مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں (4)


جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو بہت سے خیال، بہت سی سوچیں بہت سے ادھورے کام یاد آتے ہیں جو آپ نے پورے کرنے تھے لیکن نہیں کر سکے۔ پرامید ہونے کے باوجود بھی کبھی کبھی خیال آتے ہی ہیں، جب میں سوچتی تھی تو اطمینان ہوتا تھا کہ میں نے اپنا وصیت نامہ لکھ رکھا ہے۔ یہ وصیت نامہ برسوں پہلے جب پہلے عمرے پہ جا رہی تھی تو میں نے فرحت ہاشمی کی کتاب ”میرا جینا میرا مرنا سب اللٌہ کے لیے ہے“ کے اندر وصیت نامے کے پر فارما کو فل کر کے رکھ دیا تھا، بہت سے ایسے فلاحی کام تھے کہ جن کا سوچ رکھا تھا مگر عمل کے راستے میں کچھ ایسی رکاوٹیں تھیں کہ ابھی تک ان نیک ارادوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکی۔ ان تمام چیزوں کو سوچتی رہی۔ دعائیں کرتی رہی پھر اپنے تمام دوستوں کو آپریشن کا بتا کر دعا کی درخواست کی اور مطمئن ہو کر سو گئی۔ دوسرے آپریشن کے لیے جانے سے پہلے ضروری سمجھا کہ اپنے وصیت نامے میں کچھ ترمیم اور اضافے کر لوں اپنے پہلے آپریشن کے بعد میں نے اپنے بھائی تمثیل سے بار بار درخواست کی کہ وہ مسجد بنانے میں اور فلاحی کام کرنے میں میرا ساتھ دے، میرا ہاتھ بٹائے، یہ ذکر کرنا میں بھول گئی والد کی طرف سے ملی ہوئی کچھ اراضی جو نسیم کے نام تھی ان سے درخواست کی کہ وہ مجھے مسجد کے لیے دے دیں۔ اللٌہ انہیں خوش رکھے اور اپنی شان کے مطابق اجر کثیر عطا فرمائے، انہوں نے فوری طور پر پکا وعدہ کیا کہ وہ یہ اراضی مسجد کے لیے وقف کر دیں گے۔ عائشہ بھی اس پر گواہ تھی عائشہ نے کہا ہم سب آپ کے لیے کوشش کریں گے کہ جلد از جلد یہ مسجد بن جائے۔

اب جب میں دوسرے آپریشن کے لیے جا رہی تھی تو یہ ضروری سمجھا کہ وصیت نامے کو اپڈیٹ کیا جائے اس میں اپنے تمام فلاحی کام، اپنی کتاب میں تمام چیزوں کے بارے میں تفصیل سے لکھا، بچوں کے لیے نصیحتیں بھی لکھیں مگر ہمت نہیں ہوئی کہ بچوں کو دکھاؤں کیونکہ وہ پہلے ہی بہت حساس ہو رہے تھے۔ لیکن دوسرے آپریشن کے لیے جانے سے پہلے نسیم کو دکھا دیا جس کا انہوں نے بہت اثر لیا اور خفا ہونے لگے کہ یہ کیا لکھا ہے۔ میں نے کہا وصیت نامہ تو ہر انسان کے تکیے کے نیچے ہونا چاہیے یہ ضروری ہے اور یہ تو میں نے کب سے لکھ رکھا ہے اب تھوڑی سی اس میں ترمیم کی ہے بہرحال اب جب پندرہویں روزے کی شام کو آپریشن کے لیے جا رہی تھی، ذہنی اور روحانی طور پر ایک سکینت طاری تھی شاید یہ دعاؤں کا اثر تھا یا کچھ اور لیکن یہ یقیناً دعاؤں کا ہی اثر تھا کہ میں ہمت اور حوصلے سے آپریشن تھیٹر میں داخل ہوئی، 2020 کے ایک بڑے آپریشن کے بعد 2024 میں پھر اسی جگہ اسی مقام پر تھی۔ پشاور سے پنڈی یہاں تک آنے میں میرے معالج ڈاکٹر نعیم تاج کی ماہرانہ خوبیوں کے علاوہ ان کا حسن سلوک اور مشفقانہ انداز کا بھی عمل دخل تھا۔ ڈاکٹر نعیم تاج کا نام دو دفعہ گینز آف ورلڈ بک میں آ چکا ہے۔ گولڈ میڈل ملے ہیں، دو دفعہ پرائیڈ آف پرفارمنس کے لئے نام جا چکا ہے۔ کئی مغربی ممالک کی پر کشش پیش کشوں کو ٹھکرا چکے ہیں کہ مجھے اس ملک نے بنایا ہے میں اپنے ہی لوگوں کی خدمت کروں گا۔ ان کے لئے ان کے مریضوں کی دعائیں سارے اعزازات و انعامات سے بڑھ کر ہیں۔ نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پروا کی تفسیر، تعریف کریں تو فوراً جواب دیں گے شفا تو اللّہ کے ہاتھ میں ہے۔

ڈاکٹر کا مسکراتا چہرہ مریض کا آدھا درد دور کر دیتا ہے ہر وقت لبوں پر کھیلتی مسکراہٹ لئے، ڈاکٹر نعیم تاج جیسے معالج کا ملنا بھی اللّہ کا خاص کرم ہے۔ سو اللّہ کی بے پایاں رحمت وکرم اور سب کی دعاؤں کی برکت سے دوسرے آپریشن سے بھی بخیر و خوبی گزر گئی۔ آپریشن کی پہلی رات اللہ کے فضل و کرم سے، آرام سے کٹ گئی صبح ہو گئی، تو عائشہ کھیر اور کھانے بنا کر لے آئی اور اصرار کرنے لگی کہ کھالیں، مگر ڈر کے مارے کچھ کھایا نہیں جا رہا تھا۔ عائشہ مجھے خوش کرنے کے لیے کھاڈی کے دو خوبصورت جوڑے لے کر آئی کہ یہ آپ نے جمعۃ الوداع پر سلوا کے پہننے ہیں، جبکہ میری کیفیت یہ تھی کہ کوئی چیز دل کو اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ افطاری سے کچھ دیر پہلے ڈاکٹر نعیم تاج اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے آئے، حال احوال پوچھا اور کہا کہ آپ گھر جا سکتی ہیں۔ سب نے اطمینان کا سانس لیا، چیزیں سمیٹیں اور رسالپور کی طرف روانہ ہوئے۔ ہمارے روانہ ہونے سے پہلے عائشہ مل کر رخصت ہوئی اس کی دوسرے دن فلائٹ تھی ہسپتال سے نکلتے ہوئے مختلف لوگوں کو ساتھ ساتھ پیسے دیتے گئے لیکن ایسے ایسے لوگ بھی سامنے آئے جن کو دو دن دیکھا تک نہیں تھا۔ راستے میں اذان ہو گئی، افطاری کا سارا سامان پاس تھا قیام و طعام پر رک کر اسد اور نسیم نے افطاری کی۔ میری بھانجی نینا نے رولز اور سینڈوچ بنا کے ساتھ دیے تھے مگر مرچ مصالحے کی وجہ سے میں کچھ نہ کھا سکی۔ گھر آ کر حسبِ معمول، حسب عادت شکر کے سجدے کیے، چند دن معمولی سی تکلیف رہی پریشان ہو کے میں بار بار ڈاکٹر کو فون کرتی اور وہ کہتے کہ سب ٹھیک ہے چند دنوں میں ٹھیک ہو جائیں گی۔ انہوں نے کوئی اینٹی بائیوٹک وغیرہ نہیں دی تھی صرف پین کلر اور درد کم کرنے والی ادویات تھیں اور چند کریمیں۔ پانچ چھ دن گزر گئے اور مجھے تھوڑی سی بہتری محسوس ہوئی تو میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ کیا میں روزے رکھ سکتی ہوں مجھے روزوں کا بہت دکھ تھا کہ میں روزے نہیں رکھ پا رہی ڈاکٹر نے کہا بالکل آپ روزے رکھ سکتی ہیں۔ دوسرے دن سے میں نے روزے رکھنے شروع کر دیے ابھی تین چار روزے رکھے تھے کہ دوسری ٹانگ میں ہلکا ہلکا درد شروع ہو گیا یہ اسی قسم کا درد تھا جو پہلی ٹانگ میں ہوا کرتا تھا کبھی خود کو خود تسلی دیتی کہ نہیں ویسا نہیں ہے ایک دن جب درد بڑھ گیا تو سی ایم ایچ جا کر ایکسرے کروایا ایکسرے کی رپورٹ تسلی بخش نہ تھی۔ ڈاکٹر خادم کو ( جو بہترین آرتھوپیڈک سرجن اور میرے داماد کے گہرے دوست ہیں ) ایکسرے واٹس ایپ کیا، انہوں نے دیکھ کے کہا کہ اب آپ نے زیادہ نہیں چلنا اور اس سے پہلے کہ وہ فریکچر ہو جائے آپ فوری طور پر آپریشن کروا لیں۔ یہ جمعرات افطاری سے کچھ دیر پہلے کا وقت تھا اس کے بعد یہ حالت ہوئی کہ قدم اٹھاتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا۔ واش روم بھی مشکل سے ڈرتے ڈرتے جاتی کہ کہیں پہلی ٹانگ کی طرح یہ بھی۔

دوسرے دن، جمعۃ الوداع تھا میں نے سب کے منع کرنے کے باوجود بھی روزہ رکھ لیا کہ جانے پھر یہ دن نصیب ہو یا نہ۔ اسی دن اسد کے ساتھ پشاور چلی گئی۔ ایک ڈاکٹر کو دکھایا اس نے کہا آج آپریشن کر دوں، میں نے کہا نہیں آج جمعۃ الوداع کا روزہ ہے میں اسے توڑ نہیں سکتی۔ کل کا دن رکھ لیتے ہیں۔ وہاں سے نکلے تو اسد ایک اور ہسپتال اور ڈاکٹر سے مشورہ کرنے چلے گئے اور وہاں ان سے دوسرے دن کی اپوائنٹمنٹ لے لی۔ ہم گھر آ گئے اور دوسرے دن صبح افشین کو لے کر ہسپتال چلے گئے۔ پہلے تمام ضروری ٹیسٹ وغیرہ ہوتے رہے، کمرہ لیا، نماز پڑھی، دعائیں کیں مگر دل پر اداسی کی دبیز تہہ اور دھند چھائی رہی، یہ آپریشن بھی افطاری سے پہلے پہلے چار بجے ہونا تھا۔ تین بجے سے مجھے آپریشن تھیٹر کی طرف لے گئے وہاں جو نرس تھی کہنے لگی کہ آپ دوسرے ڈاکٹر سے کیوں نہیں کروا رہی میں نے پوچھا کہ ان سے کروانے میں کیا برائی ہے، تو کہنے لگی بس ٹھیک ہے کچھ نہیں۔ خیر ڈاکٹر صاحب کافی لیٹ آئے۔ مجھے آپریشن تھیٹر لے جایا گیا اور پھر کمر میں ٹیکے لگنے کا مرحلہ شروع ہوا، جو پہلی بار میں نہ لگ سکا، یہ ایک مشکل مرحلہ تھا ابھی تو دس دن پہلے کمر جو میں ٹیکے لگے تھے ان کا درد بھی ختم نہیں ہوا تھا۔ مشکل کے ایسے ہی لمحوں میں جب ہمارے قریبی لوگ بھی ہمارے ساتھ نہیں ہوتے اللّہ کے قرب کو محسوس کرتے ہیں اور دل کی گہرائیوں سے اسے پکارتے ہیں، اس کامل یقین کے ساتھ کہ وہ یہ پکار سن رہا ہے، جواب دے رہا ہے۔

وہ تو یکتا ہے مگر عالم تنہائی میں
میں نے گھبرا کے اس کے کئی نام پکارے

یہ مرحلہ طے ہوا تو آپریشن ٹیبل پر لٹا دیا گیا، جو چوڑائی میں خاصی کم تھی۔ اس میں انہوں نے بائیں طرف جو چیز فٹ کی اس سے میری پسلیوں پہ ایسا دباؤ پڑا کہ مجھے لگا کہ میری پسلیاں دب کر ٹوٹ جائیں گی۔ میں نے انہیں کہا کہ یہ ہٹا دیں انہوں نے کہا اگر یہ ہٹا دیا تو کہیں آپ نیچے نہ گر جائیں۔ لیکن پھر میرے پرزور اصرار پر انہوں نے اسے ہٹا دیا میں سوچ رہی تھی کہ اگر آج بھی پہلے آپریشن کی طرح بے ہوش ہوتی تو ٹانگ کی طرح یہاں زخم ہو جانا تھا، خیر آپریشن کے بعد کمرے میں آئی تو پھر شبِ فراق سے زیادہ طویل اور تکلیف دہ رات کا سامنا تھا۔

Facebook Comments HS