عبداللہ حسین کے ناولوں میں انسانی استحصال کی پیش کش


انسانی استحصال ایک ایسا عمل ہے جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اور یہ طوفانِ نوح کہیں تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ ایک ایسی چکی ہے جو ہمیشہ سے چلتی آ رہی ہے اور انسان اس میں پستا  آ رہا ہے۔ کیونکہ اسے چلانے والے طاقتور اور پسنے والے مظلوم ہیں۔ کئی انسانی زندگیوں کے چراغ اس استحصال نے گُل کر دیے۔ اور وہ اپنی ناآسودہ خواہشات کو دامن گیر کیے چل بسے۔ بہت سے ادیبوں نے ان کو انسانیت کا درجہ دلوانے کی کوشش کی۔ اور اس مدار میں گھومتے ہوئے انسانوں کے بے جا پسنے پر بار بار سوال اٹھایا۔ ان ادیبوں میں قدرت اللہ شہاب، شوکت صدیقی، منٹو، خدیجہ مستور، راجندر سنگھ بیدی، پریم چند، غلام عباس، چیخوف، موپساں، ٹالسٹائی اور ہر وہ ادیب شامل ہے جس نے انسانی استحصال پر قلم فرسائی کی۔

اس کے خلاف آواز اٹھانے والے ان ادیبوں میں عبداللہ حسین قابلِ ذکر ہیں۔ عبداللہ حسین نے ناولوں میں آدم کی اس آدم خوری کو موضوع بنایا  ہے جس کے استحصال میں ہمیشہ سے انسان جکڑے ہوئے ہیں۔ اور انہیں اس سے رہائی کی کو کوئی نوید بھی نہیں مل رہی۔ اس استحصال کو عبداللہ حسین نے ناول ”اُداس نسلیں“ میں موضوع بنایا۔ جس میں اُنھوں نے پوری انسانی تاریخ کو پرکھ کر رکھ دیا ہے۔ عبداللہ حسین کے ناولوں میں آدم کی اس آدم خوری کو بنیادی موضوع بنایا گیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ آدم نے آدم کی نسلوں کو کس قدر اداس کر رکھا ہے۔ نادار لوگ اپنی مفلوک الحالی کا سبب تک نہیں جان پاتے۔ قید زندگی کا متبادل لفظ بنا دیا گیا ہے۔

منتظر سحر بار بار گزرتی ہے لیکن رات اپنے اقتدار میں خود ہی اضافے کا اعلان کرتی جاتی ہے۔ یوں رات کے بعد رات ٹھہری ہوئی ہے۔ تارکینِ وطن کی واپسی کا سفر احمد مشتاق کے اس شعر کی افسانوی تفسیر ہے :

جاتے ہوئے ہر چیز یہیں چھوڑ گیا تھا
لوٹا ہوں تو اک دھوپ کا ٹکڑا نہیں ملتا

عبداللہ حسین کو یقین ہے کہ انسان کی ساری اُداسیاں، ناداریاں، پستیاں اور بنجر زندگیاں اپنے ہم جنسوں کے لطف وکرم کا نتیجہ ہیں۔ ان کے ناولوں کو پڑھتے ہوئے لی شون کی یہ بات یاد آتی ہے کہ:

Four thousand year ’s history Is history of man eating

عبداللہ حسین نے اپنے ناولوں میں مختلف واقعات کی پیش کش کے عمل سے انسانی استحصال کی ٹھوس عملی اور متحرک صورت گری کی ہے۔ ناول ”اداس نسلیں“ میں جلیانوالہ باغ میں انسانی درندگی کو رمز اور حقیقت کی آمیزش سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے لیے اُنھوں نے بوڑھے مچھلی والے کا کردار تخلیق کیا ہے مچھلی والے نے جو واقعات بیان کیے ہیں وہ اتنے موثر ہیں کہ قاری کے تجربے کا حصہ بنتے جاتے ہیں۔ جہاں تصویر کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے تصویر کی کربناک مسافت کا آغاز ہوتا ہے۔ انسانوں کے شکار کرنے میں انسان کی مہارت دیدنی ہے۔

