رافیل = (Fail۔ Raw)
ماہرین کی ٹیم جائے حادثہ پر پہنچی تو جہاز مکمل تباہ ہو چکا تھا اور کوئی مسافر زندہ نہ بچا تھا۔ ماہرین شواہد اکٹھے کر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک بندر پر پڑی، جس کے گلے میں ائر لائن کا ٹیگ لٹک رہا تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ بندر بھی جہاز میں ہی تھا۔ لہٰذا اسے پکڑ لیا گیا تاکہ حادثے کی وجوہات کا پتہ چلایا جا سکے۔ جنگلی حیات کے قابل ماہرین کی ایک ٹیم بنائی گئی، جس نے بندر کو اشاروں کی زبان میں باتیں سمجھنا کرنا سکھانا تھا۔ بالآخر وہ دن بھی آ گیا جب بندر مکمل تیار ہو چکا تھا۔ تفتیشی بورڈ نے پوچھا کہ حادثہ کتنے بجے ہوا تھا؟ ماہرین نے اشاروں کی مدد سے سوال بندر کو سمجھایا۔ بندر نے اپنی آنکھیں بند کیں اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ہوا میں لہرا دیں جس کا مطلب تھا کہ حادثہ رات دس بجے ہوا تھا۔ اس کے بعد اگلے تفتیشی نے سوال کیا کہ حادثے کے وقت مسافر کیا کر رہے تھے؟ ماہرین نے یہی سوال بندر کو سمجھایا۔ بندر نے اپنے دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنایا، اپنا سر اُس میں ٹکایا اور آنکھیں بند کر لیں جس کا مطلب تھا کہ مسافر سو رہے تھے۔ بورڈ کا اگلا سوال تھا کہ اس وقت پائلٹ اور ائر ہوسٹس کیا کر رہی تھیں؟ بندر نے پھر اسی اشارے سے سمجھایا کہ وہ بھی سو رہے تھے۔ تفتیشی بورڈ نے قدرے حیران ہو کر اگلا سوال کیا کہ تم کیا کر رہے تھے؟ بندر اپنی سیٹ پر اکڑوں ہو کر بیٹھا اور دونوں ہاتھوں گھما کر سمجھانے لگا کہ میں جہاز چلا رہا تھا۔ تفتیشی بورڈ نے اپنے کاغذات اٹھائے اور یہ کہہ کر چلتے بنے کہ جہاز کتنا ہی قیمتی اور محفوظ کیوں نہ ہو، چلانے والا بندر ہو تو کریش ہو ہی جاتا ہے۔
بھارتی فضائیہ کے زیر استعمال فرانسیسی میڈ رافیل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔
سنا ہے کہ اب کی بار پھر وہی گھٹنا گھٹنے پر بھارتی فضائیہ نے اپنے نئے مینوئل میں دو نئی ہدایات کا اضافہ کیا ہے۔ اول: پاکستانی فضا میں چائے کی خوشبو سے پرہیز کریں۔ دوم: اگر غلطی ہو جائے پاکستانی فضاؤں میں یوگا پوزیشن ”پدما آسن“ کو فوراً سے پیشتر ”بھاگم بھاگ آسن“ پر سوئچ کرنا نہ بھولیں۔
فرانس کا دعویٰ تھا کہ ان جہازوں کو گرانا ممکن ہی نہیں، لیکن بھارتی فضائیہ پلک جھپکتے میں ان کے دعوے کو زمین بوس کر کے اِس وقت دنیا بھر سے عزت سمیٹ رہی ہے۔
رافیل سے متعلق جب بھانت بھانت کی بولیاں سربازار نیلام ہونے لگیں تو میں نے ہاشو شکاری کے پاس جانا مناسب سمجھا۔ وہ اپنی بیٹھک میں بہت سے ”جہازوں“ کی موجودگی میں کہہ رہا تھا کہ اڑتے رافیلوں میں بیٹھے بھارتی پائلٹوں نے جب اُڑتے شاہینوں کو دیکھا تو رافیل کے ساتھ ساتھ ان کے ہوش بھی اڑنے لگے۔ جب اُڑتے شاہین اڑتے ہوشوں والے اڑتے رافیلوں کے ساتھ ٹکرائے تو بھارت کا سب کچھ اُڑ گیا۔
