یونی لو وائرس ( 2 )
ایک عرصہ سوچنے کے بعد فیصلہ ہوا کہ کسی سمجھدار شخص کو کیوں نہ دیکھا جائے۔ اگر وہ صرف لڑکی ہوتی تو بات ہضم بھی ہو جاتی، لیکن اس کا دلکش اور خوبصورت ہونا کچھ زیادہ ہی ناقابلِ ہضم تھا۔ دوسری بات یہ تھی کہ ہم تو ہر دوسری لڑکی کو دیکھتے ہی دیکھتے تھے اور ہر ایک پر دل بھی آ جاتا تھا۔
”نظریں سلطانی ہوتی ہیں جو کہیں بھی جا سکتی ہیں اور دل شاہ جہاں جو کسی پر بھی پھسل سکتا ہے“ ۔
لیکن یہاں پر خوشی اس بات کی تھی، جو کہ ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی وہ یہ کہ، ہمیں بھی اب کوئی دیکھتا ہے۔
پاکستان میں ایک خاص قسم کی مخلوق پائی جاتی ہے، جو کسی نایاب نسل سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان کو ”قانون“ نام کی کوئی شے دکھائی ہی نہیں دیتی۔ یہ پیدائشی نابینا نہیں ہوتے، اور نہ ہی ان کی بینائی میں کوئی نقص ہوتا ہے، بلکہ یہ ماحولیاتی متاثرین ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہوا میں قانون کا عنصر اتنا کم ہے کہ ان بچاروں کو کچھ نظر ہی نہیں آتا ہے۔ لیکن جیسے پاکستان سے نکل کر کسی یورپ کے ترقی پذیر ملک میں پہنچتے ہیں، ان کی نظر آب و ہوا کی تبدیلی کے ساتھ ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔
ہمیں خطرہ لاحق ہوا کہ محترمہ بھی شاید انہی میں سے ایک نہ ہو، جسے چہرے پر اتنا بڑا ”نو انٹری“ کا لکھا ہوا بورڈ دکھائی ہی نہیں دے رہا ہے۔ اس پہلو کے پیش نظر سوچا، کہ پہلے تصدیق کر لیں، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جذبات کی گاڑی ”چنری“ میں نہ پھنسی ہو۔ ہمارے ساتھ بھی وہی کچھ نہ ہو جائے، جو چولستان کے چرواہے کے ساتھ ہوا تھا۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے ہاں چولستان کا ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی، جو درخت کے ساتھ کھڑی کوئی ایک ایکڑ کی دوری پر اسے تکے جا رہی تھی، یہ دیکھ کر چرواہے کا دل ایسے دھڑکنے لگا جیسے چولستان میں بارش کی پیش گوئی سن لی ہو۔ چرواہے نے بھی موقع غنیمت جانا اور عاشقانہ سگنل دینے شروع کر دیے۔ کبھی بکری کی رسی گھما کر اسٹائل مارتا، کبھی ریت پر دل بناتا، اور کبھی بالوں کو سنوارتا۔ لیکن دوسری طرف محترمہ ساکت کھڑی مسلسل اُسے دیکھے جا رہی تھیں، بغیر پلک جھپکائے، بغیر کوئی حرکت کیے۔ اب بندے کو لگا کہ یہ سچا عشق ہے۔ بس اب عشق کا پہلا امتحان دے کر عاشقوں کی فہرست میں شامل ہو جانا ہے۔ کچھ وقت کے بعد سورج سوا نیزے پر تھا، لیکن ہمارا عاشق محبت کے میدان میں ڈٹا رہا۔ دل میں سوچ رہا تھا، سنا تھا سچے عاشق سانس لینا بھی بھول جاتے ہیں اور یہ حسینہ تو بس ہلنے جلنے سے انکاری ہے۔ دھوپ چڑھتی گئی، لیکن محترمہ اپنی جگہ ساکت کھڑی رہی۔ چرواہے کے دل میں محبت کا آتش فشاں مزید بھڑک اٹھا۔
”یہ محبت کا امتحان لے رہی ہے، میں بھی دیکھتا ہوں، کون زیادہ پکا عاشق ہے“
