حرکت کا سائنسی تصور ( 15 )
ورنر ہائزنبرگ (متوفی 1976 ء) جرمنی میں پیدا ہوا اور میونخ یونیورسٹی میں سومرفیلڈ کا شاگرد تھا۔ عالم شباب میں اس نے افلاطون کی کتاب ٹیمئیس کا مطالعہ کیا جس سے وہ شدید متاثر تھا۔ افلاطون کے ہاں دنیا کے تمام مظاہر کو سمجھنے کے لئے مخصوص جیومیٹری رکھنے والے چند اجسام کافی تھے جن کی مختلف سمٹریز کو استعمال میں لا کر متعدد اشیاء کی وضاحت کی جا سکتی تھی۔ افلاطون کا ریاضیاتی، یا زیادہ درست کہیں تو ہندسی پیمانہ ہائزنبرگ کو بہت بھایا اور وہ بھی اپنے دور کے ریاضی کی مدد سے دنیا کو سمجھنے پر متوجہ رہا۔ 1922 ء میں جرمنی میں منعقدہ ’بوہر میلہ‘ میں اس کی ملاقات نیلز بوہر سے ہوئی اور بوہر اس سے بہت متاثر ہوا اور اسے کوپن ہیگن آنے کی دعوت دی۔ اس سے پہلے وہ گوٹنگن میں میکس بورن (متوفی 1970 ء) کے ساتھ کام کرچکا تھا۔ میکس بورن، اس دور کے عظیم ریاضی دان ڈیوڈ ہلبرٹ (متوفی 1943 ء) کا شاگرد رہ چکا تھا جس کے زیر اثر بورن اور پھر ہائزنبرگ وغیرہ قائل تھے کہ فزکس کی بنیادوں میں موجود ریاضی کو صحیح اور واضح بنیادوں پر قائم کرنا ہو گا۔
جون 1925 ء میں ہائزنبرگ واپس گوٹنگن میں آیا۔ ان دنوں وہ مخصوص قسم کے ارتعاشندوں (آسیلیٹرز) کی صحیح کوانٹم وضاحت تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن وہ بخار کی وجہ سے تقریباً معذور تھا۔ اس نے شمالی سمندر کے قریب ہیلیگولینڈ کے جزیرے پر گرمی کی چھٹیاں گزاریں، جہاں اسے امید تھی کہ سمندری ہوا کچھ راحت دے گی۔ وہاں وہ اکیلا کام کرتا رہا اور پرانے کوانٹم نظریے کو ایک نئے طریقے سے دیکھنے کے قابل ہو گیا۔ جو بات ہائزنبرگ کے لئے فیصلہ کن ثابت ہوئی وہ یہ تھی کہ فزکس کی درست وضاحت کے لئے صرف ان مقداروں سے کام لیا جائے جو تجربے میں قابل مشاہدہ ہیں۔ بوہر کے ایٹمی ماڈل میں الیکٹران کے مدار، ناقابل مشاہدہ ہیں۔ جو چیز قابل مشاہدہ ہے وہ ایٹم سے نکلنے والی روشنی کی شدت اور پولرائزیشن ہے۔ اس نے سوچا کہ تمام کلاسیکی قوانین جیسے نیوٹن کے قوانین حرکت میں موجود طبعی مقداروں جیسے پوزیشن یا مومینٹم کو قابل مشاہدہ مقداروں کے فنکشنز کے مخصوص مجموعے (سیریز) کی شکل میں لکھا جائے۔ ایسے مجموعے کو فوریئر سیریز کہتے ہیں۔ فوریئر (متوفی 1830 ء) نے ایک تجزیاتی طریقہ کار دریافت کیا تھا جس کے مطابق فزکس یا انجینئرنگ میں استعمال ہونے والے تمام ریاضیاتی فنکشنز کو سائن اور کوسائن فنکشن کے مناسب اجتماع سے بدلا جاسکتا ہے۔ ہائزنبرگ نے پوزیشن اور مومینٹم کو ٹرانزیشن ایمپلی ٹیوڈ کی فوریئر سیریز کی شکل میں لکھنا شروع کیا۔ ٹرانزیشن ایمپلی ٹیوڈ سے مراد وہ کمپلیکس مقدار ہے جو الیکٹران کے دو مداروں کے درمیان ’کوانٹم جمپ‘ لگانے کا امکان بتاتی ہے۔ ہر ٹرانزیشن ایمپلی ٹیوڈ، دو صحیح اعداد پر مشتمل ہوتا ہے جو ان دو مداروں کے کوانٹم اعداد ہیں۔
