نیا علی گڑھ پبلک سکول مانگا منڈی
ہمارے بی ایڈ کے سالانہ امتحانات ہو چکے تھے لیکن میرے پراجیکٹ کا کام ابھی باقی تھا۔ اس وقت امتحانات میں معروضی سوالات کی ابتدا ہو رہی تھی اور میں نے اسی سلسلے میں قواعد و ضوابط کے مطابق معروضی سوالات تیار کرنا تھے۔ اس لیے امتحانات کے بعد ہوسٹل کے اکثر و بیشتر مکین تو اپنے اپنے گھروں کو کوچ کر گئے لیکن مجھے اپنے پراجیکٹ کی تکمیل تک یہیں ٹھہرنا تھا۔ ابھی دو تین دن ہی گزرے تھے کہ اکرام سے ملاقات ہو گئی۔ اکرام منڈھیالی پیپر ملز کا میرا پرانا کولیگ تھا اور اس نے بھی میرے ساتھ ہی یہاں پر داخلہ لیا تھا۔ شاہدرہ کا رہائشی تھا اور عیال دار آدمی تھا۔ مجھے دیکھتے ہی بولا تم یہاں کیا کر رہے ہو۔ گھر نہیں گئے، میں نے اُسے بتایا کہ ابھی پراجیکٹ کا کام مکمل نہیں کر سکا اس لیے مجبوری ہے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں آج کل نیا علیگڑھ پبلک سکول میں بطور ٹیچر کام کر رہا ہوں وہاں پر کل ہی ایک سائنس ٹیچر کی سیٹ خالی ہوئی ہے۔ تم بھی اپنا بوریا بستر اُٹھا کر وہاں آ جاؤ۔ میں پرنسپل سے بات کر کے تمہاری تعیناتی وہاں پر کروا د وں گا۔ وہاں پر ہماری تنخواہ سرکاری سکول کے اساتذہ کے پے سکیل کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ وہاں پر رہائش اور کھانا وغیرہ فری ہے۔ اگر تم رہائش وہاں پر ہی رکھنا چاہو تو واہ بھلی ورنہ چھٹی کے بعد آرام سے ہوسٹل بھی آ سکتے ہو۔ مجھے یہ پیشکش کافی اچھی لگی اور میں حسبِ پروگرام اگلے دن نیا علی گڑھ سکول پہنچ گیا۔
چوہدری نذیر صاحب یہاں پرنسپل تھے۔ جو سنٹرل ماڈل سکول لوئر مال لاہور کے سابق ہیڈ ماسٹر تھے بلکہ وہ حال ہی میں وہاں سے ریٹائر ہو کر یہاں جائن ہوئے تھے۔ یاد رہے، ہمارا کالج سنٹرل ماڈل سکول کے ساتھ ہی واقع تھا بلکہ یہ دونوں ادارے ایک ہی چاردیواری کے اندر تھے۔ تقریباً دو ماہ پہلے جب پڑھانے کی عملی تربیت کے لیے میری اپنی ڈیوٹی سنٹرل ماڈل سکول میں لگی تو چوہدری صاحب وہاں ہیڈ ماسٹر تھے۔ وہاں پر کئی بار یہ بات میرے مشاہدے میں آئی کہ چوہدری صاحب برآمدے کے کسی ستون کے پیچھے بید ہاتھ میں لیے چھپ کر کھڑے ہیں۔
گاہے بگاہے وہ چور نظروں سے برآمدے کا جائزہ بھی لے رہے ہیں اور جونہی کوئی طالب علم برآمدے میں نظر آتا چوہدری صاحب ستون کی اوٹ سے نکل کر برآمدے میں نمودار ہوتے اور ٹھہر جا ذرا کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا بید اس طرح طالب علم کی طرف پھینکتے کہ بید برآمدے کے فرش کے ساتھ ٹکڑا کر آواز پیدا کرتے ہوئے طالب کی طرف لڑھک رہا ہوتا اور طالب علم بید کے آگے آگے دوڑ رہا ہوتا اور موصوف اپنے بید کے تعاقب میں دوڑتے ہوئے نظر آتے۔
سنٹرل ماڈل سکول اس وقت لاہور کے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک ہوا کرتا تھا اور اس سطح کے تعلیمی ادارے کے سربراہ کا یہ بچگانہ رویہ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ میں اس وقت بھی سوچا کرتا تھا کہ کیا اسے احساس نہیں ہے کہ اس کی یہ حرکت اس کے طلباء کی کردار سازی میں کس قدر منفی اثرات پیدا کر سکتی ہے۔ حالاں کہ اُن کے متعلق عام لوگوں کا خیال تھا کہ بڑے رعب والے ہیڈ ماسٹر ہیں۔ اُن کے اس طرح کے رعب کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنی عملی زندگی میں کبھی بھی اپنے طلباء یا اپنے ماتحتوں پر رعب ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔
میں نیا علی گڑھ پبلک سکول میں پہنچ کر اکرام کی وساطت سے چوہدری صاحب سے اُن کے دفتر میں ملا۔ مجھ سے رسمی طور پر دو چار سوال پوچھنے کے بعد اکرام سے بولے کہ اسے دسویں کلاس میں لے جاؤ اور وہاں پر یہ کلاس کو اُن کا اگلا لیکچر دینا شروع کر دے۔ اسی دوران میں بھی وہاں پر آ کر اسے دیکھ لیتا ہوں۔ اس دور میں اساتذہ کرام کے ساتھ تو تڑاخ کے لہجے میں بات کرنا بھی پرنسپل صاحبان کے رعب داب کی علامت ہوا کرتا تھا۔ بہرحال ہم لوگ کلاس میں آ گئے۔ دسویں کلاس، فزکس کا پیریڈ اور ایٹمی ساخت پر لیکچر۔ یہ سب کچھ جان کر طبیعت باغ باغ بلکہ باغ و بہار ہو گئی۔ یہ پہلا لیکچر تھا جو میں دسویں جماعت کو دینے جا رہا تھا۔ کیوں کہ اس سے پہلے ٹیچر ٹریننگ کے ایک ماہ کے دورانیے میں میں نے ساتویں اور آٹھویں کلاسوں کو پڑھایا تھا۔ میں جب کلاس کے سامنے کھڑا ہوا تو مجھے یوں لگا جیسے بھینس تالاب میں اُتر گئی ہو۔ میں نے لیکچر شروع کرنے سے پہلے صرف یہ سوچا کہ اگر میری جگہ پر میرے آئیڈیل ٹیچر ظفر الحق صاحب تشریف فرما ہوتے تو اُن کا انداز کیا ہوتا۔ بس یہی سوچ کر میں نے بالکل انہی کے انداز میں بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔
بچوں سے چھوٹے چھوٹے سوالات اُن کے جوابات کا تجزیہ، تنقیدی جائزہ اُن کی درستگی، وضاحت لیکچر سبک روی کے ساتھ اس طرح آگے بڑھ رہا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ پوری کلاس مل کر ایٹم کی ساخت کے متعلق مجھے بتا رہی ہے سمجھا رہی ہے۔ ہم سب لوگ سبق میں اس قدر مگن تھے کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ چوہدری صاحب کب یہاں تشریف لائے اور کب اُن کی واپسی ہوئی۔ جذب کی اس کیفیت سے میں اس وقت باہر آیا جب کلاس روم کے دروازے پر کھڑا ہوا ایک استاد مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا تھا۔ جس نے یہاں پر اپنا پیریڈ لینا تھا کیوں کہ میرے والا پیریڈ تو کب کا ختم ہو چکا تھا۔ جب پرنسپل اس کلاس سے میرے متعلق فیڈ بیک لینے گیا تو اکرام بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے بچوں سے میرے متعلق دریافت کیا تو سبھی نے بیک زبان بلند آواز سے کہا کہ اُن لوگوں نے فزکس صرف اور صرف مجھ سے ہی پڑھنی ہے اور اس طرح یہاں پر میری تعیناتی ہو گئی۔
میں یہاں پر ایک بات کا تذکرہ کرتا چلوں جو یقیناً اپنے منہ میان مٹھو بننے والی بات ہو گی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنی تدریسی زندگی میں میں نے جب بھی کسی کلاس کو عارضی طور پر دو چار دن کے لیے پڑھایا تو وہ کلاس مستقل طور پر مجھ سے ہی پڑھنے پر اصرار کیا کرتی۔
ایک بار ایم سی ہائی سکول میں ایک کلاس کے انگلش ٹیچر ایک مہینہ کے لیے چھٹی پر چلے گئے تو میں نے وہ ایک ماہ انہیں انگریزی پڑھائی۔ جب مذکورہ ٹیچر واپس آئے تو اس کلاس کے بچوں نے اس سے انگریزی پڑھنے سے انکار کر دیا اور ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس یہ مطالبہ لے کر پہنچ گئے۔ کہ انہیں حسبِ معمول انگریزی میں ہی پڑھاتا رہوں۔ جب کہ اُن کے انگریزی ٹیچر ایم اے انگلش تھے اور میری انگریزی بھی بس واجبی سی ہی تھی۔ اسی طرح میرے بی ٹی ایم ہائی سکول کے رفیق کار اسلم صاحب کو بھی مجھ سے یہی ایک واحد گلہ ہوا کرتا تھا کہ جب کبھی وہ دو چار دن کے لیے چھٹی پر جاتے اور اُن کی عدم موجودگی میں اُن کے پیریڈز مجھے پڑھانا پڑتے تو واپسی پر انہیں اس سلسلے میں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا اور ایسے مواقع پر وہ عموماً ریچھ اور آدمی کی ایک مخصوص شعبے میں کارکردگی کے موازنے کی پنجابی زبان میں ایک گندی سی ضرب المثل سنایا کرتے تھے۔ جسے میں ہنس کر ٹال دیا کرتا۔
قصہ مختصر یہ کہ یہاں پر میری سائنس ٹیچر کے طور پر تعیناتی کر دی گئی اور رہائش کے لیے ایک چھوٹا سا کوارٹر بھی الاٹ کر دیا گیا۔ اب میں نے ہوسٹل سے سامان اُٹھا کر اپنی رہائش یہیں پر منتقل کر لی۔ گو کہ یہاں پر میرے پرنسپل صاحب سے تعلقات کچھ ایسے اچھے نہیں تھے پھر بھی وقت بہت اچھا گزرتا تھا۔ سارا دن سکول میں مصروف رہتے۔ ڈیڑھ دو بجے چھٹی ہوتی تو ہاسٹل سے کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آ کر سو جاتے۔ شام کو نیند سے بیدار ہو کر نیکر بنیان اور جوگر پہن کر گراؤنڈ میں آ جاتے۔ یہاں پر بچے فٹ بال، والی بال اور ہاکی وغیرہ جیسے مختلف کھیلوں میں مصروف ہوتے۔
میں اپنے گاؤں میں والی بال کھیلا کرتا تھا۔ یہاں بھی میں یہی کھیل کھیلنا پسند کرتا۔ ہم دو ٹیچر والی بال کھیلا کرتے تھے۔ ہم دونوں سکول کے طلباء کو ملا کر اپنی اپنی ٹیم بنا لیتے اور تقریباً ہر روز ہی میچ اور مقابلہ بازی کا سماں ہوتا۔ اسی دوران میں نے اپنے پراجیکٹ کا کام مکمل کر کے جمع کروا دیا کیوں کہ یہاں پر سمیسٹر سسٹم تھا۔ نتیجہ پہلے ہی مکمل تھا۔ مجھے بھی ایک پروویژنل سرٹیفیکٹ جاری کر دیا گیا۔ جس کے مطابق میں بی ایڈ کا امتحان اے گریڈ میں پاس کرچکا تھا اور سائیکلوجی میں میری پہلی پوزیشن تھی۔ اب کیوں کہ میرے پاس لاہور اور ملتان دونوں اضلاع کے ہی ڈومیسائل سرٹیفیکٹ موجود تھے کیوں کہ اس وقت ڈومیسائل سے متعلق یہ قانون تھا کہ جس جگہ پر آپ مسلسل دو سال گزار لیتے تو وہاں کا ڈومیسائل حاصل کر نے کے اہل ہو جاتے اور اسی بنیاد پر بی ایڈ میں داخلہ لیتے وقت میں نے ضلع لاہور کا ڈومیسائل بھی بنوا لیا تھا۔ اس لیے میرا پروگرام یہ تھا کہ میں ملازمت کے لیے لاہور ضلع میں اپلائی کروں گا۔ لیکن انسان کے فیصلے خام ہوتے ہیں اور قدرت کے اٹل۔
اسی دوران ہی ملتان ڈویژن کے سکولوں میں سیکنڈری سکول ٹیچرز کی ریکروٹمنٹ کا اشتہار اخبارات میں آ گیا۔ میں نے یہیں سے درخواست کے ساتھ جملہ دستاویزات لگا کر اسے ملتان ڈائریکٹوریٹ بھجوا دیا اور رابطے کے لیے بھی یہاں کا ہی ایڈریس دے دیا۔ تقریباً ایک ماہ کے بعد انٹرویو اور دیگر اصل اسناد کی چیکنگ کے لیے کال لیٹر آ گیا اور میں یہیں سے ہی ملتان جا کر یہ کام بھی کر آیا لیکن یہ سب کرنے کے باوجود میں اب بھی لاہور ڈویژن میں اساتذہ کرام کی بھرتی کے اشتہار کا بڑی شدت سے انتظار کر رہا تھا۔


