جاپان کا تاج محل: اور چاروں اور چیری بلازم کھل اُٹھے (2)
آخرکار وہ صبح بھی آ گئی جس کا اتنے عرصے سے انتظار تھا اور اس صبح جو نظارہ میں دیکھ رہا تھا وہ حیران کن تھا۔ روایتی جاپانی کمونو میں ملبوس خواتین، انگلش سکرٹ زیب تن کیے ہاتھوں میں نیلے، پیلے، سرخ رنگ کی چھتریاں لئے اس مارچ میں شامل تھیں۔ سامورائے کے جنگلی اور جنگی لباس میں جاپانی مرد ٹریکٹروں پر سوار تھے۔ سرخ اور پھول دار کمونو پہنے رقص کرتی ہوئی خواتین جلوہ افروز تھیں۔ اس کے علاوہ بچے، بڑے مرد اور عورتیں، ہزاروں انسانوں کا جم غفیر نہایت ہی شائستگی سے آگے بڑھ رہا تھا، جو شنٹو شرائن میں لگے چیری کے درختوں کا نظارہ کرنے کے لیے نہ جانے کہاں کہاں سے آیا تھا۔ ایک پنتھ دو کاج، ایک طرف تو وہ شنٹو شرائن میں حاضری دیتے ہیں اور دوسری طرف چیری کی بہار کا نظارہ کرتے ہیں۔ یہاں پر شرائن کو اور عمارتوں کو چیری کے اشجار نے چاروں طرف سے ڈھانپ رکھا تھا۔ شرائن کی گیلریوں میں، صحنوں میں، راستوں میں بے انتہا رش تھا۔ ہم جب شنٹو شرائن میں داخل ہوئے تو وہاں پر کاغذوں کی پرچیاں حاصل کرنے والی جگہ پر بھی کافی رش تھا۔ میں نے پوچھا: ”سیکوسن یہ پرچیاں کس چیز کی ہیں؟ کیا یہ جنت حاصل کرنے کی ہیں کیونکہ ایک زمانہ ہوا جب پادریوں نے پیسے لے لے کر جنت کے لیے پرچیاں تقسیم کرنا شروع کی تھیں۔“
سیکوسن نے ہنستے ہوئے کہا: ”ہامری جنت اتنی آسان نہیں۔“
”دراصل ان پرچیوں میں ہمارے مستقبل کی نوید دی گئی ہے۔ اگر یہ دل کو پسند آ جائیں، تو لوگ رکھ لیتے ہیں۔ اگر پسند نہ آئیں تو پھر انہیں درختوں کی شاخوں سے باندھ دیا جاتا ہے۔“
”ایک ہم بھی حاصل کریں۔“
”نہیں ہم دو حاصل کریں گے۔“
سیکوسن نے دو پرچیاں حاصل کیں۔ دونوں پر چیوں پر جاپانی رسم الخط میں کچھ لکھا تھا۔
جب اس نے پرچیوں کو دیکھا تو کہا:
”ایک پرچی رکھ لیتے ہیں اور ایک باندھ دیتے ہیں۔“
”نہیں آپ انہیں پڑھ کر مایوس نہ ہوں ہم دونوں پرچیاں رکھ لیتے ہیں یہ ہمارے لیے باعث سعادت ہیں اور ہمارے لئے تو یہ یادگار بھی رہیں گی۔“
دونوں پرچیاں اپنی جیب میں رکھ کر ہم آگے بڑھے تو آگے شرائن کی عمارت میں پانچ منزلہ پگوڈا ایستادہ تھا۔ سیکوسن نے بتایا کہ یہ بدھ دھرم کا پگوڈا ہے۔ جو مٹی، پانی، آگ، ہوا اور جو زندگی کے عناصر ہیں ان کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس نے بتایا صرف کیوٹو شہر میں ہزاروں بدھ ٹیمپل ہیں اور شرائن شہر کے بالکل درمیان میں ہے۔ یان شرائن جس کو گیارہ سو سال کے بعد دوبارہ ایک صدی قبل بنایا گیا تھا ساکورا کے ڈیزائن کی نمائندگی کرتا ہے، جو اس امر پر بھی دلالت کرتا ہے کہ جاپانی ثقافت میں اس پھول کی کیا اہمیت ہے۔ شرائن کے سامنے دو درخت ہیں سیکوسن نے ایک ماہر گائیڈ کی طرح میری رہنمائی کرتے ہوئے بتایا کہ ”عام طور پر ساکورا بائیں ہاتھ پر لگایا جاتا ہے اور مالٹا کا درخت دائیں ہاتھ پر لگایا جاتا ہے اور یہ ہماری پرانی روایت ہے“ ۔
پیلے رنگ میں ملبوس جوان ڈریگن کی بہت بڑی شبیہ اٹھائے ڈریگن ڈانس کرتے جا رہے تھے۔ ہجوم آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ لوگوں نے بڑے بڑے علم اور جھنڈے اٹھائے تھے۔ ان پر ساکورا کا پرنٹ ہے حتیٰ کہ مسز ہانشو کی سکرٹ پر بھی چیری بلازم کے پھول تھے۔