فوریئر سیریز کی مدد سے ہائزنبرگ نے الیکٹران کی پوزیشن کو ایک عدد سے بیان کرنے کے بجائے دو کمپلیکس اعداد کو عمودی اور افقی ترتیب دے کر ایک قالب کی شکل میں لکھا۔ اور اسی طرح مومینٹم کا قالب لکھا۔ ان قالبوں میں ایک عجیب خوبی جو اس نے دیکھی وہ یہ ہے کہ دو قالبوں کا حاصل ضرب، اس ترتیب پر منحصر ہے جس میں ان کو ضرب دیا گیا ہو۔ عام اعداد میں ایسا نہیں ہوتا۔ دو کو تین سے ضرب دیں تو چھ بنتا ہے اور تین کو دو سے ضرب دیں تو بھی چھ بنتا ہے۔ مگر قالبوں میں ایسا لازمی نہیں۔ اس خصوصیت کو نان کمیوٹیبل ہونا کہتے ہیں۔ قالبوں کا نظریہ ریاضی دان آرتھر کیلے (متوفی 1895 ء) نے پہلے ہی ایجاد کر رکھا تھا مگر ان دنوں فزکس میں اس کا کوئی خاص استعمال نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے ہائزنبرگ اور شروع میں میکس بورن فوری طور پر یہ پہچان نہ سکے کہ ہائزنبرگ نے پوزیشن اور مومینٹم کو حقیقی اعداد کے بجائے کمپلیکس اعداد پر مشتمل میٹرکس یا قالب کے ریاضی سے بدل دیا ہے۔ ہائزنبرگ نے قالبوں کے الجبرے کی مدد سے انرجی کے کوانٹا کی درست ریاضیاتی توجیہ پیش کی اور گزشتہ تجربات جیسے ایٹم کی سپیکٹرل لکیروں کی وضاحت کی۔ یہ سب کام اس نے ایک ہی رات میں انجام دیا اور اگلی صبح طلوع آفتاب کے ساتھ اس نے کوانٹم میکانیات کے ریاضی کی بنیاد رکھ دی۔
ہائزنبرگ نے اپنے استاد میکس بورن اور اس کے ایک اسسٹنٹ جورڈن کے ساتھ مل کر 1926 ء میں ایک عظیم مقالہ لکھا جس نے کوانٹم میکانیات کو میٹرکس الجبرے کی بنیاد پر قائم کیا۔ اس مقالے میں انہوں نے دکھایا کہ ان کا ریاضی، غیرمعمولی زی مین اثر، سپکیٹرل لکیروں اور ان کی شدت کی درست مقداریں پیش کرتا ہے۔ کچھ عرصے بعد پاؤلی نے بوہر کا ایٹمی ماڈل اس میٹرکس الجبرے کی بنیاد پر پھر سے اخذ کر لیا۔ 1927 ء میں پاؤلی نے الیکٹران کی سپن کے لئے بھی میٹرکس تیار کیے جنہیں اب پاؤلی کے سپن میٹرکس کہتے ہیں۔ کوانٹم میکانیات کی مزید درست اور واضح ریاضیاتی بنیاد برطانوی پال ڈیراک (متوفی 1984 ء) نے پیش کی۔ ڈیراک کو ہمیشہ مساواتوں میں ریاضیاتی خوبصورتی متوجہ کرتی تھی۔ بلکہ مشہور ہے کہ ڈیراک کے مطابق اگر کوئی مساوات خوبصورت نہیں ہے تو درست بھی نہیں ہو سکتی (یہ کوئی فطری قانون نہیں بلکہ مزاج کی بات ہے ) ۔ ڈیراک کے سپروائزر رالف فاؤلر (متوفی 1944 ء) نے اسے ہائزنبرگ کا مقالہ پڑھنے کے لئے دیا۔ اس نے دیکھا کہ میٹرکس کی یہ خوبی کہ وہ نان کمیوٹیبل ہیں، انہیں مشہور کلاسیکی کلیہ یعنی پوئساں کی بریکٹ کے قریب لے جاتی ہے۔ لہذا، پوزیشن اور مومینٹم کی کوانٹم خصوصیات کو ایک کمیوٹیٹر سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ کمیوٹیٹر ہمشہ پلانک کے مستقل کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔ اس سے یہ راز افشا ہوا کہ دراصل کوانٹم میکانیات اس پیمانے کی فزکس ہے جہاں پلانک کے مستقل کی قیمت اہم ہوجاتی ہے۔ اگر پلانک کا مستقل صفر کے قریب ہو تو یہ کلاسکی فزکس بن جاتی ہے۔ 1926 ء تک ڈیراک نے کوانٹم میکانیات کو لینیر الجبرے کی ریاضیاتی زبان میں منتقل کر دیا تھا۔
اگرچہ میٹرکس میکانکس نے ایک بہت زبردست ریاضیاتی طریقہ فراہم کیا تھا جس سے کسی بھی کوانٹم سسٹم کی قابل مشاہدہ مقداریں جیسے الیکٹران کی توانائیاں اور ٹرانزیشن ایمپلی ٹیوڈ وغیرہ نکالنا آسان اور ممکن ہو گیا تھا، مگر اس سے یہ نہیں سمجھا جا سکا تھا کہ ایٹم کے اندر کیسے طبعی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اس تشریح کے لئے کوانٹم میکانیات کی ایک نئی شکل یعنی ویو میکانکس یا لہر میکانیات سامنے آئی۔ پرنس لوئی دی بروئے (متوفی 1987 ء) فرانس کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے 1911 ء کی سالوے کانفرنس کی رپورٹ کا مطالعہ کر رکھا تھا۔ جنگ عظیم اول میں وہ الیکٹرک ٹیکنیشن کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے اور اسی دوران ان کی دلچسپی کلاسیکی برقی مقناطیسیت کے نظریہ میں پیدا ہوئی۔ وہ 1909 ء کے آئن سٹائن کے لہر و ذرہ کی دہریت والے مقالے پر سوچ بچار کر رہے تھے جب ان کے سامنے ایک سیدھا سادہ سوال آیا کہ اگر روشنی جو کلاسیکی اعتبار سے لہر ہے مگر کوانٹم اعتبار سے ذرے کی طرح کام کرتی ہے، تو کیا عام ذرات بھی لہروں کی طرح کام کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو الیکٹران جو ایک ذرہ ہے اس کی بھی وہی خصوصیات ہوں گی جو ایک لہر کی ہیں یعنی اس کی طول موج یا فریکوئنسی ہوگی۔ مزید اس سے بوہر کے کوانٹائزیشن کے قانون کی بھی وضاحت ہو سکے گی۔
ایک الیکٹران جو نیوکلیس کے گرد مدار میں حرکت کرتا ہے، اگر اسے لہر سمجھا جائے تو یہ اپنے مدار میں ایک ساکن لہر (سٹیشنری ویو) بنائے گا۔ اس ساکن لہر میں ایک خاص حد کی طول موج (ویولینگتھ) ممکن ہو سکتی ہے۔ اس طول موج کو دی بروئے کی طول موج کہتے ہیں اور آئن سٹائن کی خصوصی نسبیت اور انرجی کوانٹا کی مساوات سے اس طول موج کا فارمولا ملتا ہے جس کے مطابق طول موج، جسم کے مومینٹم کے راست معکوس ہے۔ جب طول موج، کسی جسم کے سائز کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو کوانٹم اثرات کا ظہور ہوتا ہے۔ جیسے ایک تیز اڑتی کرکٹ گیند کے لئے طول موج اتنی چھوٹی ہے کہ ہم اسے انسانی آنکھ سے دیکھ نہیں پاتے مگر الیکٹران کے لئے طول موج اس قدر طویل ہے کہ وہ قابل مشاہدہ کوانٹم اثرات ظاہر کر سکتا ہے۔ پرنس لوئی دی بروئے نے 1923 ء میں اپنا مقالہ شائع کیا تھا۔ اس مقالے نے کوانٹم نظریے کی پیچیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ آئن سٹائن نے تو یہ کہا تھا کہ روشنی کی لہریں، ذرات پر مشتمل ہیں مگر لوئی دی بروئے نے اضافہ کیا کہ ایٹمی پیمانے پر ذرات بھی لہریں بن جاتے ہیں جنہیں ’مادی لہریں‘ بھی کہتے ہیں۔ 1927 ء میں امریکی سائنسدانوں ڈیوڈسن (متوفی 1958 ء) اور جرمر (متوفی 1971 ء) نے تجربے میں دیکھا کہ نکل کرسٹل میں سے الیکٹران ایسے ہی گزرتے ہیں جیسے لہریں ( جیسے ایکس ریز) کسی جسم سے گزرتی ہیں جس سے دی بروئے کی مادی لہروں کا ثبوت ملتا ہے۔
ایرون شروڈنگر (متوفی 1961 ء) جو آسٹریا میں پیدا ہوئے اور مشہور ویانا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، کو دی بروئے کے مادی لہروں کے تصور نے بہت متاثر کیا۔ وہ چاہتا تھا کہ ان لہروں کی حرکیات کو بیان کرنے کے لئے ایک مساوات لکھے۔ کسی بھی لہر کی حرکت کو بیان کرنے کے لئے جو مساوات استعمال ہوتی ہے اسے ویو ایکویشن کہتے ہیں۔ جیسے میکسویل نے روشنی کی بطور لہر حرکت کے لئے ایک ویو ایکویشن لکھی۔ ویو ایکویشن ایک قسم کی پارشل ڈفرینشل مساوات ہوتی ہے جس کو حل کرنے سے زمان و مکاں میں لہر کی حرکت معلوم ہوتی ہے۔ شروڈنگر نے انیسویں صدی کے ریاضی دان ولیم ہملٹن (متوفی 1865 ء) سے استفادہ کیا۔ ہملٹن نے نیوٹن کی ذراتی میکانیات کے قوانین کو آپٹکس کے قوانین کی شکل میں لکھا تھا۔ شروڈنگر نے ہملٹن کی مساوات کی نقل کرتے ہوئے، دی بروئے کی مادی لہروں کی ایک مفروضہ مساوات لکھی۔ شروڈنگر کی ویو ایکویشن کو حل کرنے سے ایک فنکشن ملتا ہے جسے ویو فنکشن کہتے ہیں۔ شروڈنگر مساوات کا عمومی بیان یوں ہو سکتا ہے کہ ویو فنکشن کی وقت میں تبدیلی کی شرح، ہیملٹونین آپریٹر کے و یوفنکشن پر عمل کرنے کے نتیجے کے تناسب میں ہوتی ہے۔ ہیملٹونین ایک آپریٹر ہے جو کسی سسٹم کی کل توانائی (کائنیٹک اور پوٹینشل توانائی) کو ظاہر کرتا ہے۔ آپریٹر ایک ریاضیاتی آلہ ہے جو ایک فنکشن کو دوسرے کسی فنکشن میں تحلیل کرتا ہے۔ اگر کسی سسٹم کا ہیملٹونین معلوم ہو جائے تو شروڈنگر مساوات کی مدد سے اس کا ویو فنکشن اور توانائی معلوم ہوجاتی ہے۔
جنوری 1926 ء میں شروڈنگر نے پہلا مقالہ لکھا۔ اس مقالے کا مقصد، پرانے کوانٹم نظریے سے جان چھڑانا تھا جس میں الیکٹران ایک مدار سے دوسرے میں چھلانگیں لگا کر توانائی خارج کرتا ہے۔ بوہر اور ہائزنبرگ کے برعکس، شروڈنگر کا مقصد تھا کہ وہ کلاسیکی مظاہر جیسے گٹار سے نکلنے والی آوازوں کی طرح کسی بنیادی فریکوئنسی یا ہارمونک سے ایٹم میں سے توانائی کے اخراج کی وضاحت کرے۔ اس کی مساوات سے ہائیڈروجن کے سپکیٹرم کی درست وضاحت ہو جاتی ہے۔ ہائیڈروجن ایٹم کے لئے الیکٹران کا ہیملٹونین لکھیں، اسے شروڈنگر کی مساوات میں ڈالیں اور اس کو حل کریں تو جو ویو فنکشن ملتا ہے وہ مشہور سفیریکل ہارمونک کی شکل میں لکھا جاسکتا ہے جو کلاسیکی فنکشن ہے جیسا کہ شروڈنگر نے چاہا تھا۔ اس نے انتھک محنت سے بوہر اور ہائزنبرگ وغیرہ کے ماڈل کے نتائج ازسرنو اپنی مساوات سے دریافت کیے۔ آج بھی قریباً ساری کیمسٹری، کچھ بیالوجی اور زیادہ تر فزکس میں شروڈنگر کی مساوات کو حل کرنا ہی مقصود ہوتا ہے۔ اس سے کسی بھی مالیکیول یا ایٹم یا پیچیدہ نظاموں کو سمجھنے اور ان کی طبعی مقداریں نکالنا بہت آسان ہوتا ہے۔
شروٖڈنگر کی مساوات کی تمام تر کامیابی کے باوجود، یہ ایٹمی دنیا میں کلاسیکی دنیا کے قوانین لاگو کرنے میں مکمل کامیاب نہیں ہو سکی۔ اول، الیکٹران کا ویو فنکشن، نیوکلیس کے گرد مکان میں پھیلا ہوا ہوتا ہے جبکہ الیکٹران بطور ذرہ خود ہمیشہ خاص مقامات پر ہی ملتا ہے۔ دوم، ویو فنکشن حقیقی اعداد کا (رئیل فنکشن) نہیں بلکہ کمپلیکس فنکشن ہے۔ کمپلیکس فنکشن اگرچہ ریاضیاتی اعتبار سے مکمل مفہوم رکھتے ہیں لیکن یہ طبعی منظر کشی کے لئے کافی نہیں کیونکہ جو چیز بھی تجربے میں پیمائش ہوتی ہے وہ حقیقی اعداد میں بیان ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ، ہائزنبرگ کی میٹرکس مساواتیں، خالص تجریدی تصورات معلوم ہوتی تھیں مگر وہ بھی ان مظاہر کی ویسی ہی پیش گوئی کرتی تھیں جیسی کہ شروڈنگر کی مساوات سے ہوتی ہے۔ ہائزنبرگ کی میٹرکس میکانیات، ڈسکریٹ مقداروں پر مشتمل تھی جبکہ شروڈنگر کی مساوات، متسلسل مقداروں پر مشتمل ہے۔ ہائزنبرگ نے ٹرانزیشن ایمپلی ٹیوڈ کی امکانی نوعیت کی بات کی جبکہ شروڈنگر کی مساوات، ویو فنکشن کی وقت میں حرکت کو امکانی نہیں بلکہ تعیینی بتاتی ہے۔ پہلے پہل یہ اعتراض بھی تھا کہ ہائزنبرگ اور شروڈنگر دو الگ نظریات رکھتے ہیں۔ مگر 1926 ء میں شروڈنگر نے ہی بالآخر یہ ثابت کیا کہ ہائزنبرگ کی میٹرکس میکانیات اور اس کی اپنی ویو میکانیات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ دونوں، مختلف انداز سے ایک ہی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ پیچیدہ معاملات میں ہائزنبرگ کی میٹرکس میکانیات کا ریاضی بہت پیچیدہ ہو جاتا ہے اس لئے شروڈنگر کی سادہ مساوات کی طرف رجوع کرنے کا رواج آج بھی عام ہے۔


