جہیز کا سامان اور بکھرے خواب
گاؤں کے پرانے کچے راستوں سے اٹھ کر شہر کی عدالت میں پہنچی وہ لڑکی اپنے ساتھ ایک خاموش مقدمہ بھی لائی تھی۔ جی ہاں یہ ایک ”واپسی سامان جہیز“ کا کیس تھا۔ وہ سامان جو شادی کے دن اس کے باپ نے اس کے خوابوں، اس کی خواہشوں، اس کی ماں کی چپ اور اس کے بھائی کی مزدوری سے بھر کر دیا تھا۔ مگر مقدر ہاری وہ بیچاری شادی کے چند ماہ بعد ہی مطلقہ بن گئی تھی۔ اس سامان جہیز میں شامل ایک صندوق کا تذکرہ وہ بار بار کر رہی تھی جس صندوق میں شیشے کے مہنگے گلاس، پلنگ کی چادر، کچھ جوڑے، چند سونے کے زیور اور انمول دعائیں تھیں۔ مگر سب کچھ سسرال کی دہلیز پر جا کر بکھر گیا۔ وہ خواب چکنا چور ہوئے اور دعائیں دھوئیں میں بدل گئیں۔
میری وکالت کا وہ دن معمول سے مختلف نہ تھا، جب ایک درمیانے قد، ڈھلے ہوئے چہرے اور سہمی ہوئی نگاہوں والی لڑکی میرے دفتر میں داخل ہوئی۔ ہاتھ میں کچھ کاغذات، دل میں درد اور ساتھ ایک بوڑھی ماں جو بار بار دوپٹے سے اپنی آنکھیں پونچھتی۔ لڑکی نے لرزتی آواز میں کہا، ”صاحب، میرے جہیز کا سامان انہوں نے روک لیا ہے۔ طلاق دے دی ہے مگر وہ میرا سامان واپس نہیں کر رہے۔“
میں نے کاغذات کا جائزہ لیا۔ ایسے کیسز معمول کی بات ہے۔ یہ معاملہ بھی سیدھا سا تھا مگر جذبات میں الجھا ہوا۔ قانونی زبان میں اسے ”واپسی سامان جہیز“ کا کیس کہا جاتا ہے مگر اس لڑکی کے لیے یہ صرف ایک قانونی اصطلاح نہیں، ایک شکستہ خوابوں کی قبر تھی۔ لڑکی کی والدہ کہہ رہی تھی کہ دراصل ہم بچی کی شادی ایک دوسری جگہ کرنا چاہ رہے ہیں مگر مسئلہ جہیز کے سامان کا ہے۔ براہ مہربانی ہمیں جہیز کا سامان واپس دلوا دیجئے۔
عدالت میں جب ہم نے کیس دائر کیا تو مدعا علیہان نے روایتی تماشا رچایا۔ کہا، ”ہم نے کچھ نہیں رکھا۔“ میں نے گواہوں کو بلایا، وہ ہمسائے جنہوں نے شادی کے روز صندوق سمیت وہ سارا سامان اپنی آنکھوں سے اٹھاتے دیکھا تھا۔ وہ فوٹوگرافر جس نے تصویر میں پلنگ پر رکھے گئے زیور کو قید کیا تھا اور وہ رسیدیں جو والد نے دکان داروں سے لی تھیں۔
جج صاحب خاموشی سے سنتے رہے۔ میں نے اپنے دلائل میں کہا، ”یہ مقدمہ صرف سامان جہیز، زیور یا چادر کا نہیں، یہ عزتِ نفس کا مقدمہ ہے۔ اصولی طور پر اگر میاں بیوی میں طلاق ہو چکی ہے تو لڑکے والوں کو قطعاً یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ایک دن کے لئے بھی سامان جہیز روک کر رکھیں۔ تمام گواہان کے بیانات اور ان کی جرح سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ ابھی تک سامان جہیز میں سے ایک چمچ تک بھی واپس نہ ہوا ہے۔ لہذا اپنا سامان جہیز حاصل کرنا لڑکی کا قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ اگر سامان جہیز لوٹا دیا جائے تو شاید اس لڑکی کی ٹوٹی ہوئی خودی کے کچھ ذرے سمیٹے جا سکیں۔“
عدالت نے فیصلہ اس کے حق میں دیا۔ سسرال والوں کو حکم دیا گیا کہ وہ تمام سامان بمع طلائی زیورات واپس کریں اور نہ کرنے کی صورت میں اس کی قیمت بمعہ ہرجانہ ادا کریں۔
فیصلہ سنا تو وہ لڑکی خاموشی سے رو پڑی۔ اس کی ماں نے روتے ہوئے میرا شکریہ ادا کیا، مگر میں نے عاجزی سے کہا، ”یہ انصاف آپ کی بیٹی کے صبر کا صلہ ہے۔ میں تو بس قانون کی زبان بول رہا تھا، مگر اس سامان میں جو کچھ تھا، وہ صرف ایک صندوق نہیں تھا، وہ سامان ایک بیٹی کا خواب تھا، ایک باپ کی امید، اور ایک ماں کی دعا۔“
اس دن مجھے وکالت ایک اور جہت میں نظر آئی۔ میں نے جانا کہ عدالت محض دیواریں نہیں ہوتیں، کبھی کبھار وہ پکار بنتی ہے ان عورتوں کی جو اپنے صندوقوں کے ساتھ اپنے خواب بھی لٹا بیٹھی ہوتی ہیں۔ اور جب انصاف ان کے حق میں بولتا ہے تو وہ خواب دوبارہ جڑنے لگتے ہیں۔


