کچھ لمحات عازمین حج کے ساتھ
حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے۔ یہ ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ یہ ایک نہایت اہم فریضہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک روحانی سفر ہے جو ہماری روح کی پاکیزگی کا باعث بنتا ہے، تاہم یہ سفر جسمانی مشقت سے بھی پر ہوتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ہم اکثر اپنے بزرگوں کے منہ سے یہ سنتے ہیں کہ حج جوانی میں کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جوانی میں انسان کے جسم میں طاقت ہوتی ہے۔ جوان آدمی تمام مناسک حج بوڑھے اور عمر رسیدہ لوگوں کی نسبت سہولت سے انجام دے سکتا ہے۔ حج کی فضیلت کا اندازہ نبی پاک کے فرمان سے لگایئے۔ میرے پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص اللہ کے لئے حج کرے، نہ فحش بات کرے اور نہ گناہ کرے، تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔
اللہ پاک نے تین مرتبہ مجھ گناہ گار کو عمرہ کی سعادت نصیب فرمائی۔ دو عمرے میں نے اپنی والدہ کی ہمراہی میں کیے۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔ جب بھی حج کے موسم کا آغاز ہوتا ہے، میرے دل میں شدید خواہش ابھرتی ہے کہ کاش میں بھی اس سعادت کو حاصل کر سکوں۔ اس مرتبہ ارادے اور خواہش کے باوجود یہ سعادت حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم میری خوش قسمتی کہ مجھے عازمین حج کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع مل گیا۔ چند دن پہلے برادرم شفیق کاشف صاحب کی دعوت موصول ہوئی کہ عازمین حج کے لئے ایک تربیتی ورکشاپ اور ظہرانے کا اہتمام ہے۔ میں نے تینوں عمرے شفیق کاشف صاحب کی عمرہ کمپنی کے توسط سے کیے ہیں۔ میں ذاتی طور پر ان کی کمپنی کے انتظامات کی گواہ ہوں اور معترف ہوں۔ ہم اپنے دوست احباب سے یہ شکایات سنتے رہتے ہیں کہ حج، عمرہ کمپنی نے جن سہولیات کا وعدہ کیا تھا، سعودی عرب میں وہ سہولیات مہیا نہیں کی گئیں۔ کسی کا ہوٹل حرم سے بہت دور ہوتا ہے۔ کسی کو ٹرانسپورٹ کی سہولت پسند نہیں آتی اور کسی کو کھانے کے متعلق شکایات ہوتی ہیں۔ اللہ کے فضل سے میرا تجربہ ہمیشہ نہایت خوش گوار رہا۔ اس کا کریڈٹ شفیق کاشف صاحب کو جاتا ہے۔
حج تربیتی پروگرام میں شرکت کے لئے مقامی ہوٹل پہنچی تو ہال عازمین حج سے بھرا ہوا تھا۔ کاروان اشرافیہ اور سکھیرا ٹریول اینڈ ٹورز نے اس تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ محترم سینیٹر عرفان صدیقی صاحب اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ بھی مدعو تھے۔ اس کے علاوہ دیگر مہمانان اور منتظمین موجود تھے۔ تقریب میں محترم عرفان صدیقی صاحب کے حج عمرہ کے تاثرات پر مبنی کتاب ”مکہ مدینہ“ کا تذکرہ رہا۔ مجھے ذاتی طور پر یہ کتاب نہایت پسند ہے۔ شفیق صاحب نے بتایا کہ حجاج میں اس کتاب کی بہت مانگ ہے۔ مارکیٹ میں اس کتاب کی جتنی کاپیاں تھیں وہ بک چکی ہیں۔ منتظمین کے اصرار پر عرفان صدیقی صاحب نے اپنے پبلشر کو فون کر کے چند سو کاپیاں چھاپنے کی ہدایت جاری کی۔
صدیقی صاحب سٹیج پر آئے تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے تمام عمرے اور حج کے اسفار شفیق کاشف اور ان کے ادارے کے ذریعے کیے۔ صدیقی صاحب نے پہلے حجاج کرام کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے گھر کا بلاوا بہت نصیب اور قسمت سے ملتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ کرے کہ آپ سب بہت آسانی، سہولت، اور صحت کے ساتھ اپنے حج کے فرائض ادا کریں اور اپنے ملک واپس لوٹیں۔ انہوں نے بتایا کہ حج عمرہ کے سفر میں بسا اوقات بہت مشکل اور مشقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اپنا ذاتی تجربہ بیان کیا کہ حج کے دوران ان کی اہلیہ محترمہ شدید علیل ہو گئی تھیں۔ انہوں نے حجاج کرام کو نصیحت کی کہ آپ جب حج کے لئے سعودی عرب جائیں گے تو آپ اس ملک کے بھی مہمان ہوں گے۔ اللہ کے بھی مہمان ہوں گے اور اللہ کے رسول پاک کے بھی مہمان ہوں گے۔ سو آپ مہمانوں والا رویہ اختیار کریں۔ انتظامیہ کی جانب سے آپ کی مہمان نوازی میں کوئی کمی بیشی ہو جائے تو اسے تحمل و بردباری سے برداشت کریں۔
