فکری دیوالیہ پن
جاوید اختر نے جب یہ کہا کہ اگر اُنھیں پاکستان اور جہنم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ جہنم جانا پسند کریں گے تو اُنھوں نے محض ایک تلخ فقرہ نہیں اچھالا بلکہ اپنی اُس شناخت کو بھی مجروح کیا جس کی بنیاد پر وہ دہائیوں سے خود کو ترقی پسند اور بائیں بازو کا ہم خیال قرار دیتے آئے ہیں۔ فکری دیوالیہ پن تبھی آشکار ہوتا ہے جب کسی دانشور کے الفاظ اُس کے اپنے نظریاتی دعووں سے کھلے تضاد میں آ کھڑے ہوں اور یہی تضاد جاوید اختر کے حالیہ بیان میں صاف دکھائی دیتا ہے۔
ترقی پسند روایت سامراج قومی شاونزم اور مذہبی تنگ نظری کے خلاف صف آرا رہی ہے۔ اسی روایت کا تقاضا ہے کہ ہم سیاسی تنقید کو ریاستی و معاشی ڈھانچوں تک محدود رکھیں عوام کو نہیں۔ مگر جاوید اختر نے پورے پاکستانی سماج کو جہنم کے مترادف ٹھہرا کر گویا وہی رویّہ اپنایا جس کے خلاف بایاں بازو اصولاً کھڑا ہوتا ہے۔
ممبئی کی تقریبِ رونمائی میں اُن پر دو متضاد لیبل چسپاں کیے گئے ہندو انتہا پسندوں نے اُنھیں کافر کہہ کر جہنم کا حقدار ٹھہرایا اور بعض مسلمانوں نے اُنھیں جہادی قرار دے کر پاکستان جانے کا مشورہ دیا۔ اس دباؤ کا ردِّعمل اگر سچا ترقی پسندانہ ہوتا تو جاوید اختر سرحد پار کے کروڑوں محنت کشوں اور مظلوموں کی طبقاتی رفاقت کو اجاگر کرتے۔ لیکن اُنھوں نے ایک پورے ملک کو طنز کا نشانہ بنا کر خود کو اسی تنگ نظر بیانیے کے برابر لا کھڑا کیا جسے وہ اکثر ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔ عجب ستم ظریفی ہے کہ بائیں جانب کھڑے ہونے کا دعویٰ کرنے والا قلم کار خود ایسی قوم پرستانہ تقابلی گالی استعمال کرے جو سامعین کو وقتی لطف تو دے مگر نظریاتی شعور کو زوال کی طرف دھکیل دے۔
بھارت میں اس جملے پر تالیاں بجیں جس سے واضح ہوا کہ اسلاموفوبیا اور پاکستان دشمنی اب پاپ کلچر میں بھی فوری مقبولیت کی کنجی بن چکی ہیں۔ بھارت کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں جہاں قومی شناخت کو مذہبی اکثریت کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے وہاں پاکستان مخالف بیان بازی ایک آسان شارٹ کٹ ہے۔ جاوید اختر نے لاشعوری طور پر اسی رجحان کو غذا فراہم کی اور اس طرح اپنے فکری ورثے پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ فکری دیوالیہ پن کا پہلا نشان یہی ہوتا ہے کہ اصول پس پشت رہ جائیں اور وقتی داد سمیٹنے کی خواہش غالب آ جائے۔
پاکستان میں ردِّعمل بھی شدید تھا۔ سوشل میڈیا پر نوجوان صحافیوں اور لکھاریوں نے اسے ہندوستانی اشرافیہ کی فرعونی نخوت قرار دیا۔ کچھ نے لکھا کہ یہ بیان دراصل بائیں بازو کے اخلاقی زوال کی علامت ہے جہاں شعلہ بیان تنقید اور وائرل کلپ سب کچھ بن چکا ہے مگر عوام کی حقیقی حالتِ زار یا طبقاتی جدوجہد کے مقام پر سنجیدہ گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر جاوید اختر کو پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ یا وہاں کی مذہبی انتہا پسندی پر تنقید مقصود تھی تو اُن کے تیر کا نشانہ واضح ہونا چاہیے تھا۔
