جاننے اور پہچاننے کا وقت

حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے دنیا کے سامنے کئی حقیقتیں آشکار کی ہیں۔ طاقت کے نشے میں کسی ملک کو کمزور سمجھ کر اور اپنی صلاحیتوں کے زعم میں دوسرے کی صلاحیتوں کا غلط اندازہ لگانے پر آپ کی مہم جوئی کیسے آپ کے گلے پڑ سکتی ہے اس کا اندازہ دنیا نے لگا لیا ہے۔ کل تک آپ اپنے طور پر ایک غیر متنازعہ قوت تھے اور آج آپ کو اپنا آپ دکھا نے کے لئے پہلے سے زیادہ جھوٹ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے اس دعوے کی اب تک بھارت کی جانب سے کوئی تردید سامنے نہیں آئی ہے کہ بھارتی جارحیت کے وقت پاکستان نے بھارت کے 6 طیارے گرائے ہیں جن میں فرانسیسی جنگی طیارے رافیل بھی شامل ہیں۔ گو کہ دنیا بھر کے بڑے میڈیا کی جانب سے اس تصدیق کے بعد اب بھارت کی تصدیق کی ضرورت رہتی بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی اپنی شکست کو مان لینا بھی مستقبل کی کامیابیوں کی ایک سیڑھی ہوتی ہے جسے بھارت چڑھنے سے قاصر ہے۔ میڈیا کی چرب زبانی اور سنسنی خیزی میں بھارت کے چند خرد مندوں کی تعداد اب نہ ہونے کے برابر نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں رہی سہی کسر حکومت اور اس کے حامی میڈیا، ایران کے مصالحت کاروں کو گالی دے کر، ترکیہ اور آذربائیجان کا بائیکاٹ کر کے اور چین کو اپنا دشمن بنا کر پیش کرتے ہوئے پوری کر رہے ہیں۔
چین پاکستان کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے، بالکل ویسے ہی جیسے امریکہ بھارت کا ہے۔ ترکیہ کے ڈرونز اس کشیدگی میں ویسے ہی استعمال ہوئے جیسے اسرائیل کے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان کی جانب سے کئی خبروں کے باوجود پرانے دوستوں کے بھارت کے خفیہ دوروں اور تعلقات کے حوالے سے خاموشی ایک اہم قدم ہے۔ دوست دشمن چننے کا اختیار سب کو ہے تو پھر آپ کو کیوں نہ ہو لیکن اس جنگی جنون اور بیوقوفی میں بھارت چین کو ٹارگٹ کر کے اپنا نقصان کر رہا ہے۔
مئی 2025 سے پہلے بھارت اور چین کے تعلقات کی بات کی جائے تو اس میں کافی بہتری نظر آ رہی تھی۔ متنازعہ سرحدی امور پر مذاکرات کے ادوار مسلسل ہو رہے تھے۔ سربراہان مملکت کی ملاقات بھی ہو گئی تھی اور اب ”سی بی ایم“ کے طور پر ڈائریکٹ فلائٹ آپریشنز کی بحالی تک بات پہنچ چکی تھی۔ ایسے میں اپنی چھیڑی ہوئی جنگ اور بیوقوفی کے تحت ایسے ملک پر الزام تراشی اور بے بنیاد جھوٹ جس نے کشیدگی کے دوران ایک بار بھی اسے ہوا دینے کی کوشش نہ کی ہو اور مسلسل امن کے قیام کی کوشش کی ہو، کہاں کی دانشمندی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بھارت میں اس حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر بھی چین کی جانب سے کسی قسم کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی چین نے اس کشیدگی میں پاکستان کو بھارت کے خلاف اکسایا۔ چین کے اس رویے کو دنیا جانتی ہے۔ چین کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس نے کبھی جارحیت کا سہارا نہیں لیا بلکہ کوشش کی کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ جب ایک ملک اپنے لئے یہ راستہ چنتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی اور کے لئے جنگ کی بات کرے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے چین کے دورے میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی ہے اور انہیں خطے کی صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ چین کا یہ بیان کہ وہ پاکستان کے مضبوط دوست ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کی سلامتی اور اس کی حفاظت کی کوششوں میں پاکستان کے ساتھ ہے، یقیناً دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور تعلقات کی عکاس ہے لیکن اس میں کہیں یہ ذکر موجود نہیں کہ چین بھارت کے خلاف ہے۔ لہذا اس بنیادی فرق کو سمجھتے ہوئے بھارت کو چاہیے کہ وہ خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کا از سر نو جائزہ لے۔
یوں بھی چین نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران اور اس کے بعد بھی بارہا یہ بیان دیا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ نہیں بلکہ امن کا خواہاں ہے اور یہ بھی کہا کہ وہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے تو اس صورت کا ہوش مندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کو خطے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے طاقت کی سیاست سے کنارہ کرتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔
بنگلہ دیش کے قیام سے لے کر اب تک کے بنگلہ دیش کے حالات مٰیں بھارتی مداخلت کے واضح اعتراف اور ثبوت دنیا کے سامنے ہیں تو بنگلہ دیش کیوں کر ایک ایسے ملک کو اپنا دوست مانے گا جو اس کی خود مختاری اور سلامتی کو چیلنج کرے۔ نیپال، بھوٹان، مالدیپ، روس اور سری لنکا سمیت خطے کے تمام ممالک نے بھارتی جارحیت میں اس کا ساتھ نہیں دیا تو ایسے میں صرف بڑی طاقت کے زیر اثر کسی ملک کی خفیہ حمایت بھارت کو مستقبل میں بھی اسی طرح پریشان رکھے گی جیسے وہ اب ہے۔ سو اب بھی وقت ہے، جاننے اور پہچاننے کا۔ یہ جاننے کا کہ دنیا میں اپنی بالادستی جنگ سے نہیں بلکہ ترقی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ جاننے کا کہ پرائی شادی نہیں بلکہ پرائی لڑائی میں بھی دیوانے عبداللہ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اور یہ پہچاننے کا کہ آپ کے اصل مسائل آپ کے ایک ارب چالیس کروڑ کے قریب انسانوں کی ضروریات ہیں نا کہ آپ کی خواہشات۔

