کیا یہ بہترین پیرنٹنگ ہے؟ (حصہ دوم)


میں اب کالج میں جانے والا تھا، مجھے پرائیویٹ کالج میں جانا تھا کیونکہ میں نے سرکاری جامعات میں اساتذہ کا طالب علموں سے رویہ بہت تحقیر آمیز دیکھا تھا۔

انٹرمیڈیٹ پارٹ ون: والدین اور اساتذہ کی طرف سے رہنمائی کا فقدان

پہلے تو پاپا نے کہا کہ ہاں میں کسی نجی کالج میں داخلہ کروا دوں گا  لیکن ہمارے کاروبار کے حالات بہت خراب چل رہے تھے اور یہ بات میرے نانا، ماموں کو بھی پتا تھی تو میرے ماموں میرے لیے ایک نجی کالج کا فارم لائے تھے لیکن والدین نے منع کر دیا اور کچھ وقت کے بعد میرے پاپا نے میری مما سے بولا کہ ”اس کو بول دو کسی سرکاری کالج میں داخلہ لے لے“ میں کالج میں داخلے کے لیے گیا تو مجھے نہ اپنا رجحان پتا تھا، نہ یہ پتا تھا کہ گروپس (کامرس، آرٹس، سائنس) میں لوگ کیا کرتے ہیں، کیا پڑھتے ہیں، ان  کی کون سی ڈگریاں ہوتی ہیں، کون سی یونیورسٹیوں یا کالج میں جاتے ہیں، مجھے کچھ بھی نہیں پتا تھا، میں نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ پری انجینئرنگ میں جا رہے ہیں تو میں نے بھی ان کو دیکھ کر پری انجینئرنگ لے لی (میں نے نویں جماعت میں کمپیوٹر سائنس بھی ایسے ہی لی تھی) لیکن میں کالج نہیں جاتا تھا ایک تو کالج کا ماحول پسند نہیں تھا ٹیچرز کا برتاؤ بہت برا لگتا تھا، دوسرا زیادہ تر ٹیچرز سندھی زبان میں پڑھاتے تھے جو مجھے بالکل بھی سمجھ نہیں آتی تھی، تیسرا جب میں نے میٹرک کر لیا تھا تو میری خالہ بتاتی تھیں کہ کالج میں بس داخلہ لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے، کالج نہیں جایا جاتا ہے بس بورڈ کے امتحانات دینے کے لیے جاتے ہیں۔

میں نے ایک کوچنگ سینٹر میں داخلہ لے لیا تھا لیکن کوچنگ سینٹر میں کیسے پڑھائی ہوتی ہے مجھے یہ نہیں پتا تھا کیونکہ میں نے شروع سے ہوم ٹیوشن لی تھی تو مجھے لگتا تھا کہ یہاں پر بھی ایسے ہی پڑھایا جائے گا لیکن کوچنگ میں صرف لیکچر دیا جاتا تھا باقی کا کام ہمیں خود کرنا ہوتا تھا، میری لیکچر پر توجہ بھی نہیں بن پاتی تھی۔ کوچنگ سینٹر میں بھی ایک جاہل لڑکا ملا تھا جو میری ماں، بہن کے بارے میں واہیات باتیں کیا کرتا تھا اور میں بے بس ہو کر سنتا رہتا تھا۔ میں اپنے ددھیال اور ننھیال میں پہلا بندہ تھا جس نے پری انجینئرنگ لی تھی تو یہ دیکھ کر ”باولے گاؤں میں اونٹ آ گیا تھا“ میرے پاپا نے اب صبح و شام رٹ لگائی ہوئی تھی کہ ”انجینئرنگ یونیورسٹی میں جانا ہے“ اس سال میں نے واپس سے ماہر نفسیات کے پاس جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ مجھے احساس کمتری بہت زیادہ محسوس ہوتی تھی پہلے میں پرانے والے ماہر نفسیات کے پاس ہی گیا تھا جب ان کی دوائی سے فرق نہیں ہوا تو انہوں نے مجھے اپنے بیٹے کے پاس بھیج دیا۔ میں 6 مہینے تک کوچنگ سینٹر گیا تھا لیکن میں نے کچھ بھی نہیں سیکھا تھا اور اسی لیے میں نے باقی کی فیس دینے سے منع کر دیا تھا اور کوچنگ چھوڑ دی تھی، ایک بندے کو بولا کہ وہ میرے لیے ٹیوشن کا انتظام کروائے اس بندے نے ایک مہینے تک بولا کہ ہاں میں انتظام کرواؤں گا لیکن نہیں کروایا، میرے نام نہاد دوستوں کے بڑے بھائی جو یونیورسٹی میں پڑھتے تھے وہ اپنے بھائیوں کے سامنے مجھ سے فرسٹ ائر کے سوالات پوچھتے اور میرے نہ بتانے پر سب قہقہہ لگاتے، میں ذہنی طور پر پریشان تھا کیونکہ مجھے کچھ آتا نہیں تھا تو امتحان کیسے دوں گا، اپنا رجحان بھی نہیں پتا تھا، دوسری طرف پاپا نے شور مچایا ہوا تھا کہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں جانا ہے اور بہت سے لوگوں کو تو انہوں نے بول بھی دیا تھا کہ ”میرا داخلہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں ہو چکا ہے“ اس بات پر میں یہ ہی سوچتا تھا کہ اگر اب میرا داخلہ انجینئرنگ میں نہیں ہوا تو میری بہت بدنامی ہوگی، ہمارے شہر میں بورڈ کے امتحانات میں نقل ہوتی ہے تو میں نے بھی نقل کر کے امتحان دے دیے۔

انٹر میڈیٹ پارٹ ٹو: رہنمائی کا مسلسل فقدان

میں انٹر میڈیٹ پارٹ 2 میں آ گیا تھا میرا آدھا سال تو ایسے ہی گزر گیا، آدھا سال ہونے کے بعد میں نے ٹیوشن لینے کا بولا تو میرے مما، پاپا نے بولا کہ ”اب ٹیوشن لینے کا خیال آ رہا ہے“ انہوں نے بہت باتیں بنائیں پھر ٹیوشن ڈھونڈنا شروع کی تو بڑی مشکل سے ایک جگہ ٹیوشن کا انتظام ہوا لیکن میں نہیں گیا کیونکہ میں بہت زیادہ نروس تھا، مجھے پتا نہیں تھا کہ میں کیسے پڑھوں گا یا کیسے سمجھوں گا، میرے پاپا کو پتا چلا کہ میں نہیں گیا تو انہوں نے کہا ”جہاں بھی جانا ہے تو پھر خود چلے جانا اب“ پھر اس کے بعد انہوں نے گھر سے کافی دور ایک ہوم ٹیوشن دلوائی ان ٹیچر کے پاس میں ایک ہفتہ گیا، ایک ہفتے کے بعد انہوں نے بولا کہ ”ابھی ہم آپ کو پڑھا رہے ہیں لیکن جب ہم آپ سے پوچھیں گے اور آپ نے ہمیں نہیں بتایا نا تو پھر ہمارا ردعمل بھی دیکھنا“ یہ بات سن کر میں ڈر گیا میں نے سوچا کہ یہ تو مجھے بہت ماریں گے اس لیے میں نے ان کے پاس بھی جانا چھوڑ دیا، میرے پاپا کو اس بات پر بہت جنون چڑھا پھر میں نے خود ایک ٹیچر کے پاس ہوم ٹیوشن لی ان کے پاس 1 ہفتہ گیا تو انہوں نے بولا کہ ”آپ بہت پیچھے رہ گئے ہو“ اور پڑھانے سے منع کر دیا، میں نے پھر ایک نئے ٹیچر کے پاس جانا  شروع کیا لیکن مجھے یہی محسوس ہوا کہ ”نہیں میں یہ سب پڑھ ہی نہیں سکتا ہوں یا میں یہ سب کیسے پڑھوں گا اس لیے میں نے ان کے پاس سے بھی 3 دن بعد ٹیوشن چھوڑ دی“ پھر میں نے اپنے ماموں کو بولا تو انہوں نے ایک ٹیچر کے پاس لگوایا میں نے بقایا تین ماہ تک ان کے پاس ہی پڑھا، میرا انٹرمیڈیٹ پارٹ ون کا رزلٹ آ چکا تھا لیکن یہ رزلٹ میرے پاپا کی سفارش کی وجہ سے تھا مجھے اس رزلٹ کی ذرہ برابر خوشی نہیں تھی کیونکہ مجھے پتا تھا نہ میری اس میں کوئی محنت ہے اور نہ ہی میں نے کچھ سیکھا ہے، میں اگر اپنے پاپا سے بولتا کہ میں کچھ اور کروں گا تو وہ ایسا ردعمل دیتے جیسے دنیا میں انجینئرنگ کے علاوہ مزید کوئی کام موجود ہی نہیں ہے، میں ان سے بولتا کہ ”میری کالج کی بنیادی تعلیم ہی نہیں ہے تو میں آگے کیسے بڑھوں گا“ تو اس پر وہ بولتے کہ ”بنیاد کا کیا کرنا ہے اب بس آگے بڑھو“ ، میں ان کو بولتا کہ ایک سال کے لیے میں انٹرمیڈیٹ امپرو کروں گا تو اس پر وہ کہتے کہ ”اس کو کچھ بھی نہیں کرنا ہے“ ، میں بولتا مجھے اس میں دلچسپی محسوس نہیں ہوتی تو اس پر وہ بولتے کہ ”اگر نہیں پڑھنا ہے تو پھر ہمارا دماغ کیوں خراب کر رہا ہے“ ۔ میرا فرسٹ ائر میں +A آنے کی وجہ سے میرے نانا، میرے ماموں ہر کسی کی مجھ سے امیدیں وابستہ ہو گئیں تھیں میرے انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے امتحانات بھی نقل کر کے ہوئے

انٹری ٹیسٹ تیاری: والدین کا دباؤ

پھر مجھے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے داخل کروا دیا گیا میں صبح انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے کوچنگ جاتا تھا اور شام کو ایک ٹیچر کے پاس ہوم ٹیوشن کے لیے جاتا تھا تا کہ اگر صبح سمجھ نہ آیا ہو تو شام کو سمجھ لوں گا لیکن مجھے صبح ہو یا شام دونوں ہی جگہوں پر کچھ سمجھ نہیں آتا تھا بس دماغ پوری طرح الجھا رہتا تھا، کوچنگ سینٹر کے لڑکے بھی پوچھتے تھے کہ ”تم اتنے گم سم کیوں رہتے ہو“ میرے پاپا صبح و شام بس ایک ہی بات کرتے تھے کہ ”یونیورسٹی میں جانا ہے تمھیں“ میرے پاپا کو ایک ہی بات بار بار دہرانے کی عادت ہے، میرا انٹری ٹیسٹ کے لیے یونیورسٹی کا فارم آیا تو فارم جمع کروانے کے لیے 20 یا 25 دن باقی تھے لیکن وہ روزانہ آ کر پوچھتے کہ ”فارم بھر دیا ہے“ کچھ دن میرے ماموں نے یہ بات نوٹس کی تو انہوں نے مجھ سے بولا کہ ”تیرا باپ تو تجھے پاگل کر دے گا ایسا تھوڑی ہوتا ہے کہ ایک بات کے پیچھے ہی لگ جائے بندہ“ ایک دن میرے پاپا مجھ سے کوئی بات کر رہے تھے انہوں نے وہی پرانی بات بولی تو اسی لیے میں نے ان کو جواب نہیں دیا تو انہوں نے مجھے گالی دی بہت ہی گندی میری مما اس وقت وہیں موجود تھیں لیکن انہوں نے کچھ نہیں بولا دوسرے دن انہوں نے مجھے پھر وہی گالی دی تو اس پر میں نے ان کو جواب (گالی نہیں ) دیا تو اس پر میری مما مجھے ہی بولنے لگیں ”تمھارے پاپا میرے شوہر ہیں وہ مجھے جو چاہیں بول دیں لیکن تم نے جواب دے کر مجھے گالی دی ہے“ پھر اس بات کے بعد میں واپس اپنے ماموں کے پاس گیا تو میرے پاپا نے فون کر کے بولا کہ ”اظہر پریشان ہو رہا ہے“ تو اس پر میرے ماموں نے بولا کہ ”پریشان آپ ہی نے تو کیا ہوا ہے بس آپ زیادہ پریشان مت کرو آرام سے کام ہونے دو“ جس ٹیچر کے پاس انٹری ٹیسٹ کے دوران میں شام کو جایا کرتا تھا اس کو معلوم تھا کہ میری انٹرمیڈیٹ کی بنیادیں نہیں ہیں اور اسی لیے میرا رزلٹ جو آیا ہے وہ سفارش سے آیا ہے تو وہ بھی میرا مذاق اڑاتا تھا کبھی طنز میں کہتا کہ ”تم تو بہت ذہین ہو، کبھی کہتا کہ“ تم آٹے میں نمک بھی نہیں ہو ”، کبھی اپنے ٹیوشن کے باقی لڑکوں کو بولتا کہ“ تم لوگ بھی اظہر کی طرح سرکاری کالج میں داخلہ لے لو تمھارا بھی +A رزلٹ آ جائے گا ”اس ٹیچر نے میرے پاپا کو بولا تھا کہ“ بھلے ہی آپ کا بیٹا چھٹی والے دن بھی میرے پاس پڑھنے کے لیے آ جایا کرے میں 5 ہفتوں تک چھٹی والے دن گیا تو وہ دروازے کے اندر سے ہی منع کر دیا کرتے تھے یہ بول کر کہ ”میری آج طبیعت ٹھیک نہیں ہے، میں آج کام سے جا رہا ہوں، میں آج میت میں جا رہا ہوں وغیرہ وغیرہ“ اور وہی ٹیچر اس بات کا بھی مذاق بناتے کہ ”اظہر تو اتنا پڑھنے والا ہے کہ یہ تو چھٹی کے دن بھی پڑھنے آتا ہے“ ۔ میں نے انٹری ٹیسٹ ہونے سے پہلے ہی بول دیا تھا کہ ”میرا داخلہ نہیں ہو گا میں نے انٹری ٹیسٹ دیا اور میں رہ گیا“ ۔

میں نے جس انجینئرنگ یونیورسٹی کا انٹری ٹیسٹ دیا تھا وہاں پر داخلہ مشکل سے ہوتا ہے، بہت سے والدین تو اپنے بچوں کو پہلے ہی بول دیتے ہیں کہ ”تم اپنی کوشش کرو باقی آگے داخلہ ملنا نہ ملنا تمھارا نصیب ہے“ لیکن میرے گھر والوں نے مجھ پر غصہ کرنا شروع کر دیا کہ ”اس نے کوئی تیاری ہی نہیں کی تھی، یہ تو پہلے ہی بول رہا تھا اس کا نہیں ہو گا تو کیسے ہوتا اس کا“ میرے پاپا جنہوں نے کسی بات میں میری رائے کو اہمیت نہیں دی تھی یا مجھے کچھ اور سوچنے تک کا موقع بھی نہیں دیا تھا وہ اب مجھ سے کہنے لگے کہ ”تمھیں اب کیا کرنا ہے مجھے بتا دینا“ میرے نانا جن کو یونیورسٹی میں داخلے کے طریقے کار کا کچھ بھی نہیں پتا تھا وہ بھی مجھ پر غصہ کرنے لگے، میری مما نے ان کو میرا نفسیاتی مسئلہ کا بتایا ہوا تھا تو اب وہ مجھے میری احساس کمتری پر بھی بولنے لگے کہ ”یہ ڈھنگ ہیں تمھارے“ ۔ میرے پاپا کو مجھے کچھ سکھانے میں دلچسپی نہیں تھی ان کو بس مجھے ایک بڑی یونیورسٹی کی ڈگری کا ٹائٹل دلوانے میں دلچسپی تھی پھر چاہے مجھے اس فیلڈ میں کوئی دلچسپی نہ ہو، مجھے اس فیلڈ میں کچھ سمجھ میں نہ آ رہا ہو۔

انٹرمیڈیٹ امپرو کرنا:

