کمپنیوں کو خاموشی سے تباہ کرنے والے افراد


 

بعض لوگ اپنی شخصیت کے اعتبار سے بہت شائستہ، خوش اخلاق، مہذب اور باصلاحیت نظر آتے ہیں۔ اُن کی گفتگو میں اثر ہوتا ہے، شخصیت انتہائی باوقار اور انداز ایسا کہ کوئی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ ادارے میں سب سے پہلے آتے ہیں اور سب سے زیادہ وقت دیتے ہیں، ہر معاملہ میں بہت اہم رائے رکھتے ہیں جس سے ٹاپ مینیجمنٹ اُن کو ہر شعبہ کے حوالے سے شاملِ مشورہ رکھتے ہیں، ہر بات پر سنجیدہ تبصرہ کرتے ہیں اور بظاہر کام کے بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ لیکن جب معاملہ اجتماعی فائدے کا ہو، کسی اور کی رہنمائی، ٹیم ورک، یا اجتماعی کامیابی کی بات ہو، تو اِن کا رویہ بظاہر بہت تعاون اور ساتھ دینے کا ہوتا ہے لیکن وہ ایک ڈھونگ ہوتا ہے ٹاپ مینیجمنٹ کو بھی لگتا ہے کہ ملازمین کے حق میں ہے اصل میں تو وہ صرف اس کام کو سپورٹ کرتے ہیں جس میں اُن کا فائدہ ہوتا ہے اور جب ایسا کام آئے جس میں اِن کا فائدہ نہیں ہوتا تو یہ افراد فوراً خاموش ہو جاتے ہیں یا پہلو بچا لیتے ہیں۔ اُن کی سپورٹ ایسی غیر معمولی ہوتی ہے صرف ان افراد کے لئے جن سے اُن کا مفاد وابستہ ہوتا ہے اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس سپورٹ کے لئے وہ ایسے غیر محسوس انداز سے کام کرتے ہیں نئی پالیسیز بنواتے ہیں، کمپنی کے اہم کام کی بجائے اس ذاتی مفاد والے کام کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ بہت بعد میں سمجھ آتا ہے کہ یہ کام کس کے لئے کیا گیا اور اس کا فائدہ کس کو ہوا، لیکن اس میں بھی اِن افراد کی مہارت ہوتی ہے کہ ان کی ایسی سپورٹ کبھی کسی کو محسوس ہی نہیں ہوئی۔ ان کے علم اور مہارت کا دائرہ صرف ان کی ذات تک محدود ہوتا ہے۔ جیسے شیر اپنی نسل کی حفاظت کرتا ہے، یا پرندہ اپنے گھونسلے کا دفاع، لیکن یہ انسان نما ماہرین کسی کی کامیابی، تحفظ یا بہتری کے لیے اپنی مہارت کو کبھی استعمال نہیں کرتے۔

یہ رویہ صرف اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ نفسیاتی، سماجی اور تنظیمی بیماری بھی ہے۔ نفسیات میں اسے نرگسیت (Narcissism) کہا جاتا ہے۔ نرگسیت وہ شخصیت کا عارضہ ہے جس میں انسان خود کو باقی سب سے بہتر، با اختیار اور برتر سمجھتا ہے، اور دوسروں کی بہتری، جذبات یا ترقی اس کے لیے بے معنی ہوتی ہے۔ ایسے افراد کو کام کا مرکز بنایا جائے تو یہ ہر چیز کو اپنے فائدے کے پلڑے میں تولنے لگتے ہیں۔

ایک ادارے کی مثال لیجیے جہاں مسٹر ABC صاحب نامی شخص کام کرتے تھے۔ مسٹر ABC صاحب بہت باوقار، مہذب اور علمی شخصیت کے مالک تھے۔ اُن کے لباس، گفتگو اور انداز میں متاثر کرنے کی پوری صلاحیت موجود تھی۔ وہ ہر میٹنگ میں مرکزی نشست پر بیٹھتے، فائلوں پر مکمل عبور رکھتے، اور بظاہر ادارے کے اہم ترین فرد سمجھے جاتے تھے۔ لیکن مسٹر ABC صاحب کی حقیقت اس وقت کھلی جب اُنہیں ایک ایسے پروجیکٹ کی سربراہی دی گئی جس میں ٹیم ورک، مشورہ، نالج شیئرنگ اور وقت پر فیصلے ضروری تھے۔ ابتداء میں اُنہوں نے سب کچھ خود کرنے کی کوشش کی، لیکن جب اُنہیں ٹیم کی ضرورت پڑی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کوئی اُن کے ساتھ مخلص نہیں تھا۔ جو جونیئرز ان سے رہنمائی مانگتے رہے تھے، وہ اب ان پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ جن کولیگز کے ساتھ ان کے مفاد کا رشتہ تھا سب سے پہلے انہوں نے اِن کو احساس دلایا اور اِن کو کسی قسم کی سپورٹ نہ دی اور ہونا کیا تھا جو سینئرز ان کی خوش اخلاقی سے مرعوب تھے، وہ اب ان کے رویے سے پریشان تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسٹر ABC صاحب کا پروجیکٹ ناکام ہو گیا، اور اُنہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

اس کہانی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اداروں کو صرف وہ لوگ نہیں تباہ کرتے جو نالائق ہوتے ہیں، بلکہ وہ بھی جو قابل ہو کر صرف خود کے لیے جیتے ہیں۔ ایسے افراد جب بھی طاقت یا حیثیت پاتے ہیں، ٹیم ٹوٹنے لگتی ہے، ادارے کی روح مر جاتی ہے اور ایک خاموش ناکامی ادارے میں پھیلنے لگتی ہے۔

مینجمنٹ تھیوریز میں ایسے افراد کو ”Toxic High Performer“ کہا جاتا ہے، یعنی ایسے ماہرین جو کارکردگی میں آگے ہوں مگر ٹیم، کلچر اور ادارے کے لیے زہر بن جائیں۔ یہ لوگ دوسروں کا اعتماد توڑتے ہیں، کریڈٹ چھینتے ہیں اور ادارے میں خوف، شک اور عدم تعاون کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو پہچاننا اور ان کے اثر سے بچنا ہر رہنما کی ذمہ داری ہے۔

مذہبی تناظر میں بھی ایسا رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو نفع دے۔ اور قرآن کہتا ہے : جو بخل کرتا ہے، وہ دراصل اپنی ہی ذات پر بخل کرتا ہے۔

ایسے افراد کو پہچاننے کے چند طریقے یہ ہیں : یہ لوگ صرف اپنی ترقی کی بات کرتے ہیں، دوسروں کو مشورہ دینے سے کتراتے ہیں، اپنے علم کو چھپاتے ہیں، اور ٹیم میں موجود ہر اچھائی کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں۔ ان سے بچاؤ کا طریقہ یہ ہے کہ علم کو پھیلایا جائے، ادارے میں شفاف کمیونیکیشن ہو، اور اصل کام کرنے والوں کو نمایاں کیا جائے۔ ایسی ثقافت بنائی جائے جس میں ٹیم ورک، رہنمائی اور مشاورت کو ترجیح دی جائے۔

اگر کوئی شخص یہ محسوس کرے کہ وہ خود بھی مسٹر ABC صاحب جیسا بنتا جا رہا ہے، تو اُسے فوری طور پر اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ عاجزی، سیکھنے کا جذبہ، اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا اصول اپنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ یاد رکھیں، تنہا کامیابی صرف وقت گزار سکتی ہے، لیکن اجتماعی کامیابی وقت بناتی ہے۔

اگر آپ چاہیں تو میں اسی کہانی پر مبنی ایک ویڈیو اسکرپٹ، پریزنٹیشن، یا ایک تربیتی ورکشاپ ماڈیول بھی بنا سکتا ہوں، تاکہ یہ پیغام آپ کی ٹیم یا سوشل نیٹ ورک پر موثر انداز میں پہنچ سکے۔

Facebook Comments HS