یومِ تشکر: قومی یکجہتی کا وقت


گزشتہ روز یعنی جمعہ کے دن پوری قوم نے یومِ تشکر منایا اور اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہمارے بازوؤں میں اتنی قوت و طاقت رکھی ہے کہ ہم نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ایک جانب تو مودی سرکار اپنی بری طرح ناکامی کی وجہ سے امریکی سہارا لے کر فی الحال پاکستان کے معاملے پر سیز فائر کروا چکی ہے مگر دوسری طرف وہ کسی اور موقع کی تاک لگائے بیٹھے ہیں۔ گزشتہ روز جب ہم پاکستان اور بیرون پاکستان جہاں جہاں پاکستانی موجود ہیں وہاں یوم تشکر منا رہے تھے تو دوسری جانب سرحد پار بھارتی وزیر دفاع کہہ رہا تھا کہ ابھی آپریشن سیندور ختم نہیں ہوا ہے، یہ صرف ایک ٹریلر تھا اور جب صحیح وقت آئے گا ہم پوری پکچر دنیا کو دکھائیں گے۔ ایسا موقع جو آج ہمارے پاس آیا ہے کہ جس وقت ہمارا دشمن ملک بری طرح سفارتی لحاظ سے اور ملٹری لحاظ سے دنیا میں رسوا ہوا ہے، ہمارے پاس ایک عظیم موقع ہے کہ اپنی غلطیوں کو سدھاریں اور ان تمام سیاسی لوگوں کو کہ جن کے خیالات و افکار آپ لوگوں سے نہیں ملتے ان کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر پاکستان کی بات کریں تاکہ پوری دنیا میں ہمارا موقف مزید طاقتور ہو کر جائے۔

اس وقت ہمارے ملک کو نہ صرف مشرقی سرحد سے خطرات ہیں جبکہ ہمارے ہی کارناموں کی وجہ سے اس وقت ملک عزیز کو مغربی سرحد سے بھی بے شمار خطرات لاحق ہو چکے ہیں اس کے علاوہ ملک کے اندر صوبہ سرحد اور بلوچستان میں سیکیورٹی کے بے شمار خطرات ہمارے لیے روزانہ کہ بنیاد پر سر اٹھا رہے ہیں۔ انہیں تمام باتوں کے پیشِ نظر اب وقت ہے ہمیں مل کر بیٹھنا ہو گا۔ پوری دنیا میں یہی اصول ہے کہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی استحکام کبھی بھی نہیں آتا۔ ہمیں اب چاہیے کہ معیشت کو ترقی دینے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ اس ملک کی خاطر بیٹھیں اور مل کر کام کریں تاکہ دنیا میں ہمارا بھیک مانگنے کی وجہ سے جو مذاق بنا ہوا ہے وہ ختم ہو اور دوسری طرف ہم اتنی ترقی کریں کہ ہمارے لوگوں کو دشمن ملک میں علاج کے لیے نہ جانا پڑے۔ ان کا علاج اسی ملک میں ہو جس کے لیے ہم نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

Facebook Comments HS