نیت اور نالج کے باوجود بے عملی کیوں؟ خواب حقیقت کیوں نہیں بنتے؟
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ بڑے شوق اور جوش سے کسی کام کے بارے میں سوچتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں، آئیڈیاز جمع کرتے ہیں، اور یہاں تک کہ ان پر ریسرچ بھی کرتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ وہ سب کچھ صرف کاغذوں اور دماغ میں ہی محدود رہا۔ جب وہی خیال کسی اور کے ذریعے حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے، کوئی نیا برانڈ مارکیٹ میں آ جاتا ہے یا کوئی کاروبار کامیابی سے چل پڑتا ہے تو اندر ہی اندر ایک خلش جنم لیتی ہے کہ ”یہی تو میں بھی کرنا چاہتا تھا، میں نے تو اس پر بہت پہلے کام شروع کیا تھا“ ۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ کام کا سہرا ہمیشہ اسی کے سر جاتا ہے جو خیال کو عمل میں بدلتا ہے، نہ کہ اس کے جو صرف سوچتا رہتا ہے۔
یہ کیفیت دراصل ایک ایسے خلا کی علامت ہے جو نیت اور عمل کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ بہت سے باصلاحیت افراد اس فریب میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ صرف اچھا سوچ لینا یا بہترین پلاننگ کر لینا ہی کامیابی کی ضمانت ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عمل کے بغیر سب کچھ بے معنی ہو جاتا ہے۔ کامن غلطی یہ ہوتی ہے کہ لوگ پلاننگ کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں اور عمل کی طرف پہلا قدم ہی نہیں اٹھاتے۔ وہ دنوں، ہفتوں یا مہینوں تک اپنے آئیڈیاز پر سوچتے رہتے ہیں لیکن ایک بھی ایسا قدم نہیں لیتے جس سے کوئی پیش رفت ہو۔
اس بے عملی کے پیچھے کئی نفسیاتی رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے تو کامل ہونے یعنی Perfectionism کی خواہش۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا کام اتنا بہترین ہو کہ کوئی خامی باقی نہ رہے، اور یہی سوچ انہیں شروع کرنے سے روکتی ہے۔ دوسرا بڑا سبب ناکامی کا خوف ہوتا ہے، یعنی یہ سوچ کہ اگر کام نہ چلا تو لوگ کیا کہیں گے؟ اس کے علاوہ، اکثر افراد فوری فائدے کے عادی ہوتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ آج محنت کریں تو کل ہی نتیجہ ملے، جب ایسا نہ ہو تو مایوسی آ جاتی ہے۔ اور پھر سب سے زیادہ خطرناک جملہ: ”ابھی وقت نہیں ہے“ ۔ یہ وہ بہانہ ہے جو ہر دن کو ضائع کر دیتا ہے۔
عملی طور پر بھی کچھ ایسی غلطیاں ہوتی ہیں جو اس بے عملی کو جنم دیتی ہیں۔ جیسے کہ بڑے خوابوں کو چھوٹے مراحل میں تقسیم نہ کرنا، کسی قابل اعتماد ساتھی یا کوچ کا نہ ہونا، اور روزمرہ زندگی میں ترجیحات کا واضح نہ ہونا۔ جب تک آپ کے پاس کوئی ایسا شخص نہ ہو جو آپ سے باقاعدگی سے پوچھے کہ آپ اپنے مقصد کے لیے کیا کر رہے ہیں، تب تک خواب صرف خواب ہی رہتے ہیں۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
حل بہت سادہ ہے، لیکن اس پر چلنا مستقل مزاجی مانگتا ہے۔ سب سے پہلے عمل کو مقدس سمجھنا ہو گا۔ چاہے روز صرف ایک فون کال ہی کیوں نہ کریں، لیکن کریں ضرور۔ دوسرا، اپنے آپ کو کسی کے سامنے جوابدہ بنائیں تاکہ کام کرنے کی رفتار برقرار رہے۔ تیسرا، کامل ہونے کی تلاش میں تاخیر نہ کریں، کیونکہ راستہ پہلے قدم سے ہی بنتا ہے۔ اور سب سے اہم بات، اپنے آئیڈیاز کو کاغذ سے نکال کر دنیا کے سامنے لائیں، چاہے ابتدائی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔
ایسی ہی ایک شاندار مثال Nolan Bushnell کی ہے، جو Atari ویڈیو گیم کمپنی کے بانی ہیں۔ انہیں ایک دن ایک نوجوان نے آ کر اپنا آئیڈیا پیش کیا کہ ایک ایسا آن لائن پلیٹ فارم ہونا چاہیے جہاں لوگ فلمیں کرائے پر لے سکیں۔ نولان نے دلچسپی نہ لی۔ وہ نوجوان Reed Hastings تھا، جو بعد میں Netflix کا بانی بنا۔ بشنیل نے بعد میں خود اعتراف کیا کہ یہ اُن کی زندگی کا سب سے بڑا موقع تھا جسے انہوں نے ضائع کر دیا۔ یہی فرق ہوتا ہے۔ کچھ لوگ صرف سن کر آگے بڑھتے ہیں، کچھ وہی موقع گنوا دیتے ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ایک خیال آپ کے پاس آئے، یا کوئی موقع دروازہ کھٹکھٹائے، تو صرف سوچنے پر اکتفا نہ کریں، عمل کریں۔ کیونکہ اگر آپ نے نہ کیا، تو کوئی اور ضرور کرے گا۔ اور کامیابی کی کہانی کسی اور کے نام سے لکھی جائے گی۔
کامیابی صرف خیالات، منصوبوں اور خواہشات سے نہیں، بلکہ بروقت عمل، مستقل مزاجی اور نتائج کو قبول کرنے کے حوصلے سے حاصل ہوتی ہے۔ جو لوگ یہ سمجھ جائیں، وہی اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں، اور وہی آنے والے کل کے فاتح ہوتے ہیں۔