دوپہر ڈھلی، شام ہونے لگی، لیکن وہ ”ملکہ حسن“ وہیں کھڑی، وہی نظروں کا کھیل، وہی بے نیازی، چرواہے نے دل ہی دل میں خود کو مبارکباد دی، یار، بڑی اعلیٰ قسمت ہے، پہلی ہی نظر میں پورا دن دے دیا۔ بندہ پسینے میں شرابور، محبت کے مارے نڈھال، لیکن ضدی ایسا کہ کہہ رہا تھا، یہ عشق ہے، کوئی گلی ڈنڈا تو نہیں کہ درمیان میں چھوڑ دوں، شام ہو گئی، صحرا میں ہلکی ہوا چلنے لگی، اور جب عشق کے مارے چرواہے کا صبر جواب دے گیا تو اس نے سوچا کہ چلو جا کے حال دل سنا دوں۔ جیسے ہی درخت کے قریب پہنچا، تو جو منظر دیکھا، اس نے بندے کی محبت، صبر اور سارے عاشقانہ بھوت کو ہوا میں اُڑا دیا۔ محترمہ کوئی نہیں، بلکہ درخت کی شاخ پر ایک رنگین چنری تھی جو ہوا میں لٹک رہی تھی۔ بیچارہ چرواہا جو خود کو صحرا کا مجنوں سمجھ رہا تھا، پورے دن کی عاشقی ایک چنری کے ساتھ کرنے میں نکال دی۔ پھر خود سے دل میں کہنے لگا کہ چلو خیر ہے، عشق تو نہ ملا، لیکن کم از کم یہ سبق ضرور مل گیا کہ محبت میں قدم بڑھانے سے پہلے تسلی کر لینی چاہیے کہ محبوب واقعی موجود بھی ہے یا نہیں اور ہم بھی اسی تاریخی سبق کو یاد کرتے ہوئے سوچا کہ پہلے محبوب کا پتہ کر لے کہ کہیں پھر ہم بھی چنری کے ساتھ نہ لگے ہوئے ہوں۔ اس کام کے لیے ایک ایسا دوست ڈھونڈنے کا فیصلہ ہوا جو بیک وقت ارسطو کی دانائی، کوٹلیہ کی دور اندیشی، سقراط کی سوالیہ نشان بنی ہوئی عقل، افلاطون کی فلسفیانہ نظر، اور شیکسپیئر کی وہ مشاہداتی صلاحیت رکھتا ہو جو دیکھتے ہی محترمہ کی سات نسلوں کا ڈی این اے اسکین کر کے رپورٹ کی صورت میں سامنے رکھ دیں۔ قسمت ہم پر ایسی مہربان ہوئی کہ ہمیں ان سب خصوصیات کا مکسچر مل گیا اور ہم اسے فوراً لے کر دوسرے دن سیدھا جائے واقعہ پر جا پہنچے، تاکہ تصدیق کی جا سکے کہ یہ واقعی ہمارے دل کا فتور ہے یا پھر حقیقت کی روشنی۔
محترمہ کو دیکھتے ہی جناب کے چہرے کے تاثرات ایسے تبدیل ہو گئے جیسے شادی کے بعد شوہر کے انداز۔ ہم نے پوچھا: ”کیا ہوا، جناب؟“
اس نے غور سے دیکھا، اور پھر کہا کہ عثمان! یہ تو میری ”ہم جماعت“ ہے۔ اور ہم خوش ہوئے کہ قسمت ہم پر کچھ ضرورت سے زیادہ ہی مہربان ہے، کیوں کہ اب تو بات رشتے داری والی نکل آئی تھی۔ اتنی اچھی خوشخبری ہونے کے باوجود بھی جناب کے چہرے پر وہی پہلے والی نورانیت برقرار تھی اور ایسے منہ بنائے کھڑا تھا جیسے کسی فوتگی پر زبردستی بلوایا لیا گیا ہو۔ جبکہ دوسری طرف ”ہم جماعت“ لفظ ہمارے کانوں میں پڑتے ہی یک دم جناب یاجوج ماجوج کی قوم سے نکل کر ہمیں بالکل اپنی جیسی لگنے والی مخلوق یعنی خوبصورت، عزت مآب اور مکمل طور پر قابلِ تعریف لگنے لگا۔ جس کے لئے ”محترم“ ، ”جنابِ والا“ ، اور ”قبلہ و کعبہ“ جیسے القابات سیلاب بن کر زبان شریف پر پانی کی طرح بہنے لگے۔
