کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال: امریکہ کا شام میں فضائی بیس پر میزائل حملہ

امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے شام میں بشار الاسد کے زیر استعمال فضائی بیس کو درجنوں میزائلوں کی مدد سے نشانہ بنایا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایسا قدم بشار الاسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے رد عمل میں کیا گیا ہے جس میں اسی سے زائد شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، "آج رات میں نے اس فضائی بیس پر ٹارگٹڈ میزائل حملے کا حکم دیا جہاں سے کیمیائی ہتھیاروں کو استعمال کیا گیا تھا۔ یہ امریکہ کے قومی مفاد میں ہے کہ ایسے خطرناک ہتھیاروں کے استمال کو ہر صورت روکا جائے”۔

امریکہ کے سینئر فوجی ذرائع کے مطابق 59 ٹام ہاک کروز میزائلوں کی مدد سے الشرات ایئر فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ ان میزائلوں سے انفراسٹرکچر اور شامی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا اور کسی طرح کی ایسی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا جہاں کیمیائی ہتھیار رکھے ہوں۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس حملے کے وقت ایئر بیس پر کوئی روسی جہاز موجود نہیں تھا اور نہ ہی کسی روسی جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پینٹگان نے اس حملے سے پہلے روسی حکام کو خصوصی چینلز استعمال کرتے ہوئے مطلع کر دیا تھا۔

امریکی عسکری ذرائع کے مطابق اس میزائل سٹرائیک کے ذریعہ  بشار الاسد کو پیغام دیا گیا ہے کہ اگر وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا تو امریکہ اس کے خلاف فوجی کارروائی بھی کر سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words