کتنا بڑا المیہ ہے کہ بندوق کی گولیاں انسان سے تیز بھاگ سکتی ہیں۔ نوجوان چہرے، آنکھیں اور ہونٹ دنیا کی خوشنما ترین چیزیں ہیں لیکن جب اُنھیں سرد کر دیا جاتا ہے۔ اندھی گولی یہ نہیں دیکھ سکتی کہ نشانے پر جو زندگی ہے وہ کتنی خوبصورت ہے اور یہی دلیل کافی ہے کہ وہ جینے کا حق رکھتی ہے۔ جلیانوالہ باغ کو محض تاریخ کی کتابوں میں پڑھنے والے شاید اس کربناک سطح پر انسان کشی کا نظارہ نہ کر سکیں کہ انسانوں کی چیخوں میں گولیوں کی آوازیں دب گئی ہیں انسانی لاشوں کی بھرتی سے کنویں فٹ پاتھوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ اور جب لوگ ایک جگہ سے دیوار کو نیچا دیکھ کر پھاندنے کے لیے اوپر چڑھتے ہیں۔ تو گولیاں کھا کر دیوار پر یوں لٹکے رہ جاتے ہیں جیسے کسی دھوبی نے بے شمار پاجامے اور کوٹ پتلون سوکھنے کے لیے دھوپ میں پھیلا رکھے ہوں۔ لیکن اس سانحے کا قابیل زادہ جنرل ڈائر اپنی انسانیت کا زبردست مداح دکھایا گیا ہے۔ یہاں انسانیت کی شکل عجیب دھند میں لپٹی نظر آتی ہے کہ ہر شخص کے نزدیک انسانیت کا کوئی نہ کوئی درجہ ہے۔

آدم کی آدم خوری کی ایک قسم مذہب کی آڑ میں سامنے آتی ہے۔ عبداللہ حسین ناول ”قید“ میں دکھاتے ہیں کہ خدا کے نام پہ خدائی پر کیا گزرتی ہے۔ تنگ نظر، کم علم اور کم ظرف مولوی ہمارے معاشرے کی انسانی سطح کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس کے ایک اشارے پر کسی معصوم کے سر کی ہڈی کو کچل دیا جائے۔ عبداللہ حسین کے ہاں انسانی استحصال کی دوسری مثال طاقت کے بل بوتے پر غریب کا استحصال ہے۔ نادار لوگوں کے یہاں یہ حساب نہیں رکھا جاتا کہ کس کی زندگی کون بسر کر رہا ہے۔ جاگیردارانہ تسلط کی دہلیز پر سجدہ کرنے والے انسانوں کو اشرف المخلوقات کے کس دائرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس سے ہمیں ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ سب سے بڑی غربت کون سی ہے۔ اور وہ ہے طاقت کا نہ ہونا۔ ناول ”نادار لوگ“ کے کردار چودھری جہانگیر کا بیٹا جب کوئی قتل کر دیتا ہے تو اپنے قاتل بیٹے کو الزام سے بچانے کے لیے چودھری اپنے کمّی نورے مسلی کو اس جرم کا اقرار کرنے اور گرفتاری دینے کا حکم دیتا ہے۔ چودھری کا اپنے کمی سے یہ مکالمہ طاقت کے بل بوتے پر انسانی استحصال کی بہت بڑی مثال ہے۔

عبداللہ حسین نے ناول ”نادار لوگ“ میں سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے وحشی انسانی جبلت کی ننگی تصویر کشی کی ہے۔ یہ ان انسانوں کا نوحہ ہے جنھیں اپنی سرزمین پر اجنبی بنا دیا گیا۔ یہ اپنوں کے ہاتھ اپنوں کے جسم چھلنی ہونے کی داستان ہے۔ تقسیم اور ہجرت کے وقت انسان کشی کی یہ انتہا تھی کہ کچھ لوگ اس لیے بچ گئے کہ قاتل قیلولہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ بہت زیادہ تھک چکے تھے۔ دراصل وہ انسانوں کو مار مار کر اکتا چکے تھے۔ امرتا پریتم نے جب یہ صورت حال دیکھی تو انسانی دکھ اور درد سے لبریز دل رکھنے والے وارث شاہ کو حرفی لکھ ڈالی :

اج آکھاں وارث شاہ نوں کیتوں قبراں وچوں بول
تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقا پھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی تو لِکھ لِکھ مارے وین
اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن
اُٹھ درد منداں درد دیا اُٹھ تک اپنا پنجاب
اج بیلے لائیاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

انسانی استحصال کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے جو عبداللہ حسین نے ناول ”اُداس نسلیں“ میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں بیلوں اور آدمیوں کو کھانا ایک ہی برتن میں ملتا ہو، وہاں آدمیوں کو انسان کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انسانوں اور جانوروں میں تخصیص اُن کے صرف ایک جملے سے ہو جاتی ہے۔ کہ انسانوں کی پگڑی سر پر ہوتی ہے گلے میں نہیں ہوتی۔ اس انسانی استحصال کی انتہا یہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں میں نہیں رہنا چاہتے۔ یعنی وہ ان سے اس قدر خوفزدہ ہیں۔ وہ انسانوں کی بستی میں رہنے کے بجائے جنگلوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ناول ”اداس نسلیں“ کا کردار نعیم جب مدن کو قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس جنگ سے بہتر ہے ہم پہاڑوں سے اتر کر انسانوں میں شامل ہو جائیں۔ تو مدن انسانوں کی بستی میں واپس جانے سے انکار کر دیتا ہے۔ کیونکہ وہ ان لوگوں میں دوبارہ نہیں ملنا چاہتا جن سے وہ بھاگا ہے۔ کیونکہ وہاں لوگ بیلوں کی طرح کام کرتے ہیں لیکن اُنھیں کھانے کو نہیں ملتا۔ اُن کی انگلیاں ٹیرہی ہو گئی ہیں۔ اور پیٹھ کی کھال دھوپ میں جل گئی ہے۔ اور آنکھوں میں پسینہ بہہ بہہ کر وہ اندھے ہو گئے ہیں۔

عبداللہ حسین کے ہاں انسانی استحصال کی چوتھی مثال یہ ہے کہ انسان کا اپنے اوپر بھی کوئی اختیار نہیں رہا۔ اس کی بہترین مثال ان کا ناول ”باگھ“ ہے۔ اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ انسان اپنے عمل اور بے عملی دونوں صورتوں میں مطمئن زندگی گزارنے سے قاصر رہتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ ایک جبر کے حصار میں ہے۔ ناول ”باگھ“ میں بھی ایک ایسا حصار ہے جس کو توڑنا ناول کے کردار اسد کے بس کی بات نہیں۔ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی منزل کو پہچانتا تو ہے لیکن اپنی منزل پر ڈیرے نہیں ڈال سکتا۔ یعنی اس کا اپنی ذات پر کوئی اختیار نہیں۔ اس کردار کی مجبوری انسان کے حقِ انتخاب کے چھن جانے کی داستان سناتی ہے۔ جہاں وہ نا امیدی کے اس کنارے پر ہے جس میں انسان کا خود سے اختیار بالکل اُٹھ چکا ہے۔ اور اسے اب دوسرے اپنی مرضی سے کنٹرول کر رہے ہیں جس میں اس کی اپنی ذات کا عمل دخل نہیں ہے۔ اس کردار کی حالت دراصل اس انسان کی تصویر ہے جو ان طاقتوں کے سامنے بے بس قیدی کی طرح انھیں سمجھنے کی کوشش میں ہے۔

عبداللہ حسین کے ہاں انسانی استحصال کی پانچویں مثال صنعتی معاشرے میں انسان کی تباہ حالی ہے۔ کیونکہ عہدِ حاضر کی مشینیں انسانی خون سے چلتی ہیں۔ سرمایہ دار اور صنعت کار انسان کا استحصال کرتے ہیں۔ اس ساری صورتِ حال نے انسان کی زندگی سے زرخیزی چھین لی ہے اور ان استحصالی مشینوں نے ہمارے احساسِ مروت کو بھی کچل ڈالا ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ ان مشینوں کی زد میں آنے والے انسانوں کی زندگی سایہِ دیوار اور بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر رہ گئی ہے۔ مشینوں کی یہ یکسانیت، لاتعلقی اور انسان دشمنی انسانی خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیتی ہے۔ ناول ”اُداس نسلیں“ کا کردار علی اس کُچلے ہوئے انسانی طبقے کا نمائندہ ہے جہاں انسانوں کو محض اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور استعمال ہونے والوں کی اپنی کوئی زندگی نہیں رہتی۔ جو انسان مشینوں کی زد میں آتے ہیں تو پھر ان کا اپنا کچھ نہیں رہتا وہ مشینوں کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان مشینوں کی لاتعلقی اور یکسانیت اُنھیں کھا جاتی ہے۔ دراصل انسان کشی خودکشی کی ہی ایک شکل ہے اور یہ مشینوں کی دین ہے۔

عبداللہ حسین کے ہاں انسانی استحصال ایک بڑے موضوع کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ وہ جہاں کہیں انسانوں کو استحصالی ہاتھوں میں گُم ہوتے دیکھتے ہیں، انسانوں کو اندھی گولی کا نشانہ بنتے، جاگیرداروں کے ہاتھوں لٹتے، جانوروں اور بیلوں کو ایک ہی برتن میں کھاتے، پیٹھ کی کھال دھوپ میں جلتے اور آنکھوں میں بہتے پسینے سے اُنھیں اندھا ہوتے دیکھتے ہیں تو اُن کے درد کو قلم کے ذریعے پینٹ کرتے جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS