انڈیا اور پاکستان میں جنگ ہارتی غربت
رواں سال 2025 کا ماہ مئی اپنے دوسرے نصف میں داخل ہو چکا ہے۔ انڈیا اور پاکستان شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ دوپہر کے وقت ایسا لگتا ہے سورج اوپر سے اتر کر ٹھیک سوا نیزے کی بلندی پہ آ کر زمین پہ چلتے انسانوں پہ آگ اگل رہا ہے۔ ایسے میں بہاول پور کے پوش علاقوں سے غربت کی تصویر پیش کرتی عورتیں جنہیں ماسیاں کہا جاتا ہے بنگلوں اور کوٹھیوں پہ کام ختم کر کے پیدل ہی کچی آبادیوں کی طرف جا رہی ہوتی ہیں۔ یہ کچی آبادیاں ان پوش علاقوں سے دو کلومیٹر سے لے کر پانچ کلومیٹر کے فاصلے پہ ہوتی ہیں۔ دو ہزار سے چار ہزار یا زیادہ سے زیادہ چھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پہ کام کرنے والی پھٹے پرانے کپڑے اور ٹوٹے پھوٹے جوتے پہنے ان عورتوں کے پاس موٹر رکشہ کے کرایہ کے پیسے نہیں ہوتے۔ انہیں روزانہ پیدل ہی کچی آبادیوں سے پوش علاقوں میں آنا اور پھر تپتی دوپہر میں پیدل ہی اپنے گھروں میں جانا ہوتا ہے جب پرندے بھی پانی کی تلاش میں بے چین ہوتے ہیں تو ان غریب عورتوں کی زبانیں بھی گرمی میں پیدل چلتے چلتے خشک صحرا بن جاتی ہیں۔
ان غریب عورتوں کے خاندانوں کے مردوں کا حال بھی کوئی مختلف نہیں ہوتا۔ دہلی سے لاہور اور بمبئی سے کراچی تک غربت کی زندگی گزارنے والے یہ لوگ تپتی دوپہر میں اس وقت بھی روزی روٹی کمانے کے لیے اپنے گھروں سے باہر سڑکوں پہ ہوتے ہیں جب سڑک پہ چند سیکنڈز کے لیے ننگا پاؤں رکھو تو آبلے بن جائیں اور جلد جھلس کر پانی بننے کو ہوتی ہے یہ مرد بھی کوئی سبزی فروٹ کا ٹھیلہ ریڑھی گھسیٹ رہے ہوتے ہیں۔ کہیں ٹرک سے سامان اتارنے یا لادنے کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی زیرِ تعمیر عمارت پہ اینٹیں ڈھو رہے ہوتے ہیں۔
انتہائی غربت کا شکار، خوراک، دواؤں اور زندگی کے لیے ضروری بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار اور آرام کو ترسے ہوئے یہ چلتی پھرتی زندہ لاشیں غریب لوگ کوئی انتہائی چالاک مذہبی اور روحانی رہنما نہیں ہوتے جن کے لاشعور نے صدیوں کے سفر سے یہ مکاری سیکھ لی کہ کروڑوں اربوں انسانوں کو مذہب، روحانیت اور تقدس کے نام پہ خوف اور لالچ میں ڈال کر خود تو کوئی کام نہ کرو بس ان غریب انسانوں کی خون پسینے کی کمائی سے حصّہ وصول کر کے کھاؤ پیو اور زندگی عیش سے گزارو۔
یہ غریب لوگ باوردی اور بے وردی اشرافیہ بھی نہیں ہوتے جو ان غریبوں کی ضرورت کی اشیا پہ بھی ٹیکس لگا کر حاصل ہونے والے اربوں کھربوں روپے سے اپنی اور اپنے خاندانوں کی زندگیاں دنیا میں ہی جنّت کی زندگیاں بنا لیتے ہیں۔ ایکڑوں پہ پھیلے محل نما سرکاری بنگلوں میں رہو۔ کروڑوں روپے مالیت کی ہوٹر لگی سرکاری گاڑیوں میں سفر کرو۔ گھر میں بھی ائرکنڈیشن، سرکاری گاڑی میں بھی ائرکنڈیشن، دفتر میں بھی ائرکنڈیشن اور اربوں کھربوں روپے کے سرکاری فنڈز صاحب کے ایک دستخط کے نیچے۔
یہ غریب لوگ بڑے جاگیردار، بڑے روحانی رہنما، بڑے سرمایہ دار اور بڑے کاروباری لوگ بھی نہیں ہوتے جن کی میزیں سات نہیں پچیس اقسام کے کھانوں سے بھری ہوتی ہیں۔ جن کے وارڈ روب میں برانڈ کے نام پہ کپڑوں کے سینکڑوں جوڑے ہوتے ہیں۔ ایک سوٹ پہنا تو دوبارہ اس کا نمبر سال بعد آیا یا دوبارہ اسے پہنا بھی نہیں۔ ان کے پاؤں میں غریبوں جیسے پھٹے پرانے جوتے نہیں ہوتے جو تپتی سڑک پہ چلتے ہوئے تپ کر پاؤں کو بھی تندور بنا ڈالتے ہیں۔ یہ تو برانڈز پہنتے ہیں اور برانڈز میں جیتے ہیں۔