میرے پاپا کی انوکھی منطق تھی وہ کہتے تھے کہ ”یونیورسٹی میں پہنچ جاؤ بس پھر تمھاری زندگی بن جائے گی“ چاہیے ہماری بنیادی تعلیم کتنی ہی ناقص کیوں نہ ہو۔ انٹری ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد میرے نانا آفر دے کر گئے کہ ”میں اس (میرا) کا داخلہ کراچی کی نجی یونیورسٹی میں کروا دوں گا تم لوگ مجھے بتا دو اگر کراچی بھیجنا ہے تو“ ، میرے پاپا تو بھیجنے کے لیے تیار تھے لیکن میری مما نے منع کر دیا کیونکہ کراچی میں میرے رہنے کا مسئلہ تھا میرے پاپا مشورہ کرنے کے لیے ایک ٹیچر کے پاس گئے پہلے تو ان ٹیچر نے اپنا Attitude دکھایا کہ ”آپ (میرا) کا داخلہ کیوں نہیں ہوا، ہم نے انٹری ٹیسٹ کے سوالات کا پرچہ دیکھا ہے ان میں ایک سوال بھی کتاب سے باہر نہیں آیا ہے (پہلی بات تو یہ کہ ہماری یونیورسٹی اپنا سوالات کا پرچہ آؤٹ ہی نہیں کرتی ہے وہ سوالات کا پرچہ اسی وقت واپس لے لیتے ہیں، دوسری بات یونیورسٹی کا acceptance ریٹ صرف 15 فیصد تھا سوالات اگر کتاب سے باہر نہیں بھی آئے تھے تب بھی 85 فیصد بچے داخلہ لینے سے کیوں رہ گئے تھے ) ۔ اسی ٹیچر کو میرے پاپا نے بتایا کہ“ میری انٹرمیڈیٹ میں % 80 آئی ہے ”تو اس پر وہ ٹیچر کہنے لگے کہ“ % 80 کیا میرے پاس تو بورڈ کے ٹاپرز بیٹھے ہوئے ہیں ”، ان ٹیچر نے ایک اور بات بولی تھی کہ“ اگر بچہ پڑھنے والا ہو تو جس ٹیچر کو پڑھانا نہیں آتا تو اس سے بھی پڑھ لیتا ہے تو ان ٹیوشن ٹیچر نے مجھے مشورہ دیا کہ ”یہ (میں ) میرے پاس آ کر امپرو کر لیں گے“ ان کی میرے پاپا سے صرف یہ تیسری ملاقات تھی تو بات کرتے ہوئے انہوں نے میرے پاپا کو بولا کہ ”بندے بندے میں بات ہوتی ہے آپ ہمیں وقت دیں“ میرے پاپا اپنی تعریف سنتے ہوئے اور سامنے والے بندے کو اپنی سائیڈ پر دیکھتے ہوئے میرے بارے میں بولنے لگے کہ ”میں چاہوں نا تو کھڑے کھڑے ان کا داخلہ آسڑیلیا میں کروا دوں مجھے پڑھ کر تو دکھائیں یہ“ ، ان کا لہجہ اور بات سن کر میں نے دل میں یہی سوچا کہ ”ان سے میرے سرکاری کالج کی سالانہ فیس تو دی نہیں گئی، خود اپنا کاروبار ڈوبو کر دکان بند کر کے گھر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ میرا آسٹریلیا میں داخلہ کروائیں گے“ ہمارے گھر کا سارا خرچہ اب میرے نانا اٹھاتے تھے، میرے پاپا کی ایک روپے کی آمدنی نہیں تھی۔ میں نے اسی ٹیوشن ٹیچر کو بولا کہ ”مجھے کمپیوٹرز میں دلچسپی ہے“ تو اس پر ٹیوشن ٹیچر نے کہا کہ ”جگہ جگہ پر کمپیوٹر سینٹر بنے ہوئے ہیں کہیں سے بھی جا کر کوئی کورس کر لو لیکن اس کو سیکھ کر آپ کیا کر و گے لوگوں کے موبائیلوں میں گانے ڈاؤن لوڈ کر دیا کرو گے“ میں ان کی یہ بات سن کر حیرت سے ٹیچر کو دیکھ کر سوچنے لگا کہ ”میں پری انجینئرنگ کا طالب علم ہوں یہ ٹیچر مجھے بول سکتے تھے کہ آپ کمپیوٹر انجینئرنگ کر لو یا کمپیوٹر سائنس پڑھ لو اور اگر میں کوئی کمپیوٹر کورس بھی کرتا ہوں تو گانے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کون سے کمپیوٹر کورس ہوتے ہیں“ لیکن میرے پاپا یہ بات سن کر کہنے لگے ”ہاں میں اس کو یہی سمجھا رہا ہوں“ بلکہ وہ ٹیچر مزید کہنے لگے کہ ”ہاں آپ اس کو اوپر دیکھنا چاہتے ہو لیکن یہ نیچے رہنا چاہتا ہے“ (اب اس پر میں یہ کہوں گا کہ ”ایک کام مجھے پسند ہی نہیں ہے تو اس میں، میں اوپر جا ہی نہیں سکتا ہوں بلکہ اگر مجھے چھوٹا کام ہی پسند ہے تو اس میں میرے آگے بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوں گے“ ) ۔

میں گھر پر آ گیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ میں اب امپرو کروں گا اور پھر اگلے سال دوبارہ سے انٹری ٹیسٹ دوں گا۔ مجھے اگلے دن صبح ایک اور ٹیچر کے پاس لے جایا گیا انہوں نے بھی Attitude دکھایا کہنے لگے کہ ”ہم نے اس سال کا انٹری ٹیسٹ کا پرچہ دیکھا ہے اور اس سال کا ٹیسٹ تو بہت آسان تھا“ ۔ میں اگلے دن ان ٹیچر کے پاس جانے لگا، میرے پاپا مجھے صبح چھوڑنے جاتے اور واپس آ کر ائر کنڈیشن میں سو جاتے تھے اور میں ٹیوشن میں 3 سے 4 گھنٹے تک کلاسیں لے رہا ہوتا تھا، پھر میرے پاپا مجھے لینے آتے اور پھر میں شام کو سارے کلاس ورک کی پریکٹس کرتا تھا تقریباً کبھی 3، 4 یا 5 گھنٹے تک پریکٹس کرتا تھا کبھی میں رات کو دیر تک جاگ کر پریکٹس کرتا تھا اور میرے والدین ائرکنڈیشن میں ٹی وی دیکھ رہے ہوتے یا سو رہے ہوتے تھے، میں یہ بات اس لیے بتا رہا ہوں کہ ”پیسہ میرے نانا لگا رہے تھے، نیند میری خراب ہو رہی تھی، گھنٹوں پڑھائی میں کر رہا تھا لیکن مرضی میرے پاپا کی چل رہی تھی، مجھے کس یونیورسٹی میں جانا ہے، مجھے کیا پڑھنا ہے اور مجھے کون سا شعبہ لینا ہے اس تک کا فیصلہ میرے پاپا کے اختیار میں تھا بدلے میں وہ بس یہ بول دیتے تھے کہ اس میں فائدہ تمھارا ہے حالانکہ میرا فائدہ نہیں تھا جب مجھے ایک چیز میں دلچسپی ہی نہیں ہے تو پھر اس پر محنت کیوں کرنا دوسری بات یہ کہ جب ساری محنت مجھے ہی کرنا تھی تو مجھے محنت کہاں کرنی ہے اس کا فیصلہ بھی میں خود ہی کر سکتا تھا۔ میں نے ان ٹیچر کے پاس 6 مہینے تک امپرو کیا، ان ٹیچر نے بھی بولا کہ“ مجھ میں صرف اعتماد کی کمی ہے باقی اور کسی چیز کی کمی نہیں ہے اور آپ کو پڑھائی کے حوالے سے گائیڈ لائن نہیں ملی ہے ”۔

انٹری ٹیسٹ اور اس کے بعد کا مرحلہ: والدین کا مجھ پر اپنی سوچ مسلط کرنا

پھر دوبارہ انٹری ٹیسٹ کی باری آئی میں نے یہ بات نوٹس کی کہ جس ٹیچر کے پاس میں امپرو کرنے جا رہا ہوں یہ اچھے انسان ہیں، پڑھانے میں بھی ٹھیک ہیں لیکن یہ سارے مضامین اکیلے خود پڑھا رہے تھے اور اسی وجہ سے وہ پورا کورس کور نہیں کروا پاتے تھے، میں نے اسی لیے ان ٹیچر کے پاس انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرنے سے منع کیا لیکن میرے پاپا نے بولا کہ ”نہیں یہی سینٹر ٹھیک ہے“ انٹری ٹیسٹ کی فیس صرف 5 ہزار تھی لیکن میرے پاپا نے میرے نانا ابو سے 11 ہزار روپے فیس بول کر پیسے لیے 5 ہزار سینٹر میں دیے اور 6 ہزار انہوں نے خود اپنے پاس رکھ لیے۔ ہمارے گھر میں جنریٹر کی سہولت نہیں تھی اور لوڈشیڈنگ اب زیادہ ہونے لگی تو میں رات کے وقت جو بھی پڑھائی کرتا تھا وہ چارجر، موم بتی یا گیس مینٹل کی روشنی میں کیا کرتا تھا تو جب انٹری ٹیسٹ شروع ہونے والا تھا تو میرے لیے نئے چارجر کا انتظام ہوا۔ میں نے اپنی انٹری ٹیسٹ کی تیاری شروع کردی اور تیاری کے پہلے مہینے میں ہی میں سمجھ گیا تھا کہ یہ ٹیچر انٹری ٹیسٹ کی تیاری نہیں کروا پائیں گے لیکن میں نے پھر بھی سوچا کہ میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا، میں تقریباً 4، 5 یا 6 گھنٹے تک روزانہ پڑھتا تھا، انٹری ٹیسٹ کا وقت آیا اور ہو گیا۔ میرے مارکس کم آئے تھے میرا داخلہ میرٹ پر نہیں سیلف فنانس پر ہونے کا امکان تھا، سیلف فنانس کے پیسے میرے نانا نے دیے تھے۔ میرے پاپا کو شیخی خوری کی عادت ہے تو وہ مجھ سے کہنے لگے کہ جب تمھارا داخلہ ہو جائے گا تو میں یونیورسٹی میں تمھارے نمبرز بھی بڑھاوا دوں گا میں نے کہا کہ ”مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے میں خود سے کوشش کر کے اچھے نمبرز لے لوں گا“ تو اس پر وہ کہنے لگے ”ہاں دیکھ لیا تو کتنا کرنے والا ہے“ انہوں نے یہ بات اس لیے بولی تھی کیونکہ میرے نمبرز انٹری ٹیسٹ میں کم آئے تھے میں ان کی بات سن کر حیران ہو گیا، میں نے سوچا کہ غلط سینٹر میں انہوں نے مجھے داخل کروایا میرے منع کرنے کے باوجود، محنت میں نے پھر بھی بہت کی، اس کے بعد بھی یہ مجھے ہی الزام دے رہے ہیں پھر اس کے بعد مرحلہ آیا ڈیپارٹمنٹ چننے کا میں نے یہی بولا کہ مجھے کمپیوٹرز میں دلچسپی ہے تو میں کمپیوٹر انجینئرنگ لینا چاہتا ہوں، میرے پاپا مشورہ کرنے کے لیے ٹیچر کے پاس لے گئے ان ٹیچر نے کہا کہ ”اگر ان کو (مجھے ) اس فیلڈ میں دلچسپی ہے تو لینے دیں آپ اپنی سوچ ان پر مسلط نہ کریں“ میرے پاپا نے ان کے سامنے تو بولا ”ہاں صحیح بات ہے میں کیوں ان پر اپنی سوچ مسلط کرنے لگا“ لیکن گھر پر آ کر وہ کہنے لگے کہ ”یہ لے لے گا جو اسے لینا ہے مجھے کون سے ان کے پیسے چاہئیں اس بات کو سن کر میری مما نے ہنس کر میرے پاپا سے بولا“ ہاں مجھے بھی کون سے ان کے پیسے چاہئیں مجھے تو تم کھلاؤ گے ”اور پھر کہنے لگیں کہ“ ماں باپ جو کرتے ہیں بھلے کے لیے کرتے ہیں ”اس بات کے اگلے دن مما مجھے پھر سے کہنے لگیں“ بھئی تمھیں جو کرنا ہے کر لو مجھے تو میرا شوہر کما کر کھلائے گا ”ان باتوں کی وجہ سے میں نے کمپیوٹر انجینئرنگ کو ٹاپ کے بجائے نیچے رکھ دیا تھا گھر والوں نے اپنی پسند سے مجھے ڈیپارٹمنٹ دلوا دیا۔ (میری مما کو بھی بچوں کو پڑھانے کا شوق نہیں تھا میری مما نے بھی میٹرک کے بعد مجھے دکان پر جانے کا بول دیا تھا اور دوسری بار انٹری ٹیسٹ ہونے سے پہلے بھی مما نے بولا تھا کہ اگر اس بار یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملے تو تم بس دکان پر چلے جانا) ۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS