جنگی محاذ پر کامیابی مبارک، مگر داخلی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت
اسلام ہمیں امن، صبر اور برداشت کا درس دیتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ جنگ میں پہل کرنے سے گریز کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ نے واضح طور پر فرمایا کہ اگر جنگ ہم پر مسلط کردی جائے تو پھر ہم نے کمزوری نہیں دکھانی بلکہ پورے عظم، ہمت، حوصلے اور تیاری سے مقابلہ کرنا ہے اور یہی جذبہ ہمیں بطور قوم اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف بیرونی دشمن سے لڑنا کافی ہے؟ یا اندرونی محاذ پر بھی اتحاد اور یکجہتی اتنی ہی اہم ہے؟
حال ہی میں بھارت نے ایک بار پھر اپنے پرانے وتیرے کو دہراتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر لگا دیا۔ ان کے میڈیا نے اشتعال انگیز بیانیہ گھڑ کر فضا کو گرم کیا، اور پھر بھارتی افواج نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔ نہتے بچوں اور عورتوں کو شہید کیا گیا۔ یہ حملہ پاکستان کو جنگ پر مجبور کرنے کی ایک چال تو تھی ہی لیکن دشمن ایک بار پھر ہمیں کمزور سمجھنے کی غلطی کر بیٹھا۔
پاکستان نے ابتدا میں بار بار امن کی بات کی۔ ہماری قیادت اور افواج نے واضح پیغام دیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔ لیکن جب دشمن باز نہ آیا، تو پھر پاکستان کی مسلح افواج نے وہ دندان شکن جواب دیا کہ دشمن کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔
پہلا حملہ ہماری فضائیہ نے کیا، اور دشمن کے رافیل سمیت 6 طیارے تباہ کر دیے گئے۔ یاد رکھیں بھارت کے لیے رافیل صرف طیارے نہیں تھے بلکہ اس کا غرور تھا، جنہیں وہ اپنی برتری کی علامت سمجھتا تھا۔ مگر یہ خواب چکناچور ہو گیا اور غرور کا سر نیچا ہوا۔ پھر اس کے بعد ہماری فوج نے دشمن کے روسی ساختہ دو میزائل ڈیفینس سسٹم ایس 400 کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا۔ بھارتی افواج کے کیمپوں میں کھلبلی مچ گئی۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق کئی افسران اور فوجی زخمی اور ہلاک ہوئے، اور دشمن کا مورال بری طرح گر گیا۔
یہ سب کچھ اس قدر غیر متوقع تھا کہ مودی حکومت بدحواسی میں امریکہ کی دہلیز پر جا پہنچی۔ جنگ بندی کی درخواست کی گئی، اور امریکہ نے پاکستان سے رابطہ کر کے فوری طور پر کشیدگی ختم کرنے کی اپیل کی۔ ہم نے ہمیشہ کی طرح امن کو ترجیح دیتے ہوئے اس اپیل کو قبول کیا، اور فی الحال دونوں جانب جنگ بند ہو چکی ہے۔
ایک دن ہی امن سے گزرا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دوبارہ زہریلے بیانات دینے شروع کر دیے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مودی حکومت اس وقت شدید عوامی دباؤ کا شکار ہے۔ عالمی میڈیا اور بھارت کے اندرونی حلقے کھل کر اس شکست پر بات کر رہے ہیں، مودی حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں سوال اٹھا رہی ہیں کہ اتنا بڑا نقصان کیوں ہوا، اور اربوں کھربوں کا اسلحہ کیوں ناکام ہو گیا۔ بھارت اس وقت بدترین سفارتی، عسکری اور سیاسی شرمندگی کا سامنا کر رہا ہے۔ اور یہی شرمندگی اسے ایک نئی جنگی چال کے لیے اکسا سکتی ہے۔ ہمیں ہوشیار رہنا ہو گا، کیونکہ بزدل دشمن ہمیشہ چور دروازوں سے وار کرتا ہے۔
اس ساری صورتحال میں ایک بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ پاکستان کو کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے صرف اسلحہ یا فوجی طاقت کافی نہیں، بلکہ اندرونی استحکام سب سے اہم ہے۔ ہمیں ماضی سے سیکھنا ہو گا۔ جب جب ہم اندرونی طور پر کمزور ہوئے، دشمن نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ اور جب ہم ایک قوم بن کر کھڑے ہوئے، تو دنیا نے ہمیں سراہا۔
اس وقت ہماری سیاسی فضا بدستور کشیدہ ہے۔ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ وقت الزامات یا پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں، بلکہ مفاہمت کا ہے۔ ہمیں ایک میز پر بیٹھ کر بات چیت کا راستہ نکالنا ہو گا۔ پاکستان تحریک انصاف ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے، جس کے لاکھوں ووٹرز ہیں۔ انہیں دیوار سے لگانا یا مکمل نظرانداز کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر ملک میں حقیقی استحکام لانا ہے تو سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔
اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو چاہیے کہ وہ لچک دکھائیں۔ پی ٹی آئی کو بھی تلخی کم کر کے مصالحت کی راہ اپنانی چاہیے۔ ایک ایسا قومی معاہدہ ہونا چاہیے جس میں سب ادارے، جماعتیں اور طبقات شریک ہوں۔ جس کا مقصد صرف ایک ہو پاکستان کی سلامتی، ترقی اور وقار۔
اس وقت ہمیں تین محاذوں پر بیک وقت کام کرنا ہو گا:
1۔ ہمیں خاص طور پر ڈرون/میزائل ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور پاک فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کر کے خود انحصاری حاصل کرنی چاہیے تاکہ ہم دشمن کو یہ پیغام دے سکیں کہ ہم نہ صرف جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ہر وقت تیار بھی ہیں۔
2۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن یہ دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ اگر ہم اندرونی طور پر مضبوط ہوں گے تو کوئی بھی بیرونی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔
3۔ ایک مضبوط معیشت ہی مضبوط دفاع کو سہارا دے سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سیاسی محاذ آرائی سے نکل کر اقتصادی بہتری اور معاشی استحکام پر توجہ دے۔
یہ لمحہ پاکستان کے لیے فیصلہ کن ہے۔ ہم نے جنگی محاذ پر دشمن کو سبق سکھا دیا، لیکن اب وقت ہے کہ ہم اندرونی محاذ کو بھی فتح کریں۔ جب ہم ایک قوم بن کر آگے بڑھیں گے، تب ہی دنیا ہمیں سنجیدگی سے لے گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم ذاتی مفادات سے بلند ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ہم دنیا کو دکھا سکتے ہیں کہ پاکستانی ایک مہذب، باوقار اور متحد قوم ہیں۔ تبھی دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کبھی نہیں کرے گا۔
ہماری کامیابی کا راز صرف فوجی طاقت میں نہیں، بلکہ قومی یکجہتی میں چھپا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب ایک ہو جائیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال پاکستان چھوڑ کر جائیں۔

