دا کائٹ رنر موضوعاتی مطالعہ : پاکستان کی نمائندگی میں غیر علانیہ تعصب کی جھلکیاں (حصہ اول)
1۔ تعارف اور کہانی کا مختصر خلاصہ
دا کائٹ رنر (The Kite Runner) اس صدی کا مشہور انگریزی ناول ہے جسے افغان نژاد امریکی مصنف خالد حسینی نے تحریر کیا۔ یہ ان کا ڈیبیو ناول تھا جو 2003 میں شائع ہوا اور فوری طور پر عالمی شہرت حاصل کر گیا۔ ناول افغانستان کے سیاسی اتار چڑھاؤ، سماجی عدم مساوات، دوستی، غداری، ندامت اور کفارے جیسے موضوعات کو بیان کرنے کی کوشش ہے۔ یہ کہانی کابل کی پرانی خوبصورتی سے روسی حملے کی تباہ کاری سے ہوتے ہوئے طالبان کے ظلم و جبر تک کے سفر کو دکھاتی ہے۔
کہانی کا خلاصہ:
کہانی کا مرکزی کردار عامر ہے، جو ایک امیر افغان تاجر کا بیٹا ہے۔ عامر کا خاندان کابل میں رہائش پذیر ہے۔ عامر کا سب سے قریبی دوست اور وفادار ساتھی حسن ہے۔ حسن علی کا بیٹا ہے۔ جو اس خاندان کا نوکر ہے اور ہزارہ (Hazara) نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ ہزارہ اقلیت افغانستان میں نسلی نفرت اور تعصب کا شکار ہے۔
عامر اپنے والد کی محبت، توجہ اور پذیرائی کا خواہاں ہے۔ ایک کائٹ فائٹ (پتنگ بازی کے مقابلے ) میں حسن عامر کے لیے آخری پتنگ پکڑنے جاتا ہے، حسن عامر کا کائٹ رنر ہے۔ وہ آخری پتنگ عامر کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہوتی ہے کہ اسے جیت کر وہ والد کی نظر میں کچھ مقام بنا سکتا ہے۔ لیکن اس پتنگ کو پکڑ کر عامر تک لانے کے عمل کے دوران حسن کو محلے کا غنڈہ آصف اور اس کے ساتھی ظلم کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ اسے پیٹتے ہیں اور زیادتی کرتے ہیں جبکہ عامر خاموشی سے یہ سب دیکھتا ہے اور حسن کی مدد نہیں کرتا۔ وہ بزدلی اور خود غرضی دونوں کا شکار ہوتا ہے۔
اس واقعے کے بعد ، عامر شرم اور ندامت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اپنی بے بسی اور خاموش رہنے کے جرم کی آگ سے بچنے کے لیے، وہ حسن پر جھوٹا الزام لگا کر اسے گھر سے نکلوا دیتا ہے۔ جلد ہی افغانستان میں روسی فوج کی یلغار شروع ہو جاتی ہے، ملک کے حالات خراب ہو جاتے ہیں۔ عامر اور اس کا والد کئی جتن کر کے افغانستان سے نکلتے ہیں اور امریکہ ہجرت کر جاتے ہیں۔ دونوں وہاں زندگی کو نئے سرے سے ترتیب دیتے ہیں۔ عامر کو افغان لڑکی ثریا سے محبت ہو جاتی ہے، وہ اس سے شادی کر لیتا ہے۔ اپنا تحریری کیریئر بنانے کی راہ پر ہوتا ہے۔ بابا، عامر کے والد کا بیماری کے نتیجے میں امریکہ میں ہی انتقال ہو جاتا ہے۔
سالوں بعد ، رحیم خان جو عامر کے والد کا دوست تھا اور عامر سے قربت اور لگاؤ رکھتا تھا عامر کو امریکہ سے بلاتا ہے۔ عامر کو پتا چلتا ہے کہ حسن دراصل اس کا سوتیلا بھائی تھا اور اب قتل ہو چکا ہے۔ حسن کے بیٹے سہراب کو طالبان کے ظلم سے بچانا عامر کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ عامر اپنی ماضی کی کوتاہیوں کا کفارہ ادا کرنے اور اپنی توبہ و نجات، ضمیر کے اطمینان کی خاطر خطرات مول لے کر سہراب کو بچاتا ہے۔ وہ اسے امریکہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے، اسے قانونی طور پر اپنا بیٹا بنا لیتا ہے۔
کائٹ رنر قربانی، تلافی، پچھتاوے اور نجات جیسے موضوعات پر مبنی ہے اور دکھاتی ہے کہ سچی معافی اور کفارہ کس قدر مشکل مگر ضروری ہوتے ہیں۔
2۔ پاکستان کی نمائندگی میں غیر علانیہ تعصب کی جھلکیاں
