تعاون کے منکر، تبدیلی کے دشمن


ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں ہر شخص تبدیلی کی بات تو کرتا ہے، لیکن جب وقت آتا ہے کسی اجتماعی مقصد میں عملی تعاون کا، تو اکثریت یا تو خاموش ہو جاتی ہے یا راہِ فرار اختیار کرتی ہے۔ یہ خاموشی کبھی محض لاپروائی نہیں ہوتی، بلکہ اکثر دانستہ بے حسی ہوتی ہے۔ وہی بے حسی جو کسی اور کے دکھ میں شریک ہونے سے روکتی ہے، کیونکہ اُس میں ذاتی فائدہ شامل نہیں ہوتا۔

ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں ہماری ایک رہائشی سوسائٹی میں پیش آیا، جہاں ہزار سے زائد گھرانے آباد ہیں۔ ہم نے کچھ ذمہ دار افراد کے ساتھ مل کر ایک ویلفیئر گروپ قائم کیا تاکہ سوسائٹی کے مسائل کو اجتماعی طور پر حل کیا جا سکے۔ ایک دن ہمارے گروپ میں ایک خاتون نے اپنے چھوٹے بچے پر بائیک کی ٹکر کا تکلیف دہ واقعہ شیئر کیا۔ وہ رو رہی تھیں، اور چیختے ہوئے انصاف مانگ رہی تھیں۔ میں اور میرے ایک دوست راؤ ارشد صاحب نے فوراً اُن خاتون کے گھر جا کر صورتِ حال جانی، اور مسئلے کا فوری حل  نکالا۔

اسی دوران ایک حیرت انگیز حقیقت نے ہمارے قدم روک دیے، یہی فیملی چند ہفتے پہلے ایک اور سنگین مسئلے پر تعاون سے انکار کر چکی تھی، حالانکہ ان کے گھر پر سی سی ٹی وی کیمرے لگے تھے۔ اُس وقت اُن کا کیمرہ خراب تھا، لیکن آج جب اُن کے اپنے بچے پر آنچ آئی، تو نہ صرف کیمرہ  آن تھا، بلکہ پچھلے ایک سال کی ریکارڈنگ بھی دستیاب تھی۔ تب کسی اور کے لیے تعاون نہیں تھا، آج اپنے لیے فوری مدد اور انصاف درکار تھا۔

یہ واقعہ معاشرے کے ایک بدترین رجحان کی عکاسی کرتا ہے : ذاتی مفاد پرستی۔ ہم تب تک کچھ نہیں کرتے جب تک براہ راست ہمیں کوئی نقصان نہ ہو۔ ہم اجتماعی مسئلے کو ”کسی اور کا مسئلہ“ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ لیکن جب وہی تکلیف ہمارے آنگن میں آتی ہے، تو ہمیں دنیا بھر کی ہمدردی اور فوری ردعمل چاہیے ہوتا ہے اور ہم نے یہ تجربہ بارہا کیا کہ چند دن پہلے جس مسئلہ پر افراد کوئی بات نہیں کرتے جب وہی مسئلہ اُن کا یا اُن کی فیملی کا بنتا ہے تو اس پر ایسی دلیلیں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ کیا کہنے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق، انسان کا دماغ فطری طور پر ”سیلف پریزرویشن“ موڈ پر ہوتا ہے اور فطرتاً  اپنی ذات کو مقدم رکھتا ہے۔ یعنی خود کو اور اپنے مفادات کو محفوظ رکھنا۔ لیکن باشعور اور باکردار انسان وہ ہے جو دوسروں کے درد کو بھی اپنا درد سمجھتا ہے۔ جو لوگ صرف تب متحرک ہوتے ہیں جب کوئی فائدہ یا ذاتی ضرورت ہو، وہ درحقیقت تبدیلی کے سب سے بڑے عملی منکر ہوتے ہیں۔ وہ صرف خود کے لیے جیتے ہیں، اور ایسی زندگی معاشرتی شعور کی نہیں، حیوانی جبلت کی علامت ہے کیونکہ ایک جنگلی جانور اپنے ساتھ اپنی اولاد اور بسا اوقات اپنی نسل کی حفاظت کے لئے بھی اقدام کرتا ہے اور ایسا سماج جو صرف اپنے لئے یا صرف اپنے بیوی بچوں کے لئے کام کرے وہ سماج حیوانیت سے نچلے درجے پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے میں تبدیلی کی سخت ضرورت ہوتی ہے اور اُس سماج کو انسانیت کے درجے پر لانا بے حد ضروری ہوتا ہے۔

بسا  اوقات سب سے زیادہ تکلیف دہ رویے وہ ہوتے ہیں جو قریبی دوستوں کی جانب سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کئی بار ایسے دوست انفرادی کاموں کو اس حد تک اہمیت دیتے ہیں کہ اجتماعی مفاد پر مبنی کاموں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ایک بار میں نے ایک دوست سے کہا کہ ہم نے چند طلبا سے ملاقات کرنی ہے تاکہ ان کی رہنمائی کر سکیں۔ اس نے حامی بھری، لیکن عین وقت پر فون کر کے کہنے لگا: ”مجھے ایک ذاتی کام ہے، آپ اکیلے چلے جائیں۔“ میں میٹنگ مکمل کر کے واپسی پر اُس کے گھر گیا تو دیکھا وہ گیٹ کے سامنے گاڑی دھو رہا تھا۔ میں باہر ہی کرسی پر بیٹھ گیا، اس نے چائے منگوائی، مگر تقریباً دو گھنٹے وہ گاڑی دھونے میں مصروف رہا۔ حالانکہ یہ کام کوئی قیمتی نہیں تھا اور وہ خود ایک خوشحال عہدے پر فائز ہے۔ اسی طرح ایک اور قریبی دوست جو ہمیشہ کسی اجتماعی کام کے لیے ”دفتر کی مصروفیت“ کا بہانہ بناتا ہے، ایک دن مال روڈ پر ایک اجنبی فیملی کے ساتھ برگر شاپ پر نظر آیا۔ میں چونکہ اس کے گھرانے کو اچھی طرح جانتا ہوں، اس لیے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ تو وہ ہچکچاتے ہوئے بولا: ”بھائی، یہ میری فیملی نہیں۔ یہ سواریاں ہیں۔“ وہ دفتر سے واپسی پر کریم چلاتا تھا۔ حالانکہ وہ اعلیٰ ملازمت پر ہے، اہلیہ ڈاکٹر ہیں، والدین ریٹائرڈ سرکاری ملازم، گھر اپنا، دو گاڑیاں موجود، کسی مالی تنگی کا شائبہ بھی نہیں۔ یہ رویے صرف انفرادی ترجیحات کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ اجتماعی ذمہ داری سے فرار اور معاشرتی بے حسی کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔

ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ اگر ہم نے صرف اپنے کام، اپنی فیملی، اپنی شہرت، اور اپنی جائیداد کے لیے جینا سیکھ لیا ہے، تو ہم دراصل سوسائٹی کی اصلاح کے دعوے دار نہیں، بلکہ اس کے زوال کے معمار ہیں۔

ہمارے سماج میں تبدیلی کی سخت ضرورت ہے، لیکن یہ ذمہ داری صرف نعرے لگانے سے پوری نہیں ہوتی۔ جن افراد کے پاس علم، وسائل اور اثر و رسوخ ہے، اگر وہ خود کو صرف پلاٹ سے دو پلاٹ، چھوٹی گاڑی سے بڑی گاڑی اور عام زندگی سے لگژری لائف کی دوڑ میں الجھا دیں، تو وہ تبدیلی کے دعوے دار نہیں، بلکہ اس کے سب سے بڑے عملی کافر اور منافق ہیں۔ ایسے لوگ خود فریب میں جی رہے ہیں اور سوسائٹی کو اندھیرے میں دھکیل رہے ہیں۔

یاد رکھیے! تبدیلی انفرادی کوششوں سے جنم لیتی ہے، لیکن وہ اجتماعی تعاون سے ہی پروان چڑھتی ہے۔ اگر ہم آج کسی کے لیے کھڑے نہیں ہوتے، تو کل کو کوئی ہمارے لیے بھی کھڑا نہیں ہو گا اور وہی دن ہو گا جب ہم اپنی بے حسی کا خمیازہ اپنی دہلیز پر بھگتیں گے۔

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

Facebook Comments HS