سول سوسائٹی اور دانشوروں کا کردار
پاکستان میں ساٹھ اور ستر کے عشرے میں بائیں بازو کے ایکٹوسٹس کی رہنمائی کے لئے سبط حسن جیسے دانشور، شوکت صدیقی جیسے ادیب اور منہاج برنا اور نثار عثمانی جیسے صحافی موجود تھے۔ سید محمد تقی داس کیپیٹل کا ترجمہ کر رہے تھے، فیض احمد فیض تھے جنہوں نے ضیا الحق کی آمریت کے سیاہ دور میں ہمیں یقین دلایا کہ ”ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے“ مگر ہم کیا دیکھتے کہ چاروں طرف جہالت اور انتہا پسندی کے اندھیرے پھیل چکے تھے۔ اتنے سالوں بعد اسلم گورداسپوری کی کتاب ”سول سوسائٹی اور دانشوروں کا کردار ”ہاتھ میں آئی تو حیرت بھی ہوئی کہ ابھی بھی ایسی باتیں کرنے والے لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ واقعی مایوسی کفر ہے اور یہ بھی ہے کہ آج بھی بائیں بازو کے چھوٹے چھوٹے گروپس اپنے اپنے محدود دائرے میں فعال نظر آتے ہیں۔
جو کچھ ہمیں سکھایا گیا تھا، اسلم گورداسپوری نے بھی بات وہیں سے شروع کی ہے یعنی ہیگل کے فلسفے سے جو سر کے بل کھڑا تھا اور پھر مارکس نے اسے سیدھا کھڑا کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مذاہب کی بات بھی کی ہے اور یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کوئی مذہب بھی ایسا نہیں جو طاقت وروں کے حق میں آیا ہو۔ اور سارے پیغمبر جابروں اور طاقتوروں کی طاقت کو لگام ڈالنے اور دنیا سے بھوک افلاس اور بیماری کو مٹانے کے لئے آئے تھے۔
اسلم صاحب نے ہم پاکستانیوں کو یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں آج تک وہ قوم کامیاب قوم نہیں بن سکی جس کی صرف افواج طاقتور ہوں، جس کے صرف سرمایہ دار اور جاگیر دار طاقت ور ہوں، جس کے صرف مذہبی ٹولے طاقت ور ہوں۔ دوسرے لفظوں میں ملکی ترقی کے لئے سول سوسائٹی کا طاقت ور ہونا ضروری ہے لیکن انقلاب فرانس سے پہلے کسی انسانی معاشرے کو انسانوں کی اجتماعی قوت اور سول سوسائٹی یعنی عام انسانوں کی قوت کا کوئی ادراک نہیں تھا۔ اگر آپ سول سوسائٹی میں دانشوروں کے کردار کا تاریخی پس منظر دیکھیں تو ظاہر ہے بات سقراط سے شروع ہو گی جو نوجوانوں کو سوال کرنا سکھاتا تھا اور جسے سچ بولنے کے جرم میں زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ ہر دور میں ایسے فلسفی، سائنسدان اور محققین رہے جنہیں جرم تحقیق کی سزا ملی۔
گاہ سولی پہ انہیں، گاہ کیا مقتل میں شہید
تیرے دیوانوں پہ اس دنیا میں کیا کیا گزری
اسلم گورداسپوری ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یورپ کی ترقی کی تعریف کرتے ہوئے ہمیں یورپ کے دانشوروں کی جدوجہد، ان کی ثابت قدمی اور ان کی تعلیمات کو نہیں بھولنا چاہیے۔ اپنی کتاب کے ذریعے انہوں نے یہی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ انگلینڈ میں بارہویں صدی میں آکسفورڈ یونیورسٹی بن چکی تھی جس کی تعلیم نے لوگوں کو اپنے آئینی، معاشرتی اور جمہوری حقوق کی تعلیم سے آراستہ کر دیا تھا۔ یہ اس تعلیم ہی کا کرشمہ تھا کہ لوگوں نے صدیوں کی بادشاہت کا خاتمہ کر کے ایک عظیم، جمہوری، عوامی حکمرانی کے نظام والا معاشرہ قائم کر دیا۔ اور اب کسی یورپی ملک یا ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔
عالم اسلام اور سول سوسائٹی کے ضمن میں انہوں نے بڑی تفصیل سے آٹھویں صدی تا 2022 کے تاریخی واقعات اور شخصیات اور ان کے کارناموں کا ذکر کیا ہے۔ ان کی رائے میں مصطفٰے کمال اتاترک، عالم اسلام کا پہلا ترقی پسند فلسفی و دانشور حکمران تھا جس نے ایک مفتوح قوم کو ایک نہایت مختصر وقت میں جدید خیال و فکر کی روشنی دے کر ایک اعلیٰ اقدار کا جدید معاشرہ یعنی سول سوسائٹی تشکیل دی۔
پاکستان کے بارے میں باب اپنی جگہ خود ایک کتاب ہے۔ جس میں وہ بتاتے ہیں کہ تقسیم ہندوستان کے اصل محرک بنگالی تھے۔ مغربی اور مشرقی پاکستان کی صورت حال انہوں نے الگ سے بیان کی ہے۔ قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر اور اسے سنسر کرنے کی کوشش کا بھی تفصیل سے حوالہ دیا ہے۔ آگے چل کر مملکت خداداد کا کیا حشر ہوا، اس کی بھی کہانی بیان کی ہے۔ عالمی سطح پر سول سوسائٹی نے کب کب اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ پہلا واقعہ 1956 کا ہے جب فرانس کی فوج الجزائر پر قبضہ کیے بیٹھی تھی اور الجزائر کے عوام احمد بن بیلا کی قیادت میں آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ خواتین بھی اس جنگ میں شامل تھیں۔ جمیلہ بوپاشا /بوہاری پر جیل میں فرانسیسی فوج کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کی کہانی میں نے بھی بچپن میں پڑھی تھی۔ تب فرانس کے مشہور فلسفی سارتر نے اس کے خلاف عالمی پیمانے پر احتجاج کیا اور اس بربریت کی مذمت کی تھی۔
سول سوسائٹی کی طاقت کا دوسرا مظاہرہ ویت نام کی جنگ میں ہوا۔ اس وقت برٹرینڈ رسل نے انگلستان میں سب سے زیادہ ویت نام کے عوام کے حق میں آواز اٹھائی اور خود امریکہ کے اندر نوم چومسکی اور ان کے ساتھیوں نے یونیورسٹیوں میں جنگ کے خلاف مظاہروں کی راہ ہموار کی۔ برٹرینڈ رسل اور نوم چومسکی نے اس کے خلاف وار کمیشن بنایا۔ پاکستان کے محمود علی قصوری بھی اس کمیشن کے رکن تھے۔ امریکی سامراج ان دانشوروں کے سامنے پسپا ہو گیا۔ کاش پاکستان اور ہندوستان کے دانشور بھی جنگ کے خلاف کبھی ایسی مزاحمت کر سکیں۔ لیکن اسلم صاحب کی رائے میں ایسا ممکن اس لئے نہیں ہے کہ ہم ان کی طرح ترقی یافتہ نہیں ہیں۔
آخر میں، میں یہی کہنا چاہوں گی کہ اس کتاب کے کچھ ابواب اپنی جگہ خود ایک مکمل کتاب ہیں، اس لئے انہیں الگ الگ شائع کیا جا سکتا تھا، یا اسی کتاب میں انہیں واضح طور پر الگ حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ میں اپنی گفتگو اسلم گورداسپوری کے شعر پر ہی ختم کرتی ہوں :
جلے ہیں رات بھر ہم، صبح دم گر بجھ گئے تو کیا
ہماری زندگی کا اصل مقصد ہی اجالا تھا