کہنا یہی ہے کہ پاکستانی چائے کی طرح پاکستانی سگنل بھی اتنے پیارے ہیں کہ بھارتی پائلٹ انہیں پکڑتے پکڑتے زمین پکڑ گئے۔ مانا کہ بھارتی رافیل کی رینج 3700 کلومیٹر ہو گی لیکن پاکستانی چائے کی خوشبو کی پہنچ 5000 کلومیٹر ہے اور یہ خوشبو اتنی پیاری ہے کہ بھارتی پائلٹ ایک کپ ”پینے“ کے لئے منہ کی ”کھانے“ کو ہمہ وقت تیار نظر آتے ہیں۔
جی ایف 17 تو کافی لمبے سمے سے تیاری کر رہا تھا کہ ”رافیلوا“ کے ساتھ ایک لمبا اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ ہو گا، لیکن یہ ”سسرا“ تو T 20 کے قابل بھی نہیں تھا۔
اب تو فرانسیسی انسٹرکٹر کی بھی بس ہو گئی ہے۔ وہ بھارتی پائلٹوں کو جہاز اُڑانے کی تربیت تو دیتے ہیں لیکن اتارنے کی الف بے بھی نہیں بتاتے اور جب بھارتی پوچھتے ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں ”تم بس اُڑانا سیکھو۔ اتارنے والا کام پاکستانی ائر فورس پر چھوڑ دو“ ۔
رافیل گرنے پر فرانس بھی بہت پریشان ہے لیکن میں فرانس کو اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے رافیل میں 5 G کی سہولت موجود تھی لیکن بھارتی پائلٹوں کی مثال نوکیا 3310 جیسی تھی۔ لہٰذا اگلی بار اپنا استرا کسی بندر کے ہاتھ میں مت دینا ورنہ بچی کھچی ناک بھی کٹ جائے گی۔



متن میں پہلی خامی تو یہ ہے کہ جہاز کا نام فرانسیسی ہے جس میں آخر کا E ساکت ہے یعنی یہ فرنچ میں رفال یا رافال پڑھا جاتا ہے۔ باقی پاکستانی اس کو زبردستی گھسیٹ کر جو سمجھیں اور پڑھیں۔
–
جہاز فرانسیسی کمپنی Dassault کا ضرور بنا ہے لیکن فرانسیسی حکومت کی پیداوار نہیں جس کے لئے یہ لفظ استعمال کیا گیا کہ فرانسیسی حکومت نے کبھی یہ دعوی کیا ہو کہ یہ جہاز کبھی نہیں گرسکتا۔ یہ محض پاکستان کے مخصوص نام نہاد چند لفظ پڑھ لکھ کر لکھنے والوں کا افسانہ ہے۔
یہ جہاز متعدد مرتبہ حادثات میں تباہ ہوچکا ہے
2006 سے آج تک یہ کم از کم نو حادثات کا شکار ہوچکا ہے جس میں دو مرتبہ تو دو دو جہاز آپس میں فضا میں ٹکرا کر تباہ ہوئے۔ اس کے بعد سب سے زیادہ نقصان اس کے بحری جہاز ڈیگال پر لینڈنگ ٹیک آف میں پیش آئے۔ کم از کم چار۔
اصل بات یہ تھی کہ پچھلے 25 سالوں میں یہ جہاز کسی ڈاگ فائٹ یا جنگی مشن کے دوران دشمن نے نہیں گرایا تھا۔
–
یہاں ایک اور بات سمجھنا ضروری ہے کہ آج کے ان جدید جہازون میں اب سارا کھیل اندرونی رڈار کا ہوتا ہے یہ جہاز کی آنکھیں ہوتی ہیں جتنا دور رڈار دیکھ سکے اتنی ہی دور اس کی مار ممکن ہو سکے گی۔
–
رفال کا رڈار اگر لگ بھگ 150 ناتیکل میل دور تک دیکھ سکتا ہے تو اس کے مقابلے میں جے ٹین سی کا رڈار 200 ناٹم دیکھ سکتا ہے۔ یعنی اگر جے ٹین رفال سے 180 ناٹم کے فاصلے پر ہو تو پاکستانی پائلٹ کا جہاز تو رفال کو دیکھ سکتا تھا لیکن رفال کو یہ جہاز نظر نہیں آرہا ہوگا۔ یہی اس دن ہوا کہ جے ٹین نے رفال کو بے خبری میں مارا اور اس وقت مارا جب وہ بم پھینک کر اپنا رخ واپس کی طرف کرچکے تھے۔ یہ کوئی ڈرامہ یا ادبی شاہکار نہیں تھا جس میں یہ تصور کیا جائے کہ دشمن کی پیٹھ پر وار نہیں کرنا۔ ڈاگ فائٹ میں تو مارا ہی دشمن کے پیچھے آکر جاتا ہے۔