نیپال میں اردو
اردو شاید دنیا کی وہ واحد زبان ہے جس نے زبانوں کے اعتبار سے نسبتاً کم عمری میں ہی بہت زیادہ ترقی کی ہے بدقسمتی سے ہندوستان کہ جہاں سے اغلباً اردو کا آغاز ہوا قیام پاکستان کے بعد بلکہ اس سے قبل ہی اسے وہاں جائز مقام نہیں دیا گیا غیر ضروری طور پر زبردستی بے شمار سنسکرت الفاظ شامل کر کے اردو کو ہندی کا نام دے دیا گیا۔ اس کے خلاف روا رکھنے جانے والے رویے کے باوجود اردو روز افزوں ترقی کی منازل طے کر رہی ہے دنیا کی تقریباً اکثر بڑی جامعات میں شعبہ اردو قائم ہے اور دنیا کے وسیع حصے میں سمجھی اور بولی جاتی ہے ایسا ہی ایک ملک نیپال ہے جہاں اردو داں اور اردو خواں طبقے کی خاصی تعداد موجود ہے۔ نیپال جنوبی ایشیا کا وہ ملک ہے جو چاروں اطراف سے خشکی میں گھرا ہوا ہے اس کے ہمسائے صرف دو ممالک ہیں۔ اس کے شمال میں چین جبکہ جنوب، مشرق اور مغرب میں ہندوستان کی طویل سرحد ہے۔ نیپال کا رقبہ 56,956 مربع میل ہے۔ اس اعتبار سے یہ دنیا میں 93 ویں نمبر پر آتا ہے۔ نیپال کی آبادی تین کروڑ سے زائد ہے اور آبادی کے لحاظ سے نیپال دنیا میں 49 ویں درجے پر آتا ہے۔ نیپال کسی حد تک گنجان آبادی والا ملک ہے جس میں 466.2 افراد فی مربع میل رہتے ہیں۔ نیپال کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر کھٹمنڈو ہے۔ گو کہ یہاں کی سرکاری سرکاری زبان نیپالی ہے البتہ ترائی کے علاقوں یعنی نشیب کے وہ علاقے جو ہندوستان کی سرحد کے قریب ہیں وہاں اردو بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ نیپال ایک کثیر النسل، کثیر لسانی، کثیر مذہبی اور کثیر الثقافتی ریاست ہے جو متنوع جغرافیہ کی حامل ہے۔ اس ملک میں دنیا کے دس بلند ترین پہاڑوں میں سے آٹھ پائے جاتے ہیں جن میں ماؤنٹ ایورسٹ بھی شامل ہے جو کہ زمین کا سب سے اونچا مقام ہے۔
نیپال میں انسانی آبادی کا سراغ 55,000 سال قبل ملتا ہے جب انسان افریقہ سے برصغیر پاک و ہند میں وارد ہوئے تھے۔ جدید تاریخ کے مطابق اس ملک کو 18 ویں صدی میں گورکھا بادشاہت نے متحد کیا تھا۔ نیپال کبھی بھی نوآبادیاتی نہیں رہا لیکن یہ ملک شہنشاہی چین اور برطانوی ہندوستان کے درمیان ایک بفر ریاست کے طور پر موجود رہا ہے۔ یہ ملک 2008 میں ایک سیکولر وفاقی پارلیمانی جمہوریہ بن گیا اس قبل یہ دنیا کی واحد ہندو ریاست کہلاتی تھی۔
نیپال سات صوبوں میں تقسیم ہے اور خلیج بنگال انیشیٹو اور جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون سارک کا رکن ہے۔ جیسا کہ پہلے تحریر کیا گیا ہے کہ نیپال میں آبادی کی اکثریت نیپالی زبان بولتی ہے اردو جو ایک بھرپور ثقافتی ورثے کی حامل زبان ہے نیپال میں بھی بولی جاتی ہے وہاں تقریباً 0.8 ملین اردو لوگ بولتے ہیں۔ یہ نیپال میں بولی جانے والی 123 زبانوں میں سے ایک ہے، اور اس کی اہمیت ملک کی تاریخ اور ثقافتی تنوع میں نہایت گہری ہے۔
اردو، مغل سلطنت کے دوران یعنی ابتدائی ادوار ہی سے نیپال میں متعارف ہوئی اور تجارت و ادب کی زبان بن گئی۔ یہ شاہی درباروں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی رہی اور نفاست اور خوبصورتی کی علامت تصور کی جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اردو نیپالی ثقافت کا ایک لازمی حصہ بن گئی، بہت سے نیپالی اسے دوسری زبان کے طور پر بولتے ہیں۔
نیپال میں اردو بولنے والی آبادی بنیادی طور پر ترائی کے علاقے تک محدود ہے۔ ان کمیونٹیز نے اپنی ثقافتی شناخت کو ہنوز برقرار رکھا ہوا ہے اور اپنی مادری زبان کے طور پر اردو بولتے ہیں۔ نیپال میں بہت سے اردو بولنے والے بھی نیپالی، ہندی اور دیگر مقامی زبانوں میں روانی سے بات چیت کر سکتے ہیں۔
نیپال میں پانچ فیصد لوگ اردو مادری زبان کی حیثیت سے بولتے ہیں۔
اردو بولنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے لیکن اور مذاہب کے لوگ بھی اردو بولتے ہیں
اسلامی مدرسوں میں تدریس اردو زبان میں ہوتی ہے۔
یہاں صرف اسلامی مدارس میں شعبہ اردو قائم ہے جس میں بچے اردو زبان و ادب میں فنی مہارت حاصل کرتے ہیں۔
بیرون ممالک سے آنے والے لوگ بھی اردو کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
نیپال میں اردو کے کئی ایک ہفت روزے شائع ہوتے ہیں جبکہ علمی و تبلیغی رسائل و جرائد بھی اشاعت پذیر ہوتے ہیں ان میں ماہنامہ السراج، ماہنامہ نور توحید، ماہنامہ البینہ، سہ ماہی پیغام، ہفت روزہ صدائے عام اور ادبی جریدہ سہ ماہی قرطاس ادب شامل ہے جو ثاقب ہارونی کی زیر ادارت شایع ہوتا ہے۔ نیپال میں اسلامی کتابیں بھی اردو زبان میں طبع ہوتی ہیں۔
یہاں اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے علاقائی طور پر بہت ساری تنظیمیں کام کر رہی ہیں جس میں نیپال اردو اکیڈمی، انجمن فروغ اردو ادب، انجمن ارتقائے اردو ادب، بزم گلزار ادب سر فہرست ہیں۔
یہاں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کسی تنظیم کو کوئی خاص سرکاری سر پرستی حاصل نہیں ہے۔
البتہ خوش آیند امر یہ کہ نیپال میں اردو زبان و ادب کے بارے کوئی مخالفانہ گروہ موجود نہیں ہے۔ اردو نیپال کے ثقافتی تنوع اور مغل سلطنت کے ساتھ اس کے تاریخی تعلقات کی علامت ہے۔ نیپال میں اردو کا بھرپور ادبی ورثہ موجود ہے، جس کی ترقی میں بہت سے مشہور شاعروں اور ادیبوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔
اس کی اہمیت کے باوجود، نیپال میں اردو بولنے والوں کو کئی مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں۔
نیپال میں اردو بولنے والوں کے پاس تعلیم، ملازمت اور سرکاری خدمات میں محدود مواقع ہیں۔ نیپال میں اردو بولنے والوں کا ثقافتی ورثہ آبادی کے شہروں کی طرف منتقلی اور عالمگیریت کی وجہ سے خطرے میں ہے نیپال میں بہت سے اردو بولنے والے لوگ معاشی اور سماجی دباؤ کی وجہ سے دوسری زبانوں، جیسے نیپالی اور ہندی زبانیں اپنا رہے ہیں۔ نیپال میں اردو زبان ایک ثقافتی خزانہ ہے جسے محفوظ اور فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ نیپال کے ثقافتی تنوع میں اردو کی اہمیت کو پہچاننا اور اسے فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کرنا ضروری ہے۔ ایسا کرنے سے، ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ یہ شیریں زبان آنے والی نسلوں تک پروان چڑھتی اور ترقی کرتی رہے۔