مختلف مواقع پہ آنے والے غیر حتمی تخمینوں کے مطابق بھارت میں غربت کی زندگی گزارنے والوں کی تعداد نّوے کروڑ سے زیادہ اور پاکستان میں پندرہ سے اٹھارہ کروڑ تک ہے۔ ان میں سے بھی کروڑوں کی تعداد میں پھر وہ لوگ آتے ہیں جو خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں یعنی حقیقت میں زندگی کی تمام ضروری سہولتوں سے محروم لوگ۔ انڈیا اور پاکستان میں ان غریبوں کی زندگیوں کو مزید جہنم بنانے کے ذمہ دار وہ طبقے یا افراد ہیں جو اقتدار کی ہوس میں بری طرح سے مبتلا ہیں۔
اس کی تازہ مثال بھارت کے مذہبی جنونی وزیرِ اعظم کا حالیہ جنگی اقدام ہے جس نے صرف اقتدار میں رہنے کے لیے اپنے ملک میں مذہبی جنون کو ہوا دے کر نہ صرف وہاں پہ اقلیتوں پہ مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے بلکہ اپنے ملک میں آئندہ الیکشن جیتنے کے لیے پاکستان مخالف بیانیہ اپنا کر جنوبی ایشیا پہ سات مئی 2025 کو جنگ مسلط کر کے امن کی ہواؤں کو زہر آلودہ کر دیا۔ اگر چہ امریکی صدر اور عالمی برادری کی مداخلت سے دس مئی سے بظاہر پاک بھارت جنگ بندی ہو چکی ہے لیکن ابھی بھی بے یقینی سی بے یقینی ہے کہ آیا یہ مستقل جنگ بندی ہے یا جنگ دوبارہ چِھڑ سکتی ہے؟
چونکہ انٹرنیٹ کا دور ہے آپ کے لکھے ہوئے الفاظ کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں تو راقم اپنے اس بلاگ کے ذریعے جنوبی ایشیا میں امن دیکھنے کی خواہشمند عالمی اور انڈیا پاکستان کی امن پسند قوتوں کو چند تجاویز دینا چاہتا ہے۔ اکبر شیخ اکبر کا خیال ہے کہ اگر عالمی قوتیں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک نیا معاہدہ کرا دیتی ہیں جس کے تحت دونوں ممالک کے صنعتکاروں اور کمپنیوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے یہ اجازت مل جائے کہ وہ ایک دوسرے کے ممالک میں اپنی فیکٹریاں اور مِلیں لگا لیں اور اپنے تجارتی مراکز قائم کر لیں تو صرف اس اقدام سے ہی نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کی کسی ممکنہ جنگ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ یہ اقدام دونوں ممالک میں غربت ختم کرنے کے لیے بھی انقلابی ثابت ہو گا۔ ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ بنے رہنے والے مسئلہ کشمیر کو بھی مستقل بنیادوں پہ حل کرا دیا جائے۔
اسی طرح انڈیا اور پاکستان کی امن پسند اور غریب دوست قوتوں کے لیے میری تجویز ہے کہ آپ گھروں میں کام کرنے والی ان غریب عورتوں کی سوشل میڈیا کے ذریعہ ذہن سازی کر دیں کہ وہ انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگا پور کی عورت کو اپنا معاشی ماڈل بناتے ہوئے سڑک کنارے فوڈ سٹالز لگائیں، سڑک کنارے گارمنٹس اور کچن میں استعمال ہونے والی اشیاء فروخت کریں تو اس عمل سے انھیں گھر گھر معمولی تنخواہ پہ کام کرنے کی ضرورت نہ رہے گی بلکہ وہ اپنے گھر اور خاندان کے لیے معقول آمدن کما کر اپنی غربت کو کم کر سکتی ہیں۔
آج 17 مئی 2025 کو یہ بلاگ لکھنے سے پہلے بی بی سی لندن کی ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا جس میں لکھا تھا کہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے مضافات میں ایسی مارکیٹیں اور دکانیں ہیں جہاں نہ کوئی دکاندار ہوتا ہے نہ کوئی سیکورٹی گارڈ۔ یہ دکانیں چوبیس گھنٹے کھلی ہوتی ہیں۔ لوگ آتے ہیں، ریفریجریٹرز سے کولڈ ڈرنکس بوتلیں، آئس کریم اور دیگر چیزیں نکالتے ہیں، ریکس سے اپنی ضرورت کی چیزیں اٹھاتے ہیں اور ان پہ لکھی ہوئی پرائس کے مطابق رقم کاؤنٹر پہ رکھ کر چلے جاتے ہیں۔ بی بی سی نے لکھا کہ سیول میں ریسٹورنٹس وغیرہ میں آئے نوجوان لڑکے لڑکیاں بے فکری سے اپنے موبائل فونز اور پرس میز پر ادھر ادھر رکھ دیتے ہیں اور انھیں چوری کا کوئی خوف نہیں ہوتا اس لیے کہ وہاں چوری کا کوئی تصور ہی نہیں۔