انہوں نے بہت اچھی بات کی کہ یہ حج کی سعادت مال و دولت سے نہیں ملتی۔ فرمایا کہ میں نے بہت دولت مند لوگ دیکھے ہیں۔ وہ دنیا جہان گھومتے ہیں تاہم مکہ مدینہ کی طرف ان کا رخ نہیں ہوتا۔ دوسری طرف نہایت غریب لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ ذرا ذرا سا پیسہ جوڑتے ہیں اور یہ سعادت حاصل کرلیتے ہیں۔ یہ سفر اللہ کے بلاوے اور اس کی منظوری سے مشروط ہے۔ سو آپ سب خوش قسمت ہیں۔ ایک اچھی بات انہوں نے یہ کی کہ ہم حج عمرہ کے دوران نہایت انہماک سے عبادات کرتے ہیں۔ اللہ کے سامنے روتے ہیں، شرمسار ہوتے ہیں۔ لیکن جب واپس آتے ہیں تو ہمارے رویے پہلے جیسے ہو جاتے ہیں۔ بہت اچھا ہو کہ ہم حج سے لوٹیں تو اس کے اثرات ہماری زندگی اور ہمارے رویے میں دکھائی دیں۔
قاسم علی شاہ صاحب نے بھی اپنے روایتی انداز میں حجاج کرام سے گفتگو کی۔ انہیں مبارک باد دی اور کچھ ہدایات دیں۔ تقریب کی ایک اہم بات یہ تھی کہ آئی۔ ٹی ایکسپرٹ آفتاب صاحب نے حجاج کرام کو ”اونلی حج“ کے نام سے ایک موبائل ایپ سے متعارف کروایا۔ یہ ایپ بہت آسان اور عام فہم انداز میں حاجی کو بتاتی ہے کہ آپ کی فلائٹ کب ہے۔ آپ کو کس ائر پورٹ جانا ہے۔ کتنے بجے ائر پورٹ پہنچنا ہے۔ حاجی کے ہوٹل کے قیام، ٹرانسپورٹ، کھانے پینے اور قربانی کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتی ہے۔ اس ایپ میں قرآن پاک اور حج سے متعلق مختلف مواقع پر پڑھنے والی دعائیں بھی موجود ہیں۔
اس عمدہ تقریب میں شرکت کے دوران مجھے ان ستر ہزار پاکستانیوں کا خیال بھی آیا جو خواہش اور ارادے کے باوجود حج کی سعادت سے محروم رہ گئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب سے اعلیٰ ترین سطح پر اس ضمن میں بات بھی کی تاہم دوسری طرف سے بتایا گیا کہ اس وقت ستر ہزار لوگوں کو حج کی اجازت دینا ممکن نہیں ہے۔ بہت سوں نے رقوم بھی مختلف کمپنیوں کو جمع کروائی تھیں۔ تاہم بروقت ضابطے کی کارروائی پوری نہ کرنے کی وجہ سے یہ ستر ہزار حاجی اس سعادت سے محروم رہ گئے ہیں۔ حکومت پاکستان اور متعلقہ وزارت کا فرض ہے کہ اس ضمن میں باقاعدہ تفتیش کر کے ذمہ داروں کا تعین کرے تاکہ پتہ چل سکے کہ حکومتی ادارے اس کوتاہی کے ذمہ دار ہیں یا نجی حج کمپنیاں۔ اس تقریب میں مختلف شعبوں اور مکتبہ فکر کے لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا۔ پتہ چلا کہ حکومت جو حج کروا رہی ہے اس کا ریٹ نجی کمپنیوں کے مقابلے میں کافی کم ہے اور انتظامات نہایت عمدہ ہیں۔ یہ سن کر بہت اچھا لگا کیوں کہ عمومی طور پر کوئی بھی کام یا سرگرمی حکومتی سرپرستی میں ہو تو اس کے بارے میں ہمارا تاثر کچھ منفی سا ہو جاتا ہے۔
اگرچہ مجھے مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملتا رہتا ہے۔ تاہم یہ ایک منفرد تقریب تھی۔ خواتین و حضرات عازمین حج کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ سچ یہ ہے کہ مجھے ان پر بہت رشک آیا۔ میں نے دعا کی کہ اگلے سال اللہ پاک مجھے بھی ان عازمین حج کا حصہ بنا دے۔ آمین۔ یہ دعا بھی کی کہ تمام عازمین حج خیر و عافیت کے ساتھ اس فرض کی ادائیگی کے بعد اپنے اپنے وطن واپس لوٹیں۔ آمین۔


