سفر حج۔ حصہ دوئم


گروہ عاشقاں پکڑا گیا ہے
جو نامہ بر رہے ہیں ڈر رہے ہیں

حج کے سفر کا ابتدائیہ لکھا تو بہت سارے دوست احباب ایسے تھے جنہیں اس مضمون سے ہی پتہ لگا۔ اور پھر فون کالز، پیغامات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پیغامات کی نوعیت ایسی ہی تھی جیسا مجھے لوگ سمجھتے ہیں، یعنی جو مجھے انتہائی نیک سمجھ رہے تھے ان کے پیغامات میں سبحان اللہ ماشاءاللہ اور خدا کا نام اتنا تھا کہ اگر پیغامات سے یہ الفاظ نکال دوں تو جو بچے اس کا کوئی مطلب نہیں۔ اور جو گروہ دوستاں مجھے واقعی میں جانتا ہے وہ اول اول تو خود کو نوچ کے چیک کر رہا تھا کہ ابے کیا واقعی؟ اوئے سچ بول۔

ان کے پیغامات بھی عجیب سے تھے مطلب ایک پیغام تھا
تو نے 900 چوہے کھا بھی لئے؟
یار اگر تو جا سکتا ہے تو ہم نے کیا قصور کیا ہے؟
یار بات سن ہمیں ان چکروں میں لگا کے خود نیک ہونے جا رہا ہے؟
اچھا سن! دیکھ بدل تو نہیں جائے گا نا۔
کچھ تو اس پریشانی میں تھے کہ۔ یار اب کیونکہ ایمی دھر لیا گیا ہے تو اب یہ ہماری شکایتیں لگائے گا۔
کچھ یوں مطمئن تھے کہ اوہ اس کا مطلب ہے ہم بھی جا سکتے ہیں۔

اچھا میں اس گروہ دوستاں سے تعلق رکھتا ہوں کہ جہاں دوست گالی دے کر بات نہ کرے تو سب سمجھتے ہیں کہ ناراض ہو گیا ہے۔ ہم دوست گالی کو بہت اہتمام سے بہت دل لگا کر بہت اتار چڑھاؤ کے ساتھ اداکرتے ہیں اور ہم اسے اس معاشرے کو برداشت کرنے کا کفارہ سمجھ کہ ادا کرتے ہیں۔ ہمیں کبھی کبھی تو گالی دینے کے لئے کسی بات کی ضرورت بھی نہیں ہوتی یہ ہمارے خود کار ہیلپنگ ورب ہیں۔

تو جناب ایسے میں سب کو تشویش اس پر بھی تھی کہ کہیں میں گالی جیسی تہذیب کو چھوڑ تو نہیں دوں گا۔ کچھ دوست اس پہ اسرار کر رہے تھے، یار دیکھ پہلی گالی مجھے دینا دیکھ دوست نہیں ہے! یار اب تو تیری گالی بھی بابرکت ہوگی۔ ایک دوست نے مشورہ دیا کہ ابے ایمی دیکھ بولنے میں شاید شروع میں تجھے جھجک ہو تو لکھ کے بھیج دیجیو۔

ان سب کے پیغامات پڑھ کر میں تو اس پریشانی میں آ گیا کہ یار اب کرنا کیا ہے یہ تو بڑی عجیب پریشانی میں ڈال دیا کم بختوں نے۔ میں اس پریشانی میں کوئی 3 کپ چائے پی چکا تھا کہ مجھے اگلے ایک ماہ بعد کیسا ہونا ہے۔ اللہ بڑا کارساز ہے اللہ کے خزانے میں واقعی کوئی کمی نہیں اس سے مدد جیسی بھی طلب کرو وہ عطا کرتا ہے پریشانی میں اس سے مانگو وہ رستہ نکال ہی دیتا ہے اور جناب انتہائی معتبر و مستند کمینے دوست فیصی کا پیغام آیا کہ ”ایمی میں نے دو حج کئیے ہوئے ہیں“ ۔ اللہ اللہ ماحول و فضا ایسی خوشگوار ہو گئی دل کو ایسا سکون حاصل ہوا جیسا پاکستانی عوام کو 10 مئی کے جواب سے سکون ملا تھا۔
دو رکعت نفل شکرانے کے پڑھے کہ مولا تو نے کس اضطراب سے کیسی آسانی سے نکالا۔

جب تک یہ مضمون دوستوں تک پہنچے تو شاید میں روضہ رسول پہ ہوں۔ یاد رکھنا کمینو! میں تمہیں نہیں بھولا۔

بقیہ روداد اگلے مرحلے میں۔

Facebook Comments HS