وہ پاکستانی جس نے آزادی کی جدوجہد اور تعلیم کو عام کرنے کے جرم میں 33 سال جیلوں میں گزارے
باچا خان ایک غدار یا عوام دوست؟ لڑکپن سے ہی میں ان کے بارے میں بہت سی منفی باتیں پڑھتا یا سنتا رہا ہوں۔ لیکن کافی عرصہ پہلے میں نے یہ طے کر لیا تھا کہ جو کچھ بھی سنوں یا پڑھوں، اسے سو فیصد سچ اور حقیقت تسلیم نہ کروں، بلکہ اس میں شک کی گنجائش رکھوں اور خود اس پر تحقیق کروں۔ باچا خان کے بارے میں سچ کی تلاش میری مسلسل کوشش تھی کہ اتفاقاً الجزیرہ چینل نے ان کی جدوجہد پر ایک دستاویزی فلم نشر کی۔ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد میں نے اس کے مواد کا ترجمہ و تخلیص کرنے کا فیصلہ کیا۔
کیا باچا خان اپنی تحریکوں میں کامیاب ہوئے؟ کیا وہ تضادات اور صدمات کے بوجھ تلے بھی ایک اٹل چٹان کی طرح ڈٹے رہے؟ یہ مضمون پڑھنے کے بعد ان کے جوابات کے بارے میں آپ خود فیصلہ کریں۔
ابتدائی زندگی: انقلابی روح کے بیج
ایک امن پرست انقلابی خان عبدالغفار خان جسے باچا خان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، 6 فروری 1890 کو اُتمانزئی میں پیدا ہوئے، جو برطانوی ہندوستان کے شمال مغربی حصے میں واقع تھا (موجودہ خیبر پختونخوا، پاکستان) ۔ وہ ایک خوشحال پشتون خاندان میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد بہرام خان وسیع زمینوں کے مالک اور با اثر شخصیت تھے۔ یہ پسِ منظر انہیں آرام دہ زندگی کی طرف لے جا سکتا تھا، مگر ذاتی اور سماجی تجربات نے انہیں اصلاحات، فعالیت، اور عدم تشدد کی راہ پر ڈال دیا۔
ابتدائی تعلیم کے طور پر باچا خان نے ایک مقامی مدرسے میں قرآن حفظ کیا، بعد ازاں پشاور میں ایک برطانوی مشنری اسکول میں داخلہ لیا جہاں وہ علم اور خیالات کی ایک وسیع دنیا سے روشناس ہوئے۔ ان کے انگلستان میں اعلیٰ تعلیم کے منصوبے ان کی والدہ کی سخت مخالفت کے باعث ترک کر دیے گئے، جس کی وجہ سے وہ اپنی سرزمین کی حقیقتوں سے گہرا تعلق برقرار رکھ سکے۔ ان کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے ایک برطانوی افسر کو ایک سکھ سپاہی کو ذلیل کرتے ہوئے دیکھا جس کے بعد انہوں نے فوج میں شامل ہونے کی بجائے اپنی قوم کو تعلیم، اتحاد، اور عدم تشدد کے ذریعے ترقی دینے کا عہد کر لیا۔
ابتدائی اصلاحات: تعلیم اولین ہتھیار
جہالت اور ناخواندگی کے نقصان دہ اثرات کو محسوس کرتے ہوئے باچا خان نے 1910 میں اُتمانزئی میں ایک اسلامی اسکول کی بنیاد رکھی، جو پشتون معاشرے کو بیدار کرنے کی ان کی طویل مہم کا پہلا قدم تھا۔ ان کا مقصد انقلاب تھا: وہ نو آبادیاتی نظام کو بندوقوں کے بجائے قلم، کتاب، اور تنقیدی سوچ سے چیلنج کرنا چاہتے تھے۔
