عالی جاہ! دُہائی ہے، دُہائی
آئیے! آج ہم آپ کو ایک شاہی دربار کی کہانی سُناتے ہیں۔ سلطنتِ مغلیہ کے کئی عشروں بعد برصغیر میں ایک نئی خود مختار ریاستِ اسلامیہ جلوہ گر ہو چکی تھی۔ جس کے مختارِ کُل ایک نہایت صاحبِ فہم و فراست، دیدہ ور و رحم دل ذات اور اپنی رعایا کے حق میں بدرجۂ اتم شفقت شعار تھے۔ ایامِ گرما ہوں یا لیلِ سرما، بارانِ رحمت ہو یا سیلابِ بلا، یا کوئی بھی آفتِ سماوی نازل ہو، وہ اپنی رعایا کو تنہا نہ چھوڑتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ قرب و جوار کی ریاستوں میں اُن کی نیک نامی زبان زدِ خاص و عام تھی اور دیگر سلطنتوں کے فرمانروا اکثر اُن کی بزمِ مہمان نوازی میں شرفِ باریابی کو باعثِ افتخار جانتے تھے۔
ایک روز مملکتِ خداداد میں کسی مہمانِ عالی شان کی تشریف آوری متوقع تھی۔ دارالحکومت کی گلیاں اور شاہرائیں عروسِ نو کی طرح مزین و آراستہ کی گئی تھیں۔ کنیزانِ خوش نوا، ہر سو جلوہ افروز تھیں اور راہگیروں، پیادوں، مسافروں، سائلین اور عام رعایا کو فرحت بخش رہی تھیں۔ چوراہوں پر چراغاں اور شادیانے بجائے جا رہے تھے، مگر شہنشاہِ عالی مقام اس بات پر افسردہ تھے کہ متوقع شاہی مہمان کی آمد غیرمعینہ مدت کے لئے موخر ہو چکی تھی۔
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر دربار میں ظلِ سبحانی، وزیرِ خاص، میر بخشی، صدر الصدور، قاضی القضاۃ، میر سامان، محتسبِ اعلیٰ اور میر عرض سبھی سوچ بچار میں مگن تھے کہ یکایک دربانِ خاص دوڑتا ہوا دربار میں داخل ہوا۔ بہ حدِ تعظیم سرِ تسلیم خم کرنے کے بعد وزیرِ خاص کے سے کچھ عرض کرنے لگا۔ وزیرِ خاص اُس کی بات سُن کر چونک سا گیا، چند لمحے عالمِ تفکر میں بسر کرنے اور شہنشاہِ عالی مقام سے اَمانِ جاں طلب کرتے ہوئے گویا ہوا، ’ظلِ سبحانی! صوبۂ شمال مغربی سے و اقفِ خاص خبر نویس پسرِ لعل دین کچھ احوال لایا ہے اور براہ راست حضورِ اقدس کی خدمتِ عالیہ میں پیش کرنے کی اجازت التماس کرتا ہے‘ ۔
ظلِ سبحانی عالمِ افسردگی میں جلوہ افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا، ”اگر احوال میں ذرہ برابر بھی غلو (مبالغہ آرائی) پایا گیا تو کوتوال کے سپرد کر دیا جائے گا۔“ خبر نویس نے عرض کیا، ”حضور کا فرمان سرِ آنکھوں پر، بہرحال ان احوال میں غم و اندوہ پنہاں ہیں۔ یہ واقعات عین حقیقت پر مبنی ہیں، تاہم اگر حضور کی شانِ اقدس پر گراں گزریں، تو بندۂ خاکسار کو امانِ جاں عطا ہو۔“ ”کہو! کیا خبر لائے ہو؟“ ظلِ سبحانی نے بہ اندازِ حکم فرمایا۔
خبر نویس کہنے لگا، ”آپ کی ریاست میں رعایا پر ظلم کی انتہا ہو چکی ہے۔ کچھ نالائق شہنشاہِ عالی شان کی نافرمانی پر آمادہ ہیں۔“ بادشاہ سلامت عالمِ حیرت میں غرق ہونے لگے تو با آوازِ بلند ارشاد فرمایا، ”ہمارے صبر کا امتحان نہ لو خبر نویس! تمام احوال بالتفصیل بیان کرو۔“
خبر نویس نے عرض کیا، ”حضور کا غلام ماہِ مارچ میں برق رفتار گھوڑے پر سوار اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ جب شہنشاہ جہانگیر کے شہر شیخوپورہ سے گزر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بدنہاد شخص ایک تیز دھار آلے سے دوسرے نوجوان کا گلا کاٹ رہا تھا گویا شہ رگ کٹنے کے قریب تھی۔ وہ جوان لہو میں غلطاں اپنی جان کی بازی لگا رہا تھا۔ اگرچہ اس مغلوب جوان کی جان بچ گئی، لیکن قوتِ گویائی متاثر ہو چکی ہے۔ عالی جاہ! صد افسوس کہ آپ کی سلطنت میں ایسا ظلم ایک نصرانی (مسیحی) نوجوان کے ساتھ روا رکھا گیا۔“
بادشاہ سلامت کی چشمِ غضب ناک کے تیور بھانپ لینے کے باوجود خبر نویس نے سخن (بیان) جاری رکھا۔ ”ماہِ اپریل میں بندۂ ناچیز رعایا کے حالاتِ زار معلوم کرنے شہنشاہِ اکبر کے ایک معزز درباری حافظ میراک کے نام پر آباد کیے گئے شہر حافظ آباد کے کوچہ و بازار میں سرگرداں تھا کہ کیا دیکھتا ہے کہ چند بدباطن افراد نے معصوم بچوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ وہ انہیں کچھ اشیائے خورد و نوش تقسیم کر رہے تھے۔ بعد ازاں علم ہوا کہ ان خبیثوں نے بچوں کو زہر ملا کر کچھ میٹھا کھانے کو دیا اور بالآخر تین معصوم روحیں عالمِ جاودانی کو سدھار گئیں۔ اب کی بار بھی اس ظلم و بربریت کا نشانہ نصاریٰ (مسیحی) تھے۔“
ظلِ سبحانی دو احوالِ سُن کر غضب سے تمتما اُٹھے اور اپنے جامۂ شاہی کو جھٹکتے ہوئے گویا ہوئے، ”اے خبر نویسِ! اگر یہ سخن دروغ (خبر غلط) ثابت ہوا، تو اس کی سزا تجھے بھگتنا ہو گی۔“ اُس نے بہ حدِ تعظیم سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے بہ اندازِ اقرار سر ہلایا اور عرض کی کہ ایک تازہ احوال گوش گزار کرنے کی اجازت چاہتا ہے۔ اجازت ملنے پر عرض کرنے لگا۔
”بندۂ ناچیز ماہِ رواں میں فوج ظفر موج کے احوال کی جستجو میں شہنشاہِ اسکندرِ اعظم کے شہر ساگلہ اور آج کا سیالکوٹ کہلانے والے شہر کے دورے پر تھا کہ مخبرِ صادق نے اطلاع دی کہ ایک خودسر شخص نے حدودِ ریاست میں اپنی عدالت برپا کر رکھی ہے اور ایک بے گناہ شہری پر آہنی سلاخوں سے تشدد کر کے اُس کے جسدِ نازک میں میخیں پیوست کر دی ہیں اور وہ جوان بھی جامِ شہادت نوش کر گیا ہے۔ اس احوال میں بھی نکتۂ نازک یہی ہے کہ مقتول نوجوان نصرانی (مسیحی) تھا۔“
ظلِ سبحانی غیظ میں آ کر تختِ شاہی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اہلِ دربار پر سکوت طاری ہو گیا۔ دفعتاً بادشاہ سلامت نے بہ اندازِ حکم استفسار فرمایا، ”اے خبر نویس! اور کچھ؟“ خبر نویس نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرض کیا، ”ظلِ سبحانی! نصرانیوں (مسیحیوں ) کی جوان بیٹیوں کا اغوا، جنسی زیادتی، جبراً تبدیلی مذہب، عبادت گاہوں پر حملے اور مذہبی آزادی کے فقدان سمیت درجنوں معاملات تاحال تشنۂ حل طلب ہیں۔“
بادشاہ سلامت نے وزیرِ خاص کو ان معاملات کی نگرانی کرنے، انصاف کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کرنے اور ایک کابینہ تشکیل دینے کی ہدایت فرمائی نیز وقائع نگار کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، ”نقش کرو کہ آئندہ سے جو جس کے ساتھ جیسا سلوک روا رکھے گا، ویسا ہی بدلہ پائے گا۔ گویا دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔ اہالیانِ دربار یک زباں ہو کر کہنے لگے، حضور کا اقبال بلند ہو!“ ۔
!
آئیے! آج ہم آپ کو ایک شاہی دربار کی کہانی سُناتے ہیں۔ سلطنتِ مغلیہ کے کئی عشروں بعد برصغیر میں ایک نئی خود مختار ریاستِ اسلامیہ جلوہ گر ہو چکی تھی۔ جس کے مختارِ کُل ایک نہایت صاحبِ فہم و فراست، دیدہ ور و رحم دل ذات اور اپنی رعایا کے حق میں بدرجۂ اتم شفقت شعار تھے۔ ایامِ گرما ہوں یا لیلِ سرما، بارانِ رحمت ہو یا سیلابِ بلا، یا کوئی بھی آفتِ سماوی نازل ہو، وہ اپنی رعایا کو تنہا نہ چھوڑتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ قرب و جوار کی ریاستوں میں اُن کی نیک نامی زبان زدِ خاص و عام تھی اور دیگر سلطنتوں کے فرمانروا اکثر اُن کی بزمِ مہمان نوازی میں شرفِ باریابی کو باعثِ افتخار جانتے تھے۔
ایک روز مملکتِ خداداد میں کسی مہمانِ عالی شان کی تشریف آوری متوقع تھی۔ دارالحکومت کی گلیاں اور شاہرائیں عروسِ نو کی طرح مزین و آراستہ کی گئی تھیں۔ کنیزانِ خوش نوا، ہر سو جلوہ افروز تھیں اور راہگیروں، پیادوں، مسافروں، سائلین اور عام رعایا کو فرحت بخش رہی تھیں۔ چوراہوں پر چراغاں اور شادیانے بجائے جا رہے تھے، مگر شہنشاہِ عالی مقام اس بات پر افسردہ تھے کہ متوقع شاہی مہمان کی آمد غیرمعینہ مدت کے لئے موخر ہو چکی تھی۔
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر دربار میں ظلِ سبحانی، وزیرِ خاص، میر بخشی، صدر الصدور، قاضی القضاۃ، میر سامان، محتسبِ اعلیٰ اور میر عرض سبھی سوچ بچار میں مگن تھے کہ یکایک دربانِ خاص دوڑتا ہوا دربار میں داخل ہوا۔ بہ حدِ تعظیم سرِ تسلیم خم کرنے کے بعد وزیرِ خاص کے سے کچھ عرض کرنے لگا۔ وزیرِ خاص اُس کی بات سُن کر چونک سا گیا، چند لمحے عالمِ تفکر میں بسر کرنے اور شہنشاہِ عالی مقام سے اَمانِ جاں طلب کرتے ہوئے گویا ہوا، ’ظلِ سبحانی! صوبۂ شمال مغربی سے و اقفِ خاص خبر نویس پسرِ لعل دین کچھ احوال لایا ہے اور براہِ راست حضورِ اقدس کی خدمتِ عالیہ میں پیش کرنے کی اجازت التماس کرتا ہے‘ ۔
ظلِ سبحانی عالمِ افسردگی میں جلوہ افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا، ”اگر احوال میں ذرہ برابر بھی غلو (مبالغہ آرائی) پایا گیا تو کوتوال کے سپرد کر دیا جائے گا۔“ خبر نویس نے عرض کیا، ”حضور کا فرمان سرِ آنکھوں پر، بہرحال ان احوال میں غم و اندوہ پنہاں ہیں۔ یہ واقعات عین حقیقت پر مبنی ہیں، تاہم اگر حضور کی شانِ اقدس پر گراں گزریں، تو بندۂ خاکسار کو امانِ جاں عطا ہو۔“ ”کہو! کیا خبر لائے ہو؟“ ظلِ سبحانی نے بہ اندازِ حکم فرمایا۔
خبر نویس کہنے لگا، ”آپ کی ریاست میں رعایا پر ظلم کی انتہا ہو چکی ہے۔ کچھ نالائق شہنشاہِ عالی شان کی نافرمانی پر آمادہ ہیں۔“ بادشاہ سلامت عالمِ حیرت میں غرق ہونے لگے تو با آوازِ بلند ارشاد فرمایا، ”ہمارے صبر کا امتحان نہ لو خبر نویس! تمام احوال بالتفصیل بیان کرو۔“
خبر نویس نے عرض کیا، ”حضور کا غلام ماہِ مارچ میں برق رفتار گھوڑے پر سوار اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ جب شہنشاہ جہانگیر کے شہر شیخوپورہ سے گزر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بدنہاد شخص ایک تیز دھار آلے سے دوسرے نوجوان کا گلا کاٹ رہا تھا گویا شہ رگ کٹنے کے قریب تھی۔ وہ جوان لہو میں غلطاں اپنی جان کی بازی لگا رہا تھا۔ اگرچہ اس مغلوب جوان کی جان بچ گئی، لیکن قوتِ گویائی متاثر ہو چکی ہے۔ عالی جاہ! صد افسوس کہ آپ کی سلطنت میں ایسا ظلم ایک نصرانی (مسیحی) نوجوان کے ساتھ روا رکھا گیا۔“
بادشاہ سلامت کی چشمِ غضبناک کے تیور بھانپ لینے کے باوجود خبر نویس نے سخن (بیان) جاری رکھا۔ ”ماہِ اپریل میں بندۂ ناچیز رعایا کے حالاتِ زار معلوم کرنے شہنشاہِ اکبر کے ایک معزز درباری حافظ میراک کے نام پر آباد کیے گئے شہر حافظ آباد کے کوچہ و بازار میں سرگرداں تھا کہ کیا دیکھتا ہے کہ چند بدباطن افراد نے معصوم بچوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ وہ انہیں کچھ اشیائے خورد و نوش تقسیم کر رہے تھے۔ بعد ازاں علم ہوا کہ ان خبیثوں نے بچوں کو زہر ملا کر کچھ میٹھا کھانے کو دیا اور بالآخر تین معصوم روحیں عالمِ جاودانی کو سدھار گئیں۔ اب کی بار بھی اس ظلم و بربریت کا نشانہ نصاریٰ (مسیحی) تھے۔“
ظلِ سبحانی دو احوالِ سُن کر غضب سے تمتما اُٹھے اور اپنے جامۂ شاہی کو جھٹکتے ہوئے گویا ہوئے، ”اے خبر نویسِ! اگر یہ سخن دروغ (خبر غلط) ثابت ہوا، تو اس کی سزا تجھے بھگتنا ہو گی۔“ اُس نے بہ حدِ تعظیم سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے بہ اندازِ اقرار سر ہلایا اور عرض کی کہ ایک تازہ احوال گوش گزار کرنے کی اجازت چاہتا ہے۔ اجازت ملنے پر عرض کرنے لگا۔
”بندۂ ناچیز ماہِ رواں میں فوج ظفر موج کے احوال کی جستجو میں شہنشاہِ اسکندرِ اعظم کے شہر ساگلہ اور آج کا سیالکوٹ کہلانے والے شہر کے دورے پر تھا کہ مخبرِ صادق نے اطلاع دی کہ ایک خودسر شخص نے حدودِ ریاست میں اپنی عدالت برپا کر رکھی ہے اور ایک بے گناہ شہری پر آہنی سلاخوں سے تشدد کر کے اُس کے جسدِ نازک میں میخیں پیوست کر دی ہیں اور وہ جوان بھی جامِ شہادت نوش کر گیا ہے۔ اس احوال میں بھی نکتۂ نازک یہی ہے کہ مقتول نوجوان نصرانی (مسیحی) تھا۔“
ظلِ سبحانی غیظ میں آ کر تختِ شاہی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اہلِ دربار پر سکوت طاری ہو گیا۔ دفعتاً بادشاہ سلامت نے بہ اندازِ حکم استفسار فرمایا، ”اے خبر نویس! اور کچھ؟“ خبر نویس نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرض کیا، ”ظلِ سبحانی! نصرانیوں (مسیحیوں ) کی جوان بیٹیوں کا اغوا، جنسی زیادتی، جبراً تبدیلی مذہب، عبادت گاہوں پر حملے اور مذہبی آزادی کے فقدان سمیت درجنوں معاملات تاحال تشنۂ حل طلب ہیں۔“
بادشاہ سلامت نے وزیرِ خاص کو ان معاملات کی نگرانی کرنے، انصاف کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کرنے اور ایک کابینہ تشکیل دینے کی ہدایت فرمائی نیز وقائع نگار کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، ”نقش کرو کہ آئندہ سے جو جس کے ساتھ جیسا سلوک روا رکھے گا، ویسا ہی بدلہ پائے گا۔ گویا دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔ اہالیانِ دربار یک زباں ہو کر کہنے لگے، حضور کا اقبال بلند ہو!“ ۔


