لاعلمی چراغوں کو بُجھا دیتی ہے
چھ لڑکوں کے بعد سد گنج آپ کو خدا نے اتنی خوبصورت بیٹی سے نوازا۔ سازین کے پیدا ہونے والے دن سد گنج کی بڑی بہن نے سد گنج سے کہا!
”سد گنج یہ میری نشانی لو اور یہ اپنی بچی میرے بچے داد بخش کے نام کر دو“
اس طرح سازین کی پھوپھی کہتی ”یہ کیا بات ہے یہ تو میری بہو ہے“
دونوں کی بات سن کر سد گنج کہتی ہے آپ دونوں کے لڑکے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ وہ مجھے دل سے پسند ہیں۔ سازین کے ابو کی بھی یہ خواہش تھی کہ خدا مجھے دو لڑکیاں دے اور میں آپ دونوں کے بیٹوں کو اپنا داماد بناؤں۔ لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ اس بچی کے پیدا ہونے پر میں اس قدر بیمار ہو جاؤں گی اور مجھے اسپتال آنا پڑے گا نہ صرف اسپتال پر بچہ دانی بھی نکالنی پڑی گی اگر نہیں نکالتی تو کینسر بھی ہو سکتا تھا۔
خدا کی مرضی کہ سازین کہ اب سازین کس کی بہو بنتی ہے۔
اس طرح دن مہینوں میں، مہینے برسوں میں تبدیل ہو گئے۔ سازین خوبصورت سے خوبصورت تر ہوتی گئی۔ جب وہ بارہ سال کی ہو گئی۔ مدرسے کی بہت سی بچیوں کے منہ سے ماہواری کے بارے میں سنتی تھی لیکن وہ اس ماہواری کی باتوں کو عذاب سے کم نہیں سمجھتی تھی۔ اس کو یہ لگنے لگا کہ یہ ایک بیماری ہے۔ جب اس کی تیرہ سال کی عمر میں پہلی بار ماہواری آتی ہے۔ تو وہ اپنی ماں سے چھپاتی ہے۔ اور ماں کو یہ معلوم ہو ہی جاتا ہے۔ اور وہ اسے کہتی ہے کہ اب تم ایک جوان لڑکی ہو گئی ہو۔ ماں اسے ایک کپڑے کا ٹکڑا دیتی ہے۔ اور اسے کہتی ہے کہ اسے اپنی چڈی میں لگا کر پہن لو۔ اور جب یہ کپڑا خراب ہو جائے تو اسے دھو کر کمرے کے کسی کونے میں چھپا کر سکھانے کے لیے رکھ دو۔
اپنے بھائیوں کے سامنے یہ کپڑا چھپا دو کیوں کہ اب تم جوان ہو گئی ہو۔ اور گھر سے باہر نکلتے وقت اپنے جسم کو اچھے سے ڈھانپ کر نکلو۔ اور ماہواری کے دنوں میں نہانا نہیں۔ کیوں کہ نہانے سے خون بند ہو جائے گا۔ جب کہ خراب خون بند ہو جائے گا تو خراب بیماریاں آئیں گی۔
”اماں! نہیں نہانے سے اس جگہ سے بدبو نہیں ہو گی؟! اور میں لوگوں کے بیچ کس طرح بیٹھ سکوں گی!“
سازین اپنی ماں سے پوچھتی ہے
ماں جواب دیتی ہے ”ہاں میری بچی میں ماہواری کے بعد آپ کو صابن دوں گی آپ اچھے سے اس جگہ کو دھو لینا اور تھوڑا پاؤڈر لگانا۔ جب ماہواری آئے۔ لیکن یہ کوشش کرو کہ زیادہ بھائیوں کے سامنے نہیں آؤ“
”اماں کیا اس خون سے لوگ ناپاک ہو جائیں گے؟“
اماں ”ہاں“
سازین چپکے سے ماہواری کے دنوں میں اپنے کپڑے دھوتی ہے۔ اور گھر کے کونے میں چھپا دیتی ہے۔ کیوں کہ اس کو یہ لگتا ہے کہ یہ کپڑے اس کے بھائی نہ دیکھ لیں۔
جتنے دن اس کو ماہواری آتی ہے۔ وہ نہیں نہاتی۔ وہ ایسا محسوس کرتی ہے کہ اس جگہ سخت بدبو آ رہی ہے۔ وہ اپنی ماں کی کریم، خوشبو لے کر اس جگہ لگاتی ہے تاکہ میں لوگوں کے درمیان بیٹھوں تو گندی بدبو نہ کروں۔
ایسے میں یہ وہم ایک دن حقیقت بن جاتا ہے۔ اور ایک دن اس جگہ سے گندا پانی نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ پیشاب جلنے لگتا ہے۔ سازین یہ باتیں کسی کو نہیں بتاتی۔ کیوں کہ سازین کو یہ لگتا ہے کہ معاشرے کے مشورے، نصیحت کی بنا پر وہ اپنے جسم کے پرائیویٹ پارٹ کی باتیں کسی کو نہیں بتا سکتی اسے یہ گناہ محسوس ہوتا ہے۔
ابھی اس کے ماہواری کے دو سال بھی نہیں گزرے کہ پندرہ سال کی عمر میں اس کی شادی اس کے خالہ کے بیٹے سے ہو جاتی ہے۔ سازین کی خوبصورتی ایسی ہوتی ہے کہ خاندان کے ہر بالغ فرد کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اسے ملے۔ پر وہ تو بچپن سے اپنی خالہ کی امانت ہوتی ہے۔ وہ خالہ کی بہو بن جاتی ہے۔
سازین کو یہ لگتا ہے کہ شادی زندگی کا بہت ہی خوبصورت قدم ہے۔ وہ خوشیوں سے اُڑ رہی ہوتی ہے۔ پر وہ نہیں جانتی کہ اس کی شادی اس کے لیے وبال بن جائے گی جیسے کہ ماہواری۔
جب سازین کے شوہر اس کو جنسی عمل (سیکس) کرتے ہیں۔ تو اس کی آواز سات آسمانوں تک جاتی ہے۔ جنسی عمل کے بعد اس کے پرائیویٹ پارٹ سے بدبو دار پانی بہتا ہے۔ جیسا کہ گندی سڑی مچھلی کی بوُ۔ اسی وجہ سے اس کی زندگی میں جنسی عمل ایک عذاب کی علامت بن جاتا ہے۔ جب وہ حاملہ ہوتی ہے۔ تو ان کے شوہر ان کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کے پرائیویٹ پارٹ میں بہت زیادہ انفیکشن ہے۔ اور ابھی جنسی عمل سے پرہیز کیا جائے۔ اور جب جنسی عمل کریں تو کنڈم استعمال کریں۔ ان کے شوہر کا کہنا ہوتا ہے۔ کہ ڈاکٹر کے کہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جیسے دل کرے گا۔ وہ ویسے ہی کرے گا۔ اور وہ کنڈم کے بغیر جنسی عمل کرتا ہے۔
اور اس کا بچہ ٹائم سے پہلے ہو کر مر جاتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ pre mature birth ہے اور آپ کی بیوی کی بچہ دانی میں کینسر ہے۔ اور یہ کینسر اس قدر بڑھ چکا ہے جس کی وجہ سے اس کینسر نے پوری جگہ اثر ڈالا ہے۔ اب بچہ دانی نکالنے کے بعد Chemotherapy ہو گی۔ کس کو معلوم کیا علاج۔ کیسا خیال؟
سازین آنسو بھری آنکھوں سے کہتی ہے۔
”خدا کاش آپ مجھے لڑکا پیدا کرتے۔ آج میں اس عذاب میں نہ ہوتی!“
ایسے ہی بہت سے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ سازین مر جاتی ہے۔
میری پیاری سازین میرے چھ بیٹوں کے بعد آخری اولاد میری بیٹی میں قربان ہو جاؤں آپ پہ، یہ چراغ بُجھ گئی! ماں کی چلانے کی آوازیں پورے محلے میں گونج اٹھتے ہیں
نوٹ: (UNICEF 2008 اور WSSCC۔ 2013 Water supply and sanitation collaborative council)
ان دونوں رپورٹس کے مطابق کہ بہت سی عورتیں شرمندگی اور خوف کے باعث اپنی ماہواری کے کپڑے چھپا دیتی ہیں۔ چھپانے سے وہ صاف نہیں ہوتے۔ کپڑوں کو دھوپ لگانا ضروری ہے۔ اور دھوپ بھی Steriliser ہے یعنی جراثیم سے نجات دلاتی ہے۔ یہ سازین کی کہانی نہیں، ہر اس لڑکی کی کہانی ہے جو لاعلم ہے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ sanitary pad استعمال کریں۔ یہ بہت مہنگے ہیں۔ غریب بچیاں اس سے محروم ہیں۔ لیکن کپڑا استعمال کرنے کے بعد اس کو دھوپ میں سکھانے سے بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔
ہمارے پاس ایک غلط myth اکثر سننے کو ملتی ہے کہ ”ماہواری کے دنوں میں نہانا نہیں چاہیے“۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ اس وقت عورتوں کا صاف ہونا بہت ضروری ہے۔ اور سازین کے قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو bacterial vaginosis تھا۔ یہ vagina میں انفیکشن کو کہتے ہیں۔ اس میں وائیٹ اور گرے کلر کا پانی بہتا ہے۔ اور اس میں سڑے ہوئے مچھلی کی جیسی بوُ ہوتی ہے۔ اور یہ بوُ جنسی عمل کے بعد بھی آتی ہے۔
بہت سارے ڈاکٹر اس میں Flagyl کا کورس دیتے ہیں۔ اور وہ مائیں جو بچوں کو دودھ دیتی ہیں۔ ان کے لیے flagyl کا jel آتا ہے لیکن ڈاکٹروں کو دکھانا ضروری ہے۔
خدا نے انسان کے جسم میں بہت سی ایسی چیزیں بخشی ہیں کہ ان سے صحت اچھی ہوتی ہے۔
جیسا کہ ہر لڑکی اور عورت میں Lactobacilli پائے جاتے ہیں۔ وہ پیدا کرتے ہیں۔ Lactic Acid جو انفیکشن کو روکتا ہے۔
vagina کے اندر تیزابیت ہونا بہت ضروری ہے۔ اور یہ بہت زیادہ ضروری ہے جس سے انفیکشن رکتا ہے۔ بہت سے ریسرچ سے معلوم ہوتا ہے lactobacilli
انفیکشن کو روکنے کے ساتھ ساتھ انسانی ذہنی صحت کو بھی بہتر کرتا ہے۔ اور اس کے anxiety اور depression کی علامت کو بھی کم کرتا ہے۔ لیکن سازین نے اپنی لا علمی کی وجہ سے lacpobacilliکی acid کو ختم کیا جیسا کہ خوشبو دار صابن سے دھونا، کریم اور خوشبو Vagina پر لگانے سے یہ ختم ہوتا ہے اور انفیکشن ہوتا ہے۔
اس کے بارے میں آگہی دینا بہت ضروری ہے۔ کیوں کہ پرائیویٹ پارٹ کو صاف ستھرے پانی سے دھونا چاہیے۔ اس جگہ پر کوئی خوشبو دار چیز نہیں لگانا چاہیے۔
اُمید کرتی ہوں کہ اس کو پڑھنے کہ بعد آپ بھی لوگوں کو آگہی دینے کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر محسوس کریں گے۔ ایسا نہ ہو کہ لاعلمی میں بہت سے چراغ بُجھ جائیں۔