اُس دن ہمیں پہلی بار احساس ہوا کہ صرف سوچ بدلنے سے ہی زمین پر کھڑے کھڑے لوگ کیسے آسمانی مخلوق بن جاتے ہیں۔ پہلے جو بات بات پر زبان پھسل کر ”تم“ نکل جاتا تھا، اب ادب کے بادل ایسے گرجے کہ ”آپ“ کی رم جھم تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ احترام وہ تو جیسے اندر ہی اندر چشمہ پھوٹ کر بہنے لگا۔ ہم جناب کو ماتھا ٹیکنے کو تیار ہو گئے لیکن مذہبی تعلیمات کی وجہ سے خود پر قابو پایا اور دل ہی دل میں کہہ رہے تھے ”اب جسے خدا عزت دے، ہم کون ہوتے ہیں کم کرنے والے۔
”ہم جماعت“ جملے کے بعد جناب یوں کھڑے تھے جیسے لفظوں کا قحط پڑ گیا ہو۔ جبکہ ادھر ہماری حالت یہ تھی کہ اگلی سانس لینے کے لیے بھی اُن کے کسی جملے کی منظوری درکار تھی۔ ہم نے نرمی سے کہا، ”جناب، خاموشی واقعی دانشمندی کی علامت ہے، اور ہم بھی حکیم لقمان کی اس نصیحت پر“ میں نے بولنے پر بارہا افسوس کیا ہے مگر خاموش رہنے پر کبھی افسوس نہیں ہوا۔ ”مکمل ایمان رکھتے ہیں۔ آپ یقین مانیے، ہمارا دل کہتا ہے کہ حکیم لقمان نے یہ قول اُس وقت کہا ہو گا جب کسی نے آپ سے پوچھا ہو گا کہ بیوی سے بحث کے وقت کیا کرنا چاہیے؟
کہنے لگا: ”عثمان! میں آپ کا دل نہیں توڑنا چاہتا۔ اور ہم دل ہی دل میں سوچنے لگے کہ تاریخ گواہ ہے، جب جب کسی دوست نے یہ جملہ کہا پھر صرف دل نہیں توڑا، بلکہ پھر اسے مرمت کے قابل تک بھی نہیں چھوڑا۔ جیسے ڈاکو واردات سے پہلے بڑے اخلاق سے کہتے ہیں :“ دیکھو جی، ہم آپ کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، بس پرس نکالو آرام سے۔ ”
کہنے لگا یہ لڑکی بھینگی ہے اور کئی بار تو آپ کی طرح مجھے بھی خوش فہمی اس کے بارے میں ہوئی اور اگر میں اسے پہلے سے نہ جانتا ہوتا، تو آج آپ کی طرح میں بھی آپ کے ساتھ اسی خوش فہمی کا شکار ہوئے کھڑا ہوتا۔
جناب کے اس جملے کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ کچھ لوگوں کو عزت ویسے ہی ہضم نہیں ہوتی جیسے شادی کے بعد ساس کو بہووں کی صورت۔ چلیں آپ ہی بتائیں، اگر آپ اخلاقیات کی ایسی دھجیاں اڑائیں گے تو پھر کس کو اچھے لگیں گے۔
اس دن ہمیں لگا جیسے حکیم لقمان کے قول میں ترمیم وقت کی اشد ضرورت ہے۔ یعنی صرف بولنے پر ہی نہیں، بعض اوقات سننے پر بھی بندہ اتنا ہی پشیمان ہوتا ہے کہ دل کرتا ہے کہ کانوں کو فوراً ریٹائر کر دیا جائے۔
کچھ عرصے بعد وہی لڑکی، جو کچھ دن پہلے ہمیں سِگنل دے کر ہمارے دل کی وزارتِ محبت کی مستقل وزیر بننے والی تھی، ہمارے مکسچر دوست کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، آپس میں ایسے لگے ہوئے تھے جیسے بھینسیں جگالی کو عبادت سمجھ کر قائد کے فرمان کام کام اور بس کام میں جٹی رہتی ہیں۔ اس لمحے اچانک، لتا منگیشکر کا وہ گانا جو ہمیشہ کسی موت کے معمے کی طرح لگتا تھا، بغیر سمجھے ہی پورے کا پورا روح میں اتر گیا:
”دشمن نہ جو کرے، دوست نے وہ کام کیا ہے
عمر بھر کا غم انعام دیا ہے ”
یقین جانیے، اس وقت لتا جی کا یہ گانا ہمیں اتنا سچا لگا کہ جیسے یہی ہمارا قومی ترانہ ہونا چاہیے۔ وہی دوست، جو کبھی ہمارے خوابوں کے محلے میں کرائے دار تھا، آج ہماری خیالی محبوبہ کے ساتھ حقیقت کی دنیا بسائے بیٹھا تھا۔


