امرتا پریتم اور دکھوں کے پنجر

ہندوستان کی تقسیم، فسادات اور ہجرت پر لکھی جانے والی بعض کہانیاں ایسی سوہان روح ہیں کہ جنھیں پڑھ کر کوئی حساس انسان سکون کی نیند نہیں سو سکتا، درد و رقت کے یہ زخم خودبخود روح کی گہرائیوں میں اتر کر آپ کا قلبی و ذہنی سکون تہس نہس کر دیتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم جب جب سرحدی اطراف میں پھیلی نفرت کی وجوہات کا تعین کرنا چاہیں گے ہمیں تب تب تاریخ کے اس ہولناک باب کی طرف لوٹنا ہو گا جس نے ہندوستان کی تقسیم کے ان کربناک المیوں کو جنم دیا، جن کے انمٹ نشان ہمارے اجداد کے اجتماعی لاشعور پہ یوں نقش ہوئے کہ آنے والی کئی اداس نسلیں بھی ان دکھوں کا مداوا نہ کر سکیں۔ افسوس! کہ ان سانحات کی لامختتم اذیت آج بھی کسی نہ کسی صورت ان خطوں میں بسنے والوں کے اذہان پر اپنا دل گیر تاثر قائم کیے ہوئے ہے۔
تقسیم کے دردناک المیوں پر لکھنے والوں کی کمی نہیں۔ ہماری تاریخ کے یہ وہ اذیت ناک حوادث ہیں، جنھیں جب بھی پڑھا جائے دل دہل کر رہ جاتا ہے۔ اس تاریخ کے غیر جانبدار مطالعے کے لیے شرط یہ ہے کہ ان سانحات پر وہ ادب بھی پڑھا جائے جو سرحد کی دوسری جانب تخلیق کیا گیا۔ امرتا پریتم جنھیں تقسیم اور فسادات کے دلگداز بیان پر ملکہ حاصل ہے، اپنے ناولٹ پنجر میں دھرتی کے اسی دکھ کو انسانوں کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتی ہیں۔
سرحدی اطراف کی کشیدگی اور بے یقینی کے دنوں میں اس ناولٹ کی باز خوانی نے ہمیں پھر تاریخ کے اس سوختہ باب میں لا کھڑا کیا تھا، جہاں امرتا پریتم ایک ہندو لڑکی پورو کے ہندو مسلم فسادات میں ذاتی انتقام کی نذر ہو جانے کے بعد حمیدہ بننے کی درد بھری داستان کو بڑے درد سے رقم کرتی ہیں۔ کہانی کیا ہے اذیت و کرب کا وہ منظر ہے جس میں نفرتوں کی آگ اور انسانیت کے خون کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ امر کیسا تکلیف دہ ہے کہ تقسیم کے اذیت ناک حوادث نے ایک ہی دھرتی پر رہنے والوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا ڈالا تھا۔ ہماری سوختہ تاریخ سے جڑا اس ناول کا یہ درد بھرا منظر پڑھنے اور محسوس کرنے سے تعلق رکھتا ہے :
”ایک دن اس گاؤں کے لوگوں نے مل کر حویلی پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے ٹھانی کہ وہ حویلی والوں کو ختم کر دیں گے۔ انہوں نے حویلی کے دروازوں اور کھڑکیوں پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ حویلی کے اندر سے آگ کے شعلوں کی مانند اونچی اونچی چیخیں نکل رہی تھیں۔ فوج نے آگ بجھائی اور اندر سے آدمیوں کو نکالا، پھر ان جلتے بھنتے آدمیوں کو ٹرک میں بٹھا لیا گیا، البتہ تین بری طرح جھلسے ہوئے آدمیوں کو باہر نکال دیا گیا، ان کے جسم سے چربی بہہ رہی تھی اور ان کا گوشت آگ میں جل کر ہڈیوں سے الگ لٹک رہا تھا، ان کے گھٹنوں اور کہنیوں سے اندر کا پنجر باہر جھانک رہا تھا۔“
”ٹرکوں میں لوگوں کے بیٹھتے ہی ان تین ادھ جلے آدمیوں نے مارے تکلیف کے سسک سسک کر جان دے دی۔ فوجی ٹرک ان کی لاشوں کو وہیں پھینک کر چلے گئے۔ ان کے گھر والے چیختے چلاتے رہے لیکن فوج کے پاس ان کو جلانے کا وقت نہ تھا۔ گاؤں ویران ہو گیا، اب تین جلی ہوئی لاشیں حویلی کے سامنے پڑی تھیں، جن کے پنجر میں لگے ہوئے گوشت کو دو تین دنوں میں ہی گاؤں کے کتوں اور کوؤں نے نوچ کھایا تھا۔“
انسانی بربریت کے ایسے دہشت ناک مناظر دیکھ کر پورو جیسی معصوم روح یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی کہ:
”کیا اب بھی اس زمین میں سے پہلے کی طرح گندم کی سنہری بالیاں نکلیں گی، جس زمین کے ہونٹوں پر آدمیوں کا خون جم گیا تھا؟ کیا اس زمین سے مکئی کے بھٹوں کی اسی طرح خوشبو آئے گی جس پر یہاں وہاں مردے سڑ رہے تھے؟ کیا یہ عورتیں ان مردوں کے لیے پھر بھی بیٹے جنیں گی جنہوں نے ان جیسی ہی عورتوں کو ذلیل و خوار کر ڈالا تھا؟“
دن رات اذیت، تکالیف، پریشانی اور مصائب کو جھیلتی اور اپنے دکھوں میں جھلستی پورو جیسی اس وقت کی نئی نسل کے لیے مذہب اگرچہ ایک جذباتی سہارے سے زیادہ کچھ نہ تھا، مگر تنگی و تنگ دامانی کے دنوں میں یہی جذباتی سہارا ان کی آس تھا، اسی لیے اپنے دکھ درد میں بھی دوسروں کی خدمت و مدد پر کمر بستہ پورو اپنے نئے پرانے دونوں مذاہب سے مدد لینے پرمجبور ہو جاتی ہے۔ جس وقت وہ اپنی نند لاجو کو شر پسند فتنہ پروروں سے بچانا چاہتی ہے تب اپنے سب پیروں فقیروں کو معصومیت سے کچھ یوں یاد کرتی ہے :
” پورو کو بہت عرصے کے بھولے ہوئے دیوی دیوتاؤں کے نام یاد آئے۔ اس سے پہلے کسی دن خدا کا نام لیتے وقت وہ کہہ دیا کرتی تھی کہ خدا اس کا سوتیلا باپ ہے اور وہ خدا کی سوتیلی بیٹی۔ کیونکہ کسی خدا کو بھی اس کا درد معلوم نہیں، لیکن آج پورو کو سچ مچ خوف سا محسوس ہو رہا تھا۔“
پورو جیسی معصوم لڑکی جسے تقسیم سے قبل ان فسادات میں انتقام کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے مخالف مذہبی گروہ نے نہ صرف اغواء کیا بلکہ اس سے زبردستی شادی بھی کی گئی وہ بار بار اپنے ماضی کو یاد کرتی ہے، اس دن کو بھی جب وہ موقع ملتے ہی وہاں سے بھاگ کر واپس اپنے گھر آئی مگر گھر والوں نے دوسرے مذہب کی طاقت کے سامنے مجبور ہو کر اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، مگر اب تقسیم کے دکھ نے وقت اور حالات کو بدل ڈالا ہے۔ اس اجتماعی سانحے نے ان سب بوڑھے والدین کو حوصلہ دیا ہے کہ وہ اپنی بچھڑی اولادیں واپس حاصل کر سکتے ہیں۔ قبولیت کا یہی احساس پورو کے دل کو مزید دکھی کر دیتا ہے۔ درد سے بھرا ناول کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :
”پورو کے دل میں ہوک سی اٹھی۔ تب اس کے لیے ساری دنیا کے دھرم راستے کے کانٹے بن کر بچھ گئے تھے۔ اس کے ماں باپ اس کو واپس نہیں لینا چاہتے تھے، اس کے سسرال والے بھی اسے واپس نہیں رکھنا چاہتے تھے لیکن اب کیا ہوا؟ کیا سب مذاہب کے غرور ٹوٹ گئے؟ رشید نے پورو کو بتایا تھا کہ اب حکومت کی طرف سے اعلانات جاری ہوئے ہیں کہ زبردستی اٹھائی گئی لڑکیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر واپس کرو تاکہ ان کے بدلے میں دوسری طرف کی تلاش کی ہوئی لڑکیاں ملیں ں اور اب سب لڑکیوں کے ماں باپ انہیں واپس قبول کرنے کو تیار ہیں۔“
تقسیم کے دکھ، درد اور مصائب سے عبارت یہ ناول اس خطے سے جڑے لوگوں کے اجتماعی لاشعور کا عکس ہے، جسے ہر اس شخص کو پڑھنا چاہیے جو سرحدی اطراف میں چھائی حالات کی کشیدگی و گمبھیرتا میں تاریخ کے ان فسادات و حوادث کو جاننا چاہتا ہے، جو اس خطے کے امن و امان کی غارتگری کے اصل ذمہ دار ہیں۔
اس یک نشستی ناولٹ کی اصل خوبصورتی اس کی مختصر ضخامت اور پیپر بیک ایڈیشن ہے جسے درد سے معمور سرورق سے آراستہ کیا گیا ہے۔ ہونہار برادران بک کارنر جہلم محترم گگن شاہد صاحب اور امر شاہد صاحب کا شکریہ اور ان کے لیے بہت سی نیک تمنائیں کہ وہ ہمارے ادبی کلاسیک کے ایسے شاندار و یادگار فن پاروں کو ان کی تزئین اور آرائشِ نو سے حیاتِ نو بخشتے ہیں۔


