ریاستی جبر اور گلگت بلتستان کی مزاحمتی سیاست


گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے معروف ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر اعجاز ایوب میرے پرانے دوست اور کامریڈ ہیں۔ حال ہی میں ریاستی اداروں نے ان پر بے بنیاد مقدمات قائم کیے، جن کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ علاقے میں صحت کے بگڑتے ہوئے حالات پر آواز اٹھانے سے باز رہیں۔ گزشتہ شب ڈاکٹر اعجاز نے مجھے ایک پیغام کے ذریعے اطلاع دی کہ تین روز قبل گلگت بلتستان کی مقبول سیاسی تنظیم، عوامی ایکشن کمیٹی، کے پانچ مرکزی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان میں چیئرمین ایڈووکیٹ احسان علی، انجینئر محبوب ولی، مسعود الرحمٰن، اصغر شاہ اور وحید حسن شامل ہیں۔

گلگت بلتستان، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی طرح، قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ ہے۔ یہی وسائل اسے ریاست کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل بناتے ہیں۔ ان وسائل کی ملکیت، استعمال اور تقسیم پر جاری بحث نے عوامی شعور کو بیدار کیا ہے، اور عوامی ایکشن کمیٹی اس بیداری کی علامت بن چکی ہے۔ اسی سلسلے میں کمیٹی نے 26 مئی 2025 کو ایک گرینڈ جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ مقامی عوام اپنی اجتماعی رائے کا اظہار کر سکیں۔ تاہم، ریاست نے اس سیاسی سرگرمی کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک بار پھر پرانی حکمتِ عملی اختیار کی وہی رہنماؤں کی گرفتاریاں اور دہشتگردی جیسے بے بنیاد الزامات۔

حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر میں ان رہنماؤں پر ریاست مخالف سرگرمیوں اور نفرت انگیز تقاریر کا الزام عائد کیا گیا ہے، جسے عوامی ایکشن کمیٹی نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے ان گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔ ان اقدامات کے خلاف گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں اور بیرونِ ملک شدید احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، جو نہ صرف عوامی ایکشن کمیٹی کی مقبولیت کا ثبوت ہیں بلکہ ریاستی بیانیے پر ایک کھلا سوالیہ نشان بھی ہیں۔

پاکستان کے محروم صوبے، خصوصاً گلگت بلتستان، بلوچستان اور جنوبی پنجاب، پہلے ہی طویل عرصے سے ریاستی جبر، استحصال اور نظرانداز کیے جانے کا شکار ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی کے دوران وقتی طور پر عوامی مزاحمت کی شدت میں کمی ضرور آئی، مگر ایڈووکیٹ احسان علی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری نے اس جدوجہد کو ایک نئی توانائی فراہم کی ہے۔

یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ریاست، سیاسی مطالبات اور عوامی حقوق کے سوالات کو مسلسل جبر اور خوف کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب مکالمے کے دروازے بند کیے جاتے ہیں تو مزاحمت جنم لیتی ہے، اور وہ مزاحمت وقت کے ساتھ دبنے کے بجائے پھیلتی اور شدت اختیار کرتی ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ ریاست ہوش کے ناخن لے اور ظلم و جبر کی پالیسیوں کے بجائے سیاسی مکالمے اور جمہوری رویوں کو فروغ دے۔ بصورت دیگر یہ تحریک صرف ایک احتجاج تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ایک ہمہ گیر عوامی بغاوت کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کے نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔

Facebook Comments HS