کسی بھی ناول میں منظر نگاری اور لہجہ (tone) دو اہم ترین اجزاء ہیں۔ ان کے استعمال سے مصنف قاری کو وہ محسوس کرواتا ہے جو اس کی مراد تھی، کیوں کہ محض الفاظ اور جملے اس مقصد کی تکمیل کے لیے ناکافی ہوتے ہیں۔ کائٹ رنر کی منظر نگاری اور لہجے میں ایک خاص چبھن، ایک ناگواری سی در آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جب وہ پاکستان کا ذکر کرتا ہے۔ پڑھنے والے اسے نظر انداز کر سکتے تھے اگر کچھ اور مقامات کے لیے بھی ناول نگار نے وہی لہجہ برقرار رکھا ہوتا۔
ناول کا مرکزی کردار تین ممالک میں رہنے اور رکنے کا تجربہ حاصل کرتا ہے۔ افغانستان، پاکستان اور امریکہ، اور تینوں کے متعلق اس کی آرا میں فرق ہے۔ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے مصنف غیر علانیہ طور پر متعصب ہو جاتا ہے۔ وہ بظاہر غیر جانبدار لگتا ہے، مگر قریب سے دیکھیں تو اس کے لہجے میں ایک غیر علانیہ تعصب، ناپسندیدگی یا سرد مہری کا تاثر ضرور محسوس ہوتا ہے۔ کچھ حوالوں، مثالوں اور تجزیے سے بات واضح کرتے ہیں :
1۔ پشاور شہر اور اس کے روز مرہ پر رائے
خالد حسینی نے پشاور میں قیام کے دوران پشاور شہر کی زندگی، فضا اور ماحول پر کچھ جملے تحریر کیے ہیں :
”Peshawar was a city of gossips… You couldn ’t fart without the neighbors talking about it for days.“
— Chapter 16
یہ ایک مزاحیہ جملہ ہے، مگر اس میں پشاور کے شہریوں کو غیر مہذب، فضول گو اور فضول تجسس رکھنے والا دکھایا گیا ہے۔
”The streets of Peshawar were clogged with rickshaws, minibuses, and pedestrians.“
— Chapter 16
یہ سطر شہری بدنظمی اور افراتفری کو ظاہر کرتی ہے۔ یہاں حسنِ ترتیب یا جمالیاتی پہلو ایک طرف کر دیے گئے ہیں۔ آخر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی کسی نئے شہر میں جائے اور وہاں اسے کوئی ایک چیز بھی نہ بھائے؟ وہی ثقافت اور پشتونیت جس پر کابل میں رہتے ہوئے عامر کو فخر تھا پشاور میں ٹھہرتے ہوئے اسے وہ نظر ہی نہیں آتی۔
”Even the trees seemed dusty, wilting under the weight of heat.“
یہاں بھی گرد، دھول کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھا گیا جو ماحول سے زیادہ مصنف کے ذہن پر جمی ہوئی تھی۔
”I felt like a tourist in my own country, in a city that felt both foreign and vaguely familiar.“
— Chapter 16
یہ جملہ ایک بے گانگی اور کچھ حد تک سرد احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ عامر کا تعلق کابل، افغانستان سے ہے، مگر وہ پشاور سے اجنبیت اور بیگانگی محسوس کرتا ہے۔ جو تہذیبی، لسانی اور ثقافتی اعتبار سے اس کے اپنے شہر کا جڑواں ہے۔
پھر اسی شہر نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ مصنف نے غلطی سے بھی اس بات کا کہیں پر اعتراف نہیں کیا۔
2۔ اسلام آباد میں قیام کا تجربہ اور احساسات:
اسلام آباد میں عامر چند روز سہراب کے ساتھ قیام کرتا ہے، جہاں اس کا تجربہ زیادہ تر بے چینی، سرکاری عدم تعاون، اور جذباتی تھکن سے جڑا ہے۔
کچھ اقتباسات ملاحظہ کریں :
”The room smelled of disinfectant and loneliness.“
— Chapter 24 (hospital in Islamabad)
یہ جملہ اسلام آباد کے ہسپتال میں سرد مہری اور اجنبیت کے ماحول کو بیان کرتا ہے۔ جب کہ اسی ہسپتال نے ہی سہراب کی زندگی بچائی تھی۔
”The walls were grimy, the receptionist bored, the fan squeaking overhead.“
— Chapter 24
یہ جملہ اسلام آباد کے اندرونی سرکاری ڈھانچے کی غفلت، بوسیدگی اور بد صورتی اور نا اہلی کو دکھاتا ہے۔ جیسے یہاں کہیں کسی چیز میں نظم یا سلیقہ ہے ہی نہیں۔ ایک اور جگہ کہتا ہے :
”Islamabad was different from the other cities I had seen in Pakistan. Clean, orderly, and green.“
یہ جملہ بظاہر تعریف پر مبنی ہے، لیکن لہجے میں حیرت ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کو خود یقین نہیں کہ پاکستان میں کوئی شہر صاف ستھرا اور منظم ہو سکتا ہے۔
”The hotel room had become our little prison, a place where time crawled and hope thinned.“
یہ جملہ نہ صرف سہراب اور عامر کی ذہنی کیفیت اور اندرونی بے آرامی دکھاتا ہے، ساتھ ہی یہ اسلام آباد کو ایک ایسے مقام کے طور پر پیش کرتا ہے جہاں زندگی محض وقت گزاری ہے۔ جہاں ہر چیز بیگانہ، سست اور تعاون نہ کرنے والی ہے۔ جہاں خوش امیدی کا کوئی تصور بھی نہیں۔
3۔ سفارت خانے میں پاکستانیوں کا سرد رویہ:
”I want to see the man in charge. The man in charge is watching TV.“
— Chapter 18 (Islamabad scene)
یہ اقتباس بیوروکریسی کی عدم توجہی، اور غیر پیشہ ورانہ رویے کی نشاندہی کرتا ہے، جو مصنف نے پاکستان کے سرکاری اداروں کے لیے مخصوص کر دیا ہے جب کہ دیگر جگہوں پر ایسا طنز نہیں۔
4۔ پاکستانی حکام کا عامر پر بدگمان ہونا:
”You are not his father? Then why do you want to take him to America?“
— Chapter 24
یہاں پاکستانی افسر کا رویہ مشکوک، متشدد اور غیر حساس دکھایا گیا ہے، جبکہ یہی تجربہ اگر افغانستان یا امریکہ میں ہوتا تو مصنف ممکنہ طور پر اسے ”systematic“ کہہ کر الگ رنگ دیتا۔ (مجھے خیال آتا ہے کہ مصنف سے کہوں نائن الیون کے بعد کچھ ان لوگوں کے متعلق بھی لکھیں جنہیں امریکی ہوائی اڈوں پر روکا گیا اور ان کے کپڑے اتار کر تلاشی لینا سسٹم کا حصہ بن گیا۔ اس باب میں بھی کچھ ارشاد فرمائیں )
5۔ پاکستانی سماج سے اجنبیت:
I longed for the clean streets of America, the smell of grass after the rain, the silence. ”
— Amir in Islamabad
یہ جملہ پاکستانی ماحول کو غیر صاف، شور زدہ اور بے آرام ظاہر کرتا ہے۔ جب کہ یہ منظر عامر کی ناسٹالجیا اور امریکہ کی مثالی (آئیڈیل) تصویر کشی میں شدت پیدا کرتا ہے۔ وہ بتا رہا ہے یہاں کی تو بارش کے بعد گھاس کی خوشبو تک وہ نہیں ہے جو امریکہ کی ہے۔
افغانستان میں مصنف کی جڑیں ہیں، اور امریکہ میں اس کا مستقبل بھی ہے اور وہاں اسے ماضی سے نجات بھی دکھائی دیتی ہے جو کہ بیرونی حقائق میں درست بھی ہے۔ جبکہ پاکستان اس کے لیے ایک مجبوری ہے جو کہیں نقشے پر موجود ہے۔ جسے وہ جھیل رہا ہے۔ (بے چاروں کا ڈیورنڈ لائن کا غم غلط نہیں ہو پایا، کسی جگہ، کسی موقع اور کسی مقام پر بھی نہیں )
6۔ امریکی سفارت خانے میں برا برتاؤ:
عامر جب امریکی سفارت خانے جاتا ہے تو وہاں کے اہلکار کا رویہ اس پر یہ احساس مسلط کر دیتا ہے کہ وہ ایک ایسا فرد ہے جس کی کوئی حیثیت و شناخت نہیں :
”The man at the embassy looked at me like I was filth. Like I belonged nowhere.“
یہ واقعہ ویسے تو امریکی سفارت خانے کا ہے، مگر یہ پاکستان میں رونما ہوتا ہے اور مصنف کی بیان کردہ کہانی میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ یہ دکھا رہا ہو کہ یہاں کسی سے بھی برتنے کا کیا انداز ہے۔
7۔ سہراب کی خودکشی کی کوشش پاکستان میں :
سہراب کی خودکشی کی کوشش محض ایک نفسیاتی ردِ عمل نہیں بلکہ ایک علامتی واقعہ ہے۔ کہانی کے اس موڑ پر پاکستان اُس جذباتی بنجر زمین کی علامت ہے جہاں نہ ماضی سے نجات ممکن ہے، نہ مستقبل کی ضمانت۔ پلاٹ کے اس حصے کے لیے جغرافیائی مقام پاکستان کا ہے۔ جب کہ سہراب نے اس سے کہیں زیادہ مظالم اور تکلیف افغانستان میں سہی۔ وہ ایسا کوئی قدم وہاں بھی اٹھا سکتا تھا مگر اس نے یہ کرنے کے بجائے ”ڈانسنگ بوائے“ کی حیثیت پر صبر کر لیا اور پاکستان پہنچ کر اس کے عامر سے گلے شکوے شروع ہوئے، بے اعتباری پیدا ہوئی اور نوبت خودکشی تک آ گئی۔ یعنی پاکستان ایسی جگہ ہے جہاں آ کر لوگوں کی امیدیں ختم ہو جاتی ہیں۔ (ڈانسنگ بوائے ایک مخصوص اصطلاح ہے جو افغانستان کے اخلاقی و سماجی ڈھانچے میں موجود ہے، آپ اسے گوگل کر لیں )
افغانستان، پاکستان اور امریکہ کے متعلق بتاتے ہوئے مصنف کے لہجے اور فکر کا تقابل:
کابل کو یاد کرتے ہوئے حسینی کی نثر میں ایک ناسٹالجیا، رنگین یادوں اور بچپن کی خوشبوؤں کی آمیزش محسوس ہوتی ہے :
”Kabul had become a city of ghosts for me. A city of harelipped ghosts.“
یہ جملہ المیہ بھی ہے، مگر ذاتی رشتہ اور محبت کا رنگ بھی رکھتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ رشتہ ختم نہیں ہوا۔
امریکہ کی فضا روشن، امید بھری اور سکون آور دکھائی دیتی ہے :
”The grass after the rain, the silence, the wide open streets.“
یہ سطریں ایک آدرشی اور روح کو تسکین دینے والے مقام کا تاثر دیتی ہیں۔
جبکہ پاکستان میں ادبی منظرنگاری گرد، گرمی، شور، بدبو، بدنظمی اور اجنبیت پر مشتمل ہے :
”The streets were clogged with rickshaws…“
”Even the trees seemed dusty.“
”The room smelled of disinfectant and loneliness.“
مصنف براہِ راست پاکستان کو نشانہ نہیں بناتا، لیکن غیر علانیہ تعصب انفرادی تجربات، کرداروں کی آراء، ان کے لہجوں اور پاکستان کے ماحول کی تصویر کشی کے ذریعے جھلکتا ہے۔
یہ تعصب شاید خود مصنف کے افغان مہاجر ہونے کے تجربے سے جڑا ہے کیونکہ 1980 کے عشرے میں افغان مہاجرین کو پاکستان میں بے شمار مشکلات کا سامنا رہا، جن کا عکس اس ناول میں جھلکتا ہے، لیکن یہ یک طرفہ بیانیہ کہلاتا ہے کیونکہ پاکستانی عوام کی مہمان نوازی، قربانیاں یا مثبت پہلو زیر بحث نہیں آتے۔ (آپ اسے موجودہ حالات پر بھی قیاس کر سکتے ہیں، جب وفاقی حکومت افغان مہاجرین کو سیکیورٹی رسک قرار دے کر ان کے آبائی ملک روانہ کر رہی ہے تب بھی خیبر پختونخوا کی مقامی حکومت اس فیصلے کی مخالف ہے، وہاں افغانوں کے لیے ہمدردی بھی ہے اور جگہ بھی، وہ وہاں کھل کر کھیل سکتے ہیں )
یہ ناول افغان معاشرت اور تارکینِ وطن کے تجربات پر ایک اہم بیانیہ ہے۔ تاہم، ناول میں پاکستان کی جو تصویر کشی کی گئی ہے، وہ غیرجانبدار نظر نہیں آتی۔ پاکستان کی نمائندگی میں نہ صرف خاموشی بلکہ غیر مرئی تعصب محسوس ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعصب ہے یا مصنف کے ذاتی تجربے کی سچائی؟ شاید دونوں۔ لیکن چونکہ خالد حسینی کا بیانیہ کثیرالمطالعہ قاری تک پہنچتا ہے، اس ناتے اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ پاکستان کی تصویر میں توازن لاتے۔ جہاں برائیاں بتائی ہیں، چند اچھائیوں کا ذکر بھی کر دیتے۔ (غوری اور غزنوی کے زمانے سے افغان اس زمین کی مٹی سے اگنے والے اناج سے اپنا پیٹ بھر رہے ہیں مگر مجال ہے کہ کبھی وہ اس امر کو شکریہ سے تسلیم کریں )
ناول نگار کا بیانیہ افغانستان کے ساتھ جذباتی ہے، امریکہ کے ساتھ امید اور رومان بھرا، مگر پاکستان کے لیے نہ جذبات ہیں نہ احترام، بس ایک ضرورت کی سرزمین ہے، جس سے جلد از جلد نکل جانا ہی بہتر ہے۔