ترقی پسند سوچ بنیادی طور پر بین الاقوامیت کی امین ہے۔ کارل مارکس نے جب کہا تھا کہ ”محنت کشوں کا کوئی وطن نہیں ہوتا“ تو مقصد یہی تھا کہ طبقاتی یکجہتی کو قومی سرحدوں سے ماورا رکھا جائے۔ جاوید اختر کے جملے نے اس یکجہتی کو کمزور کیا اور قومی شاونزم کی فضا کو مزید مکدر کر دیا۔ فکری دیوالیہ پن کا دوسرا اشارہ یہی ہے کہ ایک نظریہ ساز اپنی ہی بیان کردہ آفاقیت کو محدود قومی تعصب کے حق میں قربان کر دے۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مقبول دانشوروں کے الفاظ سنگین سماجی اثرات رکھتے ہیں۔ آج کا ڈیجیٹل زمانہ ہر فقرے کو وائرل کر کے لاکھوں کانوں تک پہنچاتا ہے۔ جب کوئی قلم کار کسی قوم کو اجتماعی طور پر مطعون کرتا ہے تو یہ بیان نہ صرف اُس معاشرے کے لوگوں کو زخمی کرتا ہے بلکہ سماجی مباحثے کو مزید مشتعل کر دیتا ہے۔ فکری دیوالیہ پن کا تیسرا نشان یہی ہے کہ دانش ورانہ اظہار معاشرتی پل بنانے کے بجائے دیوار بلند کرے۔
جاوید اختر کے اس طنزیہ بیان پر ترقی پسندوں کو دو کام فوری کرنے چاہئیں۔ پہلا یہ کہ وہ قومی تعصب کی ہر شکل کی بے لاگ مذمت کریں چاہے وہ اپنے ہی حلقے سے کیوں نہ آئے۔ دوسرا یہ کہ وہ حقیقی مسائل بے روزگاری، غربت، مذہبی جنون، صنفی عدم مساوات کو بحث کے مرکز میں واپس لائیں۔ ترقی پسند ادب اور سیاست کا جوہر عوامی دکھ کو زبان دینا ہے نہ کہ جذباتی پوائنٹ اسکورنگ۔ جب کسی ملک کو جہنم کہا جاتا ہے تو اس سے وہاں کے محنت کشوں کسانوں طلبہ اور خواتین کی جدوجہد کی توہین ہوتی ہے کیونکہ وہ اسی زمین پر اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہوتے ہیں۔
اس تمام تر تنقید کا مقصد جاوید اختر کو شخصی طور پر ملامت کرنا نہیں بلکہ اُس روش کی نشاندہی کرنا ہے جو ہماری فکری روایت کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ لفظوں کا استعمال ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر ترقی پسندی کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں اپنی زبان کو بھی ترقی پسند بنانا ہو گا۔ نفرت تحقیر اور قوم پرستی کے الفاظ میں گونجتی ترقی پسندی صرف کھوکھلے نعروں کا مجموعہ رہ جاتی ہے اور یہی فکری دیوالیہ پن کا آخری اور سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔
آخر میں اگر واقعی جہنم اور پاکستان کے درمیان کوئی خیالی انتخاب درپیش ہو تو ایک سچا بائیں بازو دانشور یوں کہے گا ”جہنم تو اُن ظالم طبقات کے لیے ہے جو انسان کا استحصال کرتے ہیں میں اُن محنت کشوں کے ساتھ رہوں گا جو سرحد کے دونوں طرف پس رہے ہیں اور اُن کے شانہ بشانہ یہی دنیا بدلنے کی کوشش کروں گا۔“ ترقی پسند سوچ کا اصل جوہر یہی ہے سرحدوں مذاہب اور قوموں سے بالاتر ہو کر انسان کی تکریم اور انصاف کی جدوجہد۔ اگر ہم اس جوہر کو لفظوں کی سطح پر بھی کھو دیں تو فکری دیوالیہ پن محض ایک اصطلاح نہیں رہتی ایک تلخ حقیقت بن جاتی ہے اور جاوید اختر کا تازہ جملہ اسی حقیقت کا جیتا جاگتا مظہر ہے۔