اس وقت، برطانوی اور روسی تنازعات ”گریٹ گیم“ نے برطانوی پالیسی کو متاثر کیا، جس سے پشتون تحریکوں کے خلاف ان میں خوف پیدا ہوا۔ پھر بھی باچا خان ثابت قدم رہے۔ اگرچہ ان کے ابتدائی ساتھی حاجی صاحب ترنگزئی مسلح مزاحمت کی حمایت کرتے تھے، مگر باچا خان نے عدم تشدد کا مشکل اور طویل راستہ منتخب کیا۔ انہوں نے مسجد میں 40 دن تک تفکر کیا، اور اس دوران اپنے روحانی اور سیاسی عزم کی تجدید کی۔ ان کا عدم تشدد کا یقین مہاتما گاندھی جیسے عالمی رہنماؤں کے نظریات کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔
برطانوی ظلم و ستم اور قیادت کا عروج
برطانوی حکومت نے 1919 میں رولٹ ایکٹ نافذ کیا، جس کے تحت کسی بھی شخص کو بغیر مقدمے کے گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ اس قانون نے ملک بھر میں شدید احتجاج کو جنم دیا۔ انہی دنوں جلیانوالہ باغ امرتسر میں سینکڑوں نہتے مظاہرین کا قتل عام ہوا۔ یہ واقعہ ہندوستان بھر کے لوگوں، بشمول باچا خان پر گہرے اثرات کا سبب بنا۔
چارسدہ میں بھی ایک بڑا احتجاج منعقد ہونے والا تھا، لیکن مقرر غائب ہو گیا جس پر باچا خان کو آگے آ کر تقریر کرنی پڑی۔ پچاس ہزار افراد کے سامنے انہوں نے عزت، خودداری، اور مزاحمت کے حق میں ایک پرجوش خطاب کیا جس نے ان کی قیادت کو عوام میں مضبوط کر دیا۔
انجمن اصلاحِ افغانیہ: منظم اصلاحات
1921 میں باچا خان نے انجمن اصلاحِ افغانیہ کی بنیاد رکھی، جس کے مقاصد یہ تھے :
پشتونوں میں جدید تعلیم کا فروغ
پشتو زبان اور ادب کی ترویج
غلامی اور قبائلی دشمنیوں کا خاتمہ
سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کی حوصلہ افزائی
یہ انجمن پشتونوں میں تعلیم عام کرنے کی کوششوں کا سنگِ بنیاد ثابت ہوئی۔ آزاد اسلامیہ مدارس کے قیام کے ذریعے، تعلیم دور دراز قبائلی علاقوں تک پہنچنا شروع ہو گئی، جس سے برطانوی حکومت کے زیرِ کنٹرول تعلیمی اداروں کی اجارہ داری کو چیلنج کیا گیا۔
خدائی خدمتگار تحریک: خدا کے بندے
مزاحمت کو مزید منظم کرنے کے لیے باچا خان نے 1929 میں خدائی خدمتگار تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کے بنیادی مقاصد تھے :
نوآبادیاتی حکومت کے خلاف عدم تشدد پر مبنی جدوجہد
غریبوں اور محروم طبقات کی خدمت
پشتونوں میں غیر مسلح اتحاد اور خود داری کا فروغ
خدائی خدمت گاروں نے فوجی نظم و ضبط اپنا کر سرخ لباس پہنا، لیکن وہ کسی بھی قسم کے ہتھیار نہیں رکھتے تھے۔ جنگجو سماج میں، جہاں بہادری کو عام طور پر جنگ سے منسلک کیا جاتا تھا، اس تحریک نے امن، خود انضباط، اور سماجی خدمت کو نئی اہمیت دی۔
باچا خان اور مہاتما گاندھی: امن کے اتحادی
اگرچہ باچا خان کے نظریات اپنی جگہ منفرد تھے، مگر ان کی سوچ مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ فلسفے سے گہری مماثلت رکھتی تھی۔ دونوں رہنما ظلم کے خلاف اخلاقی طاقت اور عدم تشدد کو بہترین ہتھیار سمجھتے تھے۔
ان کی دوستی 1930 کی دہائی میں مزید گہری ہوئی، اور باچا خان ہندوستانی نیشنل کانگریس کے قریبی ساتھی بن گئے۔ جہاں گاندھی بنیادی طور پر ہندو اور شہری آبادی میں کام کر رہے تھے، وہیں باچا خان کی مسلمان پشتونوں میں عدم تشدد کی تحریک نے ثابت کیا کہ امن پسندی نسلی یا مذہبی حد بندیوں سے بالاتر ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ گاندھی نے اعتراف کیا کہ پشتونوں میں عدم تشدد پھیلانا بہت مشکل کام تھا۔ انہوں نے کہا: ”ہندو فطری طور پر عدم تشدد کے قریب ہیں، لیکن پشتونوں کو اس پر قائل کرنا ایک معجزہ ہے، جو صرف باچا خان نے حاصل کیا۔“
ظلم و ستم اور قتلِ عام: عدم تشدد کی بھاری قیمت
برطانوی حکام، جو باچا خان کے اثر و رسوخ سے پریشان تھے، نے ان کی تحریک کو شدید جبر و تشدد کا نشانہ بنایا۔ سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا واقعہ قصہ خوانی بازار پشاور کا قتل عام تھا، جب برطانوی فوج نے دو سو پچاس سے زائد پرامن مظاہرین کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ اس ظلم و ستم کے باوجود خدائی خدمت گار تحریک نے کبھی بھی تشدد کا سہارا نہیں لیا۔ اسی طرح کے قتل عام مردان اور جنوبی وزیرستان میں بھی ہوئے، مگر تحریک کے کارکنوں نے عدم تشدد کا راستہ ترک نہیں کیا۔ باچا خان کو کئی بار گرفتار، تشدد، اور ہراساں کیا گیا۔ لیکن ان کا عزم کبھی کمزور نہیں ہوا۔
وہ عام لوگوں کی طرح ریل کے تیسرے درجے میں سفر کرتے، غریب دیہاتیوں کے گھروں میں قیام کرتے، اور خواتین اور مردوں کو اکٹھے کھانے کی ترغیب دیتے جو اس وقت پشتون معاشرے میں ایک غیر معمولی عمل تھا۔
ہندوستان کی تقسیم: ایک مایوسی
جب ہندوستان آزادی کے قریب تھا، مذہبی تنازعات بڑھنے لگے۔ باچا خان نے برصغیر کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی مخالفت کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس تقسیم کے نتیجے میں فرقہ واریت اور دشمنی بڑھے گی، جو ان کے امن و اتحاد کے اصولوں کے خلاف تھی۔
جب کانگریس پارٹی نے تقسیمِ ہند کو تسلیم کیا، تو باچا خان نے مایوسی اور دل شکستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ”آپ نے ہمیں بھیڑیوں کے حوالے کر دیا ہے۔“
پاکستان کے قیام کے بعد باچا خان نے وفاداری کا حلف اٹھایا، مگر وہ پشتونوں کے لیے خود مختاری کی وکالت کرتے رہے۔ ان کے خود مختاری کے مطالبے اور اصلاحی نظریات کے نتیجے میں انہیں نئی حکومت کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
تقسیم کے بعد ظلم و ستم کی انتہا
آزاد پاکستان میں حکومت نے باچا خان اور خدائی خدمتگار تحریک کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا۔ تحریک کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کے کارکن گرفتار کیے گئے، اور اس کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ چارسدہ میں پاکستانی اہلکاروں نے چھ سو سے زائد خدائی خدمتگاروں کو قتل کیا جب وہ پرامن احتجاج کر رہے تھے۔
باچا خان نے برطانوی حکومت سے زیادہ وقت پاکستانی جیلوں میں گزارا۔ انہوں نے پاکستانی جیلوں میں 18 سال اور برطانوی جیلوں میں 15 سال گزارے۔
پاکستانی تعلیمی اداروں کے نصاب میں سے ان کا نام مٹا دیا گیا یا انہیں غدار کہا گیا، ان کی کامیابیوں کو یا تو نظر انداز کیا گیا یا ان کی کردار کشی کی گئی۔
وفات پر جنگ بندی
باچا خان 98 سال کی عمر تک زندہ رہے اور 20 جنوری، 1988 کو وفات پائی۔ ان کی موت نے دشمن ممالک کو بھی یکجا کر دیا۔ ہندوستان، پاکستان، اور افغانستان نے اپنے قومی پرچم سرنگوں کیے اور سوگ منایا۔ جنگ زدہ افغانستان میں سوویت اور مخالف جنگجوؤں نے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تاکہ باچا خان کا جنازہ افغانستان لے جایا جا سکے۔ انہیں جلال آباد، افغانستان میں دفن کیا گیا۔ لاکھوں افراد۔ غریب، عام لوگ، سیاسی رہنماؤں۔ نے جنازے میں شرکت کی تاکہ اس عظیم شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں، جو اپنی پوری زندگی امن، وقار، اور انسانی حقوق کے لیے گزار چکا تھا۔
ورثہ: آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ
پاکستان میں باچا خان کی جدوجہد کو دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا، مگر آج ان کی وراثت کو دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے :
چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی ان کے تعلیمی مشن کی علامت ہے۔
پشاور ائرپورٹ کو ان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
دنیا بھر کے محققین انہیں گاندھی، نیلسن منڈیلا، اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر جیسی شخصیات کے برابر تسلیم کر رہے ہیں۔
انہوں نے ثابت کیا کہ عدم تشدد بزدلی نہیں بلکہ بہادری کی اعلیٰ ترین شکل ہے، جو حتیٰ کہ جنگجو قبائل کو بھی امن کی طاقت دکھا سکتا ہے۔
مترجم کا نوٹ: باچا خان کی ذہنی اور جذباتی کشمکش
باچا خان کو اپنی غیر متشدد تحریک ”خدائی خدمت گار“ کے خلاف بار بار ہونے والی سخت کارروائیوں کی وجہ سے شدید ذہنی اور جذباتی اذیت کا سامنا رہا۔ ان کا عدم تشدد اور پختون اتحاد کا عزم برطانوی راج کے جبر اور بعد ازاں پاکستانی ریاست کی نا انصافیوں اور مظالم کے باعث مسلسل آزمائشوں سے دوچار رہا۔
باچا خان کی ذہنی کشمکش کے اہم محرکات:
1۔ برطانوی استعمار کا جبر، تشدد، اور قتلِ عام
2۔ کانگریس کی پالیسیوں اور تقسیمِ ہند سے ہونے والی مایوسی
3۔ پاکستان میں سیاسی استحصال، قتلِ عام، اور تحریک پر پابندی
4۔ عدم تشدد کے فلسفے اور پختونوں کی انتقامی روایات کے درمیان تصادم
ان تمام مصائب کے باوجود باچا خان نے کبھی تشدد کی راہ اختیار نہ کی۔ ان کا تاریخی قول ہے :
”میں نے انتہائی تکالیف جھیلیں، مگر محبت اور عدم تشدد کی قوت پر سے میرا اعتماد کبھی متزلزل نہیں ہوا“
ان کی تکلیف محض جسمانی نہیں تھی بلکہ ایک گہرے وجودی المیے پر مشتمل تھی۔ اپنی قوم کو ظلم کی چکی میں پستے دیکھنے اور خود بھی بار بار جیلوں میں بند رہنے کے باوجود امن کے دشوار گزار راستے پر قائم رہنا ایک بہت کٹھن فیصلہ تھا۔ تاہم، ان کی وراثت ایک ایسے ناقابلِ شکست انسان کی ہے جو اپنے اصولوں پر ڈٹا رہا، خواہ اسے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔


