آندھی میں دیا کس نے جلایا؟
حساس اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری نے جانے زندگی کے کن تجربات کی بنا پہ یہ شعر لکھا ہو گا۔
آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہو گا
ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہو گا
لیکن آج مجھے پتہ ہے کہ یہ شعر کوہی گوٹھ کے مستعد، مخلص اور دیانت دار عملہ بالخصوص ممتاز اور مادھوری پہ صادق آتا ہے، جو الفارابی ہسپتال کی دو مستعد مڈوائفز ہیں۔ یہ ادارہ کوہی گوٹھ ہسپتال کا ایک ذیلی مرکز ہے جو کیٹی بندر، ضلع ٹھٹھہ میں، کراچی سے چھپن میل دور واقع ہے۔ (واضح رہے کہ عورتوں کے مفت ہسپتال کوہی گوٹھ ملیر، کراچی کے علاوہ بھی تین اور ذیلی مراکز ہیں جو عورتوں کو مفت خدمات فراہم کرتے ہیں )
میں تقریباً ایک ماہ سے کوہی گوٹھ کے کراچی مرکز میں بطور رضا کار، عورت کی طاقت کے عنوان سے گروپ اور انفرادی تھراپی کر رہی ہوں۔ اس کے علاوہ عملہ کے انٹرویوز اور روزانہ کی بنیاد پہ ہسپتال کی کارکردگی میرا روزانہ کا مشاہدہ ہے۔ گو یہ واقعہ جو کل رات ہفتہ کو پیش آیا، جو میرا براہ راست مشاہدہ کے بجائے ڈاکٹر شیرشاہ کے واٹس اپ کے پیغامات کے ذریعے موصول ہوا کہ جو امریکہ میں رہتے ہوئے ہسپتال کی پل پل کی خبر رکھتے ہیں۔
میں چاہتی ہوں کہ آپ بھی دو قابل فخر مڈوائفز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ کارکردگی کے اس تجربے میں شریک ہوں۔ اور اسے سراہیں۔ اسی لیے شیرشاہ کے انگریزی میں لکھے میسجز کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔
مادھوری اور ممتاز، عظیم مڈوائفز
کل شام مجھے ضلع ٹھٹھہ، کیٹی بندر میں واقع ہمارے ادارے، الفارابی ہسپتال سے ایک مریض کے بارے میں ایک پریشان کن کال موصول ہوئی۔
جس نے گھریلو دائی (روایتی برتھ اٹینڈٹ) کے ذریعہ گھر پر بچے کو جنم دیا۔ اور خون بہہ جانے کی وجہ سے مریضہ ہمارے مرکز میں لائی گئی۔
اس مریض کو سینٹر کی مڈوائف ممتاز اور مادھوری نے دیکھا۔ انہوں نے بچہ دانی کا مساج کیا اور خون بہنے پر قابو پانے کے لیے اسے ٹیب Misoprestol دیا۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ وہ بہت خون کی کمی کا شکار تھی اور لیبارٹری میں اس کا ہیموگلوبن خطرناک حد تک کم ہو کر 3.8 گرام تھا۔ (تمام خواتین اور لڑکیوں کا ہیموگلوبن 14 گرام ہونا چاہیے )
وہ مریض کو خون کی منتقلی اور آئرن تھراپی کے لیے داخل کرنا چاہتی تھیں۔ مگر اس کے لواحقین نہ مانے اور جلدی میں ہسپتال سے چلے گئے۔ انہوں نے ایک نہ سنی اور کہا کہ ان کے پاس خون نہیں ہے اور وہ خون کا عطیہ نہیں کر سکیں گے۔
مڈوائفز بہت پریشان تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ اگر مریض کا دوبارہ خون بہنے لگے تو وہ زندہ نہیں رہے گی۔ میں نے ان سے اتفاق کیا۔
”کیا یہ ممکن ہے کہ وہ دو محافظوں کے ساتھ ہماری ایمبولینس گاؤں میں اس کے پتے پر جائیں اور رشتہ دار کو مریض واپس ہسپتال لانے پر راضی کریں؟“ میں نے ان سے پوچھا۔
دونوں مڈوائفز فوراً راضی ہو گئیں کیونکہ انہیں یہ بھی لگا کہ اگر دوبارہ خون بہے گا تو وہ مر جائے گی اور انہیں مریضوں کی زندگی بچانے کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔
دونوں مڈوائفز، ڈرائیور دو محافظوں کے ساتھ، گاؤں پہنچیں جہاں انہوں نے مریض کو اس کی جھونپڑی میں، جہاں روشنی نہیں تھی، فرش پر لیٹا ہوا پایا۔ لڑکی کا باپ ہسپتال کا عملہ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور فوراً ان کے ساتھ ہسپتال آنے پر راضی ہو گیا۔
پاکستان میں پچاس فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ رہائش ہے، نہ صاف پانی، نہ سیوریج کا نظام۔ غربت کے ساتھ وہ ناخواندہ بھی ہیں۔
ہمارے زیادہ تر مریض ایک سے زیادہ حمل کے ساتھ خون کی کمی کا شکار ہیں۔ وہ غریب ہیں اور حمل کے دوران موت ان غریب خاندانوں میں ایک معمول ہے۔
ہماری مڈوائفز انہیں ہسپتال لے آئیں اور محکمہ صحت کی ایمبولینس سروس کو بلایا جس میں اس قسم کے مریضوں کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لیے تربیت یافتہ عملے کے ساتھ اچھی ایمبولینس موجود ہے۔
یہ واقعی بہت اچھا ہے۔ ہمیں آپ پر بہت فخر ہے۔ ممتاز اور مادھوری آپ بہترین دائی ہیں جو رات کے وقت اس گاؤں کے ایک خطرناک علاقے میں اس بچی کو اسپتال لانے کے لیے گئیں اور اسے کوہی گوٹھ اسپتال لے جانے کے لیے سندھ حکومت کی ایمبولینس کا انتظام کیا۔ شکریہ ممتاز، شکریہ ماھوری، گارڈز اور ایمبولینس ڈرائیور۔ جنہوں نے مریض کو ہسپتال پہنچایا۔ مریض کے ہسپتال پہنچنے پہ خون کا انتظام کیا گیا اور مجھے بتایا گیا کہ طبیعت بہتر ہونے پر اسے خون کی منتقلی ہوگی۔
مجھے یقین ہے کہ وہ زندہ رہے گی۔ ایٹم بم، لڑاکا طیاروں، آبدوزوں والے ملک میں چار بچوں کی ماں غربت اور ناخواندگی کی وجہ سے نہیں مرنی چاہیے۔
مڈوائف ممتاز نے مجھے بتایا کہ اس مریض کی بڑی بہن کا چند ماہ قبل اسقاط حمل کے ساتھ بہت زیادہ خون بہنے سے انتقال ہو گیا تھا۔
پاکستان کو ہمارے 85 ہزار کالجوں اور پاکستان کے ہر بڑے شہر میں متعدد کچی آبادیوں میں نوجوان خواتین کو بچانے کے لیے دو لاکھ قابل، ہنر مند اور با اختیار دائیوں کی ضرورت ہے۔
اس کی قیمت ایک ایف سولہ کی قیمت سے کم ہو گی۔


