غذائی تحفظ: عالمی چیلنجز اور حل

دنیا بھر میں غذائی تحفظ کا مسئلہ روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ غذائی قلت اور عدم تحفظ سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں، لیکن 2024 تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہم ابھی بھی بہت پیچھے ہیں۔ 16 مئی کو جاری کردہ 2025 کی گلوبل فوڈ کرائسس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے 53 ممالک اور خطوں میں 295 ملین افراد کو 2024 میں شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑا جو 2023 کے مقابلے میں 13.7 ملین افراد کا اضافہ ہے اور اس اضافے کو مسلسل چھٹا سال ہے۔
” 2025 کی گلوبل فوڈ کرائسس رپورٹ“ گلوبل نیٹ ورک فار فوڈ کرائسز رسپانس کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جسے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام اور یورپی یونین نے مشترکہ طور پر قائم کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق تنازعات اور جنگ شدید غذائی عدم تحفظ کی اہم وجوہات ہیں، جس سے 20 ممالک اور خطوں کے تقریباً 140 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ افراط زر کی وجہ سے کرنسی کی قدر میں کمی نے افغانستان، جنوبی سوڈان، شام اور یمن سمیت 15 ممالک میں تقریباً 59.4 ملین افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسم کی شدت خاص طور پر ایل نینو کی وجہ سے خشک سالی اور سیلاب نے 18 ممالک میں تقریباً 96 ملین افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کی جانب دھکیلا ہے جس میں جنوبی افریقہ اور جنوبی ایشیا جیسے علاقے خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر بھوک 2025 تک برقرار رہنے کی توقع ہے کیونکہ خوراک اور غذائی قلت کے لئے عالمی انسانی امداد میں نمایاں کمی ہو گی۔
اس کے علاوہ، 2 ارب سے زائد افراد پوشیدہ بھوک کا شکار ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ ضروری وٹامنز اور منرلز سے محروم ہیں۔ غذائی عدم تحفظ کی بڑی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی، جنگوں اور تنازعات، ناقص تقسیمی نظام، اور غربت شامل ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی نے زراعت کو شدید متاثر کیا ہے۔ 2024 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً 30 فیصد زرعی زمینیں بنجر ہو چکی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان اور صومالیہ میں آنے والے سیلاب اور خشک سالی نے تقریباً 50 لاکھ افراد کو غذائی بحران میں دھکیلا ہے۔ اسی طرح یوکرین جنگ نے بھی عالمی سطح پر گندم کی سپلائی کو متاثر کیا، جس سے مشرق و سطیٰ اور افریقہ کے 50 سے زائد ممالک متاثر ہوئے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف 2 (SDG۔ 2 ) کے تحت ”زیرو ہنگر“ کے خاتمے کا عہد کیا گیا تھا، لیکن 2024 میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ 2030 تک اس ہدف کا حصول مشکل نظر آتا ہے۔
چین نے غذائی تحفظ کے میدان میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ گزشتہ 40 سالوں میں چین نے تقریباً 80 کروڑ افراد کو غربت اور بھوک سے نکالا ہے۔ چین نے جدید زرعی ٹیکنالوجی کو اپنا کر اپنی غذائی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ 10 کروڑ ہیکٹر سے زائد رقبے پر ہائی ٹیک فارمنگ متعارف کروائی گئی ہے، جس کے نتیجے میں گندم اور چاول کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ چین نے جینٹکلی موڈیفائیڈ فصلوں اور آبی ذخائر کے جدید نظام کو بھی فروغ دیا ہے، جو غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر چین نے افریقہ میں 500 سے زائد زرعی تعاون کے منصوبے شروع کیے ہیں اور FAO کے ساتھ مل کر 50 ترقی پذیر ممالک کو زرعی تربیت فراہم کی ہے۔ چین ہر سال تقریباً 3.5 کروڑ ٹن خوراک کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے، جو برطانیہ کی سالانہ غذائی ضروریات کے برابر ہے۔ یہ اقدامات غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
تاہم، غذائی تحفظ کے حوالے سے مستقبل کے چیلنجز بھی بہت سنگین ہیں۔ 2050 تک دنیا کی آبادی 9.8 ارب تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جس کے لیے موجودہ سطح سے 60 فیصد زیادہ خوراک کی ضرورت ہوگی۔ کووڈ 19 اور معاشی بحرانوں نے غریب ممالک کو مزید کمزور کر دیا ہے، جس سے غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ اور بھی گمبھیر ہو گیا ہے۔
غذائی تحفظ کا مسئلہ صرف ایک ملک کی کوششوں سے حل نہیں ہو سکتا۔ چین جیسے ممالک کی کامیابیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ٹیکنالوجی، بین الاقوامی تعاون، اور پائیدار پالیسیاں ہی اس بحران کا حل ہو سکتی ہیں۔ ہمیں نہ صرف غذائی پیداوار بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی، بلکہ خوراک کے ضیاع کو روکنے اور منصفانہ تقسیم کے نظام کو فروغ دینے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