میں نے پوچھا: ”سیکوسن یہ ساکورا ہے یا ساکیوارا ہے؟ کیونکہ تمام Trannies اسے ساکیورا بولتے ہیں۔“
”یہ ساکورا ہے۔“
”آج ہر زبان پر ساکورا ہے۔ سارے لوگ جھوم کر گا رہے ہیں۔ ساکورا کیا ہے؟“
”ساکورا کیا ہے! لعلوانی سن۔ ساکورا چیری بلازم ہے۔ ساکورا ہمارے دلوں اور روحوں میں بسا ہوا ہے۔ اسی لئے جب یہ درختوں کی شاخوں پر امڈتا ہے تو ہم بے قابو ہو جاتے ہیں اور پھر گھروں سے شہد کی مکھیوں کی طرح سے باہر نکلتے ہیں۔ آپ کو جو آج انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھائی دے رہا ہے یہ سارا کچھ چیری بلازم کے لیے ہے۔“
جلوس میں شامل بڑی تعداد میں جوان لڑکیاں تھیں، جو خوبصورتی کی دولت سے مالا مال تھیں اور ان کا انتخاب بھی اسی خوبصورتی کی وجہ سے کیا جاتا ہے کہ ہر چیز خوبصورت لگے اور اس لیے بھی کہ اسی خوبصورت بریگیڈ نے خاص طور پر جلوس کی نمائندگی کرنا ہوتی ہے۔ مردوں نے سامورائے کی ”زرہ بکتر“ اور فوجی لباس پہنا ہوا تھا۔ ان میں کچھ لوگ گھوڑوں پر سوار تھے۔ سفید کمونو میں ملبوس پروہت کے ہاتھ میں قدیم طرز کی بانسری تھی اور گاڑی پر رکھے بہت بڑے جاپانی ڈھول پر دو کسرتی بدن والے جوان ضرب لگا رہے تھے جس سے ایک خوبصورت ردم پیدا ہو رہا تھا۔ میرے دل نے کہا کہ اس خوبصورت ردم کو ریکارڈ کیا جائے، لیکن اس وقت سیکوسن کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ جلوس پورے جوش و خروش اور پورے ڈسپلن کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ ہم بھی قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے تھے جدھر نظر پڑ رہی تھی گاڑیاں ہی گاڑیاں نظر آ رہی تھیں۔ بے شمار ٹورسٹ بسیں جو بے شمار بندوں سے اس طرح لدی پھندی کہ بندوں کا باہر نکلنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس ہجوم میں صرف جاپانی ہی نہیں تھے، بلکہ یورپی ممالک کے باشندے بھی شامل تھے، کیونکہ جاپان پہنچنے کے بعد ٹوکیو تو آنا ہی ہوتا ہے اور کیوٹو پہنچے بغیر ان کی یاترا مکمل نہیں ہوتی۔ ٹوکیو سیاسی، سماجی اور تجارتی زندگی کا مرکز ہے، جس میں جدید دنیا کی دھڑکن سنائی دیتی ہے، لیکن اس کے برعکس کیوٹو میں ایک سکون ہے، شانتی ہے، سندرتا ہے۔ جہاں انسان فطرت کے قریب تر ہو جاتا ہے۔ حیرانی ہوتی ہے کہ یہ بسیں اور گاڑیاں کہاں کھڑی کی جائیں گی اور کیسے واپس جائیں گی کہیں بھی تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی، لیکن اس سب کے باوجود، اتنے ہجوم کے باوجود جہاں آدمی آدمی سے ٹکرا رہا ہے، کندھے سے کندھا ملا کر چل رہا ہے، ایک عجیب چیز دیکھنے کو ملی کہ کہیں کوئی ہڑبونگ نہیں، ہلڑ بازی نہیں، کہیں کوئی جھگڑا نہیں۔ کوئی آدمی اونچی آواز سے بات نہیں کر رہا۔ یہ سارا اژدہام ایک پرسکون ندی کی مانند آہستہ روی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
”سیکوسن یہ سب کیسے ہے؟“
”یہ ایسے ہی ہے، جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ ہمارا طرز زندگی ہے۔“
”لیکن! میں نے کہا۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ اس قدر ہجوم میں روایات کی پاسداری، خدا کی پناہ! یہ دیوانوں کا ہجوم ہے۔ ہجوم کیوٹو میں ہی نہیں تھا، نارا میں، ماؤنٹ فجی پر، ٹوچی گی میں، نکو شرائن میں، جدھر جائیں ہجوم ہی ہجوم تھا، پھول ہی پھول تھے، جب اگلے روز ہم ٹوکیو پہنچے تو پھولوں سے عشق کی دیوانگی یہاں بھی عروج پر تھی۔ سیکوسن نے مجھے مشورہ دیا کہ یہ دو تین دن آپ نے نہ دن کو آرام کرنا ہے اور نہ رات کو، آپ نے میرے ساتھ ٹوکیو کی گلی گلی میں گھومنا ہے، تاکہ یہ منظر ہمیشہ کے لیے آپ کے ذہن پر نقش رہے اور واقعی جب میں سنٹر سے باہر نکلا تو ہر طرف ایک ہی سماں تھا، دلکش اور مسحور کن۔ ٹیلیویژن، اخبارات، شاہرائیں، پارک چیری کے پھولوں سے اٹے پڑے تھے۔ ہر طرف تمام اشیاء پر چیری کا ڈیزائن، لکڑی کی اشیاء پر، زیوارت پر، کپڑوں پر، جہاں دیکھو پھول ہی پھول۔ ایک ہی گیت سب کی زبان پر :
ساکورا، ساکورا
بہار کا سماں
جہاں تک نظر پڑتی ہے
یہ دھند ہے کہ بادل
ہر سو ان کی خوشبو پھیلی ہے
آؤ دیکھنے چلیں!
ٹوکیو میں تمام پارکوں میں بہار کا منظر دیکھنے اور خوشیاں منانے والوں کا ہجوم ہے۔ بچے، بوڑھے، مرد آئے ہیں۔ چیری کے درختوں کے نیچے تاتامی چٹائیاں بچھی ہیں۔ ان پر کھانے پینے کی اشیاء رکھی ہیں۔ کہیں ساکے اور بیئر کی پارٹیاں ہو رہی ہیں۔ کہیں کھانا کھایا جا رہا ہے۔ ہزاروں انسان شہر سے اور ملک کے چپے چپے سے چیری کے پھول دیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ وہ اپنے لنچ باکس ساتھ لائے ہیں۔ ان کے فلاسک ساکے سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ جو پیالے ہیں وہ لکڑی کے ہیں مگر اتنے چمکدار اور صاف کہ شیشے کی مانند چمکتے ہیں۔ درختوں کے نیچے بیٹھے وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ ساکے پی رہے ہیں۔ ساتھ نوزائیدہ بچے کو تاتامی پر لٹایا ہے، چیری کے پھولوں کی طرح معصوم، بچہ فطرت سے ہم کلام ہے۔ آگے بڑھیں دو عمر رسیدہ خواتین زرق برق کمونو میں ملبوس چیری کے پھولوں کے نیچے کھڑی ہیں اور ان کی خوشبو اور بو باس کو اپنے نتھنوں میں داخل کر رہی ہیں۔ کہیں چیری کے نیچے ایک جوان گیشا جاپانی چھتری لیے رقص کر رہی ہے۔ ساتھ سازندے اور موسیقار قدیم دھنیں بکھیر رہے ہیں۔ ایک پارک میں بہت بڑا سٹیج بنایا گیا ہے، جس پر دو جوان گیشا گرلز اپنی دلنواز مسکراہٹوں کے ساتھ موجود ہیں، ان کے کمونو چیری کے پھول ہیں۔ آسمان صاف ہے اور سورج مسکرا رہا ہے۔ ہر طرف پھول بکھر رہے ہیں، گیشاؤں نے جو مخصوص وگ لگائی ہے، اس پر بھی ساکورا کے پھولوں سے تزئین کی گئی ہے، جو ہیئر بینڈ لگائے ہیں ان پر بھی ساکورا کا پرنٹ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ کیوٹو کے بعد جب نارا کی کاسوگا شرائن دیکھنے داخل ہوئے تھے تو وہاں بھی ہر طرف یہی پھول مسکرا رہے تھے اور ہر طرف ہرن گھوم پھر رہے تھے، ہم جب شرائن کے صحن میں داخل ہوئے تو ہرن آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ہمارے قریب آتے گئے اور سیاحوں نے بسکٹوں سے ان کی خاطر کرنا شروع کر دی تھی اور وہ آہستہ آہستہ سیاحوں کے بچوں کے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہو گئے تھے۔ اس شرائن کو دیکھنے کے بعد بچوں کے لیے جو سووینئر ملتے تھے وہ پلاسٹک کے ہون تھے یا لکڑی کی خوبصورت تلواریں۔ ان کے اوپر بھی چیری کے پھول کندہ تھے۔
