دھرو راٹھی کی ایک اسمارٹ چال


دھرو راٹھی، جو ہم سب کی اکثریت کو پتہ ہے کہ ایک کافی بڑے اور مقبول انڈین یوٹیوبر ہیں۔ ان کی کافی وڈیوز جو سائنس، سوشل سائنس، ماحولیات، سیاست، ٹریول لاگ اور دیگر موضوعات پر مشتمل ہوتی ہیں، بہت دلچسپی سے اور بہت شوق سے دیکھی جاتی ہیں۔ وہ قریبا دس سال سے یوٹیوب پر موجود ہیں، اور ان کی سینکڑوں وڈیوز مختلف سبجیکٹس پر ان کے چینل پر موجود ہیں۔ ان کے یوٹیوب پر قریبا ساڑھے اٹھائیس کروڑ سبسکرائبرز ہیں اور ان کی ایک ایک وڈیوز پر ملین ویوز اور لائیکس وغیرہ آسانی سے مل جاتے ہیں۔

عموماً دھرو، انڈین گورنمنٹ خصوصاً بی جے پی سرکار کے سخت مخالف مانے جاتے ہیں اور ان کی بہت ساری پالیسیز کے سخت ناقد ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ انڈیا کے مین اسٹریم میڈیا (سوشل اور پرنٹ میڈیا) کو وہ ”گودی میڈیا“ کو بھی بار بار القابات سے نوازتے ہیں کیونکہ بقول ان کے یہ میڈیا انڈین موجودہ سرکار کی گود میں بیٹھ کر ان کا بھونپو بن کر ان کی ہی ہانکے جا رہا ہے اور ہاں میں ہاں ملائے جا رہا ہے۔ اس گودی میڈیا کی یہ جرات نہیں کہ وہ مودی سرکار کی کسی غلط پالیسی، جس سے ان کی گورنمنٹ میں کوئی عوامی نقصان ہو رہا ہوں اس کو براہ راست ٹی وی پر آن کر بیان کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔ جو مودی سرکار ایک بیانیہ بنا لے، اس کی سر تال میں تان ملا کر یہ گودی میڈیا، بقول دھرو راٹھی، ہانکنے کا عادی ہے۔ دھرو راٹھی کے چینل پر کئی ایسی وڈیوز موجود ہیں، جہاں وہ مودی کی گورنمنٹ اور گودی میڈیا کی خامیاں گنوا کر اپنی مخالفت کی آواز اٹھا رہے ہوتے ہیں۔

حالیہ پہلگام واقعہ جو بھارتی سائیڈ کے کشمیر میں گزشتہ 22 اپریل کو ہوا تھا، اس پر پہلے یہ گودی میڈیا اور بعد میں مودی سرکار نے بلا کسی ثبوت کے پاکستان کی حکومت اور ریاست پر الزام لگانا شروع کر دیا تھا کہ اس میں پاکستانی اسٹیٹ اسپانسر دہشت گردی ہو رہی ہے۔ انڈین گودی میڈیا کے ہی ”معتبر ذرائع“ نے یہ بتایا کہ لشکر طیبہ (ایک دہشتگرد سابقہ پاکستانی /کشمیری تنظیم جو پہلے بھی بھارت میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث رہ چکی ہے، اب اس پر پاکستان سمیت دنیا میں پابندی ہے) کی ایک ذیلی تنظیم ٹی آر ایف کے چند دہشت گردوں نے یہ واقعہ سرانجام دیا ہے، جس کی ذمہ داری اس نے قبول بھی کرلی تھی۔ لیکن بعد میں اسی سوشل میڈیا کے تحت یہ پتہ چلا کہ یہ ٹی آر ایف کے تحت ان پر الزام ذمہ داری لگانے کا الزام غلط لگایا جا رہا ہے اور یہ کسی کی سازش ہے جو ان کو پہلگام کے قتل عام میں ملوث کر رہی ہے۔ لیکن اب جن تو بوتل سے باہر آ چکا تھا۔ پورا گودی میڈیا، انڈین سرکار اور بہت سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹ، دن رات بس اسی بات کا راگ الاپنے لگے کہ اس قتل عام میں پاکستانی حکومت ملوث ہے اور پاکستان کو اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ مودی سرکار نے پاکستان کو پیاسا مارنے کے لیے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا، پاکستان سے تمام تجارتی روابط ختم کر دیے اور ساتھ ہی ساتھ ہزاروں لاکھوں اپنی طرف کے اور پاکستانی سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ بھی بلاک کر دیے جو بقول مودی سرکار اس کے بیانیہ کی مخالفت کر رہے ہیں اور مودی بیانیے کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے گودی میڈیا تو ایک طرف، سوشل میڈیا کے انڈین بڑے بڑے نامور صحافی، اپنے اپنے سوشل میڈیا کی ویور شپ اور ممبران سے مستقل ہاتھ دھونے کے خطرے کے پیش نظر اور اپنی نیک نامی پر آنچ آنے کے پیش نظر وہی راگ الاپنے لگے جو مودی سرکار ان کو سنا رہی تھی۔ ان کی ہر تقریر، ہر وی لاگ، ہر مضمون، ہر سوشل میڈیا پوسٹ میں بس پاکستان ہی پہلگام کا مجرم ایک دہشت گرد ملک قرار پایا، جس کو جنگ کر کے مزا چکھانے اور عبرتناک شکست کی باتیں ہر وقت چوپیس گھنٹے ہونے لگیں۔

اتنے میں دھرو راٹھی، کو شاید مودی سرکار نے ایسا شاید خفیہ پیغام پہنچایا ہو گا کہ اگر اب تم نے ہمارے سرکاری بیانیے کی مخالفت کی اور اس عمومی فضا کے خلاف جو ہم نے گودی میڈیا میں تیار کی، ایک وڈیو بنائی، تو تمہارا چینل بھی انڈیا میں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا اور اپنے کروڑوں سبسکرائبر سے تم ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاؤ گے۔ دھرو اپنی وڈیوز میں مختلف کورسز وغیرہ بیچ کر بہت سے پیسہ اور مال بھی بناتے ہیں، ان کے لیے اب یہ ایک واضح خطرے کی بات تھی جو ان کے لیے ایک بہت بڑے مالی نقصان کا باعث بھی بن جاتی۔ اس لیے دھرو کے اسمارٹ ذہن نے ایک ایسی چال چلی، ایک ایسی ترکیب نکالی جو اس کا چینل بھی انڈیا میں بلاک ہونے سے بچا لیتی اور اس کی نیوٹرلٹی پر بھی کوئی آنچ نہیں آتی۔ دھرو ایک اسمارٹ لڑکا ہے اور جدید انفارمیشن اور معلومات سے اپنی وڈیوز پیش کرتا ہے۔

اس نے ایسا سوچا ہو گا کہ واقعی اس ٹائم مودی سرکار کی مخالفت کرنا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے برابر ہے اور سراسر اپنا مالی نقصان ہو گا۔ کیونکہ وہ اس طرح اپنے کروڑوں بھارتی ممبرز سے ہاتھ دھو بیٹھے گا، کیونکہ ان کو وی پی این لگانے کا ہو سکتا ہے، نہیں پتا ہو جس سے اس کا چینل بھارتی حکومت سے بچ جائے۔ اس لیے اس کا اوپائے اس نے یہ سوچا کہ کیوں نا ایک ایسی وڈیو بنا لی جائے، جس میں وہی تمام حوالے، وہی تمام ریفرنس دے کر جو گودی میڈیا دے رہا ہے، پاکستان حکومت کو مجرم و دہشت گرد قرار دیا جائے اور اس کے خلاف بھی وہی جنگی مہم کا آغاز کر دیا جائے جو انڈین سرکار کرچکی ہے۔ اس طرح اس پر دیش بھگت ہونے کا بھی ٹیگ لگ جائے گا اور وہ اپنا چینل بھی آسانی سے بچا لے گا، نتیجتاً مالی نقصان سے بچ جائے گا۔ اس نے اپنی وڈیو میں تمام کے تمام وہی گودی میڈیا کے ریفرنس دیے جو یہ میڈیا ایک مہینے سے اپنے سوشل و مین اسٹریم میڈیا پر دے دے کر جنگی جنون کی آگ بھڑکا رہا ہے جو سب کا سب بغیر کسی ثبوت، بغیر کسی تحقیق اور بغیر کسی ریشنل سوچ کے محض پاکستان سے جنگ کی آگ بھڑکا رہا ہے اور ا پنے تئیں جنگ جتوا بھی چکا ہے۔

اب دھرو نے یہ اسمارٹ کام کیا کہ اگر میں اسی گودی میڈیا کے دیے ہوئے ناکافی اور غلط سلط ثبوتوں پر مشتمل یہ وڈیو بنا لوں گا تو یقیناً پاکستانی چپ تو نہیں بیٹھیں گے، ایک ایک کر کے وہ تمام گودی میڈیا کے پھیلائے ہوئے اس جھوٹ کے بیانیے کو پکڑ لیں گے اور ان کے تمام جھوٹ کو ریفرنس سمیت جھٹلا کر ثابت کر دیں کہ یہ گودی میڈیا کے دیے گئے ثبوت محض گوزِ شتر ہیں اور ان کی ردی کے برابر حیثیت نہیں۔ اسی لیے عین اسی طرح کی بات ہوئی، ایک کے بعد ایک بہت سارے مشہور پاکستانی صحافیوں، یوٹیوب کانٹنٹ کریٹرز اور دیگر پاکستانی بلاگرز جیسے منصور علی خان، مزمل شاہ، جاوید چودھری، شہزاد غیاث وغیرہ نے اس کے بطلان کی وڈیوز بنا لیں جس میں تمام دھرو کے دیے ہوئے گودی میڈیا کے دیے ہوئے دلائل و ثبوت کی دھجیاں بکھیر دیں اور ان کا جھوٹا ہونا، با آسانی ثابت کر دیا۔ اور اب تک دھرو راٹھی کی اس وڈیو کی مخالفت میں پاکستانیوں کی وڈیوز آ رہی ہیں۔

اب دھرو نے، میرے خیال میں بہت ہی اسمارٹ چال چلتے ہوئے اپنے چینل و اپنی ساکھ کو بچا لیا۔ گودی میڈیا کا بے بنیاد ہونا بھی ثابت کر دیا۔ ان کے ثبوتوں کی دھجیاں بھی بکھیر دیں، مودی کی پاکستانیوں کے ہاتھوں بے عزتی بھی کروا دی، اس کو گالیاں پڑوا دیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے آپ کو ایک پکا دیش بھگت، انڈین عوام کے ساتھ کھڑا ہونے والا اور انڈین سرکار کے اشاروں پر ناچنے والا بھی ثابت کروا دیا۔ اس کو ہی پنجابی میں کہتے ہیں کہ ”سجا دکھا کر کھبا مار دیا“ یا اردو کے محاورے کے مطابق ”ھینگ لگی نہ پھٹکری، رنگ بھی چوکھا آیا“ ۔ دھرو راٹھی کی اس حالیہ وڈیو کو اب تک سوا کروڑ لوگ دیکھ چکے ہیں اور 65 لاکھ سے زیادہ لوگ اس کو لائک کر کے دھرو کو ایک پکا دیش بھگ ثابت کرچکے ہیں۔

بس تو میرے خیال سے دھرو راٹھی کی یہ چال، دراصل ایک اسمارٹ چال تھی اور اپنے آپ کو بچانے کا واحد موقع تھا۔ بہر حال یہ میرا ایک ذاتی خیال ہے، جس سے ہو سکتا ہے بہت سارے احباب و دوست متفق نہ ہوں، اپنی اپنی مخالف رائے رکھنے میں وہ آزاد ہیں۔

Facebook Comments HS