فیلڈ مارشل کے اعزاز کے حقیقی مستحق عاصم منیر



سوشل میڈیا پر رچائے ہیجانی تماشے سے مرعوب ہوئے افراد روایتی اخبارات کے لئے مجھ جیسے لکھنے والوں سے بھی یہ امید باندھ لیتے ہیں کہ وہ ہر معاملے کو ’’حق و صداقت‘‘ کے پیمانے میں تولیں۔ جو بات درست نظر آئے اس کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں۔ ’’سچ‘‘ کی خاطر نوکری تو کیا جان سے بھی جانا پڑے تو ’’فکر ناٹ‘‘۔ پڑھنے والوں کو ’’سواد‘‘ تو آجائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ ’’قدم بڑھائو ہم…‘‘ نوعیت کی ہلاشیری عموماََ سوشل میڈیا پر بنائے اْن اکائونٹس کے ذریعے ملتی ہے جو لوگوں نے فرضی ناموں سے بنائے ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر غیر ملکوں میں مقیم ہیں۔ مجھے شبہ ہے کہ ان کی اکثریت یورپ اور برطانیہ کے سوشل ویلفیئر کے نظام سے بیروزگاروں کو ملے وظیفے سے گزارہ کرنے کو مجبور ہے اور اپنے دلوں میں اْبلتے اضطراب و غصے کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے میں مصروف رہتی ہے۔ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ جنگل کے شیروں کو شکار کے لئے گھیرنے کو ہونکاکرنے والے گروہ کی طرح یہ افراد صحافیوں کی اکثریت کو اپنی خواہشات کا اسیر بناچکے ہیں۔ پرانی وضع کے صحافی ان کی توقعات پرپورانہ اترنے سے خوف کھاتے ہیں۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہوکر مجھ ایسے لوگ اس گروہ کے خوف سے اعتماد بھی کھودیتے ہیں۔

یہ جو تمہید باندھی ہے اسے پڑھتے ہی اس کالم کے قارئین کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا کہ آرمی چیف سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز ملنا قابل تحسین ہے یا نہیں۔ ناک کو ہاتھ گھما کر پکڑنے کے بجائے سیدھی بات کریں تو 6 اور 7 مئی کی رات سے ہم سے کہیں بڑے اور اقتصادی اعتبار سے بہت طاقتور ہوئے بھارت نے جدید ترین آلات جنگ کے ذریعے پاکستان پر حملہ کیا۔ عالمی سطح پر مستند گردانے ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے تین روز قبل شائع ہوئی ایک رپورٹ کے ابتدائیے میں اعتراف کیا کہ 1971ء کی جنگ کے بعد 2025ء کی 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات پاکستان کو "Expansive”حملے کا سامنا کرنا پڑا۔

جو اصطلاح استعمال ہوئی وہ سادہ ترین الفاظ میں ایسے حملے کا ذکر کرتی ہے جس کے دوران ایک ملک دوسرے ملک کو اپنے پاس موجود تمام تر حربی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے زمین سے لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی رپورٹ میں تاہم ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے بالآخر نتیجہ یہ نکالا کہ پاکستان کے خلاف ہمہ جہتی اور بھرپور حملے کے باوجود بھارت اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہا۔ دْنیا عرصہ ہوا پاکستان کو ’’دہشت گردوں کا سرپرست‘‘ شمار کرتے ہوئے بھلا چکی تھی۔ اس کی معیشت زبوں حالی کا شکارہے۔ بھارت اس کے مقابلے میں سفارتی اور اقتصادی اعتبار سے چھلانگیں لگا کر آگے بڑھتا نظر آ رہا تھا۔ ’’کشمیر‘‘ کا ایشو بھی دنیا بھلا چکی تھی۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات پاکستان سے جنگ چھیڑکر مگر بھارت نے خود کو ایک بار پھر جنوبی ایشیا تک محدود ہوا ایک ملک ثابت کیا ہے جس کا ازلی دشمن پاکستان ہے۔

پاک- بھارت جنگ کو دنیا کا واحد سپرطاقت کہلاتا ملک -امریکہ- ایٹمی جنگ میں بدلتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ اسی باعث امریکی صدر اسے رکوانے کو متحرک ہوئے۔ سات سے زیادہ مرتبہ کیمروں کے روبرو اس کا اظہار کر چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہولناک ایٹمی جنگ انہوں نے رکوائی ہے۔ ان کی کاوشوں کو مگر سراہا نہیں جارہا۔ ٹرمپ کے کردارکو نظرانداز کرتے ہوئے مکدی گل پر آئیں تب بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ بھارت نے جدید ترین جنگی ہتھیاروں کو بروئے کارلاتے ہوئے 6 اور 7 مئی کی رات ہم پر جو جنگ مسلط کی تھی اس کے نتائج ہولناک ہو سکتے تھے۔ ہم نے مگر اس کے حملے کو پسپا کر دیا۔ وہ ناکام نہ ہوا ہوتا تو فقط چار دن بعد ہی جنگ بندی کو آمادہ نہ ہوتا۔ بھارتی حملے کو پسپا کرنے کی کمان جنرل عاصم منیر کے پاس تھی۔ وہ اپنا فریضہ نبھانے میں کامیاب رہنے کی وجہ سے فیلڈ مارشل کا اعزاز حاصل کرنے کے مستحق ثابت ہوئے۔ ’’فیلڈ مارشل‘‘ ہر اعتبار سے ایک اعزازی عہدہ ہے۔ اس کی بدولت آپ کو نیا دفتر نہیں ملتا۔ نہ ہی تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کے اختیارات ’’فیلڈ مارشل‘‘ کا اعزاز مل جانے کے بعد ویسے ہی رہیں گے جیسے منگل کی دوپہر تک تھے۔

ان سے قبل ایوب خان بھی فیلڈ مارشل کہلائے جاتے تھے۔ انہوں نے یہ اعزاز مگرکوئی جنگ لڑے بغیر مضحکہ خیز انداز میں حاصل کیا تھا۔ 7 اکتوبر 1958ء میں اس وقت کے صدر سکندر مرزا نے مارشل لاء لگانے کا اعلان کیا۔ مارشل لاء کا اعلان ہوا تو عسکری قیادت نے فیصلہ کیا کہ ان کی قوت کی بدولت جو ’’انقلاب‘‘ لایا جا رہا ہے اس کا کریڈٹ سکندر مرزا کیوں لے۔ انہیں صدارت سے ہٹا دیا گیا۔ ایوب خان اس کی جگہ صدر منتخب ہوئے تو فیلڈ مارشل کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد جنرل موسیٰ کو افواج کا کمانڈراِن چیف لگانے کے بعد ملک کو صدارتی نظام کے ذریعے ’’خوش حالی‘‘ کی راہ پر چلانا شروع ہوگئے۔ دس سال اقتدار میں رہنے کے بعد مگر استعفیٰ دینے کو مجبور ہوئے۔

جنرل عاصم منیر کی صورت ایسا نہیں ہوا ہے۔ ہمارے ہاں کا ہائی برڈ کہلاتا نظام بھی منگل کے بعد اپنی جگہ موجود ہے۔ وہ 7 اکتوبر 1958ء کی طرح ’’انقلاب‘‘ کا خواہش مند نہیں۔ وزیر اعظم کو پارلیمان نے چنا ہے۔ ان کی قیادت میں قائم ہوئی کابینہ نے بھارتی حملے کو پسپا کرنے میں جنرل عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازنے کی منظوری دی ہے۔ وفاقی کابینہ میں مذکورہ اعزاز کی تجویز دینے سے قبل وزیر اعظم نے صدر مملکت سے مشاورت کی۔ صدر کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ وزیر اعظم کی مسلم لیگ اور صدر کی پیپلز پارٹی کئی برسوں تک جنرل مشرف اور جنرل ضیاء کے لگائے مارشل لائوں کی مزاحمت کرتی رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس کے باوجود جنرل کیانی کی بطور آرمی چیف میعاد ملازمت میں توسیع کی تھی۔ عمران خان ’’بدی کی علامت‘‘ ٹھہرائی دو ’’موروثی جماعتوں‘‘ یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نون) کے مقابلے میں ابھرے یا ابھارے گئے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے آرمی چیف کی میعادِ ملازمت میں تین سال بڑھائے تھے۔ خلیل جبران کی نقالی میں ’’حیف ہے اس قوم پر‘‘ کی دہائی مچانے والے سپریم کورٹ کے پاٹے خان جج آصف سعید کھوسہ کو یہ فیصلہ پسند نہ آیا۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ اس کی سماعت کے دوران بڑھکیں لگانے کے بعد معاملہ پارلیمان کے سپرد کردیاگیا۔ قومی اسمبلی اور سینٹ نے علیحدہ علیحدہ مگر بارہ منٹ کی ریکارڈمدت میں باجوہ کی توسیع کا فیصلہ منظور کرلیا۔ ایک دوسرے کو پارلیمانی فلور پر جھگڑالو عورتوں کی طرح کوسنے دینے کے باوجود تحریک انصاف، مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی نے باجوہ کی معیادِ ِملازمت میں توسیع کے فیصلے کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔ نام نہاد ’’ہائی برڈ‘‘ نظام اس دن سے مستحکم سے مستحکم ترہورہا ہے۔ اس کی وجہ سے اختیارات بنیادی طورپر منتخب سیاستدانوں کے محدود ہوئے ہیں۔ مجھ جیسے دو ٹکے کے صحافی باجوہ کی میعادِ ملازمت میں توسیع کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں کی پھنے خانی بحال کرنے کے لئے لہٰذا نام نہاد حق وصداقت کا ڈھول کیوں پیٹیں۔

(بشکریہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS