وادی ترئی میں سرمایہ کاری کا سنہری موقع


میں پچھلے سال سویٹزر لینڈ گیا ہوا تھا۔ جنیوا میں ایک بہت بڑی جھیل ہے جو 73 کلومیٹر لمبی ہے۔ اس جھیل کی سب سے بڑی خاصیت اور قابل دید چیز یہ ہے کہ جھیل میں ایک مشین لگائی گئی ہے جو 500 لیٹر پانی فی سیکنڈ کی رفتار سے ایک سو چالیس میٹر تک ہوا میں پھینکتی ہے، یہ جھیل کی خوب صورتی میں بے انتہا اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس جھیل کی دوسری بڑی خاصیت یہ ہے کہ دنیا کے مشہور اداکار اس جھیل کے کنارے رہ چکے ہیں۔ مثلاً چارلی چیپلن نے اپنی زندگی کے 23 سال یہاں گزارے ہیں۔

ہم اس جھیل میں فیری میں گھوم رہے تھے تو مجھے جھیل کے دونوں طرف کے پہاڑ اور پہاڑ کے دامن میں آبادی بالکل اپنے علاقے کی وادیٔ ترئی جیسی لگی۔ اس کے دونوں طرف خوب صورت ہرے بھرے پہاڑ اور کنارے پر سلیقے سے تعمیر کیے گئے گھر آباد تھے۔ تقریباً تین گھنٹے ہم نے فیری میں گزارے اور ان تین گھنٹوں میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی وادیٔ ترئی کا خوب صورت منظر میرے ذہن سے نہیں ہٹا تھا۔ جس طرح فلم میں ہر وقت بیک گراؤنڈ میں میوزک تجسس پیدا کرتا ہے اور ماحول کو جذباتی بناتا ہے، بالکل اسی طرح ترئی کی خوب صورت یادیں اور ماضی کے دل کش مناظر جنیوا جھیل کی تصاویر اور منظرکشی کو مزید پرلطف اور دل کش بنا دیتے تھے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو علاقہ جولگرام کے ترئی سے شروع ہو کر بوساق (مالاکنڈ کا ایک خوب صورت مقام) تک جاتا ہے، یہ دنیا کی خوب صورت ترین وادیوں میں سے ایک ہے اور یہ دنیا کی کسی بھی وادی سے خوب صورتی اور دل کشی میں کم نہیں ہے لیکن اس بڑی اور دل فریب مناظر سے بھری وادی میں آج میں صرف ترئی کے مقام کا خاص ذکر کروں گا۔

کسی کے وہم و گمان بھی یہ نہیں تھا کہ ایک ایسی جگہ جو کسی زمانے میں سُرئی گٹہ کی وجہ سے ترئی ایک وحشت کی علامت سمجھی جاتی تھی، وہاں لوگ محبت بھری محفلیں سجائیں گے، خوش گپیوں اور ذہنی سکون کے لئے چھوٹے چھوٹے ہٹس بنیں گے جن میں لوگ اپنی استطاعت کے مطابق کھانا کھا کر ریلیکس ہونے کی کوشش کریں گے۔

کورگٹ، جو ترئی کی بہت مشہور اور عجیب و غریب بڑی چٹان ہے۔ اس کا نام کور گٹ (Kwar Gat) اس لیے رکھا گیا تھا کہ اس چٹان کے اوپر جنگلی انگور کے پودے تھے اور پشتو میں انگور کو کور کہا جاتا ہے اور گٹ پشتو میں بڑی چٹان کو کہا جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ کورگٹ کے نام سے مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر جنات کا ڈھیرا تھا، اس لیے اس مقام کے ساتھ جڑے جنات کے قصے ڈھیری جولگرام کے ہر حجرے میں سنائے جاتے تھے۔ میں نے خود جولگرام کے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رات کو کورگٹ کے ساتھ جنات ایسے چپکے ہوئے نظر آتے ہیں جس طرح شہد کی مکھیاں اپنے چھتے سے چپکے رہتے ہیں۔

کسی نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ترئی کا مقام ایک ایسی جگہ میں تبدیل ہو جائے گا جہاں نہ جنات کا ڈر ہو گا اور نہ ہی پُر خوف تنہائی کا احساس ہو گا بلکہ وہاں ہر طرف لوگوں کی ٹولیاں نظر آئیں گی۔ وہاں ہر مکتبۂ فکر کے نوجوان ہوں گے جو دن بھر کے کام کاج سے تھکے ہوئے آ کر یہاں اپنی تھکاؤٹ اور تناؤ دور کریں گے۔

ترئی کا دل کش مقام اس وادی کے قریباً ایک کلومیٹر کے احاطے پر مشتمل ہے جو اس جگہ سے شروع ہو کر جہاں پرانے زمانے میں کشتی لنگر انداز ہوتی تھی مردارو کنڈؤ پر ختم ہوجاتا ہے۔ مردارو کنڈؤ بھی ایک تاریخی مقام ہے۔ یہ کشتی قریبی دریا میں لوگوں کی سہولت کے لئے چلائی جاتی تھی۔ ترئی کا خوب صورت مقام اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس علاقے کے مکینوں کے لئے ایک اَنمول تحفہ ہے جو اس علاقے کو ترقی کی جانب گام زن کر سکتا ہے۔

یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں وادیٔ سوات کا صاف و شفاف دریا بہتا ہے اور ساتھ دونوں طرف سبزے سے ڈھکے پہاڑ ہیں اور جب ان قدرتی خوب صورتیوں کے بیچ کشادہ اور پکی سڑک بھی موجود ہو تو وہ جگہ سرمایہ کاری کے لئے بہترین سمجھی جاتی ہے۔ اور یہ تینوں صفات ترئی میں موجود ہیں۔ قدرت کے عطا کردہ پہاڑ، دریا اور انسانی کاوشوں سے بنائی گئی سڑک کے امتزاج نے ایک چھوٹا سا جنت نظیر ٹکڑا تشکیل دیا ہے جس میں سرمایہ کار منافع بخش پراجیکٹس شروع کر سکتے ہیں۔ اس میں سیاحوں کے لیے ہوٹلز، ریسٹورنٹس، پارکس اور چھوٹے چھوٹے ہٹس بنائے جا سکتے ہیں جس سے نہ صرف یہ علاقہ آباد ہو جائے گا بلکہ بے روزگاری کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ معاشرتی علوم کی درسی کتاب میں جو پاکستان کے نقشے دیے جاتے تھے، ان میں لنڈاکی (وادیٔ سوات کا گیٹ وے ) سے بوساق تک کے علاقے پر قلنگی ڈیم دکھایا گیا تھا۔ اس پراجیکٹ کو سرد خانے میں ڈالنے کے متعلق دو قسم کی کہانیاں گردش کر رہی تھیں۔ ان میں ایک یہ کہ موضع تھانہ کے خوانین نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے حکومت کو اس منصوبہ کو جاری رکھنے سے روک دیا تھا کیوں کہ کہ اس وقت علاقے کے مشہور سیاست دان لعل محمد خان کے والد ایوب خان کی اسمبلی میں ایم این اے تھے۔

دوسری کہانی یہ تھی کہ وادی کے دونوں طرف پہاڑوں میں ریت کا تناسب زیادہ ہے اور اس وجہ سے یہ ڈیم بنانے کے لئے موزوں نہیں اور اسی طرح یہ منصوبہ تکنیکی بنیادوں پر ترک کیا گیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے کی سیاسی لیڈرشپ، عمائدین، عوامی نمائندگان، انٹیلی جنشیا اور نوجوان حکومت کے تعاون سے یہاں بھی منافع بخش پراجیکٹس اور کاروبار شروع کرنے کے لئے اس قسم کی کوشش کر سکتے ہیں جس طرح انھوں نے ڈیم کا متنازعہ منصوبہ ختم کیا تھا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سکول کے زمانے میں مَیں اس ترئی کے پہاڑ سے لکڑی اور مویشیوں کے لیے گھاس لانے کے لئے جاتا تھا۔ جہاں آج کل ترئی میں ہوٹلز بنے ہوئے ہیں، اس کے جنوب میں پہاڑ کی چوٹی پر ایک کشادہ اور وسیع میدان ہے اور یہ میدان اتنا ہم وار ہے کہ اس کی ہم واری کی مناسبت سے لوگ اس کو ہوارئی (پشتو ہم وار قطعہ کو کہتے ہیں ) کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ جگہ ایک بڑے پارک، چھوٹے ہٹس اور ریسٹورنٹ کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ چوں کہ ہمارے علاقے میں پارکوں کی اشد ضرورت ہے، جہاں لوگ اپنی فیملی کے ساتھ جا کر اپنی تھکن زدہ زندگی میں کچھ خوش گوار اور پرمسرت لمحے گزار سکیں تو علاقے کی اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اس جگہ کو عوامی اتفاق رائے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ترئی کی طرح مردارو سے بوساق تک دریا کے دونوں طرف چھوٹے پراجیکٹس بنائے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں مَیں نے بریڈ فورڈ (برطانیہ) میں رہائش پذیر اپنے ایک دوست محمد زمین خان کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ وہاں پہ ایک پارک اور ریسٹورنٹ بنائے۔ میرا دوست کمالا دیر کا رہنے والا ہے اور اس کا قلنگئی پل کے ساتھ دیر کی طرف بہت بڑا باغ ہے۔ یہ باغ دریائے سوات کے اوپر اور پہاڑ کے دامن میں ایک خوب صورت جگہ پر واقع ہے جو ایک نہایت خوب صورت اور دل کش منظر پیش کرتا ہے۔ اس لیے میں نے اسے وہاں پہ پارک اور ریسٹورنٹ بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کو مشورہ بہت پسند آیا تھا اور اس نے اس پراجیکٹ کو جلد از جلد شروع کرنے کی حامی بھری تھی۔

بے شک ہمارے علاقے کے لوگ اقتصادی لحاظ سے بہت غریب ہیں اور ان کا سارا دارو مدار زراعت پر ہے لیکن آبادی کی تیزی سے بڑھنے کی رفتار سے زمین داروں کی لینڈ ہولڈنگ آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقے کے عمائدین، عوامی نمائندگان اور انٹیلی جنشیا کو متبادل پراجیکٹس سے متعلق ہوم ورک کرنا چاہیے۔

بعض لوگ ہمارے ان خیالات اور تجاویز سے اختلاف کر کے ان کو ناممکنات اور خیالی دنیا یعنی یوٹوپیا تصور کریں گے لیکن بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے نتیجے میں زرعی زمین کا دن بدن کم ہوجانا جیسے حالات اس علاقے کے مکینوں کو یہ سوچنے پر اگر آج نہیں تو کل ضرور مجبور کریں گے کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کے مطابق متبادل منافع بخش منصوبے شروع کریں۔

Facebook Comments HS