انسانی خواہشات: ایک نہ ختم ہونے والا سفر
(غالب کے ایک شعر کی روشنی میں ایک فکری جائزہ)
”گو ہاتھ میں جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے ”۔ غالب
غالب کا یہ شہرہ آفاق شعر محض ایک کمزور جسم کے اندر موجود خواہش کا اظہار نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کی ایک نہایت گہری تصویر ہے۔ اس میں زندگی، موت، لذت، اور خواہش کا وہ کھیل بیان کیا گیا ہے جو صدیوں سے انسان کے ساتھ چلتا آ رہا ہے۔ یہ شعر دراصل ایک زندہ حقیقت کا اعلان ہے : جب تک آنکھوں میں دم ہے، خواہشیں باقی رہتی ہیں۔
انسانی زندگی کا بڑا حصہ ان ہی خواہشات کے تعاقب میں گزرتا ہے۔ بچپن میں کھلونوں کی، جوانی میں محبت و شہرت کی، اور بڑھاپے میں عزت، راحت، یا محض یاد رکھے جانے کی خواہش دل میں موجزن رہتی ہے۔ خواہشیں وقت کے ساتھ اپنی شکل بدلتی رہتی ہیں، مگر ختم نہیں ہوتیں۔ غالب کی آنکھوں میں جو ”دم“ ہے، وہ اصل میں اسی خواہش کی زندگی ہے۔
سائنس اور نفسیات دونوں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انسان ایک ”desire۔ driven creature“ ہے۔ (یعنی شوق سے چلنے والا مخلوق ) مشہور ماہر نفسیات سیگمنڈ فرائیڈ نے انسان کی شخصیت کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ id، ego، اور superego۔ جن میں سے id ہماری بنیادی خواہشات اور جبلتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ فرائیڈ کے مطابق، یہ خواہشات کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں، بلکہ دبتی ہیں، چھپتی ہیں، یا نئی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
اسی طرح، فلسفہ بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے۔ بدھ مت کی بنیاد ہی اس اصول پر ہے کہ زندگی کی تمام تکالیف کی جڑ ”خواہش“ ہے۔ بدھ نے کہا تھا:
”Desire is the root of all suffering۔“ خواہش تمام مصائب کی جڑ ہے
اسی لیے نروان کا مطلب ہے۔ خواہشات سے نجات۔
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے : کیا خواہشات بری چیز ہیں؟ کیا ان سے بچا جا سکتا ہے؟
جواب سادہ ہے : نہیں، خواہشات فطری ہیں۔ وہی تو انسان کو آگے بڑھنے، ترقی کرنے، اور کچھ کر دکھانے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگر انسان میں بہتر زندگی کی خواہش نہ ہو تو شاید وہ کبھی غاروں سے نکل کر شہروں تک نہ پہنچتا۔
اصل مسئلہ خواہشات کا ہونا نہیں، بلکہ ان کی حد کا نہ ہونا ہے۔ جب انسان کی خواہش ایک حد سے آگے بڑھ جاتی ہے، تو وہ اس کے سکون، نیند، صحت، اور رشتوں کو نگلنے لگتی ہے۔ خواہش ایک پیاس کی مانند ہے جو جتنا پانی پیتی ہے، اتنی ہی تیز ہو جاتی ہے۔
معروف امریکی مفکر ایرک فروم نے اپنی کتاب To Have or To Be میں لکھا کہ موجودہ معاشرہ ”To Have“ یعنی ”زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے“ کے اصول پر چل رہا ہے، جبکہ اصل انسانی خوشی ”To Be“ یعنی ”بس ہونے“ میں ہے۔ انسان آج کی دنیا میں اتنا کچھ رکھتا ہے، مگر خود کو کھو بیٹھا ہے۔
ہم روز مرہ زندگی میں اس کا مشاہدہ کرتے ہیں :
ایک شخص جو بڑی گاڑی خریدتا ہے، تھوڑے عرصے بعد اس سے بھی بڑی کی خواہش کرتا ہے۔
جو شہرت حاصل کرتا ہے، مزید چاہتا ہے۔
جو محبت پاتا ہے، اس میں مکمل کنٹرول چاہتا ہے۔
یہ وہ سفر ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔ انسان اپنی تمام عمر دوڑتا ہے، اور جب تھکتا ہے تو یا تو مایوس ہو جاتا ہے، یا پھر ساغر و مینا کی طرح کسی وقتی لذت میں پناہ لیتا ہے۔
غالب کا شعر اسی تھکن، اس جدوجہد، اور اس ناتمام خواہش کا اظہار ہے۔ جسم کمزور ہو چکا ہے، ہاتھ جنبش سے محروم ہو چکے ہیں، مگر دل ابھی بھی کچھ طلب کرتا ہے۔ ساغر و مینا محض شراب کے استعارے نہیں بلکہ ہر اُس لذت، ہر اُس آرزو کی علامت ہیں جو انسان کے دل میں آخر دم تک زندہ رہتی ہے۔
یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ دنیا ہمیں قناعت نہیں سکھاتی، بلکہ مقابلہ، موازنہ، اور مسلسل خواہش کو ہوا دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگی دیکھ کر انسان خود کو کمتر محسوس کرنے لگتا ہے۔ اگر کوئی اپنے حال پر راضی بھی ہو، تو بس ایک تصویر، ایک پوسٹ، ایک لمحہ اُسے پھر سے بے چین کر دیتا ہے۔
خواہش کی یہ بھوک صرف انفرادی سطح پر نہیں بلکہ اجتماعی سطح پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ اقوام آپس میں مقابلہ کرتی ہیں۔ طاقت کے حصول کے لیے، وسائل پر قبضے کے لیے، اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے۔ جنگیں، استحصال، ماحول کی تباہی۔ سب اس نہ ختم ہونے والی انسانی خواہش کے مظاہر ہیں۔
ماہرین نفسیات آج mindfulness، gratitude، اور minimalism جیسے تصورات کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ سب دراصل انسان کو اُس بنیادی سکون کی طرف لے جاتے ہیں جو خواہشات کی بھرمار میں کھو چکا ہے۔
Mindfulness کا مطلب ہے۔ لمحہ موجود میں جینا، ماضی کی پشیمانی اور مستقبل کے خوف سے نکل کر۔ یہ طرزِ فکر انسان کو خود کے قریب لاتا ہے، اُسے اپنے نفس کی چالوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
Gratitude، یعنی شکرگزاری، انسان کو جو کچھ حاصل ہے، اُس پر قانع رہنا سکھاتی ہے۔ جدید تحقیق بھی بتاتی ہے کہ شکرگزاری انسان کی ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہے، ڈپریشن اور بے چینی کو کم کرتی ہے۔
Minimalism، یعنی کم سے کم چیزوں میں جینا، اس دور کی ایک تحریک بن چکی ہے۔ یہ طرزِ زندگی ہمیں بتاتا ہے کہ خوشی اشیاء میں نہیں، تجربات میں ہے۔ قیمتی لمحے، سادہ تعلقات، اور نفس کی آزادی۔ یہ سب اس فلسفے کا حصہ ہیں۔
زندگی کے اس فکری سفر میں، ہمیں خود سے سوال کرنے کی ضرورت ہے : کیا وہ چیز جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں، واقعی ہمیں مطمئن کر دے گی؟ یا وہ محض ایک اور قدم ہے ایک ایسے راستے پر جس کی کوئی انتہا نہیں؟
یاد رکھنے کی بات یہ ہے :
زندگی محدود ہے، وقت قیمتی ہے، اور اصل خوشی باہر نہیں، اندر ہے۔ خواہش کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکتا، مگر اسے سمجھا جا سکتا ہے۔ اور سمجھ بوجھ ہی وہ پہلا قدم ہے جو انسان کو خود سے قریب لاتا ہے۔
غالب کا یہ شعر ہمیں ایک آئینہ دکھاتا ہے۔
آئینہ جس میں ہم اپنی کمزوری، اپنی انسانیت، اور اپنی لامحدود خواہشات کو دیکھ سکتے ہیں۔
اور شاید۔ مسکرا سکتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک دن ختم ہو جائے گا۔ خواہش بھی، ساغر بھی، اور ہم بھی۔
سوال یہ نہیں کہ کیا ہمیں ساغر و مینا چاہیے، بلکہ یہ کہ ہم واقعی کیا چاہتے ہیں؟
اور کیا وہ ہمیں وہ سکون دے گا جس کی ہمیں اصل میں تلاش ہے؟


