جنگی حالات کے اسباب اور ان کا حقیقی حل

کسی بھی پیچیدہ مسئلے کو سمجھنے کے لئے آپ کو گہرائی میں جانا پڑتا ہے۔ یہ جو اس وقت ہمارے ملک کے حالات ہیں انھیں سمجھنے کے لئے عالمی صورتحال اور تاریخ کو سامنے رکھیں۔ پھر شاید کوئی بات کا سرا پکڑا جا سکے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے متفق ہونا آپ کا بالکل ضروری نہیں۔ یہ ایک تجزیہ ہے۔
امریکہ میں اس بار الیکشن میں جس نعرے کو جیت ملی وہ تھا *سب سے پہلے امریکہ*۔ اس کا مطلب بہت سادہ سا ہے کہ امریکہ کو پہلے نمبر پر رہنے کے لئے امریکہ کو کچھ بھی کرنا پڑا وہ کرے گا۔ وہ اپنے اندر سے بھی اصلاحات اور باہر کی دنیا سے بھی ایسے معاملات کرے گا کہ اس کی بالادستی کسی نا کسی طرح قائم رہے۔ لہذا دنیا میں اسے عسکری جنگ چھیڑنی پڑی یا معاشی جنگ چھیڑنی پڑی وہ کرے گا۔ اس کے لئے اسے اپنے ملک کے اندر اقدامات کرنے پڑے یا باہر اپنے ہی اتحادیوں اور دوستوں کو رگڑا دینا پڑا وہ کرے گا۔ اور اس وقت آپ دیکھ لیں کہ وہ ایسا ہی کر رہا ہے اور بہت تیزی سے کر رہا ہے۔
پچھلی 2 دہائیوں سے امریکہ کو ہر عالمی محاذ پر مشکل وقت دیکھنے کو مل رہا ہے اور ایشیاء کی قومیں بہت تیزی سے معاشی حوالہ سے اس کے قریب قریب پہنچنے کو ہیں۔ یہ دور معاشی ترقی کا دور ہے۔ اور عالمی بالادستی صرف اسی کی رہے گی جو معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم ہو گا۔ یہ الگ بات ہے کہ آج آپ ڈالر کو عالمی منظرنامے سے ہٹائیں تو امریکہ کدھر کھڑا ہو گا یہ الگ بحث ہے۔ لیکن اس کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی جو اس وقت عالمی معاشی تھریٹ ہے وہ چائنہ ہے۔ اور اس کے بعد انڈیا ہے۔ یہ دونوں ملک بہت تیزی سے امریکہ کے پیچھے پیچھے ہیں اور دونوں ایشیائی ممالک ہیں۔ اب ٹارگٹ بہت سادہ ہے کہ ان کی معاشی ترقی کو آہستہ کرنا ہے اور معاشی ترقی کو تیز کر کے ان سے فاصلہ کو بڑھانا ہے۔
چونکہ چین اگلی سپر پاور ہے دنیا جانتی ہے، لیکن انڈیا بھی چھوٹی طاقت نہیں اور وہ خطہ میں اپنی بالادستی کی خواہش رکھتا ہے، اسی منظرنامے کو امریکہ کیش کر رہا ہے۔ انڈیا کی سپورٹ کر کے اسے یہ باور کرانا کہ اس علاقہ کی باگ ڈور تمھارے پاس ہو گی تم چائنہ کو ٹارگٹ کرو، دوسری طرف بنگلہ دیش اور پاکستان کو انڈیا کی طرف لگا کر اس کی معاشی ترقی روکنا۔ غرض کہ ہدف یہ ہے کہ اس خطہ کو جنگ میں دھکیلنا ہے۔ کیونکہ جب یہ خطہ جنگ میں جائے گا تو یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے اسلحہ خریدیں گے، قرضہ لیں گے، اور امریکہ پوری کوشش کرے گا کہ چین بھی کسی طرح اس جنگ میں شامل ہو جائے۔ اس سب سے امریکہ کا ہدف آسانی سے پورا ہو سکتا ہے۔
اور پھر امریکہ جب بھی کسی کی سپورٹ کرتا ہے تو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے جیسے کہ یوکرین کو اپنی معدنیات دینی پڑیں۔ عالمی طاقتوں نے جان بوجھ کر پاکستان اور انڈیا میں کشمیر کا ایسا مسئلہ رکھا کہ امن نا ہو سکے اور یہ دونوں ممالک جنگی کیفیت میں رہیں اور اپنے بجٹ کا کثیر حصہ انسانیت کی فلاح کی بجائے اسلحہ کی خرید و فروخت پر لگائیں جس کے بڑے بیوپاری خود امریکہ اور یورپین بھیڑیے ہیں۔ آپ خود سوچیں کہ ایک رافیل 300 ملین ڈالر کا ہے اور ایک جے ایف 17 30 ملین ڈالر کا ہے، تو اگر یہی رقم اپنے عوام یا اپنی اپنی افواج کی فلاح پر لگے تو کسے اس سے تکلیف ہے؟
کون سا ایسا مسئلہ ہے جسے حل ہونے میں 75 برس کا عرصہ لگ جاتا ہے؟ کون سی طاقتیں یہ نہیں ہونے دینا چاہتیں؟
امریکہ کی معیشت کے 2 اہم ستون ہیں قرض دینا اور اسلحہ بیچنا۔ آپ آج دنیا میں امن لے آئیں اور روکھی سوکھی کھا کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں، قرضہ نا لیں امریکہ کی معیشت ڈوب جائے گی۔ لیکن اس نے جال ہی ہر طرف ایسا بچھایا ہوا ہے، وہ حالات ہی ایسے پیدا کرتا ہے کہ آپ نہیں رہ سکتے۔
ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں۔ اور دونوں طرف عوام میں یہ شعور پیدا کریں کہ جنگ، انتہا پسندی اور تشدد کسی کے حق میں نہیں کم از کم عوام کے حق میں تو بالکل بھی نہیں ہے۔ اور ایسی حقیقی قیادت کو سامنے لے کر آئیں جو ان چالوں کو سمجھتی ہو اور وہ ان عالمی قوتوں کی بجائے عوام کی فلاح کا سوچتے ہوں۔ دونوں طرف کی انتہا پسند قیادتوں کا نقصان عوام کو ہوتا ہے۔ اگر یورپ کے 2 دشمن ممالک بغیر بارڈر اور فوج کے رہ سکتے ہیں تو ایشیائی ممالک ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟
کب تک اس خطہ کو عالمی قوتوں کے مذموم عزائم کو پورا کرنے کے لئے عوام کی مزید جانیں قربان کرنا ہوں گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم شعوری جدوجہد کر کے ایسا نظام قائم کریں جو انسانیت کا احترام کرتے ہوئے اس خطہ کو آگے لے کر چلے ویسے بھی یہ صدی اب ایشیا کی ہے اور اسے کوئی اب روک نہیں سکتا۔

