منڈی بہا الدین میں ہزاروں سال پرانے سکوں کی کھوج
کیسے ہو جاتا ہے، کیسے ہو گیا مٹی میں گھٹنوں بیٹھ کر ہاتھوں کی انگلیوں کی پوروں سے مٹی کے لمس سے تاریخ کی جھلک محسوس کرنا اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ منڈی بہاءالدین کی سرزمین بچپن سے میرے لیے صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیب کی گواہی ہے جو وقت کے گرد و غبار میں دفن ہو گئی۔ میرے دل میں ہمیشہ یہ جستجو رہی ہے کہ میں اپنے آبائی علاقے کی تاریخ کے ان پہلوؤں کو اجاگر کروں جو کتابوں میں نہیں، بلکہ زمین کے سینے میں دفن ہیں۔
حال ہی میں راقم الحروف، اپنے بیٹوں محمد ثوبان اور معیز الاسلام کے ساتھ ایک تحقیقاتی مہم کے دوران ہمیں تین ایسے سکے ملے جنہوں نے ہماری کوششوں کو ایک نئی سمت دی۔ ان میں سے ایک سکہ قبل مسیح دور سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ سکہ 48 قبل مسیح کے آس پاس کا ہے جو ممکنہ طور پر انڈو سیتھین سے تعلق رکھتا ہے، اب یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ منڈی بہاءالدین کی زمین میں ایسی تہذیبوں کے آثار موجود ہیں جو ہزاروں سال پرانی انسانی تاریخ کا حصہ ہیں۔ منڈی بہاءالدین کے مضافاتی علاقے سے ملنے والا سکہ ہاتھ میں کیا آیا گویا وقت کی گرد میں لپٹا ہوا ایک پیغام میرے ہاتھوں میں تھا۔
اسی سلسلے میں ایک اور اہم دریافت ساہنا سے ہوئی، جہاں ہمیں کشان سلطنت کے عظیم بادشاہ کنشکا کا سکہ ملا۔ کنشکا وہ حکمران تھا جس کا دور بدھ مت کے فروغ اور علمی ترقی کا عہد کہلاتا ہے۔ اس سکے پر کندہ یونانی رسم الخط اور دیوی دیوتاؤں کی تصاویر آج بھی اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہیں۔ اس لمحے کو میں کبھی بھلا نہیں سکتا جب میں نے اپنے بیٹے معیز الاسلام کے ہاتھوں میں وہ سکہ دیکھا۔ وہ چمک، وہ تفصیل، اور وہ تاریخ کی مہک، سب کچھ جیسے لمحے کو امر کر گئی۔
لیکن سب سے اہم اور خاص لمحہ وہ تھا جب ہمیں منڈی بہاءالدین کے علاقے چھیموں کے قریب کھنانہ سے ہندو شاہی سلطنت کا ایک سکہ ملا، جو واضح طور پر ”بھیما دیو“ کا محسوس ہوتا ہے یہ سکہ 928 عیسوی کا ہے جو جتال کے نام سے جانا جاتا ہے یہ سکہ اپنی طرز کا ایک نایاب نمونہ ہے۔ جب اس سکے کو صاف کیا گیا تو اس پر موجود سنسکرت رسم الخط اور ایک طرف دیوی کی جھلک نے دل کو چھو لیا۔ یہ سکہ اس دور کی تاریخ اور تمدن کی جھلک پیش کرتا ہے جب ہندو شاہی سلطنت کابل سے لے کر پنجاب کے میدانوں تک پھیلی ہوئی تھی۔
ان تینوں سکوں کی دریافت میرے لیے محض آثارِ قدیمہ کی کامیابیاں نہیں، بلکہ میری زندگی کے وہ لمحات ہیں جن میں میری زمین نے میرے سامنے اپنی تاریخ خود عیاں کی۔ میں اور میرے بیٹے محمد ثوبان اور معیز الاسلام ان دریافتوں کو نہ صرف محفوظ کر رہے ہیں بلکہ ان پر تحقیق بھی کر رہے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ نشانیاں باقی رہیں۔
میرے نزدیک یہ سکے صرف دھات کے ٹکڑے نہیں، بلکہ ایک تہذیب کی گواہی ہیں۔ ہر سکہ اپنی زبان میں کچھ کہتا ہے۔ کبھی وہ تجارتی روابط کی کہانی سناتا ہے، کبھی مذہبی رجحانات کو ظاہر کرتا ہے، اور کبھی یہ بتاتا ہے کہ ہم کس عظمت کے وارث ہیں۔
بطور مدرس میں اپنے پیارے طلباء کو بھی تاریخ کی دلچسپی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہوں جس کے نتیجے میں وہ ایسے تحقیقی کاموں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
میری یہ کوششیں جاری رہیں گی انشاء اللہ۔ میں چاہتا ہوں کہ میری تحقیق، میرے بیٹوں اور طلباء کی دلچسپی اور میری زمین کی گواہی یہ سب مل کر ایک ایسا ریکارڈ مرتب کریں جو آنے والے وقتوں میں ہمارے ماضی کی سچی تصویر پیش کرے۔



