فیلڈ مارشل کا عہدہ: جنرل عاصم منیر کی ترقی اور اس کے قومی و عسکری اثرات
حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی ہے۔ اس غیر معمولی پیشرفت کا اعلان وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے ذریعے کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں کیا گیا۔ اس اعلامیے کے مطابق جنرل عاصم منیر کو یہ اعزاز پاکستان کی سلامتی، دفاع اور عسکری قیادت میں ان کی بے مثال خدمات، خصوصاً آپریشن بنیان مرصوص کی کامیاب حکمت عملی، اور حالیہ پاک۔ بھارت کشیدگی کے دوران جرات مندانہ فیصلوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ آرمی چیف نے اس اعزاز کو افواجِ پاکستان، شہدا، غازیوں اور پوری قوم کے نام منسوب کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ اعزاز انفرادی نہیں بلکہ قومی ہے۔ قوم کی امانت ہے، جس کے لیے لاکھوں عاصم قربان کیے جا سکتے ہیں۔“
فیلڈ مارشل کا عہدہ کیا ہے؟
فیلڈ مارشل کا عہدہ کسی بھی فوج کا اعلیٰ ترین عسکری رینک ہوتا ہے، جو فائیو سٹار جنرل کے مساوی ہوتا ہے۔ یہ رینک مخصوص مواقع پر غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے اور اس کا تعلق نہ صرف عسکری قیادت بلکہ ریاستی پالیسی سازی اور قومی سلامتی کے بڑے تناظر سے ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں فیلڈ مارشل ایوب خان کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ کسی آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا گیا ہے۔ تاہم اس بار فرق یہ ہے کہ جنرل عاصم منیر کو یہ رینک جمہوری حکومت کی منظوری سے دیا گیا ہے، جب کہ ایوب خان نے یہ عہدہ خود ہی سنبھالا تھا جب وہ ملک کے صدر تھے۔
ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل طلعت مسعود کے مطابق: ”یہ رینک حکومت کی جانب سے فوجی سربراہ کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے۔“ جب کہ جنرل خالد نعیم لودھی کا کہنا ہے : ”اس بار حکومت نے ازخود یہ اعزاز دیا ہے، جو ایک مثبت اور آئینی روایت کی جانب اشارہ ہے۔“
نتائج اور ممکنہ اثرات
جنرل عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کے طور پر ترقی پاکستان کے عسکری ڈھانچے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس سے نہ صرف فوج کی قیادت کو نیا وقار حاصل ہو گا بلکہ خطے میں پاکستان کے دفاعی عزم اور استحکام کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں داخلی و خارجی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر پاکستان کی بھارت کے ساتھ تعلقات، اور عالمی سطح پر اس کی عسکری پوزیشننگ کے تناظر میں۔ فیلڈ مارشل کا عہدہ بلاشبہ ایک اعزاز ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک قومی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ جنرل عاصم منیر اس رینک کے تقاضوں پر کس طرح پورا اترتے ہیں اور پاکستان کو دفاعی و سفارتی محاذ پر کس سمت میں لے کر جاتے ہیں۔
پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو چکا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترقی نہ صرف افواجِ پاکستان کے حوصلے کی مظہر ہے بلکہ قوم کے اعتماد اور توقعات کی بھی نمائندہ ہے۔ وقت ہی بتائے گا کہ یہ قدم کس حد تک قومی سلامتی، ادارہ جاتی توازن اور خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔


