آیا تھا چند روز کو مہمان کی طرح: سیر بخارا


مٹی لپے ہوٹل سے نکلے تو صبح کا پہلا پڑاؤ لب حوض سکوائر تھا جہاں اک صدیوں پرانا تالاب تھا جس میں نہر کے ذریعے زرفشاں دریا سے پانی آتا تھا اور لوگ اپنے مشکیزے بھرا کرتے تھے۔ روایت ہے کہ یہاں صدیوں پہلے آتش پرستوں کا مندر تھا۔ چنگیز خان آیا اور مندر ڈھایا پھر تیمور نے شہر تباہ کیا اور رہی سہی کسر 1920 میں روسیوں کی بمباری نے پوری کردی مگر کچھ بخارا ڈھیٹ ہے اور کچھ ہر حکمران نے ڈھایا بھی اور بنایا بھی تو آج بھی یہ ایک زندہ اور جاگتا ہوا شہر ہے۔

کوکیلداش مدرسہ سولہویں صدی میں عبداللہ خان نے بنوایا تھا۔ اس وقت کے بڑے اور مشہور مدرسوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ اب یہاں دکانیں ہیں۔ ساتھ ہی نادر دیوان بیگ مدرسہ ہے۔ اس کے باہر کا ڈیزائن کچھ مختلف ہے۔ نیلے اور سفید ٹائل سے دو فینکس پرندے بنے ہیں جو بخارا کا نشان ہیں اور وہ سور کو دبا رہے ہیں اور اوپر خوشحالی کی علامت سورج دیوتا موجود ہے۔ مدرسے کے گراؤنڈ فلور پر کلاس رومز ہیں جن کے دروازے نیچے ہیں کہ شاگرد سر جھکا کر داخل ہوں۔ اوپر کی منزل پر دوسرے شہروں سے آنے والے طلبا کا ہاسٹل تھا۔ نادر دیوان بیگی خانقاہ بھی بادشاہ کی فیاضی کا ثبوت تھی۔ دن میں نمازوں کے کام آتی تھی اور شام کو صوفیوں اور طلبا کے رہنے کے لیے۔ پاس ہی کارواں سرائے ہے۔ پہلی منزل پر مسافر ٹھہرتے تھے، نچلی منزل پر سامان اور دالان میں اشیاء کی تجارت ہوتی تھی۔ ازبک زبان میں کافی کچھ فارسی اور روسی سے عبارت ہے۔ دالان، مکتب، دروازہ، پلاؤ وغیرہ سے کس قدر اپنائیت کا اظہار ہوتا ہے۔ ہندوستان سے یہاں مصالحے لے کر تاجر آتے تھے اور چین سے پورسلین آیا کرتی تھی۔ گھوڑوں کا اصطبل یہاں نہیں تھا سو وہ کہیں دور پارک ہوتے تھے۔ اس وقت کے سلک روٹ کی تجارت کی پہلی جھلک یہاں کارواں سرائے میں دکھی۔ جسم یہیں تھا اور سوچ صدیوں کے سفر پر روانہ ہو گئی تھی۔ تخیل میں تو فلموں اور کچھ تصاویر کے خاکے تھے۔ ایران میں تو اس سے بھی کافی پہلے ہند کے تاجر مصالحے لے کر جاتے تھے۔ کیسا بازار سجتا ہو گا یہاں۔ ملکوں ملکوں کی اشیاء آتی ہوں گی۔

صدیوں پہلے یہ شہر تجارت کا مرکز شاید اپنے ڈسپلن کی وجہ سے بنا تھا۔ تجارتی ڈومز کا کانسیپٹ شاید پہلی دفعہ یہاں سے شروع ہوا خاص کر ایشیا میں۔ توقیر صرافون کے نام سے پہلا ڈوم تھا جو سب سے بڑا تھا اور پیسوں کی تبدیلی کے کام آتا تھا۔ اس وقت مسلمان اس کو حرام سمجھتے تھے سو زیادہ کفار ہی منی ایکسچینج میں مشغول رہتے تھے۔ ہاں باقی تجارت مسلم، عیسائی اور یہودی مل کر کرتے تھے اور کسی کا ایمان بھی خطرے میں نہ پڑتا تھا۔ ساتھ ہی حمام بھی اور مسجد بھی کہ دین اور دنیا ساتھ ساتھ چلتے رہیں۔ دکانوں میں یہاں نئی چیز قینچیوں کی دکان تھی جو فینکس پرندے ہی کی مانند تھیں۔ دکاندار نے ان سے دھات بھی کاٹ کر دکھائی۔ پرانے ڈیزائن والی قینچیاں بھی تھیں جو مرد اور خواتین کے لیے الگ الگ مخصوص تھیں۔ پہلے ڈوم کو چارسو اس لیے بھی کہا جاتا کہ اک چوک بنتا تھا اور چاروں طرف سے آنے اور جانے کا بندوبست تھا۔

بخارا کی پرانی مسجد مغاکی عطاری دیکھنے کی جگہ ہے۔ یہاں کافی کچھ بارہا تباہ ہوا اور دوبارہ بنایا گیا ہے مگر یہ مسجد ملبے تلے دب گئی تھی اور مکمل تباہی سے بچ گئی تھی لہذا کھدائی کر کے کسی حد تک اصل شکل میں موجود ہے۔ کہانی عیسی کے ظہور سے پہلے کی کہ جب یہاں آتش پرستوں کی عبادت گاہ تھی۔ آس پاس مصالحے اور خوشبوئیں فروخت ہوا کرتی تھیں کہ پھر عرب آئے اور عین اسی جگہ سے خدا سے رابطہ مناسب سمجھا جہاں سے زوریسٹرین کر رہے تھے۔ یہاں یہودی اور مسلمان ایک گھاٹ پر پانی پیتے رہے ہیں اور ایک ہی مصلے پہ باری باری خدا کے آگے سر بسجود بھی ہوتے رہے ہیں۔ باری یہاں انسانوں نے لگائی تھی یا اوپر خداؤں نے، کہنا مشکل ہے۔ 12 سے 2 مسلمانوں کا خدا سجدے وصول کرتا تھا اور 2 سے 4 یہودیوں کا۔ پہلا سینیگاگ بننے سے پہلے یہاں مسلم اور یہودی مذہبی ہمجولیاں ہونے کا ثبوت دیتے رہے تھے۔ تعمیر میں بھی کچھ ترکمانستانی ٹچ ہے اور کچھ اب بھی جیومیٹریکل ڈیزائن سے آتش پرستوں کی جھلک آتی ہے۔ چنگیز خان نے تباہ کی، روسیوں نے تباہ کی مگر سخت جان نکلی یہ عمارت کہ تین تین طرح کے خدا اس کی حفاظت کو مامور جو تھے۔ مسجد کے سامنے کھدائی اب بھی چل رہی تھی اور حمام اور کارواں سرائے کے نشانات موجود ہیں۔

ایک طرف دو بڑے کارواں سرائے تھے جس میں ایک چینیوں کا اور ایک ہندوستانیوں کا تھا۔ کیسے دنیا بدل گئی، تجارت کے طریقے بھی بدل گئے۔ گھوڑوں اور اونٹوں پہ سینکڑوں میل دور آنا، کچھ لے کر آنا اور کچھ لے کر جانا۔ انسان خاص کر مرد کتنے مصروف رہا کرتے تھے۔ تھرل اور کک کے لیے کچھ مصنوعی نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ زندگی عبارت ہی اس کک سے تھی۔ اتنی دور لاکر چیز بیچنا اور ہاتھ میں پیسے آنا اور پھر وہ اشیاء جو آپ کے ہاں نہیں ہوتیں ان کو محسوس کرنا اور اپنے ہاں لے کر جانے کا سبب بننا۔ اور کیا موٹیویشن چاہیے جینے کو۔ دوسرا تجارتی ڈوم پانچ دروازوں والا اور قدرے کھلا تھا۔ یہاں اونی ٹوپیوں کا بیوپار ہوا کرتا تھا جو تاجروں، سپاہیوں اور عوام کو برفیلی ہواؤں سے محفوظ رکھتی تھیں۔ ان ڈومز کی دیواریں، راہداریاں اور آرچز تو دلچسپ ہیں ہی، اوپر گنبد بھی توجہ کو مبذول کر لیتے ہیں۔ کہیں بھورے تو کہیں سرمئی۔ یہاں سے نکل کر اک سولہویں صدی کا حمام دیکھا جو آج بھی فنکشنل ہے۔ عجیب راہداریاں اور کمرے صرف غسل کرنے واسطے تھے۔ بازار میں بھی یوں لگتا تھا کہ ہم سولہویں صدی کا ہی کوئی کردار ہیں۔ ریڑھیاں، خوانچے اور دکانیں ازبک اشیاء فروخت کرتی ہوئی ماحول کو ریوائنڈ کیے دے رہی تھیں۔

تیسرا تجارتی ڈوم پہلے لیڈیز مارکیٹ تھا مگر اب سلک کارپٹس کے بیوپار کی جگہ ہے۔ چوتھے ڈوم میں زیورات کی تجارت ہوتی تھی اور اب بھی ہو رہی ہے۔ ڈومز کراس کر کے امیر تیمور کے پڑھے لکھے پوتے الغ بیگ کا مدرسہ ہے۔ یہ صاحب دینی اور دنیاوی دونوں علوم کے قائل تھے۔ جیومیٹری اور آسٹرونومی پسندیدہ مضامین تھے۔ یہ واحد مدرسہ تھا جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس کی تعلیمات بھی دی جاتی تھیں۔ جیومیٹری کے عالم ہونے کی وجہ سے مدرسے کے ڈیزائن کو بھی ویسا ہی رکھا ہے۔ ہلکے اور گاڑھے نیلے رنگ کے پیٹرن نمایاں ہیں جن سے اللہ کا نام بھی لکھا ہے۔ اندر دکانیں اور ریپیر کا کام بھی چل رہا تھا۔ سامنے کلاسوں کے کمرے اور اوپر طالب علموں کی رہائش گاہ تھی۔ چار صدیاں قبل یہ جگہ علم کا ماخذ تھی۔ لوگ دور دور سے پڑھنے آتے تھے۔ روسیوں نے بم گرایا اور کچھ وقت کے لیے سب ختم کر دیا۔

اس مدرسے کے بننے کے قریباً دو صدیاں بعد روایت کے برخلاف اس کے عین سامنے ایک اور مدرسہ بنایا گیا۔ بنانے والا تھا، عبدالعزیز خان۔ وجہ اپنی طاقت کو ظاہر کرنا تھا۔ بیش بہا پیسہ لگایا اور پھولوں کے رنگا رنگ ڈیزائن بنوائے۔ عام طور پر نیلے رنگ کے شیڈز میں ہی کام ہوتا تھا مگر دروازے کی چھت کے اندر کے حصے پر بہت سارے رنگوں کا فائن کام کرایا جو چار صدیاں اور بمباری دونوں جھیل کر بھی سلامت ہے۔

مسجد کا لان 12 ویں صدی میں لکڑی سے بنی، 13 ویں صدی میں اجڑی۔ پھر دوبارہ عبداللہ خان نے 208 پلرز کے ساتھ تعمیر کیا۔ 46 میٹر کا لمبا مینار جو آج بھی دیکھنے میں خوبصورت اور ہیبت ناک لگتا ہے، اس وقت کام آتا تھا اذان دینے کے، ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھنے کے اور لائٹ ہاؤس کے بھی۔ اس پر 1127 اور بنانے والے کا نام ڈیزائن کے ساتھ ہی کندہ ہے۔ امیر تیمور اس کو بھی تباہ کر ڈالتا مگر وہ یہاں آیا اور مینار کو سر اونچا کر کے دیکھا تو اس کی ٹوپی/ ہیلمٹ نیچے گر گیا، جھک کر اٹھایا تو سوچا کہ سب میرے آگے جھکتے اور اس مینار نے مجھے جھکا لیا ہے سو مینار کی بچت ہو گئی۔ کہانیاں بھی کیا قیامت کا کام کرتی ہیں تاریخ میں۔ روسی بمباری سے بھی کافی حد تک بچت ہو گئی اس مینار کی۔ سامنے امیر علیم خان کا مدرسہ جو آج بھی فعال ہے۔ عبداللہ یمنی کی یاد میں بنایا جو اس کے استاد تھے۔ استاد مدرسے سے اس قدر متاثر ہوئے کہ یہیں کے ہو کر رہ گئے اور علم کی شمعیں منور کیں۔ یہیں انتقال فرمایا اور دفن ہوئے۔ امیر علیم کا مقبرہ بھی مدرسے کے اندر ہی بنایا گیا ہے۔

آرک آف بخارا وہ قلعہ ہے جہاں سے کئی حاکموں نے اس سرزمیں پر حکومت کی ہے۔ آتش پرستوں کے زمانے سے حکومت کا مرکز یہی رہا ہے۔ روایت ہے کہ آتش پرستوں کا بادشاہ محل بناتا تھا اور وہ زمیں بوس ہوجاتا تھا۔ تین دفعہ ایسا ہوا اور پھر اس نے خدا کو خوش کیا تو محل بچ پایا۔ محل کے سامنے راجھستان سکوائر ہے جہاں اس زمانے میں امن کے دنوں میں بازار ہوا کرتا تھا اور جنگ میں فوج جمع ہوتی تھی۔ اب اونی کھال والے اونٹوں پر سیاح سواری کیا کرتے ہیں۔ فصیل میں اک شاہی چبوترہ جہاں سے بادشاہ عوام اور فوج کو دیکھ کر خوش ہوا کرتے تھے۔ افراسیاب کی بیٹی سے شادی کے واسطے فارس کے شہزادے کی اس محل کو بنانے کی روایت بھی موجود ہے۔ اسی کے نام پر شاید یہاں کی بلٹ ٹرین بھی کی گئی ہے۔ چنگیز خان نے اس قلعے کو اجاڑا اور امیر تیمور نے پھر بسایا۔ 1920 میں روسیوں نے پھر بمباری کی اور اس کے بعد یہ عمارت صرف ماضی کی ایک یادگار بن کہ رہ گئی ہے۔ داخل ہوتے ہی ایک طرف شاہی اصطبل کا راستہ ہے اور دوسری طرف قید خانہ ہے۔ قلعے کی تین میں سے دو مسجدیں مسمار ہو چکی ہیں جبکہ ایک باقی ہے۔ کارونیشن ہال میں حاکم وقت کی تاجپوشی اور دیگر تقریبات ہوتی تھیں۔ شاہی کرسی کی فرسٹ کاپی اب بھی رکھی ہوئی ہے۔ ایلم کی لکڑی کے ستون تین طرف ہیں۔ سامنے کے دوبارہ تعمیر ہوئے اور سائیڈوں کے اوریجنل ہیں۔ ایک طرف شاہی خزانے کا تہہ خانہ جس کے باہر سیمنٹ کے شیر پہرہ دے رہے ہیں۔ داخلی دروازے کے ساتھ ہی دیوار کہ واپسی پر دیوار تک فرشی سلام کرتے ہوئے آنا ہے اور شہنشاہ کی طرف پیٹھ نہیں کرنی ہے۔ اصطبل بادشاہ کے گھوڑوں کے واسطے تھا۔ عوام نہ جانے گھوڑے کہاں باندھتے ہوں گے؟ ساتھ ہی سائیسوں کی رہائش کا بندوبست بھی ہے۔ اصطبل کے ساتھ ہی موسیقی کا کمرہ تھا جہاں سے سر بکھیرے جاتے تھے۔ شاید عوام سے زیادہ بادشاہ کے گھوڑے موسیقی سے محظوظ ہوتے ہوں گے۔ گریٹنگ ہال میں بادشاہ سے پہلے اس کے اہلکار لوگوں سے ملتے تھے کہ سب سے تو بادشاہ کو ملوایا نہیں جا سکتا تھا۔ ایک وسیع علاقہ آرکیولوجیکل سائٹ ہے اور کھدائی جاری ہے۔ کچھ حمام اور عبادت گاہوں کا سراغ ملا ہے۔ فصیل سے پورا پرانا شہر نظر آتا ہے اور آپ کو چار صدیاں پیچھے لے جاتا ہے اور یہ بتلاتا ہے کہ وقت سکندر ہوتا ہے۔ بخارا کا کتنا سن رکھا تھا کہ یہ اسلامی اور ایشیائی دونوں اعتبار سے ہمارے اجتماعی ورثے کا حصہ ہے۔ نہیں دیکھ رکھا تھا تو بھی سوالات تھے۔ دیکھ لیا تو سوالات اور ہو گئے۔ فاصلے بڑھ رہے ہیں کہ کم ہو رہے ہیں؟ انسان ترقی کی تیزی میں کچھ روندتا تو نہیں جا رہا ہے؟ اتنے عظیم لوگ اور تہذیبیں طاقت کی بھوک یا کئی اور عوامل کا نوالہ بن گئیں تو ہمارا کیا بنے گا؟

Facebook Comments HS