت تم نے ایک پسماندہ اور وفادار قوم کے نوجوان کے ساتھ کی ہے اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا، تمہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تمہارے کرتوت تمہارے گلے کا پھندا بنیں گے۔ نیز دل جوئی کے چند الفاظ آپ کاشف مسیح کے ورثا  سے بھی کہہ آتے۔ اُس کے بھائیوں کے کاندھوں پر بھی ہاتھ رکھ کر دلاسا ہی دے آتے تو ممکن ہے غمزدہ خاندان کے آنسو جلد تھم جاتے اور ملک عرفان اور اُس کے ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی میں آسانی ہو جاتی۔

باقی رہی بات اقلیتوں کے حقوق کے نئے نویلے کمیشن کی تو عرض ہے کہ اس سے قبل بھی حکومتی نگرانی میں قائم ہونے والے انسانی حقوق کے کئی کمشن موجود ہیں، اُن کی کارکردگی کا جائزہ لے کر اندازہ لگایا جا  سکتا ہے کہ اقلیتی کمیشن میں کتنی جان ہو گی اور یہ کمیشن مذہبی اقلیتوں کے لئے کس حد تک فائدہ مند ہو گا۔ ایک خیال یہ ہے کہ کاشف مسیح کے نیلو نیل بدن، جسم میں ٹھونکے گئے کیل اور بے گناہ قتل کیے جانے کو اس اقلیتی کمیشن کے لئے ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھ لیتے ہیں کہ یہ کیس کمیشن کے ممبران کے لئے کتنا چیلنجنگ ہو گا اور کمیشن متاثرہ خاندان کے لئے کتنا سودمند؟

Facebook Comments HS