جلیل عالی : برگ و ثمر سے آگے


 

میں نے اپنے مشاہدے، تجربے اور جا چکے وقتوں کی کہانیاں بزرگوں سے سُن سُن کر یہ گماں باندھ رکھا ہے کہ گزرے زمانوں میں خال خال ہی لوگ سات دہائیوں سے اوپر جاتے ہوں گے۔ ہمیں تو جو لمبی عمر پا لیتا ملتا رہا انجام بہ خیر کی دعائیں مانگتا نظر آیا۔ کمر جھک ہوئی جیسے بڑھتی عمر کی بھاری بوری کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہو۔ کردہ ناکردہ گناہوں کا احساس وہ دوسرا بھاری پتھر ہوتا جو ایسوں کو سر اٹھانے نہ دیتا۔ گھر کسی ناغول میں پڑ رہتے یا داڑھی بڑھا لی جاتی۔ باہر نکلتے بھی تو دوڑ مسجد تک رکھتے ؛ وہیں انہیں اپنے جیسے چند اور مل جاتے ؛ جی ایسے لوگوں کا گروہ جن کے لیے زندگی کے کھیسے میں بیماریوں کے ذکر کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تھا اور وہ اپنے آپ کو سامنے آتی موت کے خیالی کھونٹے سے باندھ رکھتے تھے۔ یوں ان کی زندگیوں کا دائرہ سکڑتا چلا جاتا۔ میں جس زمانے کی بات کر رہا ہوں اس میں ’سٹھیا جانے‘ اور ’سترے بہترے‘ ہونے کے محاورے ہماری لغت کا حصہ ہوئے تھے۔

اب یہ محاورے شاید ہی سننے کو ملتے ہوں گے کہ زندگی اور اس کے معاملات، علم، دانش اور تخلیقی دانش سے جڑے ہوئے لوگ ساٹھ ستر تو کیا اسی کی لکیر بھی بہ عافیت پھاندنے لگے ہیں۔ دُور کیوں جائیں راولپنڈی اسلام آباد کے جڑواں شہروں کے بڑوں کو دیکھ لیں۔ خیر سے ممتاز مفتی نے نوے برس کی عمر پائی اور اپنی علالت کے باوجود اتنے متحرک تھے کہ آخری برس میرے افسانوں کے پہلے مجموعے کی تقریب کی صدارت فرمائی تھی اور اپنی سالگرہ کے پروگرام میں شرکت کے بعد رخصت ہوئے تھے۔ شوکت واسطی کو ستاسی برس کی عمر میں بھی بزم علم و فن کے دفتر میں مجلس جماتے پایا۔ پرتو روہیلہ تراسی کے ہو کر اللہ کو پیارے ہوئے۔ ضیا جالندھری جب اٹھاسی کے ہوئے تو ہم ان کی تخلیقی طور پر سر سبز زندگی کا جشن منانے یہاں اکادمی میں جمع ہوئے تھے۔ علامہ بشیر حسین ناظم نے بھی اسی کے ہندسے کو ہاتھ لگایا اور آخری عمر تک ہماری ادبی محافل کی رونق رہے۔ خیر سے یہ سلسلہ تو اب اور آگے بڑھا ہے اس باب کی مثالیں صرف رفتگاں ہی میں نہیں ملتیں ہمارے اندر میں ایسے ہیں جن کی عمر میں اور تخلیقی توانائیوں میں خداوند کریم نے برکت ڈال دی ہے۔ چشم بد دور ہمارے محترم پروفیسر فتح محمد ملک اٹھاسی سے اوپر کے ہو لیے ہیں اور اب بھی گفتگو میں نوجوانوں کی سی گھن گرج اور قلم میں کمال درجے کی روانی ہے۔ ہمارے سینئر افسانہ نگار دوست وقار بن الہٰی اٹھاسی کے ہو گئے ہیں۔ پچاسی سے اوپر کی کشور ناہید ہیں، اب بھی اپنی بات کہنے سے نہیں ٹلتیں اور ہر سال ان کے کالموں کا مجموعہ یا نظموں کی کتاب آ جاتی ہے۔ اگر احسان اکبر کی پیدائش کا سن 1938 اور حلیم قریشی کا 1941 درست ہے تو وہ بالترتیب ستاسی اور چوراسی کے ہو لیے ہیں مگر ایسا لگتا نہیں کہ دونوں پوری طرح چاق چوبند ہیں۔ اس تقریب کے صدر افتخار عارف کی اسی ویں سالگرہ ہم ڈیڑھ ماہ پہلے منا چکے ہیں اور ہماری زبان و ادب کے اس افتخار کے پاس بیٹھ جائیں اور گفتگو سنیں تو لگتا ہے جیسے زندگی اپنے معنی کے نئے اوراق کھول رہی ہوتی ہے۔

تو یوں ہے خواتین و حضرات! کہ اسی فضا میں ہمارے دانشور شاعر محمد جلیل عالی بھی اسی برس کے ہو گئے ہیں۔ آج کی تقریب یہی یقین دلانے کو برپا کی گئی ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ ہم انہیں لگ بھگ گزشتہ کئی دہائیوں سے عین مین ایسا ہی دیکھ رہے ہیں جیسے کہ وہ اب ہیں یا جیسے کہ وہ دو دہائیاں پہلے تھے ؛ کہہ لیجیے ساٹھے پاٹھے۔ تخلیقی طور پر اسی طرح توانا، گفتگو میں پہلے کی طرح پر جوش۔ دو دہائیاں پہلے کی کوئی تصویر اٹھا کر سامنے رکھیے اور نظر بھر کر انہیں دیکھ لیجیے شاید ہی عمر بڑھنے کے آثار مل پائیں۔ خیر، تصویر سے زیادہ اگر آپ تصور سے کام لیں گے تو وہ خالص عالی صاحب آپ کے سامنے آ جائیں گے۔ وہی، جنہیں ممتاز مفتی نے کچھ زیادہ ہی عقلیہ آدمی کہا تھا؛ ریشنل بلکہ اوور ریشنل۔ تول تول کر بات کرنے والا اور مقابل کی بات کو ماپنے، تولنے اور پرکھنے کے بعد لائق اعتنا گرداننے والا۔

عقلی ہونے کے ساتھ حد درجہ تخلیقی ہونے کی عطا خال خال ہی کسی کا مقدر ہوتی ہے ؛ عالی صاحب کا مقدر ہوئی ہے۔ اقبال، جنہیں وہ اپنا مرشد کہتے ہیں، نے کہا تھا:

عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم

مگر عالی صاحب پر اللہ کا کرم ایسا ہے کہ ان کا عشق زاہد بھی ہے، ملا بھی اور حکیم بھی۔ یہ الگ بات کہ ملا ہونے کا وہ انکار کرتے ہیں اور جس حد تک انکار کرتے ہیں اس کی دلیل بھی اقبال سے لاتے ہیں اور ہر بار مذہبی جماعتوں کے ہر الیکشن میں بری طرح پٹنے سے اپنی ایک تھیوری کا تانا بانا بنتے ہیں جس کے مطابق انہیں اپنا سماج متحرک اور روشن خیال نظر آتا ہے ؛ اسلام سے وابستہ مگر ملائیت کو رد کرنے والا۔ تاہم ہمسائے کے ملاؤں کے جہاد اور اس جہاد سے قائم ہونے والی حکومت کو وہ قبول کرتے ہیں ؛ جی، ان کے تصور مذہب سے اختلاف کے باوجود اور اس کے بھی باوجود کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد انہیں کی محافظت میں کارروائیاں کر رہے ہیں اور پہگام میں دہشت گردی کے بعد پاک بھارت تناؤ (جو اُدھر سے آپریشن سندور اور اِدھر سے آپریشن بنیان المرصوص ہو گیا تھا) میں وہ خفیہ طور پر ہمارے ’احسانوں‘ کا بدلہ چکانے کو ہمارے دشمن سے پینگیں بڑھاتے رہے ہیں، عالی صاحب انہیں استعماری قوتوں اور مغربی جارحیت کے خلاف کامیاب جدوجہد کی ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ وہ عقلی ہوتے ہوئے شاعر بھی ہیں ؛ خالص شاعر۔ یہاں دھیان اس لطیفے کی طرف جا رہا ہے جو انہوں نے اپنی ایک کتاب میں لکھ چھوڑا ہے۔ یہی کہ ایک شخص کے پانچ بچے تھے چار کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا اور اسے دکھ اس پر تھا کہ پانچواں شاعر نکل آیا تھا۔ اپنے تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب ”شعری دانش کی دھن میں“ کے ایک مضمون ”ادب اور نفسی نامعمولیت“ میں اس لطیفے کو درج کرنے کے بعد عالی صاحب نے لکھا کہ نوجوانی میں خود ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ منگنی ہو چکنے کے بعد پیش آیا تھا۔ ان کی منگیتر یعنی ہماری حسینہ بھابی نے جب اپنی سہیلیوں کو بتایا تھا کہ ان کے ہونے والے دولہا میاں شاعر ہیں تو سب نے ان سے اظہار ہمدردی کیا تھا کہ بقول عالی صاحب شاعروں اور ادیبوں کے بارے میں ذرا کھسکے ہوئے ہونے کا تصور کچھ غلط بھی نہ تھا۔ اس مضمون میں عالی صاحب نے شاعروں، مصوروں، ادیبوں، صوفیوں اور دوسرے تخلیقی فن کاروں کے معروف معنوں میں نارمل نہ ہونے اور سماج کی بندھی ٹکی ڈگر سے ہٹ کر چلنے کے حق میں بہت عمدہ گفتگو کی تھی مگر میں پھر بھی کہوں گا کہ عالی صاحب ریشنل آدمی ہیں۔ شاعر ہوتے ہوئے بھی ریشنل آدمی۔ شاید یہی سبب رہا ہو گا کہ شادی کے بعد ہماری بھابی نے انہیں شاعر ہوتے ہوئے بھی ”اچھا بھلا آدمی“ پایا تھا۔

”اچھا بھلا آدمی“ کی اصطلاح میری نہیں، بھابی حسینہ کی سجھائی ہوئی ہے ؛ ان کا اپنے شریک زندگی کی بابت جو تجربہ اور تجزیہ ہو گا، سو ہو گا، میں نے اس ’بھلے آدمی‘ کو دوسرے بھلے مانسوں سے مختلف پایا ہے۔ جس عمر کے حصے میں وہ ہیں بالعموم اس میں پہنچ کر اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے آپ میں سمٹنا شروع  ہو جاتے ہیں ؛ انہیں شرمندگی آ لیتی ہے کہ جو کچھ وہ کر سکتے تھے نہیں کر پائے یا پھر کیا تو بہت کچھ اور اعلیٰ سطح کا مگر جس سطح پر انہیں قبولیت اور مقبولیت ملنی چاہیے تھے وہ نہ ملی۔ ایسے میں ان کی تخلیقی توانائیوں پر بھی ضعف طاری ہونے لگتا  ہے۔ خیر اس بھلے مانس کا معاملہ یوں الگ ہے کہ ہر نئے دن کے طلوع ہونے کے بعد ہم انہیں کسی نہ کسی مشاعرے کی صدارت کرتے یا کسی تقریب میں گفتگو کرتے پاتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو گا کہ انہوں نے کچھ کہا نہ ہو اور پھر لطف یہ کہ ہر حال میں ان کی انگلیوں کی پوریں لمحہ لمحہ کر کے گزرتے وقت کی نبض پر رہتی ہیں اور یہیں کہیں ان کی دانش ساری ذاتی مصلحتوں کو پچھاڑ کر ان کی تخلیقی توفیقات سے معاملہ کرتے ہوئے اشعار میں ظہور کرتی رہتی ہے۔

ہم اہلِ حرف کو بھی مصلحت خاموش رکھے
تو پھر کس کام کی عالی ہنر کاری ہماری

یوں لگتا ہے جیسے تخلیق عمل اور ہنر کاری، یہ دونوں، عالی صاحب کے ہاں ایک ہی وقت میں موجود رہتے ہیں۔ ہنر کاری کی اصطلاح جو میں نے عالی صاحب سے مستعار لی اس کی طرف آپ کا دھیان یوں درکار ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کی زبان کے حوالے سے جو تجربات کیے اور بطور خاص فارسی تراکیب سے گریز کرتے ہوئے فکِ اضافت کی جو صورتیں سجھائیں، جیسے شوق ستارہ، خیال پنچھی، ملن ساحل، درد ثمر وغیرہ وغیرہ، وہ اسی ہنر کاری کی عطا ہیں۔ یہ اشعار بھی دیکھیے کہ اس اجتہادی قرینے سے انہوں نے عرض ہنر کو کیسے سہل کر لیا ہے :

اڑا دیے رنگ تتلیوں کے گمان شیشوں اتارنے میں
گنوا لیے نقش صورتوں کے نگاہ نقطوں ابھارنے میں
وفا کے سورج نگر سے دل نے کرن سندیسہ نہ کوئی پایا
گزار دیں کتنی چاند راتیں فراق لمحے شمارنے میں

میں یہ نہیں کہتا کہ ان کے ’گمان شیشوں اتارنے میں‘ ، ’نگاہ نقطوں ابھارنے میں‘ یا ’فراق لمحے شمارنے میں‘ جیسے اجتہاد کو شاعروں نے بڑے پیمانے پر مان لیا ہے مگر یہ ضرور کہوں گا کہ وہ خود اس راہ پر چلے ہیں اور پوری استقامت کے ساتھ چلے ہیں۔

ان کی استقامت اپنے ان لسانی اجتہادات کے باب تک محدود نہیں رہتی وہ اپنی فکری تشکیل میں بھی ایک مستقیم صراط کو اپنائے ہوئے ہیں ؛ اسلام، پاکستان اور اقبال سے ان کی فکر ہمیشہ سے وابستہ رہی ہے ؛ ان موضوعات پر وہ پہروں بول سکتے ہیں ؛ بولتے ہیں، کہی ہوئی باتوں کو بار بار دہرا سکتے ہیں ؛ ان میں نئے نئے اضافے کر سکتے ہیں۔ اور ہاں، مکالمے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ انہیں ہم مسلک اور ہم فکر فرد ہی درکار ہوتا ہے، انہیں لطف آتا ہے کہ کوئی انہیں مخالف کیمپ کا آدمی چھیڑے، رد کرے کہ یوں انہیں پلٹ پلٹ کر لپکنے جھپٹنے کے مواقع میسر آ جاتے ہیں ؛ ایسے میں ان کا جوش دیدنی ہوتا ہے اور جذبہ عروج پر۔ سیدھے سادھے لفظ پچھڑ جاتے ہیں اور آڑی ترچھی باتیں بھی مفہوم کے نئے دائرے بنانے لگتی ہیں۔ مقابل کو اپنی مرضی اور پسند کے مفاہیم سے دست کش ہونا پڑتا ہے اور وہ بات مانتے ہی بنتی ہے جو عالی صاحب کی منشا کے عین مطابق ہوتی ہے کہ دوسری صورت میں تو مکالمے کا کسی منطقی انجام کو پہنچنا یا مکمل ہونا، ممکن ہی نہیں رہتا:

تم کیوں اپنی مرضی کے مفہوم نکالو ہو اُتنا ہی مطلب ہے ہمارا جتنی بات کہی
سیدھے سادے لفظوں سے کہنا مشکل تھا اسی لیے تو ایسی آڑی ترچھی بات کہی

بات کہنا، اپنی بات کہنا، مسلسل اپنی بات کہنا؛ اور اپنی بات کو تخلیقی سطح پر فن بنا کر پیش کرنے میں وقفہ نہ ڈالنا، جیسا عالی صاحب کے ہاں وتیرا ہوا ہے، شاید ہی کسی اور کے ہاں نظر آئے۔ دعا گو ہوں کہ اس شہر کی یہ مکالماتی اور تخلیقی جہت یوں ہی شاد آباد رہے۔ عالی صاحب خوب جئیں اور ہم ان کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہیں۔

شجر سے اک عمر کی رفاقت کے سلسلے ہیں
نگاہ اب دیکھتی ہے برگ و ثمر سے آگے
نثار اُن ساعتوں پہ صدیوں کے سِحر عالی
جِیے ہیں جن کے جِلَو میں شام و سَحر سے آگے

(اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کے کانفرنس ہال میں بزم ادب کی جانب سے پروفیسر جلیل عالی کی 80 ویں سالگرہ کی تقریب میں پڑھی گئی تحریر)

Facebook Comments HS