موٹیویشنل سپیکرز خطرناک ہیں
آج کل ایک نیا مسئلہ در پیش ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کے اثرات بڑے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اس کے اثرات بھی دیرپا ہوں گے۔ اور مسئلہ سے بڑھ کر خطرناک بات یہ ہے کہ ہم سب شاید اسے مسئلہ سمجھتے ہی نہیں۔ وہ مسئلہ ہے ”موٹیویشن اور موٹیویشنل سپیکرز“ ۔ ہم اسے کار خیر سمجھ رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت تعمیری کام کر رہے ہیں۔ مگر ایسا نہیں ہے۔
آپ کے علم میں ہے کہ ہم بطور قوم تعلیمی میدان میں انتہائی پسماندگی کا شکار ہیں۔ صرف دو فیصد طالب علموں کو نام نہاد اچھی تعلیم کے مواقع حاصل ہیں۔ اور باقی اٹھانوے فیصد طالب علم رٹہ لگا کر دو فیصد لوگوں کو مثالی سمجھ کر ان کے رویے اور اخلاقیات اپنانے کی خواہش لیے بھاگ رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ احساس کمتری کا شکار کیوں ہیں؟ پڑھ لکھ کر بھی آزاد کیوں نہیں ہیں؟
ہمارے موٹیویشنل سپیکرز ان خیالات کو اور زیادہ مستحکم اور مضبوط کر رہے ہیں اور لوگوں کو آزادی کی بجائے پیروی کا درس دیتے ہیں۔ ان کو سوچنا نہیں سکھاتے بلکہ ان کو یہ بتاتے ہیں کہ سوچنا کیا ہے۔ کس کی پیروی کرنی ہے۔ آپ کے آئیڈیل کیسے ہونے چاہئیں۔ حالانکہ ان کو چاہیے کہ وہ اپنے سامعین کے ذہن یہ بات پوست کر دیں کہ آپ ہی اپنے آئیڈیل ہو۔ دوسرا، موٹیویشنل سپیکرز وہی کام کر رہے ہیں جو ہمارا میڈیا پچھلی دو دہائیوں سے کر رہا ہے اور وہ ہے معاشرے کو desensitise کرنا۔ ہمارے یہ سپیکرز بھی اپنے الفاظ کے بل بوتے پر چند روپوں کی خاطر وہی کام کر رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ طالب علموں اور جوانوں کو کام کرنے پر اکسایا جائے یہ ان کے جذبات کے ساتھ کھیل کر اپنا نان و نفقہ اکٹھا کرتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اگلی نسل کو آنے والے چیلنجز کے لیے تیار کریں مگر یہ تب ہو گا جب ہم خود خوش گمانی اور خام خیالی سے نکل کر حقیقی دنیا سمجھیں اور اپنی اگلی نسل کو بتائیں کہ ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ دنیا اس وقت مصنوعی ذہانت کے خدو خال اور پیچ و خم سمجھنے میں مگن ہے اور ہم ہیں ابھی بھی دیو مالائی کہانیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہمیں باعمل ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی اگلی نسل کو عملیت پسندی سیکھنا ہو گی۔ لیکن ہم تو موٹیویشن سے ہی سارے کام چلانا چاہتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ اتنے ہی بالغ نظر ہیں تو وہ اپنے کارنامے کیوں نہیں بتاتے؟ انھوں نے یہ الفاظ کا گورکھ اور emotional blackmailing کیوں شروع کر رکھی ہے؟ میری سب سے گزارش ہے کہ باتوں باتوں میں اپنے بچوں کو کامیاب نہ بنائیں بلکہ انھیں سوچنا سکھائیں تاکہ وہ آزاد ہوں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک اور معاشرے کے ذمہ دار اور صاحب الرائے فرد بن سکیں۔


