ششی تھرور صاحب، کشمیر اور میری لائبریری


بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپ ہوئی شکر ہے کہ سیز فائر ہو گیا۔ ہم سکرینوں سے چپکے ہوئے سنتے رہے کہ پاکستان تباہ ہو رہا ہے۔ کراچی اجڑ رہا ہے۔ نہ صرف کراچی بلکہ لاہور کی بندرگاہ بھی تباہ ہو گئی۔ راولپنڈی ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ بھارتی سینا بین الاقوامی سرحد عبور کر کے داخل ہو گئی۔ (اس اعلان پر مسرت پر بھارتی صحافی تالیاں بجاتے اور ہوا میں بازو لہراتے نظر آتے تھے ) ۔ پھر یہ خبر سنائی گئی کہ وزیر اعظم کو روپوش کر دیا گیا ہے اور جنرل عاصم منیر کو گرفتار کر لیا گیا اور یا چلا چلا کر یہ کہا کہ زندہ پکڑ لیا گیا ہے۔

ایک بھارتی تبصرہ نگار نے پاکستانی بچوں کو یہ نصیحت فرمائی کہ بچو! اگر آج جغرافیہ کے مضمون کے لئے نقشہ بنانے کی مشق کر رہے تو ایک رات ٹھہر جاؤ کیونکہ اب نقشہ بدلنے والا ہے۔ الغرض گلا پھاڑنے اور چیخم دھاڑ کا ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا۔ اور یہ سب کچھ چوٹی کے چینلوں پر ہو رہا تھا اور مشہور صحافی یہ ناٹک کر رہے تھے۔ کیا ان کا خیال تھا کہ تمام دنیا پاگل ہے؟ معلوم نہیں کہ ہندی اور اردو کا فرق ہے یا تہذیب کی سطح کا لیکن بعض بھارتی صحافیوں کے جملے ملاحظہ کریں۔ ہم سب مل کر تمہیں ٹھوکیں گے۔ ٹھوکو پاکستانیوں کو ٹھوکو۔ ساری رات بھارتی میڈیا کے پروگراموں کے شرکا نشستوں پر اچھلتے اور چلاتے رہے اور پاکستانی ہنس ہنس کر دہرے ہوتے رہے۔

اور دوسری طرف پاکستانیوں کی حالت ملاحظہ ہو۔ ریستوران بھرے ہوئے ہیں جگہ مل نہیں رہی۔ چرغوں نہاریوں اور حلوہ پوری کا کاروبار عروج پر ہے۔ یہ عرض ضرور کرنا چاہوں گا کہ اگر پاکستانی بھی ہر میزائل کو منہ توڑ جواب نہ قرار دیتے اور دشمن کے دانت توڑنے کا بار بار اعلان نہ کرتے تو بھی ان میزائلوں کی کارکردگی ویسی ہی رہتی۔ اگر ان کے ہوائی اڈے پر کوئی نشانہ صحیح لگا ہے تو اس سے بغیر کسی تحقیق کے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ ہوائی اڈا مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے درست نہیں۔ یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ ہم نے بھارت کی کمر توڑ دی ہے اور اب وہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔

ایک پاکستانی صحافی نے بھارتی میڈیا کے بارے میں پاگل کتے اور گدھے کے الفاظ استعمال کر دیے۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ بد تہذیبی ہے۔ صرف موثر تردید ہی کافی تھی۔

شکر ہے کہ پاکستان نے اس وار کا مقابلہ کر لیا ہے لیکن ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارا مقابلہ اپنے سے کئی گنا زیادہ بڑے ملک سے ہے، جن کے پاس ہماری نسبت اس سے بھی زیادہ تناسب سے مالی وسائل موجود ہیں۔ یہ جھڑپ ختم ہوئی۔ اب ہمیں اپنے اقتصادی بد حالی کا علاج بھی تو کرنا ہے۔ کوئی ملک اقتصادی استحکام کے بغیر مستحکم نہیں رہ سکتا۔ ہمیں اپنے ملک میں موجود ناخواندگی کی طرف توجہ کرنی ہے۔ ہمارے ملک میں جو دراڑیں موجود ہیں ان کو دور کرنا ہے۔ بھارت نے پہلگام کے مجرموں کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں دیے لیکن پاکستان میں جن ستر ہزار بے گناہوں کو دہشت گردوں نے شہید کیا، اس کے ثبوت تو ہمارے پاس ہیں؟ کیا ہم نے ان کے خون کا بدلہ لے لیا؟ ہمارے ملک میں مذہبی عدم برداشت تو بہرحال عروج پر ہے۔ جشن منانے کے بعد ان سوالوں کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔

تعصب کے اس ماحول میں بھارت اور پاکستان میں دو ہوشمندی کی آوازیں بلند ہوئیں۔ بھارت کے سابق آرمی چیف محترم جنرل منوج نروانے صاحب نے ایک تقریر میں کہا جنگ کوئی رومانوی چیز نہیں ہوتی۔ یہ کوئی بالی وڈ کی فلم نہیں۔ یہ ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہوتی ہے۔ جنگ یا تشدد وہ آخری قدم ہونا چاہیے جس کو اٹھایا جائے۔ جنگ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے لئے ہم تالیاں پیٹیں۔ ملٹری کا آدمی ہونے کے ناتے مجھے جنگ کا حکم ہوا تو میں جنگ کو شروع کروں گا لیکن یہ میری پہلی ترجیح نہیں ہو گی۔ میری پہلی ترجیح بہرحال سفارتکاری ہو گی۔

یہ ایک پروفیشنل جنرل کی رائے ہے لیکن اس کے بعد بھارتی میڈیا اپنے ہی سابق آرمی چیف کے لتے لینے لگ گیا۔ یہاں میں اس خوشی کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا جو مجھے ہمارے ائر وائس مارشل محترم اورنگ زیب صاحب کا ایک جواب سن کر ہوئی۔ پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے ایک سوال کیا اور سوال میں بھارتی ائر فورس کی تضحیک کا نشتر چھپا ہوا تھا۔ اورنگ زیب صاحب نے جواب میں کہا پاکستانی ائر فورس ایک بہت پروفیشنل ائر فورس ہے اور انڈین ائر فورس بھی ایک بہت پروفیشنل ائر فورس ہے۔ ہم اپنا فرض ادا کر رہے تھے اور وہ اپنا فرض ادا کر رہے تھے۔ ہم دونوں کے درمیان ایک غیر تحریری عہد ہے ہم ایک دوسرے کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کرتے۔ دونوں ملکوں کے سیاستدانوں، صحافیوں اور عوام کو جنرل منوج نروانے اور ائر وائس مارشل اورنگ زیب صاحب سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس چیز کا بہت زیادہ افسوس ہے کہ اس دھینگا مشتی میں بھارت کی ایسی شخصیات نے جو کہ علمی دنیا میں بھی اپنا ایک مقام رکھتی ہیں پاکستان دشمنی میں ایسی غلط بیانیاں کر دیں جو کہ ان کے مقام کو زیب نہیں دیتیں۔ ششی تھرور صاحب کی مثال پیش کرتا ہوں۔ بھلے ہم ان سے اختلاف کریں لیکن وہ اقوام متحدہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا انتخاب بھی لڑا تھا۔ ایسا بھی نہیں کہ ان صاحب کی کوئی علمی حیثیت نہ ہو۔ بہت کم عمری میں پی ایچ ڈی کی۔ تیس مشہور کتابوں کے مصنف ہیں۔ اقوام متحدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد وہ کانگرس کے پلیٹ فارم پر سیاست میں آئے اور لوک سبھا کے ممبر بنے۔ کابینہ میں یونین منسٹر رہے۔ اور اب بھی امور خارجہ کی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

اس بحران میں ان کا پروگرام سن رہا تھا۔ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ بھارت والے پی او کے کی اصطلاح سابقہ ریاست کشمیر کے اس حصے کے بارے میں استعمال کرتے ہیں جس میں آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت اور بلتستان بھی شامل ہیں۔ ششی تھرور صاحب فرمانے لگے کہ پی او کے کی اصل آبادی تو کب کی وہاں سے نقل مکانی کر کے یو کے جا چکی ہے۔ اب تو وہاں 99 فیصد پنجابی رہ رہے ہیں۔ اس طرح پاکستان والوں نے وہاں کی آبادی کا تناسب ہی بدل دیا ہے۔

یہ سن کر میں تو ہکا بکا ہی رہ گیا۔ ششی تھرور صاحب مجھے کسی حوالے کی ضرورت نہیں۔ یہ بندہ عاجز ان علاقوں میں کئی مرتبہ خود گاڑی چلا کر بھی گیا ہے، بس میں بھی گیا ہے، ہوائی جہاز پر بھی گیا ہے، جیپ میں بیٹھ کر بھی گیا ہے اور چین کی سرحد تک گیا ہے اور پیدل (جی ہاں پیدل) بھی ان علاقوں کی وادیوں میں داخل ہوا ہے اور بار بار وہاں پر ہائیکنگ کی ہے۔ میں ان علاقوں کے شہروں کے میں مہنگے ترین ہوٹلوں میں بھی ٹھہرا ہوں اور محض تھڑوں پر سلیپنگ بیگ میں سو کر لطف بھی اٹھایا ہے۔ میں نے ان کے دیہات میں جانوروں کے باڑوں میں بھی راتیں بسر کی ہیں۔ کتنی ہی راتیں کھلے آسمان تلے اپنا خیمہ لگا کر بسر کی ہیں تاکہ صبح پھر ہائیکنگ کا آغاز کر سکوں۔ ایسے مقامات پر بھی گیا ہوں جہاں پورا دن چل کر بھی صرف ایک دو لوگ نظر آتے تھے اور میں نے کئی روز ان وادیوں میں پیدل چلتے ہوئے گزارے ہیں۔ ایسے گاؤں کی مہمان نوازی کا لطف بھی اٹھایا ہے جہاں دس گھر بھی نہیں تھے۔ جہاں کے لوگ سردیوں میں نیچے منتقل ہو جاتے تھے۔ یہ بحث تو چھوڑ دیں کہ کیا کوئی پنجابی کشمیر میں زمین خرید بھی سکتا ہے کہ نہیں۔ مجھے تو پوری زندگی میں آزاد کشمیر، گلگت یا بلتستان میں کوئی ایسا مقام نظر نہیں آیا جہاں کی مقامی آبادی وہاں سے رخصت ہو گئی ہو اور وہاں پر ننانوے فیصد پنجابی براجمان ہوں۔

اختلاف اپنی جگہ پر لیکن کم از کم میں بھارت کے کئی مصنفین اور دانشوروں کا احترام کرتا ہوں۔ میں نے قائد اعظم کی سوانح حیات بعد میں پڑھی تھی لیکن گاندھی جی کی خود نوشت پہلے پڑھی تھی۔ میری لائبریری گھر کے جس حصہ میں ہے آج کل اس کی مرمت ہو رہی ہے۔ اس میں ایک سے زیادہ تختوں پر بھارتی مصنفین کی کتب پڑی تھیں جنہیں میں نے بہت شوق سے خریدا تھا۔ آج کل میں کتابیں اٹھا کر دوسرے کمرے رکھ رہا ہوں تاکہ نئی لائبریری بن سکے۔ امید ہے کہ چند ماہ میں یہ کام مکمل ہو جائے گا اور کتب دوبارہ اس چھوٹی سی لائبریری میں واپس آ جائیں گی۔ لیکن ششی تھرور صاحب مجھے خوف ہے کہ اب بعض بھارتی مصنفین کی کتب واپس رکھتے ہوئے دل پر بوجھ سا محسوس ہو گا۔ اب اس سے زیادہ کیا عرض کروں۔ جب تعصب کا راجہ اپنا دربار لگاتا ہے تو دانشور بھی ایک دوسرے سے بڑھ کر ایسی خوشامدوں کے مرتکب ہوتے ہیں کہ انسان ششدر رہ جاتا ہے۔

تم اہلِ حرف کے پندار کے ثنا گر تھے
وہ آسمان ِہنر کے نجوم سامنے ہیں
بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں

Facebook Comments HS

One thought on “ششی تھرور صاحب، کشمیر اور میری لائبریری

  • 18/05/2025 at 1:34 صبح
    Permalink

    بڑے عرصے کے بعد آپ کی تحریر پر تبصرے کی سہولت ملی۔

    افواہیں اور غلط بیانیاں ہماری طرف سے بھی کم نہیں ہوئیں۔ ان میں سے ایک بونگی سندھ کے سیاست دانوں کی طرف سے بھی ماری گئی۔ دعوی یہ تھا کہ برطانوی کمپنی مارٹن بیکرز (جو رافال جہازوں کے پائلٹس کے لئے ) حفاظتی سیٹ بناتی ہے اس نے اپنی ویب سائٹ پر تین مزید ایجکشن کی تصدیق کردی ہے۔ جب کہ ایسا آج دس دن بعد تک بھی نہیں ہوا ہے۔

    یہاں آپ کے لکھی بات پر ایک وضاحت ضروری ہے۔ کچھ باتوں کی حالت امن میں اہمیت کچھ اور ہوتی ہے اور حالت جنگ میں کچھ اور۔ عام حالات میں کسی ایئر بیس کا رن وے چھ مہینے بھی بند رہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن حالت جنگ میں اگر آپ اسی ایئر بیس کا رن وے اڑادیں کہ وہاں لینڈنگ ٹیک آف موقوف ہوجائے (بے شک یہ ایک یا دو گھنٹے کے لئے ہو) تو اس دوران ایئر بیس کو تباہ سمجھا جاتا ہے۔ تباہ کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہاں رہنے والے فنا ہوگئے ہیں۔

    ایئر بیس کا جو کام ہوتا ہے یعنی وہاں سے جنگی جہازوں کا اڑکر ملک کی فضائی سرحدوں کی حفاظت اور زمینی فوج کی مدد ۔ اگر ایئر بیس پر 50 رافال اور 100 ایف سولہ بھی موجود ہوں مگر ایئر فیلڈ ناکارہ ہوچکی ہو تو سمجھیں آپ نے 150 جہازوں کو مفلوج کردیا۔ اصل کام تو اب ممکن ہی نہیں رہا۔

    نورخان ایئر بیس پر میزائیل کسی دفتر یا عمارت پر آکر گرتا ہے اور وہاں آگ لگ جاتی ہے۔ عام حالت میں تو یہ ایک سنگین بات ہوگی لیکن جنگ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں بشرطیکہ فلائنگ اسی طرح ہوتی رہے۔

    اگر پاکستان نے 26 ایئر بیسز پر بالفرض حملہ کیا اور وہاں کی ایئر فیلڈز میں گڑھے پڑگئے جن کو بھرنے میں چھ گھنٹے لگے تو سمجھیں چھ گھنٹے کے لئے آدم پور تباہ تھا۔ اگلے کسی دن بعد وہاں مودی بھنگڑا بھی ڈالیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

    پھر یادرہے کسی ایئربیس (فوجی تنصیبات نہیں) کا تباہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فنا ہوگئی ہے۔

Comments are closed.