ہجوم آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے، ہم بھی آگے بڑھے تو ایک جگہ دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے تعویذ دے رہے تھے۔
سیکوسن تعویذ جاپان میں بھی چلتے ہیں؟ پہلے جنت کی پرچیاں تھیں، اب تعویذ ہیں۔ ”
وہ مسکرائی: ”جی بالکل۔“
”لیکن کس مقصد کے لیے؟“ میں نے پوچھا۔
”یہ صرف محبت میں کامیابی کے لیے ہیں۔“
”تو کیا ان کا آپ کے ہاں بھی رواج ہے؟“
”رواج؟ ہمارا تو اوڑھنا بچھونا تعویذ ہیں۔ محبت میں ناکامی سے بچنے کے لیے، محبت میں کامیابی کے لیے، اولاد کے لیے، ساس کو رام کرنے کے لیے، بہو کو نیچا دکھانے کے لیے، سسر کو بیوقوف بنانے کے لیے، ملازمت کے لیے، امتحان میں پاس ہونے کے لیے، صحت یابی کے لیے، ٹائیفائیڈ اور کینسر سے شفایابی کے لیے، ہر بیماری دور کرنے کے لیے حتیٰ کہ دانت کا درد دُور کرنے کے لیے بھی تعویذ لئے جاتے ہیں۔“
”کیا پھر دانت کا درد بھی دُور ہو جاتا ہے؟“
”دانت کا درد دُور ہو نہ ہو ساتھ سر درد بھی شروع ہو جاتا ہے۔“
” Anyway, who are these giants ?“
”ان لوگوں کو تو فراغت نہیں ملتی ہو گی۔ سارا کام تو یہ لوگ کرتے ہیں پھر آپ لوگ کیا کرتے ہیں؟“
”They are parasites.“
”ہم ان کو اپنا خون پلاتے ہیں، ہمارے اندر خون رہے نہ رہے ان کو سپلائی جاری رہتی ہے۔“
نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دھڑکتے دلوں سے کاغذی پیرہن لے کر درختوں کی ٹہنیوں سے باندھ رہے تھے۔ کہیں براہ راست عہد و پیمان باندھ رہے تھے، کہیں آنکھوں آنکھوں میں محبت کے پیغام دیے جا رہے تھے، کہیں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، سر سے سر جوڑے جوان جوڑے امر ہو گئے تھے۔ کہیں منتیں مانی جا رہی تھیں، ہنسی خوشی کے ماحول میں کہ چلو یہ بھی کر دیکھیں۔ وہ بتا رہی تھیں کہ جب منتیں پوری ہو جاتی ہیں تو اگلے سال آ کر یہاں حاضری دی جاتی ہے۔ عبادت گاہوں میں مہاتما بدھ نروان حاصل کر کے سو رہا ہے کہ اس کی قوم آسودہ ہے اور ادھر پہاڑوں پر، وادیوں میں، پارکوں میں پھول بکھر رہے ہیں۔ کہیں رقص ہو رہا ہے اور کہیں سیمی سن کی دھنیں بج رہی ہیں اور کہیں بیئر اور ساکے کو حلق سے اتارا جا رہا ہے۔
یہ قوم بھی کیا قوم ہے، جس نے اپنا ثقافتی ورثہ نہ صرف محفوظ کر لیا ہے، بلکہ اس کی تمام جزئیات کی خوشبو کو اپنی روح میں سمیٹ لیا ہے اور جب موسم آتا ہے تو قدم قدم پر اس روح کو، اس محبت کو، اس دیوانگی کو اپنی تمام جلوہ سامانیوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے اور یہی جاپان کی شناخت ہے۔
”ادھر دیکھیں۔“
میں نے اُدھر دیکھا تو چیری کے پھولوں کے نیچے ایک خوبصورت عورت رقص کر رہی تھی، اس کی چولی پر نیلے اور سرخ دھاگے سے کڑھائی کی گئی تھی۔ اس کا رنگ بہت صاف ہے اور جسم گداز، سر اور ابرو کا جھکاؤ مناسب، چہرے اور آنکھوں میں کشش، رقص جاری ہے۔ ہر طرف پھول ہی پھول ہیں اور پوری قوم دیوانہ وار جھوم رہی ہے۔ شام ہو گئی پھر رات ہو گئی ہے، مسرت کا ماحول رات گئے تک جاری ہے، رقص جاری ہے۔





